بیادِ قائد

قائد اور افواجِ پاکستان!

جنگیں محض اسلحے کے زور پہ لڑی تو جا سکتی ہیں جیتی نہیں جا سکتیں۔میدان جنگ میں فتح و شکست کے فیصلے صرف بندوقیں نہیں بندوقیں چلانے والوں کے حوصلے بھی کرتے ہیں،کس نے کتنا اسلحہ چلایا اس سے فرق نہیں پڑتا۔کوئی بات اگر اہم ہوتی ہے اور تاریخ کو یاد رہتی ہے تو فقط اتنی کہ کون کتنی جوانمردی سے لڑا۔کس نے کتنے حوصلے سے مقابلہ کیا۔تاریخ کبھی بزدلوں کو یاد نہیں رکھتی۔تاریخ کے پنوں میں فقط بہادر زندہ رہتے ہیں۔دلیری سانس لیتی ہے۔بقول بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح:دفاع میں اسلحے کی اہمیت نہیں۔آپ کے عزم و حوصلے اور استقامت کی ضرورت ہے جو آپ میں بدرجہ اتم موجود ہے۔
 1947ء میں جب پاکستان اور بھارت آزاد ہوئے تو بھارت سے نو آموز سلطنت پاکستان کو جہاں باقی بہت کچھ نہ ملا یا لٹے پٹے انداز میں ملا وہیں فوج بھی نہ ہونے کے برابر اور انتہائی مفلوک الحال ملی۔قائد اعظم باقی بہت سی باتوں کی طرح اس بات پر بھی ڈٹ گئے کہ فوج کے بنا آزادی نہیں لوں گا۔اور پھر بالآخر انگریزوں اور ہندوئوں کو قائد کی بات تسلیم کرنا پڑی ۔ وطن عزیز کو فوج دی گئی۔لیکن مملکتِ نو کو یہ فوج جس حال میں دی گئی وہ بہتر حالت میں نہ تھی۔ گنتی کی جوچند بٹالینز پاکستان کے حصے میں آئیں ان میں بھی نہ فوجی پورے تھے نہ ہی اسلحہ۔ہاں مگر ایک چیز وافر مقدار میں موجود تھی۔جذبہ عمل،ذوق یقین،بلند حوصلہ اور اس ایک بات نے آنے والے دنوں میں اقوام عالم پر یہ ثابت کر دیا کہ افواج پاکستان دنیا کی بہترین افواج میں سے  ہیں۔افواج پاکستان اس جذبے کی زندہ مثال ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی ہے۔ہم پچھتر سال سے اپنے پڑوسی کے سبب حالت جنگ میں ہیں۔ہم نے بیس سال دنیا کی بدترین 'وار آن ٹیرر' لڑی ہے اور اپنے جذبہ عمل سے ، ذوق یقین سے، بلند حوصلوں سے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ نہ صرف لڑی ہے بلکہ جیتی بھی ہے۔ہماری افواج نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ہم مصطفویۖ ہیں۔ہم تین سو تیرہ کے لشکر کے امین ہیں۔ہم حیدر کرار کے ماننے والے ہیں۔ہم غزوہ ہند کے سپاہی ہیں۔لیکن یہ بات جتنی آسانی سے یہاں تحریر ہوئی ہے اتنی آسانی سے ثابت نہیں ہوئی۔بہت سی مائوں کی کوکھ اجڑی ہے، بہت سے سہاگ لٹے ہیں،بہت سے پھول یتیم ہوئے ہیں، تب جا کے یہ گلشن آباد ہوا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد جب قائد اعظم نے بحیثیت گورنر جنرل آف پاکستان حلف اٹھایا تو انہیں پہلا گارڈ آف آنر دینے کا اعزاز پاک بحریہ اور بلوچ رجمنٹ کے دستوں کو حاصل ہوا۔قائد نے افواج پاکستان کی عددی اور جوہری طاقت میں کمی کو بڑی شدت سے نہ صرف محسوس کیا بلکہ اپنے آخری وقت تک انہیں مضبوط بنانے کی حتی المقدور عملی کاوشیں بھی کیں۔قائد دفاع وطن کے لیے پاک بحریہ کی اہمیت سے نہ صرف بخوبی واقف تھے بلکہ وقتاً فوقتاً اس کی اہمیت کو اُجاگر بھی کرتے رہے۔23 جنوری 1948ء کو قائد اعظم نے علالت کے باوجود پاک بحریہ کے افسروں و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
پاکستان کو تمام واقعات اور خطرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔اس دنیا میں ہم کمزور اور دفاعی صلاحیت سے محروم ہو گئے تودوسرے ممالک کو جارحیت کی دعوت دیں گے۔امن قائم رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو ہمیں کمزور سمجھتے ہیں اور اس بنا پر ہمیں دبا سکتے ہیں ان کے دلوں سے یہ گمان نکال دیا جائے۔پاکستان ایک نو آموز مملکت خداداد ہے۔اس کی بحریہ اور مسلح افواج بھی نئی ہیں۔پاکستان کے نئے ہونے کا مطلب ہے ترقی کرنا۔اور خدا کی رحمت سے اور مدد سے ہم جلد ہی لوگوں کی توقعات سے کہیں زیادہ ترقی کر لیں گے۔تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہماری افواج کمزور نہیں۔ان کے حوصلے، جذبے اور عزائم بہت بلند ہیں۔پوری دنیا کی نظریں آپ پر ہیں۔مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے روئیے اور طرزِ عمل سے پاکستان کو کبھی جھکنے نہیں دیں گے۔اوردیگر عظیم قوموں کی طرح بہترین روایات کومدنظر رکھتے ہوئے ملک کی عزت و وقار بلند کریں گے۔
اور پھر گزرے تمام برسوں میں افواجِ پاکستان نے قائد کی امیدوں پر بھرپور پورا اتر کے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان کا دفاع کسی صورت کمزور نہیں۔پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باوجود خود کو دنیا میں بہترین بحری فوج کے طور پر منوایا۔قائد اعظم افواج پاکستان کو بہترین اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مزین دیکھنا چاہتے تھے۔قائد اس بات کے قائل تھے کہ مملکت پاکستان کا مضبوط دفاع وقت کی ضرورت ہے۔اور اس کے لیے وطن عزیز کی مضبوط اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے آراستہ افواج کا ہونا ناگزیر ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ آخری ایام کی شدید علالت میں قائد اعظم نے جو آخری خط لکھا وہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل گریسی کو لکھا۔قائد اعظم نے 8 نومبر1947ء کو افواج پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ:
'مجھے یقین ہے کہ ہم ان مشکلات اور خطروں سے کامیابی سے گزر جائیں گے۔میں چاہتا ہوں کہ آپ سب لوگ مکمل اتحاد و باہمی تعاون سے کام کریںاور ان خطروں کا مقابلہ کریں جو آج ہمیں درپیش ہیں۔'
قائدِاعظم نے دفاعی حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعد وطن عزیز کی ضرورتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئی ملک میں اسلحہ فیکٹری کے قیام پر نہ صرف غور کیا بلکہ تیز ترعملی کاوشیں بھی کیں۔اس سلسلے میں آپ نے ایک غیر ملکی ماہر نیوٹن بوتھ کو منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا جس نے جلد ہی فیکٹری کے قیام کے بارے میں رپورٹ پیش کردی۔جس کے بعد کابینہ اور متعلقہ کمیٹیوں کی منظوری کے بعد قائدِاعظم محمدعلی جناح کی خواہش پر ایک اسلحہ فیکٹری راولپنڈی سی ایم ایچ کے پاس چھوٹی سی عمارت میں شروع کردی گئی تھی۔جس نے 1951ء میں پیداوار دینا شروع کردی تھی۔اور دوسری فیکٹری راولپنڈی کے باہر واہ میں قائم کی گئی تھی۔جس نے 1952ء میں کام شروع کردیا تھا۔آگے چل کر21  جولائی 1985ء کو جنرل ضیا الحق نے واہ اسلحہ ساز فیکٹری میں اس کا ایک ذیلی ادارہ قائم کیا۔جس میں105  ایم ایم توپوں کے گولوں کے لیے ٹینکسٹن الائے تیار کیا جاتا ہے۔جنوبی کوریا کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جس کے پاس یہ ٹیکنالوجی ہے۔پھر5 نومبر1985 کو ہی اس وقت کے وزیرِاعظم محمد خان جونیجو نے واہ فیکٹری میں ایک اور ادارے کا افتتاح کیا جو 7.12 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گن بناتا ہے۔
فوج کی جوہری کمی کو پورا کرنے کے لیے قائد نے اسلحہ بنانے کی فیکٹری شروع کی اور فوج کی پیشہ وارانہ تربیت کے لیے قائد اعظم نے ملٹری اکیڈمی کاکول کی بنیاد رکھی۔اور 28 جنوری1948 کو اس اکیڈمی میں پہلے کورس کا آغاز ہوا جہاں سے پاس آئوٹ ہونے والے پہلے بیچ کی پاسنگ آٹ پریڈ پہ پہلی اعزازی شمشیر جیتنے والے میجر عزیز بھٹی شہید تھے۔جن کا تعلق پاک فوج کی سب سے بڑی و بزرگ رجمنٹ پنجاب رجمنٹ سے تھا ۔آپ نے لاہور کے برکی محاز پہ بی آر بی نہر کنارے وطن عزیز کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ دے کر وطن کی آن بچا کر اس اعزازی شمشیر کا حق ادا کر دیا۔
وجودِ وقت کے سینے میں گاڑھ کر تجھ کو
میں روزِحشر بھی پرچم تیرا اٹھائے پھروں
قائد اعظم نے اپنی تمام زندگی پاکستان کے لیے وقف کر دی۔اور وطن عزیز کو ہر شعبے میں ترقی دینے کی ہمیشہ کوشش کی۔قائداعظم  کے حوصلے ہمت صاف گوئی اور ثابت قدمی کے دشمن بھی معترف تھے۔لندن کے اخبار نیوز کرانیکل نے قائداعظم کی وفات کے موقع پر اپنی  12دسمبر1948ء  کی اشاعت میں لکھا تھا کہ 
موت وہ پہلی طاقت ہے جس سے مسٹر جناح نے شکست قبول کی
نواب صادق علی خان نے قائدِاعظم کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 
قائدِاعظم فطرتاً صلح کل تھے۔لیکن باعزت سمجھوتے کے سوا کسی قسم کی مصالحت پسند نہیں کرتے تھے۔ایسے موقع پر اپنے دوستوں سے مشورہ بھی کرلیا کرتے تھے۔علاوہ ازیں وہ ایک مومن بے باک تھے اور علامہ اقبال کے اس شعر کی تفسیر تھے
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں ||


مضمون نگار کی کچھ عرصہ قبل ٹلہ جوگیاں پہ تاریخ و تصوف کے حسین امتزاج پہ مبنی جوگی، جوگ اور ٹلہ نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی تین کتب دیوسائی ، وطن، فرض اور محبت اور  کوسٹل ہائی وے پہ ہوا کا دروازہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 98مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP