گوشہ عساکر

سرحد کا سہاگ

آج جھڑی لگے ہوئے دسواں روز تھا۔ سیاہ بادلوں کی دبیز ٹکڑیوں نے آسمان پر ایسا پردہ کیا ہوا تھا کہ بھری دوپہر میں بھی شام کا گماں گزرتا تھا۔ ہم بنکر کے اندر بیٹھے انگارے تاپ رہے تھے۔پوسٹ کی دیوار میں بنے تنگ روزن سے باہر وزیرستان کی بانجھ پہاڑیاں آسمانوں کی طرف گردنیں اٹھائے نوحہ کناںتھیں۔ ان کے روپ میں عجب سی ہیبت اور افسردگی تھی جیسے پرانے قبرستانوں پر مردنی چھائی ہوتی ہے۔ 
میں نے بھاپ اڑاتی خوشبودار چائے کا تیسرا مگ ادھیڑعمر صوبیدار صاحب کو دیا جسے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ پہلے ایک لمبی سانس لے کر چائے کی مہک سے خود کو سرشار کیا اور پھر سڑپ سڑپ چائے پینے لگا۔ بارش کی رومانوی آواز اور اس کے محبوب مشروب کے لگاتار پیالے اس پر وجد طاری کر دیتے تھے،کبھی کبھار تو وہ خاموشی سے پنڈولم کی طرح جھومنے لگتا اور کبھی اپنا پرانے برگد جیسا جھریوں والاچہرا دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر ہمیں اپنے ماضی میں لے جاتا تھا۔
ریکروٹ بھرتی ہونے کے بعد یہ  یونٹ میں میراپہلا دن تھا۔ وردی پہننے کے شوق میں میٹرک کے بعد ہی فوج میں بھرتی کا فارم بھر دیاتھا ۔ بعدازاں دوران تربیت اپنے اس فیصلے پر جی بھر کر خود کو کوسا مگرجیسے تیسے یہ گھڑیاں بھی گزر گئیں اور میں پاس آؤٹ ہو گیا۔ پہلے دن نئی نویلی وردی پہن کرجب میں آئینے کے سامنے کھڑا اپنی بیرٹ سیدھی کر رہا تھا تو نجانے کیوں مجھے خود پر ایسا پیار آیا کہ من ہوا خود کو ہی بانہوں میں بھر لوں۔ یہیں میری پہلی ملاقات صوبیدار طورباز سے ہوئی۔ لانبا قد، صنوبر کی شاخوں کے جیسی نوکیلی گھنی مونچھیں ، چوڑا چکلا سینہ اور بھاری پاٹ دار آواز، صوبیدار مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔
ہم ریکروٹوں کو صوبیدار طورباز کی کمپنی الاٹ ہوئی تھی۔  طور باز ایک کہنہ مشق سپاہی تھا۔ اس کی زندگی سپاہ گری کی روداد تھی۔ ہم ایسے نہ جانے کتنے ہی نوخیز جوان تھے جو اس کے ہاتھوں میں تربیت پاکر چست فوجی بنے تھے۔ اس کی زندگی فوجی ڈسپلن کا استعارہ تھی۔ منہ اندھیرے بیدار ہونا، روزانہ تازہ شیو بنانا اور مونچھوں کی نوکیں بنائے، وردی سجا کر سنجیدہ چہرے سے ڈیوٹی پر حاضر ہو جانا۔ 
ہوشیار ! ایک دبیز پاٹ دار آواز گونجی اور ہماری آوازیں اور خوش گپیاں ساکت ہو گئیں۔ گویا ایک صوتی خلابن گیا ہو۔ یہ صاحب کی آواز تھی۔ فوج میں صوبیدار رینک جونیئر کمیشنڈ آفیسر ہونے کے ناتے انہیں جب بلایاجاتا تو نام کے ساتھ صاحب لگایا جاتا ہے۔ طور باز صاحب نے ہمارے نام لینا شروع کیے جیسے کچہری کا منشی ملزموں کے نام پکارتا ہے۔ اس نے ہمیں قطار میں کھڑا کیا اور مختصر جملوں میں آرڈر دینا شروع کیے۔  جوتوں کے تسمے باندھنے سے لے کر دشمن پر چھاپہ مارنا اور گھاؤ لگنے پر خود کی جان بچانے تک صاحب نے ہمیں ہر طریقہ سکھایا۔ اس دوران ہم نے صاحب کو کبھی مسکراتے یا نرم لہجے میں بات کرتے  نہیں دیکھا۔ 


پھر جنگ رک گئی۔ حالات معمول پر آئے  تو خانگی رابطے بحال ہونا شروع ہوئے۔  ہمارے خط وصول ہوئے تومیرے نام درجنوں لفافے تھے۔ یہ سب گل بانو کے تھے سوائے ایک کے۔ بچے کے ولادت سے پہلے گل بانو ہسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ وہ مجھے وہاں سے خط لکھتی اور ہمارے سہانے مستقبل کے خواب بتاتی ۔بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیاں ہوئیں اور وہ مستقل ہسپتال کی ہو کر رہ گئی۔ بچہ پیدا ہوتے ہی مر گیا۔ اس نے مجھے وہاں سے بے شمار خط لکھے جس میں وہ مجھے آپ بیتی لکھتی تھی۔گل بانو کے خطوں کے ساتھ آخری خط مختلف تھا، جو اس ہسپتال کی نرس نے لکھا تھا جو گل بانو کے خط میرے نام پر بھیجا کرتی تھی۔اس نے خط میں صرف یہ لکھا کہ وہ تمھاری راہ دیکھتے ہسپتال کے بستر پر مر گئی ہے۔ یہ شاید اس کامجھ سے شکوہ تھا۔


چند مہینوں میں ہی ہماری یونٹ کی تعیناتی وزیرستان میں ہو گئی۔ پچھلے کچھ عرصے سے یہاں شورش بڑھ گئی تھی۔ جوانوں کے ملے جلے جزبات تھے مگر طور باز کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ سرحدیں اس کا مسکن تھیں اور وہ آپریشنل ایریا میں ایسے مستعد اور توانا ہو جاتا جیسے دیوسائی کے بھورے ریچھ برف گرنے پر اپنے گرم خون کا زور محسوس کرتے ہیں اور اگلے پنجے ہوا میں لہرا لہرا کر سخت جان ہونے پر فخرمحسوس کرتے ہیں۔ 
چائے کا آخری لمبا گھونٹ لے کر صوبیدار انگاروں کو گھورنے لگا اور اپنے کرخت ہاتھوں سے جلے کوئلے الٹنے پلٹنے لگا۔ بارش تیز ہو چکی تھی۔ یہ کسی بارونق شہر میں اچھا خاصہ رومانوی ماحول ہوتا مگرروکھے پہاڑوں  پر بنے مورچے میں بیٹھے سپاہیوں کا ایسے موسم میں دل بلا وجہ اداس ہو جاتا ہے۔ 
دہکتے کوئلوں کو دیکھتے دیکھتے صاحب کا دل بھر آیا ، اس نے لمبی آہ نما سانس لی اور گویا ہوا: میںتمھارے جیسا تھا جب بھرتی ہوا تھا۔ مجھے شوق نہیں تھا۔ میرا دیوانہ پن تھا۔ میں جب لڑکپن میں تھا توفوجی ٹرکوں کے گزرنے پر انہیں حسرت سے دیکھا کرتا اور آہنی ہیلمٹ پہنے سپاہیوں کو ہاتھ ہلایا کرتا تھا۔میری ساری زندگی انہی پہاڑوں کے بیچ گزری ہے۔ سروس میں کئی بار ایسا ہوا کہ مجھے موت کا یقین ہو چلاتھا مگر دیکھو، تم لوگوں کے سامنے ہوں ۔ اب تو عمر بھی گزری جاتی ہے۔'' ''صاحب ! آپ نے شادی کیوں نہیںکی ؟'' میں نے سوچے سمجھے بغیر پوچھا۔ طورباز پھر انگاروں کو گھورنے لگا۔ اس کی سیاہ گھنیری آنکھیں دہکتے کوئلوں کی سرخ مدھم روشنی میں چمک رہی تھیں۔ اچانک وہ بھرآئیں۔ جیسے ساون میں سوکھی ہوئی برساتی جھیلیں بھر جاتی ہیں۔ اب انگارے اس کی ڈبڈباتی آنکھوں میں لہرا لہرا کر جل رہے تھے ۔جیسے سرینگر کی ڈل جھیل میں پھیلے بے شمار دیے شام کے اندھیرے میں ٹمٹما رہے ہوتے ہیں۔'' کی تھی!''طور باز دھیرے سے بولا۔ میں چھبیس کا تھا، گل بانو بیس کی۔ وہ بیحد خوبصوت تھی۔ میں بھراجوان ۔ جو ہمیں ساتھ دیکھتا ، دیکھتا رہ جاتا۔ ہماری شادی پر گاؤں کی بوڑھی عورتوں نے ہماری نظر اتارنے کے لیے اس کے ماتھے پر سیاہ نشان لگائے تھے۔ طور باز کی آواز میں قبرستانوں سی اداسی امڈ آئی۔ شاد ی کے بعد میری پوسٹنگ سیاچن میں ہو گئی۔ میں چلا گیا۔ اس زمانے میں ٹیلیفون کا رواج نہیں تھا۔ ہمارا رابطہ خطوط سے ہوتا تھا جو ہمیں مہینے مہینے بعد ملا کرتا تھا۔ ایک خط میں گل بانو نے مجھے بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ شمالی پہاڑوں کی کہر آلود سردی میں بھی مجھے خوشی کے مارے پسینہ آ رہا تھا۔ گل بانونے مجھے لکھا تھا کہ اس کی یاد میرے لیے اب بڑھ گئی ہے۔ کارگل میں ہماری بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ پھر جنگ چھڑ گئی۔ ہم روز و شب زندگی سے بے نیاز ہو کر دیوانہ وار حملے کرتے اور اپنی پوسٹوں کا دفاع کرتے تھے۔ میں پرجوش بھی تھا اور خوش بھی۔ شاید میری بچپن کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔ اس میں کئی ہفتے بیت گئے۔ ہمیں اپنے گھر کی کوئی خبر نہیں تھی۔
 پھر جنگ رک گئی۔ حالات معمول پر آئے  تو خانگی رابطے بحال ہونا شروع ہوئے۔  ہمارے خط وصول ہوئے تومیرے نام درجنوں لفافے تھے۔ یہ سب گل بانو کے تھے سوائے ایک کے۔ بچے کے ولادت سے پہلے گل بانو ہسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ وہ مجھے وہاں سے خط لکھتی اور ہمارے سہانے مستقبل کے خواب بتاتی ۔بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیاں ہوئیں اور وہ مستقل ہسپتال کی ہو کر رہ گئی۔ بچہ پیدا ہوتے ہی مر گیا۔ اس نے مجھے وہاں سے بے شمار خط لکھے جس میں وہ مجھے آپ بیتی لکھتی تھی۔گل بانو کے خطوں کے ساتھ آخری خط مختلف تھا، جو اس ہسپتال کی نرس نے لکھا تھا جو گل بانو کے خط میرے نام پر بھیجا کرتی تھی۔اس نے خط میں صرف یہ لکھا کہ وہ تمھاری راہ دیکھتے ہسپتال کے بستر پر مر گئی ہے۔ یہ شاید اس کامجھ سے شکوہ تھا۔
محبت دوری برداشت نہیں کرتی۔ گل بانو میری دوسری محبت تھی۔ پہلی محبت یہ ہمارے اوپر لگا جھنڈا ہے۔میں دوسری تو نہ نبھا سکا مگر پہلی نبھا رہا ہوں۔ طور باز نے پتیلی کی تہہ میں بچی گاڑھی چائے مگ میں انڈیلی اور تیز تیز پینے لگا۔ باہر دس روز سے لگی بارش بھی رک گئی تھی۔ 


کہانی نگار، پاکستان آرمی میڈیکل کور کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 916مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP