قومی و بین الاقوامی ایشوز

سارک پر طاری جمود… وجوہات و اثرات  

جنوبی ایشیاء میں مستحکم علاقائی تعاون ہمیشہ سے ایک مشکل معاملہ رہا ہے۔ پاکستان کی سبھی حکومتوں کی ہمیشہ سے خواہش اور کوشش رہی کہ علاقہ میں امن اور خوشحالی کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ ملے اور تمام ممالک ایک دوسرے کی مدد سے خطہ میں امن و امان کی فضا برقرار رکھیں۔ اسی لیے 1985 میں جب جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم ''سارک'' وجود میں آئی تو اکثر امن پسند حلقوں کو توقع تھی کہ یہ تنظیم خطے میں امن و ترقی کے نئے باب وا کرنے میں کامیاب رہے گی کیونکہ بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان نے ابتدائی عرصے میں اس جانب کافی پیش رفت بھی کی تھی مگر بدقسمتی سے تاحال یہ خواب اپنی تعبیر نہیں پا سکا۔ 8 دسمبر 1985 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بننے والی سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن نامی یہ تنظیم ابھی تک کسی بھی حوالے سے اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجوہات جاننے کے لئے خطے میں علاقائی تعاون کی تاریخ، سارک کے قیام کی وجوہات اور اس کے تاحال خاطر خواہ فعال نہ ہونے کے پس پشت عوامل و محرکات کو جاننا ضروری ہے۔ 



8 ممبران والی سارک دنیا کے محض 3 فیصد رقبے یعنی لگ بھگ 20 لاکھ مربع میل پر محیط ہے جبکہ روئے زمین پر بسنے والی تقریباً 8 ارب آبادی میں سے 21 فیصد سے زائد لوگ یہیں آباد ہیں، یعنی دنیا کی لگ بھگ پونے دو ارب آبادی انہی ممالک میں بستی ہے۔ 1985 میں جب سارک کا قیام عمل میں آیا تو سات ممالک پاکستان ، بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا اس میں شامل تھے جبکہ 2007 میں افغانستان آٹھویں رکن کے طور پر سارک کا حصہ بنا، یوں سارک کے ممبران کی تعداد 8 ہو گئی جن میں سے دو ارکان یعنی پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقت ہیں۔ اس کا ہیڈ کوارٹر نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہے۔ 8 ارکان کے علاوہ آسٹریلیا، چین، امریکہ، یورپی یونین ، ایران، جاپان، کوریا، ماریشس، میانمر کو اس تنظیم کے '' آبزرورز'' یعنی مبصرین کا درجہ حاصل ہے۔ 



سبھی جانتے ہیں کہ ''سارک'' ابھی تک خاطر خواہ اندازسے اپنا مقام اور مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسے اس خطے کی بدقسمتی قرار دیا جائے یا اس کے لیے کوئی دوسرے الفاظ استعمال کیے جائیں ، اس تنظیم کے سبھی ارکان اور بھارت میں ایک مشترک قدر یہ ہے کہ بھارت کی جغرافیائی یا سمندری حدود سارک کے سبھی ملکوں سے متصل ہیں ماسوائے افغانستان کے اور اپنے اسی امتیازی ''وصف'' کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہلی کے حکمرانوں نے اس تنظیم کو تاحال صحیح طرح اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہونے دیا بلکہ بھارت کے سبھی ہمسایہ ممالک بشمول نیپال، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستان گاہے بگاہے اس کی ریشہ دوانیوں کا شکار رہے ۔ 
سارک ممالک سے بھارت کے تعلقات  پاکستان اور بھارت 
پاکستان کے خلاف بھارتی ریشہ دوانیوں کی تاریخ اس قدر طویل ہے کہ اس کے لیے ایسی متعدد تحاریر بھی کم پڑ سکتی ہیں۔ کئی مواقع پر پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کا مرتکب ہوا۔ بلوچستان، گلگت، سندھ اور آزاد کشمیر میں دہشتگردی کو فروغ دیا اور افغانستان میں بھی اپنے تحرک کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی قابل مذمت کاوشیں کرتا رہا ہے۔ بھارت نے 1971 میں علانیہ طور پر طاقت اور سازشوں کے ذریعے پاکستان کو دولخت کیا اور اس کا اعتراف بھی متعدد مواقع پر دہلی کے حکمران کر چکے ہیں۔ مودی نے 6 جون 2015 کو اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران ''را'' اور ''مکتی باہنی'' کی بنگلہ دیش اور پاکستان میں مداخلت کو بطور کارنامہ پیش کیا۔ پاکستان کا دو لخت ہونا قومی تاریخ کا ایسا المیہ تھا جسے بجا طور پر سیاہ ترین ہی قرار دیا جا سکتا ہے مگر یہ نوبت یہاں تک کیوں اور کس طرح پہنچی، اس کے محرکات و عوامل کو بھارت اور بنگلہ دیش کی عوامی لیگی حکومت نے اپنے مخصوص مفادات کے تحت استعمال کیا اور اس کی تاریخی حیثیت مسخ کر کے ''من چاہے'' نتائج اخذ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بھارت کھلے عام پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا مرتکب بھی ہوتا رہتا ہے۔ انڈین میڈیا کے ہر چینل پر بلیٹن کے 30 فیصد وقت میں پاکستان کے خلاف زہر افشانی دیکھنے میں آتی ہے۔ سارک تنظیم کے ضمن میں بھی بھارت نے ''اڑی سانحہ'' کو بنیاد بنا کر عیاری سے 19 ویں سارک سمٹ کے انعقاد کی راہ مسدود کر دی تھی۔ محض اسی واقعے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ سارک تنظیم تاحال کیوں اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پائی۔ 
 سری لنکا اور بھارت 
سری لنکا ان دنوں خانہ جنگی کا شکار ہے اور دیوالیہ ہونے کے باعث وہاں معاشی اور سیاسی انتشار کی سی صورتحال ہے۔ اگر وہاں بدامنی کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو بھارت کی پروردہ ایل ٹی ٹی ای جنھیں تامل ٹائیگرز بھی کہا جاتا ہے، نے سری لنکا میں 1983 سے 2009 تک قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا جس پر قابو پانے کے لیے سری لنکن اداروں کو سر توڑ کوششیں کرنی پڑیں۔ تقریباً 26 سال چلنے والی اس جنگ نے سری لنکا کو بدامنی کا گڑھ بناکر رکھ دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصہ میں 27000 سے زائد تامل ٹائیگرز ہلاک ہوئے جبکہ 29 ہزار کے قریب سری لنکن اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ ایل ٹی ٹی ای کو ابتدائی ٹریننگ بھارتی خفیہ ادارے ''را'' نے علانیہ فراہم کی اور 5 جون 1987 کو جب لنکن حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ایل ٹی ٹی ای کو شکست دینے کے قریب ہیں تو بھارتی فضائیہ نے اپنے طیاروں کے ذریعے باغیوں کے اکثریتی علاقوں میں 25 ٹن خوراک، دوائیوں اور ہتھیاروں کا سامان ڈراپ کیا تا کہ وہ کمزور نہ پڑیں اور سری لنکا میں خانہ جنگی برقرار رہ پائے۔ اسی سب کے ردعمل کے طور پر بھارت کے چھٹے وزیراعظم راجیو گاندھی 21 مئی 1991 کو ایل ٹی ٹی ای کے خودکش حملے میں جان کی بازی ہار گئے۔ اب بھی وقتا فوقتا بھارت سری لنکا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہتا ہے۔ 
 افغانستان اور بھارت 
ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے فروغ کے لیے افغان سرزمین کو حتی المقدور استعمال کیا اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد جماعتوں کی سرپرستی بھی کرتا رہا،مگر بھارت کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے انٹیلی جنسناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب سقوطِ کابل ہوا اور افغان طالبان نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی۔ طالبان کے کابل کا کنٹرول سنبھالنے پر بھارت میں صفِ ماتم بچھ گئی ۔ اطلاعات کے مطابق کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد وہاں بھارتی سفارتخانے کے عملے کو حکم دیا گیا کہ وہ تمام حساس کاغذات کو الیکٹرانک بھٹیوں میں ڈال کر بھسم کر دیں کیونکہ ان سے بھارت کی افغانستان میں کثیر سرمایہ کاری اور دہشتگردی میں معاونت کے ثبوت دنیا کے سامنے آ سکتے ہیں، یہ احکامات ان کاغذات کی انتہائی کثیر تعداد کی وجہ سے جاری کیے گئے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں انھیں وہاں سے منتقل کیے جانا تب ممکن نہیں تھا۔ 
 بھوٹان اور بھارت 
چاروں اطراف خشکی سے گھرا بھوٹان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے، بھارت نے اسے ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش تا کہ بھوٹان کسی بھی طور چین کے کیمپ میں نہ جانے پائے۔ اسی لیے بھارت کے اپنے اس شمالی ہمسایہ ملک کے ساتھ بھی تعلقات کسی حد تک تلخ ہو رہے ہیں۔ بھوٹانی اخبارات نے کرونا وائرس کے دنوں میں بڑھتے کیسز کے لیے ''انڈین ملٹری ٹریننگ ٹیم'' کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو بھوٹان کی شاہی فوج کو تربیت دیتی ہے۔ اس کے ساتھ بھوٹان میں بڑھتی بے روزگاری اور خراب مالی حالات کے لیے بھی بھارت کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔ بھوٹانی عوام کے تحفظات ہیں کہ بھارت کے اس شمالی ہمسایہ نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو ترجیح دی مگر دہلی کے حکمرانوں کی جانب سے ہمیشہ ان کا استحصال ہی کیا گیا اور ہمیشہ آقا والا برتاؤ رکھا گیا۔ بھوٹان کی خارجہ پالیسی پر بھی عملاً بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے اور ہمیشہ اس پردباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ چند ممالک کے علاوہ کہیں بھی اپنے سفارتخانے اور قونصل خانے قائم نہ کرے۔ بھوٹان کے عوامی اور سیاسی ایوانوں میں آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ بھوٹان میں بھارت کی کرنسی کو ممنوع قرار دیا جائے کیونکہ اس سے سارا ریونیو دہلی سرکار کو جاتا ہے۔ 
 بنگلہ دیش اور بھارت 
سبھی جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام میں بنیادی کردار بھارت نے ادا کیا مگر بنگلہ دیشی حکومت کے بھارت کیساتھ تعلقات مختلف وقتوں میں اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے رواں سال بھوٹان، مالدیپ اورسری لنکا کے ساتھ بنگلہ دیش کا بھی دورہ کیا ، اس موقع پر بھی بنیاد ی طور پر دیرینہ تنازع ''دریائے تیستا '' پر بات کی گئی جو گزشتہ 50 برس سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کا باعث ہے۔ بھارت بنگلہ دیش اور چین کے بڑھتے روابط سے بھی پریشان ہے کیونکہ چین دریائے تیستا کے پراجیکٹ میں بنگلہ دیش کیساتھ مل کر خطیر سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس ضمن میں اب ایک فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
نیپال اور بھارت 
1988-89 میں بھارت سرکار نے جس طرح نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی، وہ اس خطے کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ اس کے بعد بھی 2015 میں ''مدھیشی'' باشندوں کے نام پر جس طرح نیپال کو تختہ مشق بنایا گیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ چونکہ نیپال مکمل طور پر خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے اور اپنی تمام تر تجارت اور معیشت کے لیے بھارت کا محتاج ہے اس لیے اس چیز کو بھارتی حکمرانوں نے نیپال میں دخل اندازی اور اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ۔یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ یکم جون 2001 کو نیپالی شاہی خاندان کے نو افراد کو ماہانہ فیملی ڈنر کے دوران فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مختلف مواقع پر ثابت ہوا کہ اس سازش کے ماسٹر مائنڈ بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' اور انڈین انٹیلی جنس بیورو تھے۔ مرنے والوں میں نیپالی بادشاہ بریندرا، ملکہ ایشویریا اور شاہی خاندان کے دیگر 9 افراد شامل تھے۔ بادشاہت ختم ہونے کے بعد نیپالی ماؤسٹ پارٹی کے چیئرمین ''پُشپا کمال دُہل'' نے ایک عوامی اجتماع میں انکشاف کیا کہ شاہی خاندان کی نسل کشی کی سازش بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' اور انڈین آئی بی نے رچائی تھی تا کہ بادشاہ کی ہلاکت کے بعد اس کے بھائی کو تخت نشین کیا جا سکے۔ ڈنر کے موقع پر فائرنگ کے دوران ''گیندرا'' کا خاندان بھی موقع پر موجود تھا مگر انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ گیندرا نے بھائی اور بھتیجے کی موت کے بعد تخت نشین ہونے پر تمام بھارت نواز پالیسیاں اپنا لیں جس سے بھی اس نظریے کو تقویت ملتی ہے ۔ یاد رہے کہ نیپال کیساتھ بھارت کے سرحدی علاقوں پر بھی تنازعات چلے آ رہے ہیں جن میں نیپال، چین اور بھارت بنیادی فریق ہیں ۔ 
 مالدیپ اور بھارت 
تاریخ بتاتی ہے کہ جنوبی ایشیاء میں آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ سب سے چھوٹا ملک بھی بھارتی سازشوں سے محفوظ نہیں۔ مالدیپ میں ان دنوں بھی '' انڈیا آئوٹ'' مہم زوروں پر ہے اور عوام و خواص سراپا احتجاج ہو کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ مالدیپ سے بھارتی تسلط ختم ہونا چاہیے کیونکہ تمام وسائل پر عملاً بھارت قابض ہو چکا ہے۔ مالدیپ کے عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جاری اس مہم پر مالدیپ کی موجودہ حکومت نے چند ہفتے قبل پابندی عائد کر دی ہے۔ انسانی حقوق کی اس سلبی پر بھی مالدیپ میں شہری غم و غصے کا شکار ہیں۔ علاوہ ازیں بھارت اپنے اس ہمسایہ ملک میں میں ایک سے زائد مرتبہ فوج کشی کا مرتکب ہو چکا ہے ۔ مالدیپ کی مختلف حکومتیں مثلاً کبھی ''مامون عبدالقیوم'' اور کبھی ''محمد نشید'' دہلی سرکار کا شکار بنتے رہے ہیں۔
علاقائی تعاون کو درپیش چیلنجزاور مواقع 
آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا کے اہم ترین خطوں میں سے ایک ہونے کے باوجود جنوبی ایشیاء میں سارک کبھی اپنا مؤثر وجود ثابت نہیں کر پائی جبکہ عالمی سطح پر علاقائی تعاون کی مختلف تنظیموں مثلاً آسیان، یورپی یونین اور افریقی یونین اپنے قیام کے بعض مقاصد حاصل کرنے میں خاصی حد تک کامیابی ہیں ۔ سارک کو بنیادی طور پر جو چیلنجز درپیش ہیں، ان میں سرفہرست اس خطے میں علاقائی تعاون کا رجحان زوال پذیر ہونا ہے جس کے نتیجے میں '' دو طرفہ تعاون'' کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ نائن الیون کے بعد سے بتدریج دنیا میں ایسا ماحول بن گیا کہ دو ممالک کے مابین باہمی تعلقات کو ساری اہمیت دی جاتی ہے اور علاقائی تعاون کو وقتاً فوقتاً پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ابتدائی برسوں میں چونکہ امریکہ ہی دنیا کی واحد سپر پاور تھا لہٰذا علاقائی تعاون کی تنظیموں کی موجودگی امریکہ کے لیے مفید تھیں مگر نائن الیون کے بعد جب چین اور روس متوازی قوتیں بن کر ابھرے تو بڑے ممالک کے مابین سفارتی،  معاشی اور فوجی رسہ کشی '' آرڈر آف دی ڈے'' بن گئی ۔ امریکہ چونکہ خود افغانستان، ایران، عراق ، لیبیا اور شام وغیرہ میں الجھ گیا اس لیے فطری طور پر ان ''جنگوں'' کے سائے میں علاقائی تعاون کو فروغ دینا شدید مشکل ہو گیا اور سبھی معاملات دو طرفہ تعاون پر مرکوز ہو کر رہ گئے، مستزاد یہ کہ بھارت خود کو '' منی سپر پاور'' تصور کرنے لگا اور اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف توسیع پسندی کو اپنا حق سمجھنے لگا۔ خصوصاً روس یوکرین جنگ میں بھی عالمی برادری کے ایک حلقے کی نگاہیں بھارت کی طرف لگی رہیں اور وہ مزید خود پرستی میں مبتلا ہوتا گیا، یہ الگ بحث ہے کہ اس کے خود بھارت اور خطے پر دیرپا اثرات کیا مرتب ہونگے؟  بہر حال موہوم توقع ہی کی جا سکتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے سارک کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا اور بھارت خود کو ''بگ برادر'' سمجھنے کی ذہنیت ترک کرے گا۔ ||


مضمون نگار ایک اخبار کے ساتھ بطورِ کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 143مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP