قومی و بین الاقوامی ایشوز

ملکی مفاد ہی برتر ہے

 اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زیادہ تراین جی اوز پاکستان اوردنیا بھرمیں اچھے کام کررہی ہیںاوران کے کام کو سراہاجارہاہے، لیکن ان ہزاروں متحرک این جی اوزمیں چند ایسی بھی ہیں جنہوں نے این جی اوزکالبادہ اوڑھ رکھاہے۔ ایسی این جی اوزکابنیادی مقصد دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اورجاسوسی کرناہے۔بہت سے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کے لئے این جی اوزکوفنڈزفراہم کرتی ہیں اور اپنے ایجنڈے کوآگے بڑھاتی ہیں۔ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی این جی اوزمیں سرایت صرف پاکستان نہیں بلکہ بہت سے ممالک کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن چکاہے ۔ اکثرغیرملکی این جی اوز کا مقصد خفیہ معلومات کاحصول اوراہم اداروں اورشخصیات تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ این جی اوزاُسی طرح کام کرتی ہیں جس طرح ان کے ڈونرزانھیں ہدایت کرتے ہیں۔بدقسمتی سے بعض ممالک نے اپنے مقاصد کے لئے این جی اوز کوففتھ جنریشن وارکاحصہ بنالیاہے،بالکل اسی طرح جیسے سوشل میڈیاایک دوسرے سے رابطے کے لئے وجودمیں آیاتھالیکن اسے پروپیگنڈے کاسب سے خطرناک ہتھیاربنادیاگیا۔

 پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز کی تعدادڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے، ان میں سے اکثراین جی اوزمحض کاغذوں میں ہیں۔ غیرملکی این جی اوزکی تعدادتقریباً ایک ہزارہے،تاہم ایسی این جی اوزبھی ہیں جوکہنے کوملکی ہیں لیکن غیرملکی فنڈنگ اورایجنڈے کے مطابق کام کرتی ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ ملکی این جی اوزبنانے والوں میں سے کئی کابنیادی مقصدصرف پیسہ بنانا ہے، جس کام کادعویٰ کرکے این جی او رجسٹرکروائی جاتی ہے وہ کچھ ہی عرصہ میں پس پشت ڈال دیاجاتاہے۔ ایک این جی اوکے صدر نے راقم سے گفتگو کرتے ہوئے خود تسلیم کیاکہ ''پاکستان میں این جی اوبنانے کامقصدپیسہ،دفتر،گاڑی اور عیاشی ہے۔'' این جی اوز وہ کام نہیں کرتیں جس کے لئے ان کی رجسٹریشن ہوتی ہے۔

 عوام کوصحت اورتعلیم فراہم کرناریاست کی ذمہ داری ہے،لیکن حکومتوں کی غلط ترجیحات اورناکام پالیسیوں کے باعث عوام کویہ بنیادی سہولیات حاصل نہیں۔نوجوانوں کوہنرمند بناناانھیں جنس،مذہب ،نسل اورفرقہ وارنہ تعصب سے بالاترہوکرمساوی حقوق اورسہولیات فراہم کرنابھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔جن ممالک میں حکومتیں عوام کوبنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں وہاں غیرملکی این جی اوزاپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے آگے بڑھتی ہیں۔ یہ کہہ لیں انھیں کام کرنے کاموقع ملتاہے۔پاکستان میں جوغیرملکی این جی اوز کام کررہی ہیں ان میں سے اکثرکادعویٰ ہے کہ تعلیم ،صحت،بچوں کی فلاح وبہبود اورخواتین کی ترقی میں ان کی بڑی خدمات ہیں۔

 پاکستان میں قانونی طورپرملکی وغیرملکی این جی اوزکی رجسٹریشن ضروری ہے لیکن ملک بھرمیں ہزاروں این جی اوزایسی ہیں جورجسٹرڈ نہیں اوران کاریکارڈ بھی کسی ادارے کے پاس نہیں ۔چند دن پہلے ایک نیوزچینل نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیاکہ سندھ میں محکمہ سماجی بہبود کے پاس اسی فیصد این جی اوزکاکوئی ریکارڈ موجود نہیں ۔افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں جتنی این جی اوزکام کر رہی ہیں ان میں سے اکثرکے عہدیدار اورذمہ داران کرپشن میں ملوث ہیں۔ این جی اوزکی سب سے زیادہ تعداد پنجاب میں ہے۔

 اس سال اکتوبرمیں وزارت داخلہ نے اٹھارہ این جی اوزپرپابندی لگا کر انھیں دوماہ کے اندرملک چھوڑنے کاحکم دیا۔ان این جی اوزکے بارے میں اطلاعات تھیں کہ یہ اپنابتایاہوا اصل کام کرنے کے بجائے جاسوسی میں ملوث تھیں۔ ان میں سے نواین جی اوزکاتعلق امریکہ اورتین کاتعلق برطانیہ اور دو کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔ایک سال قبل بھی اکیس این جی اوزکوملک چھوڑنے کاحکم دیاگیاتھا۔ان بین الاقوامی این جی اوزمیںایکشن ایڈ،اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن، پلان انٹرنیشنل اورٹروکئیرشامل تھیں۔ اس سے پہلے 2015ء میں ایک این جی 'اوسیودی چلڈرن' پرپابندی لگادی گئی تھی کیونکہ یہ این جی 'اوسیودی چلڈرن' کے بجائے کسی اورایجنڈے پرکام کررہی تھی، تاہم بعد میں اسے مشروط طورپرکام کرنے کی اجازت دی گئی ۔'سیودی چلڈرن 'نے پاکستان میں وہ کام نہیں کیاجوجنگ عظیم اول کے بعد یورپ میں کیاتھا،جس کی وجہ سے اسے پوری دنیامیں مقبولیت ملی۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ امریکہ ،برطانیہ اوربعض دوسرے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں اپنے مقاصدکے لئے کام کررہی ہیں۔افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتاہے کہ ان میں سے بعض کاکام ہی پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرنا اور عوام میں مایوسی پھیلاناہے ۔ غیرملکی این جی اوزکے لئے اکتوبر 2015ء میں اُس وقت کی حکومت نے ایک نئی پالیسی بنائی تھی ،جس کے تحت غیرملکی این جی اوز کوہدایت کی گئی کہ وہ اپنی رجسٹریشن کرائیں۔انھیں آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی فراہم کی گئی ۔اب تک کی رپورٹس سے یہ ہی ثابت ہواہے کہ حکومت نے غیرملکی این جی اوزکے لئے جتنے بھی قوانین اورضوابط بنائے ان پرعمل درآمد نہ ہوسکا۔

  ایک طرف حکومت کامؤقف ہے کہ بعض غیرملکی این جی اوزناپسندیدہ کاموں میں ملوث ہیں،جبکہ دوسری طرف پاکستان ہیومنٹیریئن فورم کاکہنا ہے کہ ان غیرملکی این جی اوز سے تین کروڑپاکستانیوں کوفائدہ پہنچ رہاہے ،صرف 2016ء میں 28کروڑڈالرترقیاتی اورامداد ی منصوبوں میں لگائے گئے۔ این جی اوز کے ذمہ داران اس طرح کے دعوے کرتے ہوئے اس حقیقت کو نظرانداز کردیتے ہیں کہ ان این جی اوزمیں کام کرنے والوں کی اکثریت عوام کی فلاح وبہبود کے بجائے اپنی جیبیں گرم کرنے پرزیادہ توجہ دیتی ہے ۔ان این جی اوز کے عہدیداران جودعوے کرتے ہیں وہ بھی مفروضوں پرمبنی ہیں۔ان غیرملکی این جی اوز سے نہ توپاکستان کے غریبوں کی حالت میں کوئی بہتری آئی نہ چائلڈ لیبرکم ہوئی البتہ ان این جی اوزکے لئے کام کرنیوالے کروڑپتی اورارب پتی ہوگئے ،کسی کوغیرملکی شہریت توکسی کوعالمی شہرت مل گئی ۔

 ایک قومی جریدے کی رپورٹ کے مطابق 2007ء کے زلزلے کے بعد آزادکشمیر اورشمالی علاقہ جات میں کام کرنیوالی چند این جی اوزنے امریکی چنیوک ہیلی کاپٹرزکے ذریعے شمالی علاقہ جات،قبائلی علاقوں اورپاک افغان بارڈر کی مکمل ریکی کی ۔متعدداین جی اوزکے کارکنوں کے بارے میں رپورٹ ملی کہ وہ بحالی کے کاموں کے بجائے انتشارپھیلانے اورجاسوسی کے کا م میں ملوث ہیں۔مشکوک سرگرمیوں کے باعث صرف بلوچستان میں ایک ہزارکے قریب این جی اوزکی رجسٹریشن منسوخ کی جاچکی ہے جس میں غیرملکی این جی اوز بھی شامل ہیں۔جوڈونرزممالک یا این جی اوز پاکستان میں کروڑوں روپے خرچ کررہی ہیں ان کامقصد صرف پاکستانی عوام کی خدمت نہیں۔

قارئین کویاد ہوگا ہرسال کی طرح 17اکتوبرکوغربت کے خاتمے کاعالمی دن منایاگیا،اس بات پرافسوس کااظہارکیاگیا کہ اس ترقی یافتہ اورمہذب دور میں بھی دنیا میں پانچ ارب سے زیادہ انسان غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، انھیں دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔دنیاکے ترقی یافتہ ممالک چاہیں تودنیا کے تمام انسانوں کوپیٹ بھر کرکھانانصیب ہوسکتاہے ۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے جدیدزرعی طریقوں سے اتنااناج پیداکرسکتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھوکانہ سوئے اورنہ کوئی انسان خوراک کی کمی کاشکارہو۔لیکن وہ ایسانہیں کرتے،اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس سے انھیں کوئی سیاسی فائدہ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔وہ اپناسرمایہ اوروسائل کیوں غربت اوربھوک کے خاتمے پرخرچ کریں۔ایشیااورافریقہ کے غریب ممالک میں انسانوں کوخوراک فراہم کرکے بھلاوہ سپرپاورکیسے رہ سکتے ہیں۔ یہ امیر ممالک صرف انہی مقاصدکے لئے رقم فراہم کرتے ہیں جن میں انھیں اپنافائدہ نظرآتاہے۔ کسی ترقی یافتہ اور مہذب ملک کواس بات سے کوئی غرض نہیں کہ دنیامیں کتنے انسان اورمعصوم بچے خوراک کی کمی کے باعث مررہے ہیں ۔انھیں اس سے مطلب ضرورہے کہ وہ جو رقم فراہم کررہے ہیں اس سے انھیں کتنافائدہ پہنچ رہاہے۔میں اس بات کو تسلیم کرتاہوں کہ تمام این جی اوز کے سیاسی اورخفیہ مقاصد نہیں ہیں کچھ واقعی انسانیت کی خدمت کررہی ہیں لیکن ایسی این جی اوزکی تعدادآٹے میں نمک کے برابربھی نہیں،خصوصاپاکستان میں۔

 

اسلام اور فکرِ جدید

اقبال کہتے ہیں کہ سماعت تو تاریخِ انسانیت کا مطالعہ ہے، بصارت سے مراد فطری علوم یا مطالعۂ فطرت ہے اور دل و دماغ میں انسان کی ذہنی اور روحانی صلاحیتیں شامل ہیں، جیسے جیسے انسان ان تمام ذرائع کے صحیح استعمال پر قادر ہوتا جائے گا، انفس وآفاق میں خدا کے قوانین اور ان کے اثرات (یا آیاتِ الٰہیہ کی تفہیم) ان پر منکشف ہوتے چلے جائیں گے۔ اقبال کے نزدیک وجدان کی طاقت انسان کے تحت الشعور کا حصہ ہے اس لئے یہ محسوسات کا حصہ بھی ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔ روح کے وجود سے انکار ممکن نہیں۔

                                اقتباس: (افکارِ اقبال۔ از:  سمیع اﷲ قریشی )

 

اقبال١٩٢٨

''میں اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ آج سے نصف صدی قبل سرسید احمدخان مرحوم نے مسلمانوں کے لئے جو راہِ عمل قائم کی تھی، وہ صحیح تھی اور تلخ تجربوں کے بعد ہمیں اس راہِ عمل کی اہمیت محسوس ہو رہی ہے۔اگر مسلمانوں کو ہندوستان میں، بحیثیت مسلمان ہونے کے، زندہ رہنا ہے تو ان کو جلد از جلد اپنی اصلاح و ترقی کے لئے سعی و کوشش کرنی چاہئے اور جلد ایک علیحدہ پولیٹیکل پروگرام بنانا چاہئے۔ کانفرنس میں متفقہ طور پر جو ریزولیوشن پیش ہوا ہے، وہ نہایت صحیح ہے اور اس کی صحت کے لئے میرے پاس ایک دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے آقائے نامدار حضور سرورِ عالم ۖ نے ارشاد فرمایا: ''میری امت کا اجماع کبھی گمراہی پر نہ ہوگا۔''

   اقتباس: (آپ بیتی علامہ اقبال)

   ترتیب      ڈاکٹر خالد ندیم 

 

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے رسم ورواج اورآئین وقانون کے اندر رہتے ہوئے بڑھ چڑھ کرایک دوسرے کے کام آئیں۔مشکلات کم کرنے اور لوگوں کوزیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کام کریں ۔آپ کے پاس وقت اورصلاحیت ہے توآپ کسی رفاہی ادارے کے لئے بھی کام کرسکتے ہیں، لیکن اس کے پس پردہ ہمارے خفیہ مقاصد نہیں ہونے چاہئیں۔

 ایک اخباری رپورٹ کے مطابق امریکہ نے گزشتہ دس سال میں پاکستان میں مختلف این جی اوزکوکھلے اورڈھکے چھپے طریقوں سے تیرہ بلین ڈالرزفراہم کئے۔ یہ ایک بہت بڑی رقم ہے جس کی مکمل چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔ اگریہ رپورٹ درست ہے تویہ معلوم کیاجاناچاہئے کہ اتنی بڑی رقم کن لوگوں کو اور کس مقصدکے لئے فراہم کی گئی؟

بہت سی این جی اوزریاست کے مقاصدکے خلاف کام کررہی ہیں۔ان کے اپنے اہداف ہیں۔ان میں سے بہت سی پاکستان کے کلچراوررسم ورواج کو تبدیل کرناچاہتی ہیں۔چند این جی اوزجنسی آزادی کے لئے کام کررہی ہیں۔ ان کاایجنڈاہے کہ پاکستان میں بعض قوانین اورآئین کے آرٹیکلز کوتبدیل کرایا جائے، اس کے لئے الیکٹرانک اورسوشل میڈیا کواستعمال کیا جا رہا ہے۔ بعض این جی اوز بنیادی شہری حقوق اورجمہوریت کی مضبوطی کے نام پراداروں کے خلاف پروپیگنڈاکرنے میں ملوث ہیں۔ان این جی اوزکی کوشش ہے کہ عوام کو اپنے ہی اداروں سے بدظن کردیاجائے۔ایساصرف پاکستان میں نہیں ہورہا، دنیا کے بہت سے ممالک میں کئی این جی اوزاس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں۔ ریاست کے پاس دوہی آپشن ہیں یاتوان این جی اوزکوکام کرنے دے اورریاست کے اندربننے والی اس ریاست کوبرداشت کرے یاپھرایک سرخ لکیر کھینج دی جائے کہ جوبھی رفاہی ادارہ اسے عبورکرے گااس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ماضی کی حکومتوں نے اس معاملے پربھی خاموشی اختیارکئے رکھی اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ حکومتیں ان این جی اوز اور انھیں فنڈزفراہم کرنے والے ممالک سے خوفزدہ تھیں،انھیں ڈرتھاکہ اگران این جی اوزکے خلاف کارروائی کی گئی تو مذکورہ این جی اوزکے سرپرست ممالک ناراض ہوجائیں گے۔ لہٰذا قومی مفادات کونظراندازکردیاگیااورمشکوک این جی اوزکوکام کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔غیرواضح حکومتی پالیسی نے ان مشکوک این جی اوزکو شیربنادیااورانہوںنے سرخ لائن کوعبورکرناشروع کردیا۔یہ بھی ہوا کہ پاکستان میں کام کرنے والی بعض این جی اوزنے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف ہی پروپیگنڈا شروع کردیا۔بعض این جی اوزکی یہ سوچ بھی حیران کن ہے کہ وہ فیصلہ کریں گی ہمارے لئے کیاچیزضروری ہے اورکیاضروری نہیں ہے۔مجھے یادہے ایک بین الاقوامی فورم میں مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پربات ہوناتھی، لیکن ایک این جی اونے غیرملکی کانفرنس کا رخ اس موضوع کی طرف موڑدیاکہ پاکستان میں اقلیتوں پربہت ظلم ہو رہے ہیں، اس کی مذمت کی جائے۔کیاہمیں معلوم نہیں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کا م کرنے والی بعض این جی اوز کس طرح ریاست کے دشمن عناصرکی حمایت اورسپورٹ کررہی ہیں۔جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اورفورسز کے جوان اپنے خون کانذرانہ پیش کررہے ہیں۔

 نئی منتخب حکومت کوجہاں اور بہت سے کام کرنے ہیں، وہاں ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ ملکی وغیرملکی این جی اوزکی چھا ن بین کی جائے جواین جی اوزاچھے کام کررہی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ،لیکن جواین جی اوزملک وقوم کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہیں اوراپناایجنڈا مسلط کرناچاہتی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

 ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں این جی اوزکی تعداداورفنڈنگ میں نائن الیون کے بعد اضافہ ہوا،کیایہ محض اتفا ق ہے یاکسی پلاننگ کاحصہ؟ خصوصاً اُس وقت جب یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ نائن الیون کے بعدامریکہ سے ہی پاکستان میں سب سے زیادہ پیسہ آیا۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں اہم کردار اداکرنے والے ڈاکٹرشکیل آفریدی کے بارے میں کون نہیں جانتاکہ انہوں نے ایک این جی اوکے لئے پولیو کی جھوٹی مہم چلائی ۔

چند سال پہلے کی بات ہے غیرملکی این جی اوز نے پاکستان کی کارپٹ انڈسٹری میں کام کرنے والے بچوں کی طرف توجہ دلائی، بظاہریہ چائلڈ لیبر کا ایک معاملہ تھا لیکن ا س کے پیچھے مقاصد کچھ اور تھے۔ان غیرملکی این جی اوز نے پاکستان کی کارپٹ انڈسٹری کے خلاف اتناپروپیگنڈا کیا کہ پاکستان میں ہاتھ سے تیارکئے جانے والے کارپٹ کی ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابررہ گئی، لاکھوں خاندان بے روزگار ہو گئے۔ غیرجانب دارذرائع اور انٹرنیشنل ایکسپورٹرز اس بات کوتسلیم کرتے تھے کہ پاکستان میں ہاتھ سے بنے ہوئے تمام کارپٹ بچے تیارنہیں کرتے بلکہ لاکھوں مرداورخواتین بھی اس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ لیکن سچ این جی اوزکے پروپیگنڈے میں چھپ گیا۔اسی طرح اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی بعض غیرملکی این جی اوز کا بنیادی مقصدلوگوں کوریاست کے خلاف ابھارنااوریہ احساس پیدا کرناہے کہ اُن سے بہت زیادتی ہورہی ہے۔کچھ ایساہی خواتین کے حقوق کے حوالے سے کیاجاتاہے۔

ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ این جی اوزکے کاموں پرنظررکھنے والے سرکاری ادارے اوران میں کام کرنے والے ملازمین کے پاس اتنے وسائل اور اہلیت ہی نہیں کہ وہ این جی اوزکی کارکردگی چیک کرسکیں ۔دوسری طرف ان این جی اوزکے ذمہ داران کے پاس اتناپیسہ ہوتاہے کہ وہ رشوت دے کر کاغذوں میں اپنے معاملات ٹھیک رکھتے ہیں۔این جی اوزکی کارکردگی کا سائنسی بنیادوں پرجائزہ لینے اورنتائج اخذکرنے کے لئے بھی متعلقہ اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافے اورنظام کودرست کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی صوبے کے سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ یا اسلام آبادمیں اکنامک افئیرز ڈویژن کے پاس اتنے وسائل اورتکنیکی مہارت نہیں کہ وہ ان این جی اوز کی کارکردگی کی چھان پھٹک کرسکے۔

 صرف پاکستان ہی نہیں برطانیہ سمیت کئی دیگر ممالک میں یہ بحث ہورہی ہے کہ انٹرنیشل این جی اوزکوہرسال جواربوں روپے فراہم کئے جارہے ہیں، یہ بندکردئیے جائیں ۔ افریقہ کی مثال دیتے ہوئے دی گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھاکہ ''افریقہ کو ہرسال تیرہ بلین امریکی ڈالرزکی امداددی جارہی ہے،لیکن یہ خطہ آج بھی دنیا کاغریب ترین خطہ ہے۔''یہ درست ہے کہ اب تک کسی ملک میں صرف امداد سے خوشحالی نہیں لائی جاسکی جب تک اس ملک میں بنیادی اقتصادی اصلاحات نہ کی گئی ہوں۔یہ بھی دیکھا گیاہے کہ امداد میں دی جانے والی رقم کابڑا حصہ کرپشن کی نظرہوجاتاہے ،جوتھوڑی بہت رقم رفاہی کاموں میںخرچ کی جاتی ہے وہ بھی ضائع ہوجاتی ہے ۔

 دینی سوچ رکھنے والے بعض حلقوں کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ کچھ این جی اوز بے راہ روی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ایسا لٹریچر پڑھایا اورتقسیم کیاجاتاہے جس کی اجازت ہمارامذہب اوررسم ورواج نہیں دیتے۔ بہت سے ایسے متنازعہ سیمینارزاورواقعات ہوئے ہیں جنہوں نے مذہبی سوچ رکھنے والوں کومشتعل کیاہے۔ان کی طرف سے بھی یہ مطالبہ بڑھا ہے کہ غیرملکی این جی اوزپرپابندی عائد کی جائے۔

 حکومت کے لئے ملکی وغیرملکی این جی اوزکوقانون کے دائرے میں رکھنا ضروری ہوگیاہے،انھیں اس بات کاپابندبھی کیاجاناچاہئے کہ انہوں نے خود کوجس کام کے لئے رجسٹرڈ کرایاہے ،اس تک محدود رکھیں۔ان این جی اوز کی سرکاری معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کی جاسکتی ۔ملکی قوانین اُن کے مشورے سے تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔ بنیادی حقوق اورتحریر وتقریر کی جوآزادی آئین پاکستان میں درج ہے،اسے فراہم کرناریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومتیں اپناکام کریں اوراین جی اوزاپنا،اگرغیرملکی این جی اوزکسی ریاستی ادارے کی طرح کام کرنے کی کوشش کریں گی تواس سے خرابیاں بھی پیداہوں گی اوران این جی اوز کے حوالے سے شکوک وشبہات بھی بڑھیں گے ۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

[email protected]

 

 

یہ تحریر 578مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP