رپورٹ

کالج آف آرمی ایجوکیشن کا افتتاح

 رپورٹ:میجر عابد حسین کھوکھر

کالج آف آرمی ایجوکیشن پاک فوج کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔ جزوی طور پر آرمی ایجوکیشن کور کے پیشہ ورانہ کورسز کا آغاز گیریژن ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ سنٹر راولپنڈی میں 2014سے ہو چکا تھا ،  تاہم باقاعدہ طور پر کالج آف آرمی ایجوکیشن کا افتتاح چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ   نے11اکتوبر2022کو گیریژن ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر راولپنڈی میں کیا۔



میجر جنرل طاہر گلزار ملک، ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مہمانِ خصوصی کو کالج کے قیام و انصرام اور تربیتی امور کے متعلق بریفنگ دی۔
 چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کالج آف آرمی ایجوکیشن کے قیام پر آرمی ایجوکیشن کور کو مبارک بادپیش کی۔انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر بالعموم اور آرمی میں اس کی پیشہ ورانہ اہمیت پر بالخصوص زور دیا۔
 چیف آف آرمی سٹاف نے ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ، کمانڈنٹ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر، آرمی ایجوکیشن کور کے افسران، سردار صاحبان اور خطباء کی کالج آف آرمی ایجوکیشن کی بحالی کے لیے کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس امیدکا اظہار کیا کہ کالج آف آرمی ایجوکیشن پاک فوج کے افسران اور جوانوں کوزیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتا رہے گا۔
تقریب کے اختتام پر لیفٹیننٹ جنرل سید محمد عدنان انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیو ایشن نے مہمانِ خصوصی کوکالج سووینئر پیش کیا۔



تقریب میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران بشمول لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر، کوارٹر ماسٹر جنرل ، لیفٹیننٹ جنرل سید محمد عدنان، انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیو ایشن، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، کمانڈرراولپنڈی کور، لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز، میجر جنرل طاہر گلزار ملک، ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ،  میجر جنرل محمد عرفان، پرنسپل  سیکرٹری برائے چیف آف آرمی سٹاف، میجر جنرل عاد ل یامین، ڈائریکٹر جنرل پرسنل ایڈمنسٹریشن ڈائریکٹوریٹ، میجر جنرل غلام شبیر ناریجو، ڈائریکٹر جنرل آرگنائزیشن اینڈ میتھڈ ڈائریکٹوریٹ اور آرمی ایجوکیشن کور کے حاضر سروس اور سابق افسران، سردار صاحبان اور خطباء نے اس افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
 

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP