یوم آزادی

قرار داد پاکستان سے قیامِ پاکستان تک 

ولولوں ، جذبوں اور قربانیوں کی لازوال داستان، ساجد حسین ملک کے قلم سے

اگست کا مہینہ آئے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اُن بے مثال قربانیوں کو بھول جائیں، ہم ہزاروں افراد کے تہہ تیغ ہونے کو فراموش کردیں ،ہم لاکھوں افراد کے اپنے گھروں سے بے دخل کیے جانے اور بے سرو سامانی کے عالم میں مہاجر بننے کو بھول جائیں، ہم بیاس اور ستلج دریائوں کے کناروں پر بہنے والے خونِ ناحق کی ندیوں کو بھول جائیں، ہم بیل گاڑیوں اور چھکڑوں میں سوار اورپیدل چلنے والے لُٹے پُٹے قافلوں کو بھول جائیں، ہم ریل گاڑیوں کے ڈبوں کے اندر اور چھتوں اور دروازوں کے ساتھ لٹکے ہوئے زخموں سے چُور بے حال مسافروں کو بھول جائیں۔ ہم پون صدی قبل کے اِن دل دوز مناظر کو کیسے بھول جائیں جن کی جھلکیاں کبھی کبھار ہمیں اخبارات کے صفحات اور ٹی وی کی سکرینوں پر نظر آجاتی ہیں۔یقینا ہم ان مناظر کو نہیں بھول سکتے کہ ان کا تعلق اُس بے مثال جدوجہد سے ہے جو برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کے لیے کی ۔ یہ جدوجہد بلا شبہ عدیم المثال تھی۔ اس میں بڑے، بوڑھے، بچے، جوان اور مرد وزن سبھی شامل تھے۔ یہ اسی عدیم المثال جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ برصغیرکے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مملکت دُنیا کے نقشے پر اُبھری۔
14گست 1947 کو برصغیر میں مسلمانوں کے لیے الگ آزاد مملکت کا قیام ایک ایسا واقعہ تھا جس کی مثال قوموں کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ یقینا یہ منشاء الہٰی تھا ، یہ امرِ ِربیّ تھا، یہ ربِ کریم کا احسانِ عظیم تھا اور اُس کے پیارے حبیب ۖ کی نظرِ کرم تھی کہ برصغیر جنوبی ایشیاء میں جہاں مسلمان طویل عرصے  تک حکمران رہے تھے اور جہاں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن، اعلیٰ اخلاقی اقدار، مذہبی آزادی، وسعت نظری اور عدل و انصاف کی شاندار روایات قائم کی تھیں اور تعمیرو ترقی اور خوشحالی کے اَن مٹ نقوش چھوڑے تھے، وہاں اُن کا اقتدار ختم ہوا تو انہیں انتہائی بے چارگی، بے بسی اور بے کسی کے ساتھ غلامی کے شب و روز اس انداز سے بسر کرنے پڑے کہ اُن کے لیے اپنے قومی وجود کے تحفظ اور ملی تشخص کو برقرار رکھنا ہی مشکل نہیں ہو گیا تھا بلکہ اُن کا دین ، اُن کا مذہب اور اُن کی تہذیب و ثقافت بھی ستم کا نشانہ بننے لگے تھے۔ اور اُن کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا کہ وہ برصغیرکے جن خطوں میں اکثریت میں تھے، ان خطوں کو ملا کر اپنے لیے ایک آزاد مملکت کا مطالبہ کریں۔
یہ ربِ کریم کا احسانِ عظیم تھا کہ اُس نے برصغیر کے مسلمانوں کو انتہائی زوال اور انحطاط کے دور میں علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسے صاحبِ بصیرت اور صاحبِ درد رہنما عطا کیے جو قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو کنارے پر لانے کے لیے ناخُدا بن کر سامنے آئے ۔ اقبال جو مفکر تھے ، ایک شاعر تھے اور دیدہِ بینا کے مالک تھے ، اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کا پیغام مسلسل دے رہے تھے اور برصغیرکے مسلمانوں کے قومی وجود کے تحفظ کے بارے میں سخت فکر مند رہتے تھے۔ انہوں نے دسمبر 1930 میں اپنے خطبہ الہ آباد میں برصغیر کے مسلمانوں کے جُداگانہ قومی وجود کو بنیاد بناتے ہوئے اُن کے لیے الگ ملک کا مطالبہ پیش کر دیا۔ اپنے خطبہ الہ آباد میں ارشاد فرمایا''میں برصغیر کے شمال مغرب میں پنجاب ، شمال مغربی سرحدی صوبے ، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی صورت میں متحد دیکھنا چاہتا ہوں۔ میرے نزدیک برٹش ایمپائر کے اندر یا اس کے باہر ایک خود مختار مسلم ریاست کی تشکیل مسلمانوں کا بالخصوص شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کا مقدر بن چکی ہے۔ '' 
اقبال نے اپنے خطبہ الہ آباد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کا تصور پیش کیا تو یہ کوئی حادثاتی واقعہ نہیں تھا۔ یقینا یہ  امرِ ِربیّ تھا ، رب کریم کا احسان عظیم تھا، اس کے پیارے حبیب ۖ کی نظر کرم کا صدقہ تھا کہ قسام ازل کی طرف سے عالمی نقشے پر نئی سرحدی لکیروں کے وجود میں آنے کا وقت قریب آچکا تھا۔ لیکن پھر بھی شاید مس خام کو کندن بننے میں ابھی کچھ اور وقت چاہیے تھا ۔ ابھی برصغیر کے مسلمانوں کو جوہندو اکثریت کے مقابلے میں محض ایک اقلیت نہیں تھے بلکہ ایک الگ قوم کی حیثیت بھی رکھتے تھے، انہیں ہندو اکثریت اور انگریز حکومت کی طرف سے مزید کچھ سختیاں، جبر اور ناروا ہتھکنڈے برداشت کرنے تھے۔ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد  کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ اس کوشش میں رہی کہ کانگریس کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ ہو جائے جس کے تحت متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اُن کی تسلی اور اطمینان کے مطابق آئینی تحفظ حاصل ہو سکے لیکن کانگریس کے نزدیک ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی، وہ اپنے آپ کو ہندوستان کے عوام کی اکثریت کی نمائندہ سمجھتے ہوئے بہت اُونچی ہوائوں میں اُڑ رہی تھی، پھر 1936-37 کے عام انتخابات میں اُس کی کامیابی کے نتیجے میں آٹھ صوبوں میں کانگریسی وزارتیں قائم ہوئیں تو اُس کے غرور ، تکبر اور ہٹ دھرمی میں مزید اضافہ ہوا۔ اُس نے اپنی زیرِ نگرانی حکومتوں میں ایسے اقدامات کیے جو سر اسر مسلم کُش پالیسیوں پر مبنی تھے۔ ان میں خالص ہندو سوچ اور نظریات پر مبنی ''بندے ماترم'' کے ترانے کا تعلیمی اداروں میں رائج کرنا بھی  شامل تھا۔ یہ اور اسی طرح کے اور دوسرے مسلم مخالف اقدامات سے مسلمانوں پر یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی کہ کانگریس کا نصب العین متحدہ ہندوستان میں ہندو راج کے قیام کے سوا اور کچھ نہیں ۔اس طرح اب اُن کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار باقی نہیں بچا تھا کہ وہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد میں پیش کیے ہوئے مسلمانوں کے لیے جداگانہ ملک کے تصور کو اپنا قومی نصب العین قرار دے کر عملی جامہ پہنائیں ۔
چنانچہ 1940 میں منٹو پارک لاہور (موجودہ علامہ اقبال پارک) میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے انعقاد کا اعلان ہوا تو برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے قومی وجود کے تحفظ اور بقا ء کے لیے حضرت علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ ان کے لیے ہندوستان میں ہندو اکثریت کے ساتھ مل کر رہنا ممکن نہیں، وہاں وہ اپنے لیے الگ مملکت کے حصول کو اپنا قومی نصب العین قرار دے کر اس کے لیے ہر طرح کی جدوجہد کرنے اور قربانی دینے کے لیے بھی ذہنی ، فکری اور جسمانی طور پر تیار ہو چکی تھی ۔ 
بالآخر وہ لمحہ قریب آن پہنچا جب 22مارچ سے 24مارچ 1940تک لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے ہر صورت میں انعقاد کا حتمی فیصلہ سامنے آگیا۔آج یہ سطور لکھتے ہوئے تصور کی آنکھوں سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کی اُمنگوں ، آرزوئوں، ولولوں اور جوش و جذبے کا کیا عالم ہوگا۔وہ خیبر سے چٹا گانگ اور کشمیر سے راس کماری تک گروہ در گروہ برصغیر کے تہذیبی اور تاریخی مرکز اور حضرت داتا  کی نگری لاہور کی طرف عازم سفر تھے، جہاں منٹو پارک کا وسیع و عریض میدان انہیں اپنے دامن میں سمیٹنے کے لیے تیار تھا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس میں پورے ہندوستان سے تقریبا ً 1لاکھ مندوب شریک ہو رہے تھے۔ ان میں ہندوستان کے مختلف صوبوں سے جن میں پنجاب ، سندھ، شمال مغربی سرحدی صوبہ ، بلوچستان اور مشرقی بنگال جیسے مسلم اکثریتی صوبوں کے مندوب شامل تھے تو ان سے بڑھ کر زیادہ تعداد میں یوپی، سی پی ، آسام ، بمبئی ، مدراس، مہاراشٹر جیسے مسلم اقلیتی صوبوں اور دہلی ، لکھنو اور حیدر آباد جیسے اسلامی تہذیب کے مراکز سے تعلق رکھنے والے مندوب بھی شامل تھے۔ پورے برصغیر سے مسلم رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد اپنے اپنے صوبوں کی نمائندگی اور اپنے اپنے مندوبین کی قیادت کے لیے موجود تھی۔ ان میں پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، میاں بشیر احمد، ملک برکت علی اور بیگم شاہ نواز ممدوٹ ، شمال مغربی سرحدی صوبہ سے سردار عبدالرب نشتر اور سردار اورنگزیب، سندھ سے سر عبداللہ ہارون، بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ اور نواب مراد محمد خان جمالی ، بمبئی سے ابراہیم اسماعیل چندریگر ، یوپی سے چوہدری خلیق الزمان ، مدراس سے نواب اسماعیل ، حیدرآباد دکن سے نواب بہادر یا ر جنگ ، بنگال سے خواجہ ناظم الدین ، حسین شہید سہروردی، مولانا ابوالہاشم اور مولوی اے کے فضل الحق کے علاوہ حضرت قائد اعظم محمد علی جناح  بنفس نفیس اور ان کے دست راست لیاقت علی خان ، راجا صاحب محمود آباد اور ایم ایچ اسفہانی بھی شامل تھے۔ بلاشبہ یہ ایک یادگار اور بے مثال اجتماع تھا۔ 
آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس میں مولوی اے کے فضل الحق جو شیر بنگال کے لقب سے موسوم تھے، نے وہ تاریخ ساز قرارداد پیش کی جسے قرار داد لاہور کا نام دیا گیا لیکن بہت جلد ایک دو سال کے اندریہ قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوگئی ۔ یہ قرارداد انگریزی زبان میں پیش کی جارہی تھی اور مولانا ظفر علی خان ساتھ ساتھ اس کا اردو میں ترجمہ کر رہے تھے۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ ''بڑے غور وفکر کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی دستوری منصوبے پر اس ملک میں عملدرآمد نہیں ہوسکتا اور وہ مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان بنیادی اصولوں پر تیار نہ کیا گیا ہو یعنی ضروری علاقائی رد و بدل کر کے جغرافیائی اعتبار سے متصل یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی حد بندی کی جائے اور یہ کہ جن علاقوں میں تعداد کے لحاظ سے مسلمان اکثریت میں ہیں، جیسا کہ ہندوستان کے شمال مغربی منطقے اور مشرقی منطقے انہیں  خود مختار ریاستیں قرار دیا جائے جس میں ملحقہ یونٹ خود مختار اور آزاد ہوں۔ دستور میں اقلیتوں کے مذہبی، تمدنی،اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دوسرے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے مشورے سے مناسب ، مؤثر اور واجب التعمیل تحفظات کا خاص بندوبست کیا جائے''۔ 
اس قرارداد کا سامنے آنا تھا کہ پورا ہندوستان ''بٹ کر رہے گا ہندوستان ، بن کر رہے گا پاکستان'' کے نعروں اور ''پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ'' کی صدائوں سے گونجنے لگا۔ یقینا یہ میرِ کارواں کی پکار تھی ، یہ منزل کے تعین کا یقین تھا، یہ منزلِ مقصود کو پانے کی تڑپ تھی، یہ ایثار ، قربانی اور عزمِ راسخ کا اظہار تھا، یہ عزم و یقین اور قوتِ ایمانی کا اعجاز تھا کہ انگریز حکمرانوں کی شاطرانہ اور منافقانہ چالیں اور ہندو اکثریت کی مخالفانہ سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں  اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بر صغیر  کے مسلمانوں کا الگ مملکت کا مطالبہ زور پکڑتا گیا یہاں تک کہ 1945ء کے آخر میں ہندوستان کی مرکزی دستور ساز اسمبلی اور 1946ء کے شروع میں ہندوستان کی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوئے ۔ان انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے  ایک الگ مملکت کے نعرے کی بنیاد پر حصہ لیا اور اسے مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستوں پر عدیم الامثال کامیابی حاصل ہوئی۔اس طرح یہ بات واضح ہو کر سامنے آگئی کہ مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کا مطالبہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی آواز ہے۔ 
اسی سال اپریل 1946میں مسلم لیگ کے دستور ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان کا آل انڈیا کنونشن قائد اعظم کی صدارت میں دہلی میں منعقد ہوا جس میں پورے ہندوستان سے مسلم لیگ کے منتخب اراکین اسمبلی ، اہم لیڈروں اور مسلم لیگ صوبائی پارلیمانی پارٹیوں کے قائدین نے شرکت کی ۔ اس کنونشن میں مولوی اے کے فضلِ حق  اور مسلم لیگ کے اہم بنگالی رہنماحسین شہید سہروردی نے ایک قرارداد پیش کی جسے قرارداد دہلی کہا جاتا ہے ۔یہ قرارداد مکمل اورجامع تھی اور اس میں متوقع پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی خدوخال بڑے واضح اور غیر مبہم تھے۔ اس میں کھل کر کہا گیا کہ بنگال ، پنجاب ، سندھ ، سرحد اور بلوچستان بلکہ آسام کا صوبہ بھی متوقع پاکستان میں شامل ہوگا اور وہ علاقے بھی پاکستان میں شامل ہونگے جن کی سرحدیں متوقع پاکستان سے ملحق ہیں اور جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔اس قرارداد میں پاکستان میں جس نظام کو نافذ کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی وہ اسلامی نظام تھا۔ 
آل انڈیا مسلم لیگ کی 1945 اور 1946کے عام انتخابات میں تاریخ ساز کامیابی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے دہلی کنونشن کے بعد مسلم لیگ کی  قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کو مزید تقویت اور جوش و جذبہ ملا۔ اس کے ساتھ ہندوستان بھر میں پاکستان کے قیام کا مطالبہ ہر طرف گونجنے لگا اور یہ نعرہ ہر سمت سنائی دینے لگا کہ ''بٹ کر رہے گا ہندوستان ،بن کر رہے گا پاکستان ''۔ اب ہندوستان میں انگریز حکمرانوں اور اکثریتی آبادی ہندوؤں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کے قیام کے مطالبے کے سامنے سر تسلیم خم کریں چنانچہ 3جون 1947کو وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے تقسیم ہند کے منصوبے اور دو آزاد مملکتوں بھارت اور پاکستان کے منصہ شہود پر آنے کا اعلان کر دیا۔ بالآخر14اگست 1947کی وہ مبارک گھڑی آگئی جب برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا سور ج ایک نئی آزاد مملکت کے قیام کی صورت میں طلوع ہوا۔
یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کا قیام یقینا منشاء ربانی اور نبی پاکۖ کی نظر کرم کا نتیجہ تھا۔یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں تھا کہ 3جون 1947کو تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان ہوا تو وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے صرف اتنا ہی کہا کہ ہندوستان میں انتقالِ اقتدار 15 اگست تک کر دیا جائے گا۔ اُس وقت 14 اگست کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ 14اور 15 اگست 1947 کی درمیانی رات لیلة القدر ہو گی جو برصغیرکے مسلمانوں کی آرزئوں اور تمنائوں کی تکمیل کی مبارک ساعت بنے گی ۔یقینا یہ منشائے ربانی تھا کہ یہ خطہِ ارض جو اُس کے نام پر حاصل کیا جا رہا تھا اُس کا قیام لیلة القدر کی مبارک ساعتوں میں عمل میں آیا۔   پاکستان پائندہ باد۔ ||


 مضمون نگارممتاز ماہرِ تعلیم ہیں ا ورایک اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔
    [email protected]

ٍ    
 

یہ تحریر 211مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP