قومی و بین الاقوامی ایشوز

جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم!

کشمیر پر لکھی ہر تحریر کا ہر ورق، ہر سطر، خون سے لہولہان ہے۔ کشمیر داستاں ہے ہر گھر سے نکلنے والے بغیر کفن جنازے اور ہر عورت کے نوچے گئے دوپٹے اور عصمت دری کی۔ ہر نم آنکھ اور سوگوار دل یہ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ آخر نہتے اور معصوم  کشمیری کس جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں؟ وہ جرم جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔۔۔ کشمیر کی وادیاں آج بھی اقوام عالم سے انصاف کی منتظر ہیں۔ کشمیری ماں کی  آنکھیں آج بھی اپنے کھو جانے والے پیاروں  کی یاد میں آبدیدہ ہیں۔ ہر گھر میں سوگ اور ہر دل میں انتقام کی چنگاری ہے۔


بھارتی افواج کے ظلم کی طویل داستان ایک اور مرتبہ عالمی توجہ کا مرکز بنی جب انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور35اے کوغیرقانونی بنیاد پر منسوخ کر کے اس خطۂ ارض کی حیثیت ہی تبدیل کر ڈالی۔ مقبوضہ کشمیر میں اب نہ صرف انڈیا کے آئین کا بول بالا ہے بلکہ وہاں انڈیا کا ترنگا لہرایا جاتا ہے۔ انڈیا کے اس عمل نے نہ صرف کشمیریوں کو ان کے حقِ خود ارادیت سے محروم کیا بلکہ تین سال سے جاری لاک ڈائون سے ان کے معمولاتِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں۔



بھارتی افواج کے ظلم کی طویل داستان ایک اور مرتبہ عالمی توجہ کا مرکز بنی جب انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور35اے کوغیرقانونی بنیاد پر منسوخ کر کے اس خطۂ ارض کی حیثیت ہی تبدیل کر ڈالی۔ مقبوضہ کشمیر میں اب نہ صرف انڈیا کے آئین کا بول بالا ہے بلکہ وہاں انڈیا کا ترنگا لہرایا جاتا ہے۔ انڈیا کے اس عمل نے نہ صرف کشمیریوں کو ان کے حقِ خود ارادیت سے محروم کیا بلکہ تین سال سے جاری لاک ڈائون سے ان کے معمولاتِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں۔ فاشسٹ مودی سرکار کے اس جنت نظیر وادی پر ظلم وستم اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ آئے روز یہاں انسانی المیے جنم لیتے ہیں جسے دیکھ کر ہرآنکھ اشک بار اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ پھول جن کی مہک سے وادیاں کھل اٹھتی تھیں، ان کی جگہ آج وہاں گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجتی ہے۔لیکن افسوس صد افسوس اتنے ظلم کے باوجود اقوام عالم کی توجہ اس پر نہیں جاتی۔ مقبوضہ وادی کے حالات کا علم رکھنے والے جمہوریت کے چیمپئن ممالک بھی یکسر چپ سادھے ہوئے ہیں ۔ چونکہ عالمی حمایت کا تعین طاقت اور مفادات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لہٰذا انڈیا نے عالمی حقوق کی تنظیموں کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔
جہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ ظلم کشمیریوں کے خلاف ہے یا پھر مسلمانوں کے خلاف؟ ایک نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے والا ملک اسلام سے نفرت کے اظہار کے لیے معصوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق چھین رہا ہے۔ یہ سب کس لیے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی صرف مسلم اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل کرنے کی منتظر ہے۔ حالیہ حد بندیوں کے ذریعے مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوئوں کی نمائندگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انڈیا کی کشمیر میں بڑھتی ہوئی آبادی  سے ان نہتے کشمیریوں کے آبادیاتی حقوق بھی ختم  ہورہے ہیں۔
 کشمیر میں سنگین اور منظم خلاف ورزیاں انسانی حقوق کے حصول میں سنگین رکاوٹیں بنتی ہیں۔ انڈیا نے شہری اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ کے آرٹیکل 4 اور 7 کی شدید خلاف ورزی کی جس میں تشدد پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ بین الاقوامی برادری اسی فاشسٹ مودی کے انڈیا کو خطہ میں سکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر دیکھتی ہے مگر کشمیر میں اس کے سخت آمرانہ قوانین نے خطے کا سکون پامال کر رکھا ہے جس کے باعث جنوبی ایشیائی ایسوسی ایشن برائے علاقائی تعاون تنظیم بھی ناکارہ ہوچکی ہے۔ انڈیا امریکا کے لیے ایک بااثر ملک ہے اسی لیے وہ کشمیریوں کی چیخ و پکار پر کان نہیں دھرتا۔ اقوامِ متحدہ نے بھی خاموشی کا دامن تھام رکھا ہے۔
یہ کشمیری نوجوان دل میں آزادی کی امنگ اور تن بدن میں ولولہ لیے ہوئے سینے پر گھائو کھا لیتے ہیں مگر روح تک سے ٹیسوں کی آواز آنے کے باوجود کشمیر کے رکھوالے اور آزادی کے متوالے محاذِ جنگ سے منہ نہیں پھیرتے۔ انڈیا سے اسی غداری کے باعث جبری گمشدگی اب کشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم و بیش دس ہزار افراد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی مگر کسی ایک کو بھی واپس نہ لایا جاسکا۔ کتنی ہی صبحوںسے شامیں ہوئی مگرجانے والے لوٹ کر نہ آئے۔ اس انتہائی پریشان کن پہلو نے نصف بیوائوں کو جنم دیا۔ جو تکلیف دہ اور اذیت ناک زندگی کی وجہ سے بے یقینی کی حالت میں رہتی ہیں۔ اس پر غضب یہ کہ لاعلمی انکا مزید دل سلگاتی ہے جب بچے پوچھتے ہیں کہ بابا کب آئیں گے؟
کشمیر کے معصوم بچوں سے نہ صرف ان کا آج چھینا گیا بلکہ ان کے کل کو سنوارنے کے لیے بھی کچھ نہ چھوڑا۔ نہ تعلیم نہ نوکری، کئی زندگی کی دوڑ سے ستائے ہوئوں کو انتہا پسندوں نے جنت کے خواب دکھا کر ان کی نسلوں کی نسلیں اجاڑ دیں۔ البتہ انڈیا کی بنیاد پرست رپورٹنگ کے باعث جہاد کو ریاست پرست دہشت گردی کے ساتھ ملایا جارہا ہے۔


 دہشت کا عالم یہ ہے کہ لڑکیاں نفسیاتی عدم تحفظ میں الجھی اپنی چار دیواری میں قیدی بن کر رہ گئی ہیں۔ اغوا اور جنسی زیادتی کا خوف بلاوجہ  نہیں جیسے کشمیری خبر رساں ایجنسی کی تحقیق کے مطابق 1989 سے اب تک گیارہ ہزار اجتماعی بے حرمتی، تیس ہزار بیوائیں اور ایک لاکھ اٹھہترہزار بچوں کے یتیم ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ جگ سارا گواہی دیتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،انڈیا اس جنسی تشدد کو جنگ کے ہتھیار کی طرح استعمال کرتا ہے۔


 پیارے وطن کی بہن بیٹیوں کی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ان کو بے گھر کر کے چھیڑ چھاڑ، اجتماعی بے حرمتی، وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر ہراساں کیا گیا۔ یہاں تک کہ ننگے پیروں دھوپ میں چلتے چلتے چھالے پڑ گئے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ البتہ ان کی تلاش کے دوران انہیں جیلوں اور تفتیشی مراکز میں میں رکھ کر ان کی تذلیل کی گئی۔ جیل جا کر شوہروں کی پوچھ گیچھ کرنے والی خواتین کا مذاق بنایا گیا۔ ان سے پوچھا جاتا کہ مل گئی آزادی؟ لے لی آزادی؟ اور کتنی لوگی آزادی؟
 دہشت کا عالم یہ ہے کہ لڑکیاں نفسیاتی عدم تحفظ میں الجھی اپنی چار دیواری میں قیدی بن کر رہ گئی ہیں۔ اغوا اور جنسی زیادتی کا خوف بلاوجہ  نہیں جیسے کشمیری خبر رساں ایجنسی کی تحقیق کے مطابق 1989 سے اب تک گیارہ ہزار اجتماعی بے حرمتی، تیس ہزار بیوائیں اور ایک لاکھ اٹھہترہزار بچوں کے یتیم ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ جگ سارا گواہی دیتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،انڈیا اس جنسی تشدد کو جنگ کے ہتھیار کی طرح استعمال کرتا ہے۔ ایک روز ایک ایسی بھی دستک ہوئی جس نے کئی زندگیاں کچھ ہی پل میں برباد کردیں۔ 1991   میں ہونے والے کنان پوش پورا کی اجتماعی زیادتی آج بھی لہو  رُلاتی ہے جس میں 100 سے زائد خواتین کی ایک ہی چھت تلے عزت اچھالی گئی۔ 
معاشرے کا کمزور طبقہ بڑے پیمانے پر منظم جنسی تشدد کا نشانہ بن کر جب ابھرتا ہے تو ان میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی شرح 22 فیصد سے تجاوز کرجاتی ہے۔ عصمت دری کو انسداد بغاوت کی حکمت عملی کے طور پر انڈیا کی افواج خوب استعمال کرنا جانتی ہیں۔ مگر اس خوف وہراس کے باعث 36 فیصد کشمیری خواتین اضطرابی مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ درندے عورت پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے نہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ بیمار ہے، کم عمر کنواری ہے، حاملہ ہے، یہ صرف اپنی درندگی کی پیاس بجھا کر یا ان کو قتل کر دیتے ہیں یا پھر ان کو پل پل مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور وہ قوم کی بیٹیاں چلا چلا کر کہتی ہیں کہ گولی مار دو مگر ہمارے قریب نہ آئو۔
شوہروں کی غیر موجودگی میں خواتین کی ہولناکیوں پر اکثر کسی کا دھیان نہیں رہتا مگر یہ ہی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مشعلِ راہ ہیں۔ان بیٹیوں نے زخموں سے اٹا ہوا بدن پھولوں سے چھپا رکھا ہے۔ ان کی جرأت کی مثال ایک شاعرکچھ یوں دیتے ہیں:
یہ لالہ فام بچیاں، یہ خوش خرام بچیاں، یہ نیک نام بچیاں، یہ تیزگام بچیاں
سری نگر کی بیٹیاں
جہاد کی پکار ہیں، حیا کا شاہکار ہیں، بلا کی شہسوار ہیں، بلوط ہیں، چنار ہیںسری نگر کی بیٹیاں۔
ٹوٹتے خواب، نم آنکھیں، کپکپاتے ہونٹ، جھلستے گھر، اجڑی زندگیاں، یہی ہے داستان اس لٹے ہوئے چمن کی بیٹیوں کی۔جن کے شوہر لاپتہ ہیں ان خواتین کا نہ صرف دل درد سے لہولہان ہے بلکہ جینے کے سہارے کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہیں۔ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے شدید مالی پریشانی سے بھی دوچار ہیں کیونکہ شوہر کے جینے مرنے کی لاعلمی سے ان کے ورثے میں سے بھی ان کے حق کاصحیح تعین نہیں کیا جاسکتا اور یوں ان میں سے اکثر تن تنہا دشوار مالی حالات میں انڈین فوج کی ترسی نگاہوں سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پاتیں اور ان کی درندگی کا نشانہ بن جاتی ہیں۔ ||


مضمون نگار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات میں ڈگری حاصل کر رہی ہیں اور اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔

یہ تحریر 257مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP