ماحولیات

زیرو ویسٹ طرز زندگی

صاف ستھر ا اور صحت افزا ماحول انسانی صحت کے لئے ناگزیر ہے لیکن اگر ہم آس پاس کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے ماحول کو خراب اور بیماریوں کا سامان کررہے ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے ہماری زمین کا درجہ حرارت رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو ماحولیات کے ماہرین نے گلوبل وارمنگ(Global Warming) کا نام دیا ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلیاں نہ صرف ماحول بلکہ انسانی جان کے لئے بھی سخت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ اس ماحولیاتی تبدیلی کے بڑے اسباب میں بڑھتی ہوئی آبادی کے علاوہ صنعتوں اور مصنوعات کا بے دریغ استعمال بھی شامل ہے۔ یہ وجوہات بڑے پیمانے پر پیدا ہوانے والے کچرے اور کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے مناسب بندوبست کی راہ میںایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس سیارے میں ہونے والی ان ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی کی ایک وجہ وہ گیسز ہیں جو ہمارے ماحول میں نیم مستقل مگر دیرپا رہتی ہیں۔ یہ گیسز قدرتی طور پر نہیں بلکہ ماحول میں ہونے والے مختلف عوامل کے نتیجے میں ہماری آب و ہوا کا حصہ بنتی ہیں۔ ان گیسز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھین اور کلوروفلورو کاربن شامل ہیں۔ یہ سب گیسز انسانی استعمال سے ہی پیدا ہو رہی ہیں۔ جیسے کہ ریفریجریٹر اور اے سی کے بے جا استعمال سے کلوروفلور و کاربن گیس، کھیتوں سے پیدا ہونے والی میتھین گیس اور چاولوں کی کاشت کے عمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس۔ لہٰذا یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ماحول میں ان گیسز کے اضافے کی ذمہ داری بھی کافی حد تک انسانوں پر ہی آتی ہے۔ اس بدلتے ہوئے ماحول اور موسم سے دنیا کے بعض حصوں میں خشکی اور نمی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے اکثر ممالک موسمِ گرما کی شدت کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ وجوہات نسلِ انسانی کو نقصان پہنچانے کے انتہائی اہم سبب ثابت ہو رہی ہیں۔یہ وہ مسائل ہیں جن کا تدارک آنے والے وقتوں کی بقاء کے لئے نہایت اہم ہے۔ گلوبل وارمنگ یا ماحولیاتی، موسمیاتی تبدیلی اس وقت ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے دنیا کے تمام ممالک پریشان ہیں اور اپنے طور اس کے تدارک کا حل تلاش کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔




دنیا میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور ماحول میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو کم کرنے اور ماحول کو بچانے کے لئے نئے تصورات اور خیالات پیش کئے جارہے ہیں۔ تدارک کے ان تصوارات میں ایک جدید تصور زیروویسٹ مینجمنٹ کا ہے جس کا مطلب ہے کہ کچرا، کوڑا کرکٹ یا فضلہ بالکل نہ پیدا کیا جائے کیونکہ چیزوں کو استعمال کے بعد ضائع کردینا یا اس کی اصلی شکل میں واپس نہ لانا، یا ماحول میں بطورِ کچرا اس کا شامل ہونا ماحول میں منفی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے۔
زیروویسٹ ایک ایسا تصور ہے جو گزشتہ کئی سال سے مقبول ہوتاآرہا ہے۔ یہ تصور نیا ضرور ہے لیکن اس کے پیچھے تصور بالکل قدرتی نظام جیسا ہے۔ دنیا میں اس وقت سالانہ 2 بلین ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس سے صرف 15 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے جبکہ85 فیصد Land dumps, Landfills یا سمندر میں بہادیا جاتا ہے جسے ہم عام اصطلاح میںOcean dumpsبھی کہتے ہیں۔ 
زیروویسٹ ایک ایسا تصور ہے جو چیزوں کو استعمال کرکے پھینکنے کے بجائے بار بار استعمال پر زور دیتاہے۔زیروویسٹ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے روایتی نظام کے برعکس اس بات پر زور دیتا ہے کہ کوئی بھی کوڑا کرکٹ یا فضلہ کھلے عام نہ پھینکا جائے، نہ جلایا جائے اور نہ ہی سمندر میں بہایا جائے۔ جو بھی اشیاء یا مصنوعات تیار کی جائیں وہ قدرتی نظام میں شامل رہیں اور اسی کا اہم حصہ بنیں۔
ماحول کو حقیقی معنوں میں محفوظ اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو ممکن بنانے کے لئے ''زیرو ویسٹ لائف سٹائل'' ہی وہ ممکنہ حل ہے جس سے ہم اپنے بچوں کے محفوظ کل کے لئے اپنی زمین کو بچاسکتے ہیں۔
زیروویسٹ لائف سٹائل میں ہم ممکنہ کوشش کرتے ہیں کہ مصنوعات کی تیاری میں قدرتی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن بنایا جائے۔ اشیاء کے بے دریغ استعمال سے گریز کیا جائے اور پلاسٹک اور تھرموپور جیسی ماحول دشمن اشیاء کا استعمال ختم کیا جائے۔ پیکنگ جیسے تمام مراحل میں اگر ہم کچرے کے نصف حصہ کو بھی کم کردیں گے تو اس کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات مؤثر بنائے جاسکتے ہیں۔ماحول میں گندگی کی ایک بڑی وجہ پلاسٹک کا بے جا استعمال ہے۔ ہمارے ہاں مصنوعات کی تیاری میں پلاسٹک کا استعمال اور پلاسٹک بیگ کا استعمال انتہائی عام ہے اگر ہم پلاسٹک کے استعمال میں خاطر خواہ کمی لے آئیں تو روزانہ پیدا ہونے والا ہزاروں ٹن کچرا کم کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تھرموپول کے استعمال پر پابندی لگانے سے کچرے کے بہت سے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔
زیروویسٹ ایک ایسا طریقہ ہے جس کو فوراً حاصل نہیں کیا جاسکتا لیکن دنیا بھر کے ممالک اس سلسلے میں ایسے اصول متعارف کروا رہے ہیں جن سے ماحول کو ممکنہ حد تک صاف ستھرا اور گندگی سے پاک بنانا ممکن ہو سکے۔ اس تمام صورت حال کے تحت پاک فوج نے  سربراہ پاک فوج کی خصوصی ہدایت پر2019  سے پوری فوج میں Solid Waste Managementیعنی'' کچرے کو ٹھکانے لگانے کے انتظام کے جدید طریقے '' کو متعارف کروایا،  مزید برآں بیگم چیف آف آرمی سٹاف نے15 جون2021 سے سماجی بیداری (Civic Awareness) کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس مہم کا مقصد لوگوں میں اس تصور کو عام کرنا اور پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کی کاوشیں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں عسکری کمیونٹی کو بھی خاطر خواہ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
زیرو ویسٹ لائف سٹائل کو کیسے اپنایا جاسکتا ہے اور اس  کے لئے کیا ممکنہ کوششیں کی جاسکتی ہیں ان کی ایک مختصر تفصیل یہ ہے۔
l    Raise Awareness (عوام کو درپیش ماحولیاتی خطرات سے آگاہ کرنا )
 اس تصور میں وہ تمام عوامل آجاتے ہیں جن سے عوام میں اجتماعی شعور بیدار کیا جاسکتا ہے ۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں اس سلسلے میں شعور اور آگاہی کا فقدان  ہے جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کا عمل تیزی پکڑ رہا ہے۔
l    Reduce use of Non- recycleables (پلاسٹک اور اس سے بنی مصنوعات کا کم سے کم استعمال )
اس مہم میں ہمیں عوام میں یہ شعوربیدار کرنا ہوگا کہ پلاسٹک کا استعمال ماحول میں آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ اس لئے پلاسٹک بیگ کی جگہ کپڑے کے تھیلے کا استعمال عام کیا جائے، بازار میں پلاسٹک بیگز کی موجودگی کو ختم کیاجائے۔ تھرموپول سے بنی اشیاء کو کم سے کم استعمال کیا جائے۔ اگر ہم یہ ممکن بنانے کی کوشش کریں گے تو کچرے کی روک تھام کو کافی حد تک ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ 
l    Reuse  (چیزوں کو بار بار استعمال کرنا)
اس تصور کے مطابق ہمیں ایسی چیزوںکے استعمال سے گریز کرنا چاہئے کہ ایک بار استعمال کے بعد ضائع کرنا پڑے۔ہمیں ایسی اشیاء کا استعمال ممکن بنانا ہوگا جس کو Reuseکیا جاسکے۔ ڈسپوزیبل اشیاء یا ٹشو پیپر کے استعمال کو کم بنایا جائے کیونکہ یہ اشیاء دوبار استعمال میں نہیں آسکتیں اور ضائع ہو جاتی ہیں اس لئے زیرو ویسٹ لائف سٹائل اپنانے کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ ایسی اشیاء استعمال کی جائیں جو  دوبارہ استعمال میں لائی جاسکیں۔
l    Recycle   (کچرے کو فیکٹری میں کسی اور پراڈکٹ میں ڈھالنا)
اس سے مراد  ہے کہ جو بھی کچرا ہو اس کو Recycleکے مرحلے سے گزار کر دوبارہ خام مال کے طور پر استعمال کیاجائے۔یہ طریقہ عالمی سطح پر کافی شہرت کا حامل ہے اس لئے اس پر عالمی سطح پر کافی حد تک کام کیا جارہا ہے۔
l    Composting(کچن اور باغیچے سے حاصل ہونے والے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے،کٹی ہوئی گھاس وغیرہ کو کھاد کے طور پر استعمال کرنا)
کمپوسٹنگ ایک ایسا سستا اور قدرتی عمل ہے جس کے ذریعے کچن کی بچی ہوئی اشیاء اور گھر کے باغیچے کے کچرے کو کوڑے میں پھینکنے کے بجائے پودوںکے لئے ایک معیاری اور غذائیت سے بھرپور کھاد بناسکتے ہیں۔ میونسپل ویسٹ کا80 فیصد حصہ کچن اور گارڈن سے حاصل ہونے واکے کچرے پر مشتمل ہوتا ہے جس کوCompostngکے ذریعے قابلِ استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہم کچرے کی ایک محدود مقدار کو مثبت عمل میں استعمال کرسکتے ہیں۔ ||
 

یہ تحریر 398مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP