یوم پاکستان

قوسِ قزح کے رنگ، اِن کے پروں کے سنگ

افتخارِ وطن شاہینوں کے فضائی مظاہرے اور اُن کی افادیت


پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے2 فروری2021 کو پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان میںپاس آئوٹ ہونے والے 133کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا''جس طرح پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے دوران اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہ ہمارے پُرعزم اور باصلاحیت ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، پوری قوم کو اپنی ایئرفورس پر فخر ہے اور یقین ہے کہ پاک فضائیہ مستقبل میں بھی شاندارروایتوں کی بلندیوں کو چھُوئے گی۔'' تقریب کے آخر میں مہمانِ خصوصی نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے نئے افسران میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کئے۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کی 'شیردل'  ایروبیٹک ٹیم نے ایرو بیٹکس کا دل موہ لینے والا شاندار مظاہرہ پیش کیا جسے تمام مہمانوں نے بے انتہا سراہا۔



جب بھی ملکی حالات اجازت دیتے ہیں پاکستانی قوم ملّی ایّام بڑی دھوم دھام سے مناتی ہے۔ 23 مارچ یومِ پاکستان ،14 اگست یومِ آزادی اور6 ستمبر یومِ دفاع وغیرہ تمام پاکستانی مل کر والہانہ جوش و جذبے سے مناتے ہیں اور ان تقریبات کو چار چاند لگانے کے لئے فوجی پریڈ اور فلائی پاسٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں پاک فضائیہ کی ایرو بیٹکس ٹیمیں فضائی کرتبوں کا مظاہرہ کرتی ہیں اور قومی ایّام پر فلائی پاسٹ کی قیادت، پاک فضائیہ کے سربراہ خود کرتے ہیں۔ یہ قابلِ تقلید مثال پاک فضائیہ کے پہلے سربراہ ایئرمارشل اصغرخان نے قائم کی۔ جب انہوںنے سٹار فائٹرF- 104  اُڑاتے ہوئے پہلے فلائی پاسٹ کی قیادت کا شرف حاصل کیا اور یہ شاندار روایت موجودہ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف ایئرمارشل مجاہدانور خان تک آج بھی احسن طریقے سے جاری ہے اور اب وہ F-16 اُڑاتے ہوئے فلائی پاسٹ کی قیادت کا اعزاز حاصل کرتے ہیں ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب ہمارے شاہین اپنے سربراہ کو اپنے ساتھ اُڑتا ہوا دیکھتے ہیں تو اُن کے حوصلے آسمانوں کو چھوتے نظر آتے ہیں اس طرح وہ ہر محاذ پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ دکھانے کے لئے اپنی جان لڑادیتے ہیں۔
ایرو بیٹکس ٹیم کے ہوا باز اپنے شہپروںکی تگ و تاز سے ہمہ وقت لہو گرم رکھنے کے مشاغل تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اگر چہ بعض اوقات اِن کاوشوں میں اِنہیں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں جس طرح گزشتہ برس ونگ کمانڈر نعمان اکرم یومِ پاکستان ایروبیٹکس مظاہروں کی تیاری کے دوران درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے۔ لیکن اس قسم کی قربانیاں، ان شاہبازوں کے شوقِ پرواز کو کم کرنے کے بجائے مزید مہمیزو جنوں خیز کردیتی ہیں۔ کیونکہ ایروبیٹکس کے ذریعے سے ہمارے عقاب مزاج ہوا باز لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی پیشہ ورانہ تربیت کے مراحل بھی عمدہ طریقے سے مکمل کررہے ہوتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ہر طرح سے بے خوف ہو کر، جرأت و دلیری سے بے شمار دائو پیچ آزما کر دشمن کے جہازوں کو تیزی سے زیر کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں حاصل کرلیتے ہیں۔ اس بلند معیار کے حصول کی خاطر ہمارے دلاور شاہینوں نے کس قدر جانفشانی سے کام لیا، اُس کا ایک طائرانہ جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
پہلا ایروبیٹک مظاہرہ1950 پشاور:  سب سے پہلے پاکستان میں ایروبیٹکس کے اُفقِ بیکراںپرچمکنے والے ستارے کا نام فلائنگ آفیسر فواد شاہد حسین ہے، جس نے 1950 کے آغاز سے انتہائی کم اونچائی پر اپنے جہاز کو اُلٹا اُڑا کر اور مختلف نئے نئے مینورز دکھا کر رَن وے پر کھڑے ہوئے مختصر سے مہمانوں کو شاداں وفرحاں کردیا۔ عرفِ عام میں پیار سے اس ہواباز کو لوگ ''ایف ایس'' کہہ کر پکارتے تھے۔انہوںنے یہ مظاہرہ ہا کر فیوری(Hawker Fury)جہاز میں دکھایاتھا۔ آپ کا یہ جہاز رن وے سے اس قدر قریب تھا کہ رَن وے کے اطراف میں پڑے ہوئے  مٹی کے ذرّات ہوا میں اُڑنا شروع ہوگئے۔ یعنی یہ دلچسپ مظاہرہ تقریباً پشاور بیس پر موجود درختوں کی اونچائی پر دکھایاجارہا تھا۔اتنی کم اونچائی پر 'ایف ایس' نے 8-Points Role بنا کر بھی لوگوں سے بہت داد وصول کی۔ بدقسمتی سے ایف ایس40 سال کی بھرپور جوانی میںذیابیطس کے موذی مرض کا شکار ہو کر ایئر کموڈور کے رینک پر انتقال فرماگئے۔
ریڈ ڈریگن1950(Red Dragons) :   یہ پاک فضائیہ کی پہلی ایئرو بیٹکس ٹیم تھی جو چار فیوری جہازوں پر مشتمل تھی جس کی قیادت سکواڈرن لیڈر ظفر چوہدری کررہے تھے اور یہ مظاہرہ بھی پشاور بیس پر پیش کیاگیا۔ یہ وہی ظفر چوہدری ہیں جو بعد میںمارچ 1972میں پاک فضائیہ کے سربراہ بھی بنے۔
پہلی جیٹ ایرو بیٹک ٹیم 'پے بلز' (Pay Bills) 1952:  اپنے وقت کے بہترین ہوا باز سکواڈرن لیڈر 'ایف ایس' حسین نے جن کا تعلق ابNo:11sqnسے تھا، 1952 میں ڈرگ روڈ بیس، جسے اب فیصل بیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، پہلی جیٹ فارمیشن کی قیادت کا شرف حاصل کیا، اس وقت یہ انوکھا کال سائن No:11sqn کا تھا جس میں Attackers-4 جہاز شامل تھے۔ جب ان جہازوں نے پہلی مرتبہ 'منوڑہ'  کے ساحل پر فضائی مظاہرہ دکھایا تو کراچی والوں کے لئے ایک سماں بندھ گیا۔ اس فارمیشن میں ایک ہوا باز پائلٹ آفیسر جمال اے خان بھی شامل تھے جو مارچ1985 میں پاک فضائیہ کے سربراہ بنے ۔
 پاکستان فضائیہ کے لئے تاریخ ساز دن 2 فروری1958 :   شوقِ ہوا بازی کو اپنے دلوں میں پروان چڑھانے والے شاہبازوں اور پاک فضائیہ کے لئے2 فروری1958 وہ یاد گار دن تھا جب 16 طیاروں کی فارمیشن نے، جوF-86 سیبر لڑاکا فائٹرز پر مشتمل تھی، مسرور بیس پر لوپ بنا کر لوگوں کے دلوں کو گرمادیا۔ یہ ایک ایسا کمال تھا جس کے لئے شیروں کا جگر چاہئے۔ اس فارمیشن کی قیادت ونگ کمانڈر ایم زیڈ مسعود کررہے تھے جنہیں1965 میں 'ہلال جرأت' سے نوازا گیا16 فائٹر جہازوں کا پروں سے پر ملا کر اڑنا اور پھر 'لوپ' بنا نا، حقیقتاً ایک غیر معمولی امر ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس فارمیشن میں فلائٹ لیفٹیننٹ سجادحیدر بھی شامل تھے جنہوںنے 1965 اور1971 دونوں جنگوں میں کارنامے سرانجام دیئے  اور ایئر کموڈور کے رینک پر ریٹائرڈ ہوئے۔
یہ بہادر جری صف شکن بُت شکن
میرے شاہین ہیں افتخارِ وطن
محوِ پرواز ہیں سر سے باندھے کفن
رب کی رحمت رہے ان پہ سایہ فگن
سیبرز نائن 1964(Sabers Nine) :  یہ  ایروبیٹک فارمیشن(9)نو، F-86 جہازوں سے تشکیل دی گئی تھی اور اس ایروبیٹک ٹیم کی نمایاں خصوصیت  یہ ہے کہ اِن نو شہبازوں میں سے پانچ کو1965 میں ستارئہ جرأت سے نواز گیا، اس ایروبیٹک ٹیم کی قیادت ونگ کمانڈر انور شمیم نے کی جنہیں جولائی1978 میں پاک فضائیہ کے سربراہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ سکواڈرن لیڈر رفیقی ، سکواڈرن لیڈر منیر اور فلائٹ لیفٹیننٹ  یونس کی شہادت ہوگئی۔سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم شہرئہ آفاق ہوا باز، جو ایئر کموڈور کے رینک تک گئے، اُنہیں نو یقینی طور پر اور دو امکانی طور پر دشمن کے جہاز گرانے کا اعزاز حاصل ہوا۔
ریڈ ڈریگنز1967(Red Dragons) :   اس کال سائن کے ساتھ یہ دوسری ایرو بیٹک ٹیم تھی۔ جب ایران کے شہنشاہ رضاشاہ پہلوی پاکستان کے دورے پر آئے تو قلعہ جمرود کی رینج پر چار سرخF-86 طیاروں نے مظاہرہ دکھایا۔ جسے ونگ کمانڈر وقار عظیم لیڈ کررہے تھے اور یہ ایروبیٹک مظاہرہ اس قدر اعلیٰ پائے کا تھا کہ تمام مہمانان گرامی نے کھڑے ہو کر بآوازِ بلند نعرہ ہائے تحسین بلند کرتے ہوئے ہوا بازوں کی مہارت پر بے پناہ داد دی۔ اس قابل ترین ٹیم میں فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چوہدری اور فاروق فیروز بھی شامل تھے جو مارچ1991 میں پاک فضائیہ کے سربراہ قرار دیئے گئے اور نومبر1994 میں اُنہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اہم ترین عہدہ سنبھالنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
دی ریٹلرز1969(The Rattlers) : 14   اگست 1969 یومِ آزادی کے موقع پر جب روسی وزیرِ دفاع مارشل گریچکو(Marshal Grechko) نے سرگودھا بیس کا دورہ کیا تو اس موقع پر چار سیاہF-6s نے منفرد کال سائن 'ری ٹیلرز' کے ساتھ دل پذیر ایروبیٹکس کا مظاہرہ کیا۔ جسے آنے والے مہمانوں نے بہت پسندکیا۔
دی ٹائیگرز ونگ او ور1980(The Tigers Wing over) :  اس ٹیم میں 4 ایف (Mig-19) 6شامل تھے اور اس ایروبیٹک ٹیم کا تعلق سرگودھا بیس سے تھا اور فارمیشن کی قیادت سکواڈرن لیڈڑ حسنات کررہے تھے۔F-6ایسے جہازتھے جن سے ایروبیٹکس مظاہرہ کرکے دکھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ اس کارکردگی کے لئے بڑی محنت و مہارت درکار ہوتی تھی۔ مگر جب 11 فروری 1980 کو ایک غیر ملکی دفاعی ٹیم نے سرگودھا کا دورہ کیا تو ہمارے شاہینوں نےF-6 سے ایروبیٹکس دکھا کر اُنہیں ششدر کردیا۔
عاش الحسین (میفرک ایئر بیس) 1986:    یہ ایروبیٹک ٹیمT-37 جہازوں پر مشتمل تھی۔ جسے صرف بیس20 دنوں میں پاکستانی پائلٹ سکواڈرن لیڈر شاہد نثار نے مثالی مہارت و محنت  سے تیار کیا اور انہیں ہی اس کی قیادت کا شرف حاصل ہوا۔ اس ایرو بیٹک ٹیم نے اپنے کرتبوں کا مظاہرہ اُردن کے باد شاہ ایچ ایم حسین کے سامنے کیا۔ ٹیم کے دوسرے ہوا بازوں میں سکواڈرن لیڈر اے حمید قادری (پاک فضائیہ) کیپٹن محمدانکمری(رائل جورڈینین ایئر فورس) اور کیپٹن مائیکل (Michael) (امریکن ایئرفورس) سے شامل تھے۔  جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایروبیٹکس کے میدان میں پاک فضائیہ کے شاہین کس قدر سمجھ بوجھ رکھتے ہیں جس کا اعتراف دیگر ایئر فورسز کے پائلٹس بھی کرتے ہیں۔ 
شیردِ ل ایروبیٹک ٹیم:اگست1974 مارچ2021:   یہ پاک فضائیہ کی سب سے زیادہ تجربہ کارایروبیٹک ٹیم ہے جو اصغر خان فلائنگ اکیڈمی کے انسٹرکٹر پائلٹس پر مشتمل ہے۔ جب یہ ٹیم اپنی پرفارمنس کے لئے پریڈ گرائونڈ میں نمودار ہوتی ہے تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے مختلف رنگوں کی کہکشائیں، سطح زمین سے بالکل قریب آگئی ہوں۔پہلے 'شیردل' فارمیشن T-37 جہازوں پر مشتمل ہوتی تھی مگر آج کل یہ K-8 جہازوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے، ابتدائی طور پر 9جہاز سامنے آتے ہیں ان جہازوں کے خوبصورت کرتبوں کو دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ کبھی یہ ہوا باز فضا میں دلکش 8 کا ہندسہ بناتے ہیں اور کبھی دلفریب لوپ، کبھی بیرل رول بناتے ہیں اور کبھی تیزی سے پینترا بدل کر اُلٹے ہو جاتے ہیں مگر کسی مقام پر بھی ذرہ برابر بھی غلطی نہیں کرتے۔ پریڈ اسکوائر کی ایک جانب سے 9،K8 جہاز600 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار صرف500 فٹ کی بلندی پر9 نقطوںکی طرح فضا میں ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں اور بتدریج مکمل جہازوں کا روپ دھار کر اپنے کمالات دکھاتے ہیں اور بام برسٹ کے وقت ان کی رفتار 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھ جاتی ہے۔
 شیردل ، فارمیشن کا سب سے خوبصورت مینووَر(Manoeuvre)بام برسٹ(Bomb Burst) ہے جس میں سب جہازافق سے زمین کی جانب پرواز کرتے ہوئے مشرق، مغرب ، شمال جنوبی یعنی چاروں سمتوں میں ایسے بکھر جاتے ہیں جیسے موسم بہار میں آپ اپنی آنکھوں سے پُرکشش اور جاذبِ نظر پھو لوں کی پتیاں کِھلتے ہوئے دیکھ رہے ہوں اور بعض اوقات ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوہِ قاف سے پریاں اُتر آئی ہوں اور ہوا کے دوش پر، فضائوں میں پاکستانی پرچم لہراتی پھر رہی ہوں۔ شیردل فارمیشن کے ہواباز اپنے سروں سے کفن باندھے ہنستے مسکراتے ہر لحظہ جان لیوا خطروں سے کھیلتے ایک دوسرے کے ایسے قریب اُڑ رہے ہوتے ہیں جیسے پرندوں کا غول پروں سے پَر ملائے نیلگوں فضاؤں میں تیررہا ہو۔ پرندوں کا پرے بنا کر اُڑنا، اپنے وجدان پر منحصر ہے جبکہ ہوا باز یہ مہارت شب و روز اور سالہا سال کی کٹھن محنت و تربیت کے بعد حاصل کرتے ہیں اور اس عمل کے دوران پلک جھپکنے کی غلطی بھی مول نہیں لے سکتے۔ 
 پرائڈ آف پرفارمینس JF-17 تھنڈر ایرو بیٹک ٹیم2010-2021:   تھنڈر وہ اعلیٰ پائے کے جہاز ہیں جنہیں پاکستان نے اپنے قدیمی دوست چین کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ فائٹرز اور اُن کے مینورز(Manoeuvres) جو تھنڈر ایروبیٹک ٹیم پاکستان اور پاکستان سے باہر پیش کرچکی ہے، بہت مقبولیت رکھتے ہیں۔اب تک JF-17 تھنڈر2010 سے لے کر2019 تک چین، دبئی، قطر، سعودی عرب، پولینڈ ، ترکی اور فرانس کی نمائشوں میں اپنے ہائی سپیڈ مینورز اور ایرو بیٹکس کمالات دکھا چکے ہیں۔ ان جہازوں پر پاکستان کا جھنڈا بنا ہوا ہے۔ لہٰذا جب یہ فائٹرجہاز برق رفتاری سے اپنے شاندار کرتب دکھارہے ہوتے تو ایسے لگتا ہے جیسے قوسِ قزح فضائوں میں اٹھکیلیاں کرتی پھررہی ہو۔27 فروری2019 کو اسی تھنڈر جہاز نے بھارت کے خلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں بڑا مؤثر کردار ادا کیا اور دشمن کے ہوابازوںکو حیران و پریشان کرکے رکھ دیا۔ اس فائٹ میں بھارتی فضائیہ کے دو جہاز تباہ کردیئے گئے اور ہمارے سب جہاز محفوظ رہے۔
تھنڈر کی آسمان میں پرواز دیکھئے
مستی میں جھومتا ہوا شہباز دیکھئے
اس کی اعلیٰ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کئی ممالک اسے خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ کچھ تو یہ جہاز خرید بھی چکے ہیں۔ آج کل نائیجیریا، ملائشیا اور آذر بائیجان  سے تھنڈر جہازوں کے سودوںپر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
F-16 فالکن ایرو بیٹک ٹیم  1981- 2021:   ایف 16 فالکنز ایئروبیٹک ٹیم جب اپنی گھن گرج کے ساتھ پریڈسکوئر پر نمودار ہوتی ہے تو تمام شائقین بے اختیار اُس کے پہلے ہی مینور کو دیکھ کر تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے شیر اپنے شکار پر جھپٹ پڑے ہوں۔ ہمارے ایف 16کے شاہینوں نے7 سویت طیارے ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے پر پلک جھپکنے میں مار گرائے تھے۔ 
ہائی سپیڈ ایئرو بیٹکس عوام میں بے پناہ مقبولیت رکھتے ہیں جو لوگوں کا خون بھی بڑھاتے ہیں اور جذبات بھی گرماتے ہیں۔
پاک فضائیہ کی ایرو بیٹکس ٹیمیں چاہے اُن کا تعلق K-8 جہاز سے ہو،F-16 فالکن طیاروں سے ہو یا JF-17 تھنڈر فائٹر سے ہو، سب کی سب لاجواب ہیں۔ ایرو بیٹکس کا آغاز پاکستانی ایئرفورس ہوا بازوں نے1950 سے کیا اور آج اُن کی مہارت کے پوری دنیا میں چرچے ہیںاور اِسی وجہ سے ہمارے شاہینوں نے 1965 اور1971 کی جنگوں میں بہترین کارنامے سرانجام دیئے، ہمارے ہوا بازوں نے صرف بھارتی فضائیہ کے جہاز نہیں گرائے بلکہ روس کے جہاز بھی گرائے اور ڈیپوٹیشن کے دوران عراق، اُردن اور مصر کی طرف سے اسرائیلی جہازوں کو بھی تباہ کیا ہے۔
ان تمام ایروبیٹکس ہوا بازوں کے تجزیئے سے پتہ چلتا ہے کہ ان ٹیموں میں شامل ہوا باز جنگوں میں انتہائی اعلیٰ پائے کی کارکردگی پیش کرتے ہیں اور انہی میں سے اکثر وہ ہیں جو ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ایئر کموڈور ، ایئر مارشل اور پاک فضائیہ کا سربراہ بننے کا شرف حاصل کرلیتے ہیں اور خاص بات یہ کہ کبھی انہوں نے اپنی اس اعلیٰ مہارت اور کارکردگی پر غرورنہیں کیا بلکہ عجز و انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنے پروردگار کا کرم اور عطیہ سمجھتے ہیں اور اس پر شکرادا کرنے کی وجہ سے رب العزت بھی اُن کی صلاحیتوں میںمسلسل اضافہ کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا قوم کی تمام مائوں بہنوں اور سب افراد کے ہاتھ خدا کی بارگاہ میں ہمیشہ دعا گو رہتے ہیں پاک فضائیہ زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔
شاہینِ ارضِ پاک ہوں میں افتخارِ قوم
پرچم ہے سر بلند مرا، میں وقارِ قوم
مستی میں جب اُڑوں تو فضا جھومنے لگے
شہپر مرے ہیں وسعتیں افلاک کی لئے
میرا لہو وطن کے ہے نقش و نگار میں
میرے پروں کے رنگ گل و لالہ زار میں ||
 

یہ تحریر 376مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP