ہمارے غازی وشہداء

شہدا ئے وطن کو سلام

یکم اگست کو ایک انتہائی افسوس ناک وقوعہ پیش آیا،اس وقوعے نے ہر محب ِ وطن پاکستانی کی آنکھیں نم کردیں،اس سانحہ میں ہمارے انتہائی قابل چھ جوان،لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی،میجر جنرل امجد حنیف، بریگیڈئیر محمد خالد،میجر سعید احمد،میجر محمد طلحہ، نائیک مدثر فیاض نے جامِ شہادت نوش کیا،اس سانحہ کے بعد دل اس قدر افسردہ تھا کہ کچھ کہنے کو، کچھ تحریر کرنے کو الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ زندگی میں پہلی بار لفظوں کی کمی کا شدت سے احساس ہورہا تھا۔میں ہاتھوں میں قلم پکڑے خالی کاغذ کو کافی دیر تک تکتی رہی، آنکھوں سے جاری آنسو اس کاغذ کو بھگو رہے تھے۔دل بار بار یہ دعا کررہا تھا کہ کاش یہ خبر جھوٹی ثابت ہوجائے،مگر ایسا کیسے ممکن تھا۔بے شک ''شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔'' 
ہیلی کاپٹرکریش وقوعے میں ہونے والے شہدا وطن سے متعلق جس قدر سوشل میڈیا پرنفرت انگیز ٹرولنگ کی گئی،وہ انتہائی ناقابلِ برداشت تھی۔ اس ٹرولنگ سے ہر محب وطن پاکستانی کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ہر ایک کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔اس ٹرولنگ کے بعد افواجِ پاکستان سے محبت کرنے والوں نے بے حد شرمندگی محسوس کی۔ عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑی، جس کے بعدوطن دوستوں نے اپنے شہدا کو خراج ِ تحسین پیش کیا،ان کی تصاویر لگا کر شر پسند عناصر کو یہ پیغام دیا کہ زندہ قومیں اپنے محافظوں کو اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ہمارے محافظ ہمارا فخر ہیں،ہمارا مان ہیں، ہمارا غرور ہیں۔ محب وطن پاکستانیوں نے شہدائے وطن کی تصاویر لگا کر ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا۔
واضح رہے کہ شر پسند عناصر کی طرف سے کی گئی  تنقیدوں کے باوجود بھی ہمارے وطن کے محافظ ڈٹے رہے، کھڑے رہے،اس دھرتی سے کیا گیا اپنا عہد وفا نبھاتے رہے۔اس میں کوئی شک نہیں ملک میں جیسے بھی کٹھن حالات ہوں،افواجِ پاکستان نے ہر لمحہ قوم کی خدمت میں پیش پیش رہنے کا کردار نبھایا ہے، بے شک وطنِ عزیز کے یہ بیٹے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کی جان و مال کی خاطر اپنے دائرہ کارسے کہیں زیادہ آگے بڑھ کر کوششوں میں مصروف رہے ہیں،پاک فوج نے جس قدر قدرتی آفات مثلاًسیلاب،خشک سالی، زلزلے، وبائی امرا ض وغیرہ جیسی مشکل گھڑی میں شب و روز عوام کی خدمت کی اِن کی یہ کاوشیں بے مثال اور قابلِ تعریف ہیں۔
گزشتہ کئی دنوں سے سیلاب نے پاکستان کے بیشتر شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،جس کے باعث سیکڑوں افراد بے گھر ہوئے۔مشکل کی اس گھڑی میں افواجِ پاکستان نے ہمیشہ کی طرح عوام کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا،انتہائی خراب موسم ہونے کے باوجود بھی امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،ریلیف کیمپ قائم کیے گئے،مقامی رہائشیوں میں ضروری راشن تقسیم کیا،سیکڑوں لوگوں کی جانیں بچانے کے اِس مشن میں یہ چھ جانباز جامِ شہادت نوش کر گئے۔میں خراج ِ تحسین پیش کرتی ہوں ان جانباز جوانوں کے جذبہ حب الوطنی کو۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید کی شہادت سے کچھ روز قبل کی ایک ویڈیو نے آنکھیں نم کردیں جس میں وہ اپنے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہے تھے، جس طرح سے آپ کام کررہے ہیں جس طرح سے آپ اپنی شہادتیں دے رہے ہیں، یہ بے مثال ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اِس میں پاک فوج اور ہماری ایف سی کی جتنی فورسز ہیں وہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، بے شک اِنہوں نے اِس کو ثابت بھی کیاکہ وہ مشکل کی ہر گھڑی میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
اسی طرح  ایک اور ویڈیو نے ہر دیکھنے والے کی آنکھیں نم کردیں۔ اس ویڈیو میں میجر سعید شہید کے ضعیف والد صاحب بمشکل وہیل چیئر سے اُٹھے اور بریگیڈئیر اویس کے ہاتھوں سے پرچم وصول کرتے وقت بے اختیار اپنے پیارے شہید بیٹے کی ٹوپی کو چومنے لگے،ٹوپی کو چومنے کے بعد انہوں نے سبز ہلالی پرچم کو بوسہ دیا،اسی لمحہ بریگیڈئیر اویس نے میجر سعید شہید کے والد کو سلیوٹ پیش کیا اور عقیدت سے شہید کے والدِ گرامی کو بے اختیار بوسے دیے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وطن پر جانیں نچھاور کرنے والوں کے لواحقین فوج اور قوم کے لئے کس قدر قابلِ عزت و احترام ہیں۔ جب اس لمحہ کو ویڈیو میں قید کیا گیا تو دیکھنے والے نے متواتر دیکھا۔اس لمحہ کو دیکھنے کے بعد میں بے اختیار سوچنے لگی کہ کس قدر کٹھن لمحہ ہوتا ہے،ایک والد کے لیے اپنے جوان بیٹے کی میت کو کاندھا دینا۔عمر کے اس حصے میں جوان بیٹا اپنے بوڑھے ماں باپ کا بازو ہوتا ہے، ماں باپ نے لاکھوں خواب سجائے ہوتے ہیں،میں خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں میجر سعید شہید کے والد سمیت تمام شہدائے وطن کے والدین کوجنہوں نے اپنے جوان بچے،اپنے بڑھاپے کے سہارے کو وطنِ عزیز پر قربان کردیا۔
 میں ان لوگوں سے مخاطب ہوکر کہتی ہوں جو دشمن عناصر کے پراپیگنڈے کا شکار ہوکراپنے وطن کے محافظوں پر تنقیدکررہے ہیں، خدارا اپنی فوج کی قدر کیجیے آپ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی کا بھی ساتھ دیں مگر فوج اور اِس کی قربانیوں کو سیاسی نظریے کی بھینٹ نہ چڑھائیں،شب و روز اِس وردی نے جو پاسبانی کے فرائض سنبھال رکھے ہیں ان کا آپ کو صحیح معنوں میں اندازہ بھی نہیں ہے، اِن پر انگلی اٹھانے سے پہلے اِن شہادتوں کی تردید کیجئے جو فقط آپ کی حفاظت اور سکون کو ملحوظ رکھتے ہوئے دی گئی ہیں، خدارا اور شر پسند عناصر کی باتوں میں آکریہ بیان بازی بند کردیں۔ بریگیڈئیر،جنرلز کچھ نہیں کرتے۔ آپ کو نہیں معلوم اتنا سب کچھ کرنے کے بعد جب عوام کا یہ ردِعمل ہو تو تکلیف نہیں شدید تکلیف ہوتی ہے اور سب سے زیادہ تکلیف آپ کے کمنٹس، آپ کے ٹویٹس پڑھ کر شہدائے وطن کی فیملی کو ہوتی ہوگی، جنہوں نے اپنے گھر کے سربراہوں کو آپ کی خاطر کھویا،آپ کی منفی باتیں ان معصوم بچوں کی سماعتوں سے جب ٹکراتی ہوں گی تو ان کا کلیجہ چیر ڈالتی ہوں گی،جو سکول گیٹ پر کھڑے باقی بچوں کوان کے والد کے ساتھ جاتا دیکھ کراپنے والد کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہیں،نم آنکھوں سے آسمان کی جانب دیکھتے ہیں،جو ہمیشہ خود کو دوسروں کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کوئی ان کی نم آنکھیں نہ دیکھ لے اور کبھی جب کسی کی توجہ ان پر چلی جائے،وجہ دریافت کرنے پرکبھی خود پر ضبط کرلیتے ہیں،تو کبھی بے اختیار روتے ہوئے کہتے ہیں، آج بابا بہت یاد آرہے ہیں۔ یہ معصوم بچے کبھی بابا کی قبر پر جاکر روتے ہوئے اپنے بابا سے شکایت کرتے ہوں گے، آپ کے منفی کمنٹس کے بارے میں بتاتے ہوں گے،اپنے بابا کی قبر پر کھڑے ہوکر کئی بار سوال کرتے ہوں گے، کہتے ہوں گے کہ بابا آپ لوگوں نے ان کی خاطر اپنی جانیں کیوں قربان کیں جنہیں آپ لوگوں کی قربانی کی قدر نہیں۔ یہ بچے یقینا روتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بھی شکایت کرتے ہوں گے، آپ نہیں جانتے یہ کس قدر کٹھن لمحات ہوتے ہیں۔جس پر بیتے محض وہی جانے۔
آخرمیں ایک نظم،
*شہدا وطن کی ماں کے لیے،*
میری ماں عظیم ماں 
تو پریشان نہ ہونا ، تو عام ماں نہیں ہے
تو شہید کی ماں ہے،
 میری ماں عظیم ماں 
مجھ سے لپٹ کر رونا نہیں 
 کہ شہید کی مائیں رویا نہیں کرتیں 
میری ماں عظیم ماں 
  مجھ سے بچھڑنے کے غم میں رونا نہیں 
 کہ شہید بچھڑا نہیں کرتے 
 شہید مرا نہیں کرتے  
 شہید تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، 
 میری ماں عظیم ماں
  مجھ پر قرض تھا شہدا ء کے لہو کا 
مجھ پر فرض تھی حفاظت وطن کی
 میری ماں عظیم ماں
  میں نے دھرتی ماں کی گود میں سونے کا خواب پورا کیا ہے،  
میری ماں عظیم ماں تو رونا نہیں 
 کہ شہید کی مائیں رویا نہیں کرتیں


[email protected]

یہ تحریر 532مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP