بیادِ قائد

قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت اور بصیرت !! 

قائد اعظم محمد علی جناح  علامہ اقبال کا مرد مومن اور ان کے اس شعر کی تفسیر تھے کہ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی  ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 
قائد اعظم کی قیادت پر مسلمانان ہند کے بھروسے کا یہ عالم تھا کہ جولوگ انگریزی  زبان سے ناواقف تھے وہ بھی پوری دل جمعی سے قائد کی تقریر سنا کرتے ان کا خیال ہی نہیں یقین بھی تھا کہ قائد اعظم جو بھی کہہ رہے ہیں وہ مسلمانوں کی بہتری کے لیے کہہ رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ قائد اعظم نے جو بھی کہا  یا کہتے تو اس پر عمل درآمد بھی کرتے،  وہ ایک کھرے اور سچے مسلمان تھے ان کی شخصیت کا ایک انتہائی روشن پہلو جس کا کبھی کھل کر انہوں نے پرچار نہیں کیا اور نہ کبھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ہیں لیکن وہ غیر محسوس انداز میں اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں ، ان کی زندگی کی بہت سی باتیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی میں دکھائی دیتی ہیں ! مثلا نبیِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اپنی بیماریاں چھپایا کرو ، قائد اعظم نے اس پر عمل کیا تو پاکستان بن گیا ، جس پر ہندو گانگرسی رہنما جواہر لعل نہرو نے کہا اور لکھا بھی تھا کہ'' اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ قائد اعظم تپ دق جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہیں تو ہم تھوڑا انتظار کر لیتے  اور پاکستان نہ بننے دیتے''۔


قائد اعظم ایک کمرے سے دوسرے میں جاتے تو پہلے کمرے کی لائٹ بند کر دیتے حالانکہ گورنر جنرل ہائوس کی بجلی کا بل سرکار نے دینا ہوتا تھا ۔ وہ جب پہلی بار کراچی میں گورنر جنرل ہاؤس میں قیام پذیر ہوئے تو گورنر جنرل ہائوس کی کوئی چیز تبدیل نہ کی نہ پردہ نہ قالین قائد اعظم کا خیال تھا جب کام چل سکتا ہے تو بلا وجہ قومی سرمایہ کیوں ضائع کیا جائے ، انہیں جس حالت میں گورنر جنرل ہائوس ملا تھا اسی حالت میں رہنے دیا ۔



نبیِ پاک ۖ کو بچوں سے پیار تھا کہ بچے من کے سچے وہ بغض و عناد سے بے نیاز ہوتے ہیں، قائد اعظم نے اس اُسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے دنوں میں ، بچہ ، مسلم لیگ بنائی آج  تک کبھی کسی سیاسی جماعت نے بچوں کی سیاسی جماعت نہیں بنائی ، نبیِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا علم حاصل کرو ،  قرآن پاک کے نزول کے پہلے الفاظ ہی '' اقرا ء '' ہیں  قائد اعظم نے ان فرمودات پر عمل کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کے لیے اپنے اثاثہ جات میں سے بیشتر رقم اسلامیہ کالج ، لاہور ، پشاور ، سندھ مدرسة الاسلام کراچی اور علی گڑھ یونیورسٹی کو وقف کی اسلامیہ کالج لاہور کے انہوں نے ریکارڈ دورے کیے علی گڑھ یونیورسٹی کو وہ تحریک پاکستان کا مورچہ سمجھتے تھے !
قائد اعظم ، خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ مصروف عمل دیکھنا چاہتے تھے اس سلسلے میں حضرت خدیجة الکبریٰ کا کردار قائد اعظم کے لیے مثال تھا کہ وہ ایک تاجر تھیں ! فتح مکہ کے موقع پر جو آیت نازل ہوئی کہ 
'' اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت داروں کے حوالے کر دو اور جب فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے کرو۔ ''
اس حکم خدا وندی پر قائد اعظم کا عملدار آمد ہمیں قیام پاکستان کے بعد کراچی میں اس وقت نظر آتا ہے  جب ہجرت کر کے آنے والوں اور مقامی ہندوئوں میں لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوا تو قائد اعظم نے علامہ شبیر احمد عثمانی سے کہا کہ'' آپ جاکر لوگوں سے اپیل کریں کہ جس نے جو سامان لوٹا ہے سب کا سب اپنے گھروں سے نکال کے باہر ڈال دیں یا کسی جگہ جمع کر دیں ، اور قوم کو بتائیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم مظلوم ہیں اور ہندو قوم نے ہمارے لاکھوں مردوں ، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا ہے ان کے گھروں کو لوٹا ہے ،لیکن ہم ظلم کا جواب ظلم سے دینا نہیں چاہتے ۔ 


قائد اعظم اچھی بات کی حوصلہ افزائی کرتے اور نامناسب روئیے کی حوصلہ شکنی کرنے میں تاخیر نہ کرتے، روز مرہ کے معاملات میں ان کی سب سے بڑی خوبی ، وقت کی پابندی تھی ، قائد اعظم خود بھی وقت کے پابند تھے اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے۔  


پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ، ہم اب  ایک ایسی کتاب کھولیں گے جس کے کسی ورق پر خیانت اور بد دیانتی کا داغ  دھبہ نہ ہو اور پوری امانت کے ساتھ ہم کام کریں گے ۔،،
قیام پاکستان کے 394 روز تک جب تک قائد اعظم حیات رہے وہ جذبہ ، عمل اور قول بدرجہ اتم دکھائی دیتے رہے لیکن جوں جوں قیادت میں کمزوری آتی رہی  زندگی گزارنے کے بعض سنہری اصول ناپید ہوتے گئے ۔
قائد اعظم ایک کمرے سے دوسرے میں جاتے تو پہلے کمرے کی لائٹ بند کر دیتے حالانکہ گورنر جنرل ہائوس کی بجلی کا بل سرکار نے دینا ہوتا تھا ۔ وہ جب پہلی بار کراچی میں گورنر جنرل ہاؤس میں قیام پذیر ہوئے تو گورنر جنرل ہائوس کی کوئی چیز تبدیل نہ کی نہ پردہ نہ قالین قائد اعظم کا خیال تھا جب کام چل سکتا ہے تو بلا وجہ قومی سرمایہ کیوں ضائع کیا جائے ، انہیں جس حالت میں گورنر جنرل ہائوس ملا تھا اسی حالت میں رہنے دیا ۔
قائد اعظم اچھی بات کی حوصلہ افزائی کرتے اور نامناسب روئیے کی حوصلہ شکنی کرنے میں تاخیر نہ کرتے، روز مرہ کے معاملات میں ان کی سب سے بڑی خوبی ، وقت کی پابندی تھی ، قائد اعظم خود بھی وقت کے پابند تھے اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے  ، ایک  دفعہ سردار عبدالرب نشتر صاحب کی راستے میں کار پنکچر ہو جانے کی وجہ سے دس منٹ تاخیر سے پہنچے تو ندامت کے سبب وہ قائد اعظم کا سامنا کرنے سے مشکل میں رہے حالانکہ قائد اعظم ان کا بے تحاشہ احترام کرتے تھے ۔
قائد اعظم  نے بس دیکھنا تھا کہتے شاید کچھ بھی نہ ، مگر روایتی حیا باہمی احترام  قائد سے سامنا کرنے میں مانع تھا ، کہ  سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کے ، اے ڈی سی،کیپٹن گل حسن کو چٹ لکھ کے قائد اعظم کو  اپنی دس منٹ کی تاخیر کا سبب بتایا ، یہ قائد اعظم کی دیانت اور کردار کا دبدبہ تھا  جو براہ راست عذر پیش کرنے میں حائل تھا۔
1948  کی بات ہے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ مسٹر لطیف نے قائد اعظم کی آمد پر ان سے ہاتھ ملانا چاہا تو  قائد اعظم نے یہ جان کر ہاتھ نہ ملایا کہ ایک سے ہاتھ ملایا تو  سارے پنڈال سے ہاتھ ملانا پڑ جائے گا اور  یہاں آنے کا  جو مقصد  ہے وہ میل ملاقات میں ضائع ہو جائے گا ۔
نواب اکبر بگٹی نے ایک یاد شئیر کرتے ہوئے کہا تھا کہ'' قائد اعظم  جب کوئٹہ ریذیڈنسی میں آئے تو میں ، مہاجرین کے بحالی فنڈ میں انہیں دس ہزار روپے کا چیک پیش کرنے گیا تو  قائد اعظم  مجھے بالائی منزل پر لے گئے ۔چلتے چلتے مڑ کے دیکھا تو فوٹو گرافر بھی پیچھے آرہا تھا فوٹو گرافر کاخیال تھا چیک وصولی کی کوئی رسم ہو گی تو کیمرے میں محفوظ کر لوں گا ، پھر پریس میں دے دونگا ، مگر قائد اعظم اس طرح کی شعبدہ بازیاں پسند نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قائد اعظم نے  سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جب مڑ کے دیکھا تو فوٹو گرافر سے بس اتنا ہی پوچھا کہ تم کس کی اجازت سے اوپر آئے ؟ اتنا سننا تھا کہ فوٹو گرافر کو بمشکل واپسی کا راستہ دکھائی دیا ۔
  1938ء میں جب علی گڑھ یونیورسٹی میں قائد اعظم کو استقبالیہ دیا گیا اور وہ ایس ایس ہال ، ( سر سیدہال) میں تشریف فرما تھے تو اس موقع پر  وہاں ہاسٹل  میں مقیم ہر صوبے کا نمائندہ طالب علم اپنے اپنے صوبے کی طرف سے قائد کو چائے کی دعوت دینے لگا، قائد نے ہر کسی سے کہا کہ'' یہ جو یونیورسٹی کی طرف سے دعوت دی گئی ہے ، یہ بھی تو آپ کی ہی طرف سے ہے '' جب باری باری سارے صوبوں کے نمائندہ طلبا دعوت دے چکے تو ان میں آخری طالب علم سندھ کے آغا غلام نبی پٹھان تھے ،  پٹھان نے جب سندھی طلبا کی طرف سے قائد اعظم کو چائے کی دعوت  دیتے ہوئے  سوالیہ انداز میں پوچھا کہ '' سر کل ہمارے ساتھ چائے پئیں گے  ؟؟ ''
قائد اعظم نے نوجوان طالب علم آغا غلام نبی پٹھان سے کہا کہ 
''ایک شرط پر چائے پینے آئوںگا کہ آپ وعدہ کریں کہ جب چھٹیوں  میں سندھ واپس جائیں گے تو  وہاں مسلم لیگ آرگنائز کریں گے '' 
آغا صاحب نے  قائد اعظم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے جی بالکل مسلم لیگ آرگنائز کروںگا ۔
قائد اعظم نے فرمایا '' وعدہ''  آغا غلام نبی نے کہا '' وعدہ'' 
قائد اعظم نے کہا '' کل چار بجے آپ کی طرف سے چائے پر آئوںگا،
قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کی پیش بندی اور دور نگاہی تھی کہ آغا غلام نبی پٹھان آگے چل کے سندھ میں مسلم لیگ  کے  لیے جانثار سپاہی ثابت ہوئے وہ بی ایس سی کے بعد قائد اعظم کے کہنے پر لا ء میں داخلہ لینے کی بجائے تحریک پاکستان کا حصہ بن کے 1938  میں  سندھ پرونشل مسلم لیگ کے جو نیئر جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوئے اور جہاں کہیں آل انڈیا مسلم لیگ کی کانفرنس ہوتی تو آغا غلام نبی پٹھان میلوں کا سفر کر کے پہنچے ہوتے۔ ان کا زیادہ وقت سندھ میں مسلم لیگ کی تنظیم سازی میں گزرنے لگا ، سکھر کی مسجد منزل گاہ ، کی تحریک میں بھی آغا صاحب نے اپنا مقدور بھر حصہ ڈالا وہ مسجد سندھ میں مسلم لیگ کی تنظیم سازی میں  سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ 
قائد اعظم کی ثابت قدمی اور مؤقف پر قائم رہنا ان کی شخصیت کی بہت بڑی خوبی تھی یہی وجہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہی 1943  میں کانگریس کے ایک سینئر رہنما راجگوپال اچاریہ جو گاندھی کا سمدھی تھا ، نے مطالبہ پاکستان کی تحریک کو اصولی طور سے تسلیم کر کے کانگریس پارٹی کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دی تھی اور اس زمانے میں جس کو راجہ جی کا فارمولا کہا جاتا تھا اس پر اخبارات میں تبصرے ، تجزیے اور اداریے لکھوانے کے ساتھ ساتھ زبردست بحث و مباحثہ ، تمحیص و تنقید ہونے لگے تھے۔ 
قائد اعظم کے لیے اس سے بڑھ کر اور باعث اطمینان بات کیا ہو سکتی تھی کہ مخالفین نے اثر لے کے تحریک پاکستان کو کامیاب ہوتا ہوا دیکھنا شروع کر دیا تھا ،  یہ سب قائد اعظم کی دیانت ، ریاضت ، نظرئیے سے لگن مؤقف کی صداقت وعدے کا پاس اور قیادت و کردار کی اثر پذیری تھی جس نے پاکستان مخالف قوتوں کے اعصاب شل کر دئیے تھے۔ 
ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے  زیر نظر اعتراف شکست سے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت اور بصیرت کا اظہار ہوتا ہے کہ 
*  میں ہر طرح سے کوشاں رہا کہ کسی طور یہ تقسیم ٹل جائے۔
* مجھے اگر کسی نے بتایا ہوتا کہ مسٹر جناح کسی وقت بھی فوت ہو جائیں گے تو میں وقت کو پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ۔
* ہندوستان کو کسی قسم کی متحدہ صورت میں رکھنے کا یہی واحد موقع ہوتا کیونکہ صرف وہی تھے ، میں صرف لفظ وہی دھراتا ہوں کہ صرف وہی یعنی مسٹر جناح راستے کا پتھر تھے۔
* اگر مسٹر جناح اس بیماری سے دو برس پہلے انتقال کر گئے ہوتے ، میرا خیال ہے ہم ملک کو متحد رکھ سکتے تھے ، لیکن وہ واحد شخص تھے ، جنہوں نے حقیقتاً میرے اس خیال کو ناممکن بنا دیا ۔
* میں تسلیم کرتا ہوں کہ کہ میں جناح کے سامنے ناکام ہو گیا ۔
( دا پارٹیشن آف انڈیا، لیری کونز، ڈومینک لیپری ) ||


مضمون نگار: ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے  لیے  کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 144مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP