ہمارے غازی وشہداء

شہید کا باپ

یہ تحریر مجھے ایک شہید کے والد کے اِن الفاظ کہ ''کوئی میرے اندر کادرد نہیں سمجھ سکتا'' نے لکھنے پر مجبور کیا. جب بھی کوئی جوان اپنی جان اس دھرتی کے لیے قربان کرتا ہے ، مجھ سمیت ہر بندہ اُس کے ماں باپ اور اہل و عیال کو کم و بیش انہی الفاظ میں تسلی دیتا ہے،آپ کا بیٹا تو شہید ہوا ہے۔ آپ کو اس کی شہادت پر فخر ہونا چاہیے۔ یہ رتبہ بہت قسمت والے لوگوں کو ملتا ہے ،وغیرہ ،وغیرہ۔ 
بے شک یہ الفاظ ہر لحاظ سے سچ اور اٹل حقیقت ہیں لیکن کسی اپنے اور جان سے پیارے کو کھو دینے کا قدرتی دکھ صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو خود اسی درد سے گزرا ہو۔ عام لوگ خوش نصیبی اور فخر جیسے الفاظ بول کر شہید کے گھر والوں کودلاسہ ضرور دیتے ہیں لیکن ظاہر ہے وہ شہیدکے باپ کے دُکھی جذبات کو تسکین کبھی نہیں پہنچا سکتے۔ میں نے اپنی اس تحریر میں ایک شہید کے باپ کے جذبات کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ میرا باپ بھی ایک شہید کا باپ ہے اور میں ان کے جذبات دوسروں کی نسبت بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہوں کہ وہ لوگوں کے سامنے مضبوط رہ کر اندر سے کتنے کمزور ہو چکے ہیں۔ 



''میں آج تک اپنے ان جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکا۔ جس دن میرا بیٹا پاک فوج میں منتخب ہوا مجھے اُس کے لہجے سے نکلتی وہ خوشی کی لہر یں آج بھی سر شار کر دیتی ہیں جب اُس نے مجھے خوشی سے بھر پور لہجے میں بتایا تھا کہ ابو!  الحمد للہ میں پاک فوج میں شامل ہو گیا ہوں۔ میری رگوں میں دوڑنے والا خون اور بھی شِدت سے رواں ہو گیااور میں نے اللہ کی بارگاہ میں سجدہ شکر ادا کیا۔ گھر سے اُسکو ٹریننگ اکیڈمی بھیجنے کا مرحلہ بھی بہت زیادہ جوش و جذبے سے بھر پور تھا۔میں نے اپنی اوقات سے بڑھ کر اُس کے لیے بہترین چیزیں خریدیں۔ خاندان کا ہر فرداُس کی کامیابی پر سر شار تھا۔ پھر آخر وہ دِن بھی آگیا جب اُس کی تر بیت مکمل ہو گئی۔ بہت سے کٹھن مراحل سے گزر کر وہ کندن بن چکا تھا۔ میں خود بھی ایک ریٹائرڈ فوجی ہوں اور اِن سب مراحل سے مکمل آگاہ ہو ں جن سے تر بیت کے دوران ہر فوجی کو گزرنا ہوتا ہے اس لیے جب بھی اُسکا فون آتا ہے مجھے ہمیشہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ آج تو میرا نازوں سے پلا بیٹا شاید مجھے یہ کہے گا ابو یہ کام بہت مشکل ہے۔لیکن خدا گواہ ہے اُس کی زبان سے ہمیشہ یہ جملہ سننے کو ملا۔ الحمدللہ ابو آپ کی دُعائوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور میں ہمیشہ کی طرح بار گاہ خداوندی میں اُ س کے لیے بلندیوں پر جانے کی دُعا کرنے لگ جاتا۔ تر بیت مکمل کرنے کے بعد اُس کو جس یونٹ میں جانے کا حکم ملا وہ اُن دِنوں وزیر ستان میں تعینات تھی۔ ماں اور بہن یہ سن کر جذباتی ہو گئیں لیکن میرے شیر بیٹے نے یہ کہہ کر اُن کو سہارا دیا کہ کیا آپ لوگوں نے حضرت خالد بن ولیدکایہ قول نہیں سُنا''کہ دنیا کے بزدلوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدان جنگ میں موت ہوتی تو خالد بن ولید کبھی بستر پر نہ مرتا''ہم سب کو بہت سی تسلیاں دے کر اور اپنی چمکتی آنکھوں میں شہادت کے خواب سجا کر وہ اپنی عظیم منزل کی طرف نکل پڑا۔ 
اُن دِنوں وہاں حالات بہت کشیدہ تھے اور کافی دِن بعد اُس کی طرف سے رابطہ ہوتا تھا ، اُس کی ماں ہر روز کسی نہ کسی بہانے اُسکا ذکر چھیڑ تی اور رونا شروع کر دیتی۔اُس دِن بھی ناشتہ کرتے ہوئے بیگم نے کہا میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔ اللہ کرے میرا بچہ خیریت سے ہو۔ کافی دِن سے اُس کا فون بھی نہیں آیا اور میں جو اندر سے خود بھی یہی سوچ رہا تھا اُس کو ہنستے ہوا بولا کمال کرتی ہو بیگم تم بھی۔وہ وہاں فارغ تھوڑی ہے جو ہر منٹ کے بعد ہمیں کال کرے، وہ بہت اہم ڈیوٹی پر ہے تم اس روٹین کی عادت بنا لو، آخر تم ایک فوجی جوان کی ماں ہو۔ اور میری بیوی ہمیشہ کی طرح اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی!
''آپ کبھی بھی میری حالت نہیں سمجھ سکتے آپ تو باپ ہیں'' اور میں اُس کی بات سن کر ہنس پڑا ۔ہاں واقعی میں تو باپ ہوں ،مجھے کیا پتہ ان جذبات کا۔ پھر جب بیٹی کی شادی کے دِن طے ہوئے تو ایک دِن وہ میرے گلے لگ کے روتے ہوئے بولی۔ابو جی جب تک بھائی نہیں آئے گا میں شادی نہیں کروں گی اور میں اُس کی بات سن کر ہنس پڑا، ارے پگلی یہ کیا بات ہوئی تم ایک فوجی کی بہن ہو کسی عام آدمی کی نہیں۔ ہاں لیکن ابو اتنی بھی کیا مصروفیت کہ وہ ایک دِن کے لیے بھی نہیں آسکتے، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ تمہاری منگنی پر نہیں آسکا مگر شادی پر ضرور آئوں گا۔ میرے سب دلاسے اور تسلیاں بے کار گئیں اور میری بیٹی یہ کہ کر روتے ہوئے اندر بھاگ گئی کہ آپ کو کیا پتہ ابا جی آپ تو باپ ہیں اور میں پریشان دل کے ساتھ بیٹھ کر یہی سوچتا رہا کہ اکلوتے بیٹے کی غیر موجودگی میں بیٹی کو الوداع کرنا کتنا مشکل ہے یہ ایک باپ ہی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن میں کسی سے کچھ کہہ نہیں پایا۔
دِن یو نہی گزرتے رہے اور ہر روز زندگی کا ایک دِن کم ہوتا رہا آخر وہ دِن آگیا جو مجھ سمیت کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا ۔ میرا جوان ہونہار اور بہادر بیٹا دشمنوں سے جوانمردی سے لڑتے ہوئے اپنی جان اس پاک دھرتی کی خاطر قربان کر گیا۔ میں اُس لمحے کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا ،جب مجھے میرے ایک دوست کی کال آئی اور اُس نے مجھے یہ اندوہناک خبر دی کہ تمہارا بیٹا اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں اُس وقت کرسی پر بیٹھا تھا اور میں اتنی شدت سے بھاگ کے اُٹھا کہ نہ میرے پائوں کے نیچے زمین رہی تھی اور نہ ہی میرے سر پر آسمان۔ میرے منہ سے صرف ایک ہی لفظ نکلا ''الحمدللہ ''مجھے ہر طرف سے یہی سننے کو ملا ''تم نے صرف خود کو نہیں باقی سب کو بھی سنبھالنا ہے یاد ررکھنا اگر تم کمزور پڑ گئے تو اُس کی ماں کا کیاہو گا۔ تم تو باپ ہو ہمت کرو۔''  
 پھر جس ہمت اور حوصلے سے اُسکی ماں کو یہ خبر میں نے دی وہ صرف میں اور میرا رب جانتا ہے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اُ س کی بہن چیخ چیخ کر اپنے غم کا اظہار کر رہی تھی ہر آنکھ اشکبار تھی اور میں خاموشی سے اپنے آنسو پونچھتا بار بار خود کو یہی یاد دلا رہا تھا کہ میں باپ ہوں مجھے مضبوط بننا ہو گا۔ حالانکہ میرے اندر درد کی وہ لہر یں اُٹھ رہی تھیں جو میرے دماغ کو مفلوج کر رہی تھیں میں اپنے ہوش و حواس کھو رہا تھا میں اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر دھاڑیں مار مار کے رو رہا تھا۔ میرا واحد سہارا میرا اکلوتا جوان ، لائق ہونہار اور بہادر بیٹا منوں مٹی تلے جا سویا۔ 
جس کے کندھوں نے مجھے سہارا دینا تھا میرے نا تواں کندھوں نے اُس کے جنازے کو سہارا دیا۔ میں نے اپنی برستی آنکھوں کے سامنے اُس کو سفید کفن میں لپٹے پھولوں سے سجا ہوا زمین کی گود میں دفن ہوتے دیکھا۔میرا پیارا بچہ جس کی چھوٹی سی خواہش کو پورا کرنے کے لیے میں اپنی بڑی سے بڑی ضرورت کو بھی پیچھے کر دیتا تھا۔ جو ذرا سا بیمار پڑتا تو مجھے اپنا آرام اور سکون ماند پڑتا دکھائی دیتا۔ جس کا ایک آنسو میرے دل کو تار تار کر دیتا تھا، آج میرا وہی بیٹا مجھ سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔ میرے ارد گرد بہت سی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ''آپ ایک شہید کے باپ ہیں ،اُس نے آپ کا سر فخر سے بلند کر دیا، آپ کو اپنی خوش نصیبی پر ناز ہونا چاہیے ۔ یہ مرتبہ تو بہت قسمت والوں کو ملتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔'' میں یہ الفاظ بولنے والے سب لوگوں سے یہ کہنا چاہتا تھا۔ 
''ہاں میں بہت خوش نصیب ہوں اور بلا شبہ میرا بیٹا میرا فخر ہے لیکن میں انسان بھی تو ہوں، میرے اندر بھی دل ہے۔ مجھے اُس کی جدائی کا درد اندر ہی اندر کاٹ رہا ہے ۔ درد کی وہ انتہاہے جو میری رگوں کو چیر رہی ہے۔ میرے اعصاب اس شدید تکلیف کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں، میں بھی کُھل کے رونا چاہتا ہوں، اپنے اندر کے درد کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے ماں باپ بھی منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔ مجھے تو اِن کا کندھا بھی میسر نہیں کہ اُن کی گود میں بلک بلک کر رونے میں مجھے کوئی عار نہیں دلائے گا۔  
آہ!میں یہ سب نہیں کر سکتا کیونکہ میں ایک باپ ہوں!! ||


مضمون نگار لیفٹیننٹ عباس شہید کی ہمشیرہ ہیں۔ 
[email protected]

یہ تحریر 233مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP