ہمارے غازی وشہداء

ہوئے جو وطن پہ قرباں

کیپٹن عمر فاروق شہید کے اہل ِخانہ سے ملاقات پر مبنی  کنول زہراکی تحریر

جانے والا تو چلا جاتا ہے مگر اپنے پیچھے نہ ختم ہونے والی یادوں کا وہ سلسلہ چھوڑ جاتا ہے، جسے یاد کر کے اس کے قریبی رشتے روز مرتے ہیں۔


شہیدکیپٹن کے والدجو کہ پاکستان بحریہ سے وابستہ رہے ہیں کہا کہ میرا بیٹا اکثر کہتا کہ پاپا ہم تو ہیں ہی مٹی کے بیٹے،نہ جانے کب مادر وطن کی محبت میں سرخرو ہوجائیں۔شہید کے والد نے اپنے آنسو صاف کر کے کہا کہ والدین کے سامنے جوان بیٹے کا جنازہ سخت امتحان ہے۔ اولاد کی پرورش خوشی اور مسرت کا باعث ہوتی ہے۔اپنے بچوں کے پرسکون چہرے کو دیکھ کر والدین مطمئن ہوتے ہیں، اولاد کا کفن میں لپٹا وجود دیکھنا ماں باپ کے لیے قیامت سے کم نہیں ہے۔جو ہاتھ نوالہ بنا بنا کر منہ میں ڈالتے رہے ہوں جب وہ ہی اپنے جوان کو سپرد خاک کریں،اس لمحے کو بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔بس دعا ہے کہ میرے جوان سمیت مادر وطن پر فدا ہونے والے اور مامور ہر جوان کی محنت رنگ لائے اور پاکستان کے وقار پر آنچ نہ آئے۔


کیپٹن عمر فاروق کی والدہ نے اپنے گھر کا ڈرائنگ روم اپنے بیٹے کی یونیفارم  اوردیگر چیزوں سے سجایا ہوا ہے، جس میں ان کے ایوارڈز اور تعلیمی اسناد بھی شامل ہیں، ساتھ ہی شہید کیپٹن کی مختلف ادوارکی تصاویر کا البم بھی رکھا ہے، جن میں شہید کی پل پل کی یادیں محفوظ ہیں۔ 31 برس کے عمر فاروق پاکستان آرمی کے ہی نہیں بلکہ کھیلوں کے میدانوں کے بھی کیپٹن تھے، کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، باسکٹ بال سمیت ہر کھیل کے ماہر عمر فاروق، اسنوکر، شطرنج اور کیرم بھی بہترین کھیلنا جانتے تھے البتہ  اپنی والدہ کے ساتھ لڈو کی نشست جمایا کرتے تھے۔ ان کی والدہ راحیلہ صفدر نے بتایا کہ عمر کی زندگی میں کل نہیں تھا،  وہ 'آج اور ابھی' میں جینے والا جوان تھا۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی اس عادت پر اکثر ان کو مجھ سے اور اپنے والد سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی مگر وہ بانہیں گلے میں ڈال کر ہم دونوں کو منا لیتا تھا۔ شہید کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بڑا بیٹا حسنین علی پاکستان نیوی سے وابستہ ہے، عمر اس سے دو برس چھوٹا تھا، دونوں بھائیوں کے درمیان بہت پیار تھا، دونوں بھائی کم اور جگری یار زیادہ لگتے تھے، ان دونوں کے بعد میری بیٹی ہے جو ایم بی بی ایس کے فائنل ائیر میں ہے، بہن کے ساتھ عمر کا بہت ہنسی مذاق تھا، بہن کو تنگ بھی بہت کرتا تھا اور پیار بھی بے انتہا کیا کرتا تھا۔ جب کیپٹن عمر فاروق کی پوسٹنگ وزیرستان میں ہوگئی تو مجھے بہت تشویش ہوئی تو اس نے میری فکرمندی کا بہت مذاق اڑایا کہنے لگا آپ شیر کی ماں ہو، پریشانی آپ کو نہیں بلکہ دشمن کو ہونی چاہیے۔ ایک دفعہ وہ چھٹی پر آیا ہوا تھا ، ہم سب گھر والے چائے پی رہے تھے جو عمر کی موجودگی میں صرف چائے کی صورت نہیں بلکہ مکمل ہائی ٹی کی صورت میں ہوا کرتی تھی تو میں نے حسنین سے اس کی شادی کے سلسلے میں بات کی۔تو اس نے کہا امی ابھی نہیں دو سے تین  سال اور دیدیں پھر جیسے آپ کی مرضی۔ اس کا انکار سن کر عمر نے کہا امی یہ نہیں کرتا تو میری کرا دیں، میں سمجھی یہ مذاق کر رہا ہے مگر وہ واقعی سیریس تھا اور کہنے لگا کچھ ماہ بعد مجھے چھٹیاں ملیں گی بس اس میں میری شادی کردیں۔ ہم نے اس کے کہنے پر لڑکی کی تلاش شروع کر دی جو کہ جلد ہی مل گئی۔ میں نے اس سے کہا کہ تم آکر اپنے لیے شاپنگ تو کرلو تو کہنے لگا کہ امی آپ اور حسنین میرے لیے جاکر خریداری کرلیں، حسنین کو میری پسند پتہ ہے۔ میں نے کہا تم ہی نہیں بلکہ وہ بھی اپنی جاب میں مصروف رہتا ہے تو کہنے لگا اچھا چھٹی لے کر آتا ہوں۔ جس روز اس نے آنا تھا،اس سے ایک روز قبل فون کر کے کہنے لگا امی ابھی چھٹی نہیں ملی ہے،  میں نہیں آسکوں گا، اپنے دوست سے بات کی ہے وہ کل دن میں آپ کوپک کر لے گا۔ آپ  خوب شاپنگ کرلینا، میں نے اسے خوب ڈانٹا تو ہنس  کر اللہ حافظ کہہ کر فون رکھ دیا۔ پتہ چلا  اگلے دن خود گھر پر موجود تھا۔ سلام کرکے کہنے لگا ، امی جان بتائیں کیسا لگا میرا سرپرائز ؟ آج بھی سوچتی ہوں کاش میرا عمر کہیں سے آکر یہ کہہ دے میں آگیا ہوں امی، کیسا لگا میرا  سرپرائز۔؟
شہیدکیپٹن کے والدجو کہ پاکستان بحریہ سے وابستہ رہے ہیں کہا کہ میرا بیٹا اکثر کہتا کہ پاپا ہم تو ہیں ہی مٹی کے بیٹے،نہ جانے کب مادر وطن کی محبت میں سرخرو ہوجائیں۔شہید کے والد نے اپنے آنسو صاف کر کے کہا کہ والدین کے سامنے جوان بیٹے کا جنازہ سخت امتحان ہے۔ اولاد کی پرورش خوشی اور مسرت کا باعث ہوتی ہے۔اپنے بچوں کے پرسکون چہرے کو دیکھ کر والدین مطمئن ہوتے ہیں، اولاد کا کفن میں لپٹا وجود دیکھنا ماں باپ کے لیے قیامت سے کم نہیں ہے۔جو ہاتھ نوالہ بنا بنا کر منہ میں ڈالتے رہے ہوں جب وہ ہی اپنے جوان کو سپرد خاک کریں،اس لمحے کو بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔بس دعا ہے کہ میرے جوان سمیت مادر وطن پر فدا ہونے والے اور مامور ہر جوان کی محنت رنگ لائے اور پاکستان کے وقار پر آنچ نہ آئے۔
 شہیدکیپٹن عمر فاروق 5 مئی  1990 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ بحریہ سکول اور کالج سے ایف ایس سی مکمل کیا۔ان کے والد محمد صفدر  پاکستان بحریہ میں جونیئر کمیشنڈ آفیسرتھے جبکہ بڑے بھائی بھی نیوی سے وابستہ ہیں۔
کیپٹن عمر فاروق نے نومبر 2014 میں پی ایم اے میں شمولیت اختیار کی اور 16 اپریل 2016 کو کمیشن حاصل کیا۔ بعد ازاں انہیں41 میڈیم ایئر ڈیفنس پشاور میں تعینات کیا گیا ۔ ابتدائی دنوں کے دوران انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کرنے کا کام سونپا گیا جس میں انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کامیابی حاصل کی۔ان کی جرأتمندانہ کاوش پر پاکستان آرمی نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔انہیں 23 مارچ 2019 کوکیپٹن کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ ان کی یونٹ وزیرستان میں 2018 میں تعینات ہوئی تھی۔ کیپٹن عمر نے پیشہ ورانہ جرأت کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں حصہ لیا اور ان کے ٹھکانوں کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کیا۔
پشاور میں پوسٹنگ کے دوران پیشہ ورانہ امور کی ادائیگی احسن طریقے سے سرانجام دینے پر ان کے سینئر نے انہیں سیل فون گفٹ کیا ۔ لاہور میں تعیناتی کے دوران عام  انتخابات میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دی ۔  بنوں چیک پوسٹ پر پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دیں ، 2018میں شمالی وزیرستان میں ڈیوٹی سر انجام دینے گئے وہاں انہیں دو سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔2019 میں رشتہ ازواج میں منسلک ہوگئے، شمالی وزستان میں تعیناتی کی مدت ختم ہونے میں  ایک ہفتہ رہ گیا تھا کہ 14 اکتوبر 2020کو آئی ای ڈی بلاسٹ میں حوالدار یونس اور حوالدار شکیل کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔ کیپٹن عمر فاروق کی بیٹی منہال باپ کی شہادت سے ایک ماہ قبل دنیا میں  آئی تھی، ننھی منہال نے چند دن ہی باپ کے ساتھ گزارے تھے کہ کیپٹن عمر فاروق وطن کے دفاع پر قربان ہوگئے۔بائیس کروڑ عوام ننھی منہال کے غیور بابا کو سلام پیش کرتے  ہیں۔ ||


مضمون نگار صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں
[email protected]


 

یہ تحریر 64مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP