قومی و بین الاقوامی ایشوز

دہشت گردی کے خلاف تاریخی معاہدہ

عوامی جمہوریہ چین کے شہر ارومچی میں چارملکی عسکری قیادت نے انسداد دہشت گردی کے ایک معاہدے پردستخط کئے ہیں۔اسے ایک تاریخی معاہدہ قراردیا جاسکتاہے۔ یہ معاہدہ چین ،پاکستان،افغانستان اورتاجکستان کی مسلح افواج کی قیادت نے کیاہے۔ پاکستان کی سرحدیں چین اور افغانستان سے ملتی ہیں جبکہ افغانستان کی ایک چھوٹی پٹی واخان جوایک راہداری ہے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان واقع ہے۔اس معاہدے سے نہ صرف خطے میں دہشت گردی کوختم کر نے میں مدد ملے گی بلکہ مشترکہ تربیتی مشقوں سے باہمی تعاون اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ افغانستان کی بدامنی کے باعث پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کے مثبت اثرات پوری دنیا پرپڑیں گے۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ صرف فوجی معاہدے سے حالات کوبہترنہیں بنایاجاسکتا جب تک سیاسی سطح پر بھی اسی فہم وفراست کامظاہرہ نہ کیاجائے۔ میر ا اشارہ افغانستان کی حکومت کی طرف ہے جواس وقت بھارتی اثرورسوخ میں نظرآتی ہے۔کیا افغان حکومت بھارتی دباؤ سے نکل کرہمسایہ ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلے گی؟


معاہدے میں چاروں ملکوں نے انسداد دہشت گردی کامشترکہ میکنزم بنانے پراتفاق کیاہے۔اجلاس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف،چین کے چیف آف جوائنٹ سٹاف جنرل فینگ،افغان نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل قدم شاہ شاہیم اورتاجکستان کے چیف آف جنرل سٹاف ، نائب وزیردفاع میجرجنرل ای اے کوبیڈرزودا نے شرکت کی۔اس گروپ کے پہلے اجلاس میں باہمی فوجی تعاون پراتفاق کیا گیا۔یقینی طورپر دہشت گردی علاقائی استحکام کے لئے خطرہ ہے جس کے لئے چارملکی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔ شرکأ نے چاروں ملکوں کی افواج کی انسداددہشت گردی کے لئے کوششوں کی تعریف کی۔ امن واستحکام کے لئے مل کرکام کرنے ،شواہد کی تصدیق اورخفیہ معلومات کے تبادلے میں تعاون کے عزم کااظہارکیا۔اتحاد میں شامل افواج مشترکہ تربیتی مشقیں بھی کریں گی۔اس چارملکی فوجی اتحاد کیوسی سی ایم کے قیام کاسہرا چین کے سرہے جس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مخلصانہ کوششیں بھی شامل ہیں اورانہوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔

 

خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ افغانستان جواس وقت دہشت گردوں کے لئے آسان ہدف اورپناہ گاہ ہے، کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ پاکستان اورچین کے فوجی تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں خصوصا داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے افغان فوج کی استعداد کارمزید بہتربنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ممبرممالک کے تجربات اورمدد سے زیادہ آسانی اورجلد حاصل کیاجا سکتا ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ چاروں ممالک تمام فیصلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے کریں گے۔کسی فریق کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ اپنی مرضی اور رائے دوسرے ملک پرمسلط کرسکے۔ باہمی ریاستی احترام قائم رہے گا،چاروں ملک ایک دوسرے کی سلامتی اورخودمختاری کااحترام کریں گے۔یوں یہ معاہدہ برابری کی سطح پرہے۔کوئی ملک دوسرے ملک کوڈکٹیشن نہیں دے گا۔


خصوصی فوجی تربیت اورخفیہ معلومات کے تبادلے سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔چین کواس وقت ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے خطرہ ہے جوچین کے بعض علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی اس دہشت گرد گروپ سے نمٹنے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں۔اس گروپ کے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ضرب عضب کے باعث اس گروپ کے کچھ عناصر کی افغانستان منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چین سمجھتا ہے کہ افغانستان کی خراب صورتحال کے منفی اثرات چین کے مسلم اکثریتی صوبے پرپڑرہے ہیں۔دوسری طرف پاکستان بھی دہشت گردی کاشکارہے ۔تحریک طالبان کے دہشت گرداوراُن سے وابستہ کئی گروپوں نے اپناٹھکانہ افغانستان میں بنارکھا ہے۔یہ دہشت گرد اوران کے ماسٹرمائنڈ پاکستان میں کارروائیاں کرکے افغانستان میں روپوش ہوجاتے ہیں۔افغانستان میں ان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ افغان اورامریکی افواج نے ٹی ٹی پی کے خلاف اب تک جوکارروائیاں کی ہیں وہ ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد،افغان فوج سے زیادہ متحرک اورتجربہ کارہیں۔ امید ہے کہ اس اتحاد اورتربیت سے افغان فوج کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔


اس معاہدے کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ یہ چارملکی فوجی اتحاد کسی ملک یا تنظیم کے خلاف نہیں۔ ممبرممالک جن دوسرے علاقائی اور بین الاقوامی معاہدوں کے پابند ہیں، ان کوجاری رکھیں گے۔ایک دوسرے سے تعاون اورمشترکہ اجلاسوں کافائدہ یہ ہوگا کہ ایک دوسرے کے موقف کوسمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔بدقسمتی سے دہشت گردوں نے اپنانیٹ ورک مختلف ممالک تک بڑھا لیاہے۔ داعش اورالقاعدہ کے دہشت گرد افغانستان،عراق ،شام ،تاجکستان اورازبکستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔جبکہ ان کے ہمدرد اورسہولت کار مغربی ممالک میں بھی موجود ہیں ۔ بہت سے تاجک اورازبک گروپ افغانستان اوردیگرممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔


چین کی قیادت نے بجا طورپراس چیز کومحسوس کیا کہ دہشت گردی پرقابوپانے کے لئے علاقے کے ممالک کاآپس میں مل بیٹھنا اوردہشت گرد گروپوں کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون انتہائی ضروری ہے۔ خطے اورخصوصاً پاکستان میں امن کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں منفی بھارتی اثرورسوخ کوکم کیا جائے۔ افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث خود افغانستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔بھارت ،افغانستان کی سرزمین اورافغان خفیہ ایجنسی کوپاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے ۔افغان آرمی چیف کا پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بیٹھنا خطے کے لئے خوش آئند ہے۔اس سے ہمسایہ ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی دورہوں گی۔افغان فورسز کوبھارت کے اثرورسوخ سے نکالنے میں بھی مدد ملے گی۔ افغانستان کے مفادات اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سے وابستہ ہیں نا کہ بھارت سے۔جوامریکہ کی طرح افغان سرزمین کومحض اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہاہے۔ پاکستان اورافغانستان کی منتخب حکومتوں کے درمیان جوبدگمانی ہے، یہ منفی پروپیگنڈے کانتیجہ ہے ۔باہمی ملاقاتوں اورمذاکرات کے ذریعے انھیں دورکیا جاسکتا ہے۔ جب بات چیت شروع ہوتی ہے توغلط فہمیاں بھی دور ہوجاتی ہیں۔افغان سول و فوجی قیادت کویہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کادوست کون ہے اوردشمن کون ہے اور کون افغان سرزمین کو اس کے ہمسایوں کے خلاف استعمال کررہاہے۔


ہمالیہ سے بلنداورشہد سے میٹھی پاک چین دوستی دوسرے ملکوں کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔عوامی جمہوریہ چین اس وقت دنیا کاایک بڑا پاور پلیئر ہے۔ دفاعی صلاحیتیں ہوں یااقتصادی ترقی کی دوڑ چین آگے ہی بڑھتا جا رہا ہے۔ دفاعی میدان خصوصاً دفاعی پیداوار میں چین کی ترقی قابل رشک ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چنددہائیوں میں دفاعی انڈسٹری مزید ترقی کرے گی اورجلد امریکی اورمغربی ممالک کی دفاعی صنعت کوپیچھے چھوڑ دے گی۔ اس حوالے سے چین کی دفاعی منصوبہ بندی قابل رشک ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری، سی پیک، منصوبے کے بعد یہ دوستی یقینی طورپراپنی بلندیوں پرہوگی۔یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی نکتہ ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک یادودن میں پروان نہیں چڑھے بلکہ کئی سال پرمحیط ایک کہانی ہے۔ پاکستان نے عوامی جہوریہ چین سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد چین کے لئے پوری دنیا کے دروازنے کھول دیے۔پاکستان کے ذریعے ہی امریکہ اور چین کے درمیان رابطہ ہوا ۔تاریخی شاہراہ ریشم کی ایک علٰیحدہ کہانی ہے جہاں سے تجارتی قافلے پوری دنیا کورواں دواں ہوتے ہیں۔ اقتصادی راہداری اسی شاہراہ ریشم کی ترقی یافتہ شکل ہوگی جو پورے خطے میں ایک اقتصادی انقلاب برپاکرے گی۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی اور تجارتی معاہدے موجود ہیں۔کئی فوجی تربیتی مشقوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے خصوصی دستے اور پیپلزلبریشن آرمی آپس میں کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی ہیں۔ اب امید ہے کہ تاجکستان اورافغانستان کے دستے بھی اس معاہدے کے تحت مشقوں میں حصہ لیں گے جس سے دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے ان کی اہلیت اورقابلیت میں اضافہ ہوگا۔


اس چارملکی فوجی معاہدے سے توقع ہے کہ افغانستان اورپاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی۔افغانستان کواپنے کردار کا ازسرنوجائزہ لینے کاموقع ملے گا کہ آیاافغانستان ،بھارت کی پراکسی وار کوجاری رکھنا چاہتا ہے یاخطے میں امن کے لئے پاکستان اورچین کے ساتھ مل کرکام کرتا ہے۔ پاکستان پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہے افغانستان اورتاجکستان سمیت سنٹرل ایشیا کے ممالک اپنی تجارتی سرگرمیوں کے لئے گوادر پورٹ کواستعمال کرسکتے ہیں۔ نیز گوادرپورٹ سے تمام دوست ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


دہشت گردی کے خلاف قائم ہونے والایہ فوجی اتحاد مستقبل میں خطے کے ایک اہم سٹرٹیجک الائنس کی شکل اختیارکرسکتاہے۔یقینابعض ملکوں کویہ اتحاد پسند نہیں آیا ہوگا۔خصوصا بھارت یہ کوشش ضرور کرے گا کہ افغان فوج اس اتحاد کا متحرک حصہ نہ بنے ۔اس مقصد کے لئے بھارت افغانستان کی فوجی امداد اوراسے گولہ بارود کی فراہمی میں اضافہ کرسکتاہے۔ امریکہ کی بھی خواہش ہے کہ افغانستان میں چین اورپاکستان کااثرورسوخ نہ ہو۔ پاکستان نے جب بھی امریکہ کے سامنے افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کامعاملہ اٹھایا ہے، امریکیوں نے ہمارے دفترخارجہ کویہ کہہ کرمطمئن کرنے کی کوشش کی کہ بھارتی سرگرمیاں محدود ہیں، پریشان نہ ہوں۔ عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان، افغانستان اورتاجکستان کوایک فوجی پلیٹ فارم پراکٹھا کرکے بڑا کام کیاہے۔ اس الائنس سے نہ صرف خطے میں امن قائم ہوگا بلکہ پورا خطہ ترقی بھی کرے گا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان دنیا کی اقتصادی سرگرمیوں کامرکز بننے جا رہا ہے۔ اس اقتصادی سرگرمی کے دشمن خطے میں دہشت گردی کرکے ہماری توجہ ہٹاناچاہتے ہیں لیکن یقین ہے کہ یہ چارملکی فوجی الائنس اقتصادی راہداری کی طرح مستقبل کی ایک دفاعی لائن ہوگی۔کسی دہشت گرد گروپ یاملک کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ اس میں دڑاڑیں ڈال سکے۔


سینیئرصحافی،مصنف اورکالم نگار علی جاوید نقوی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 619مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP