متفرقات

زیرو ویسٹ مینجمنٹ 

کہتے ہیں کہ قدرت کے کارخانے میں کوئی چیز ضائع اور بیکار نہیں ہوتی۔لہٰذا ہم جنگلوں یا دیگر قدرتی ایکوسسٹم کا جائزہ لیں تو ہمیں پودوں اور جانوروں کے فضلہ اور باقیات ایک دوسروں کے لئے کارآمد ہوتے نظر آتے ہیں۔مگر جب بات انسانی دنیا کی کریں تو بہت سی ایسی اشیاء نظر آئیںگی جو ماحول میں ضائع یا ویسٹ ہونے کی وجہ سے آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔



دراصل ہوتا کچھ یوں ہے کہ انسان اپنی ضروریات کے لئے ماحول سے قدرتی وسائل حاصل کرتا ہے اور انہیں اپنی مرضی کی کارآمد شکل میں ڈھالتا ہے۔یہ کام مختلف قسم کے کارخانوں اور صنعتوں میں ہوتے ہیں لیکن اس کام کے دوران بہت سا مال ضائع ہو جاتا ہے اور جب اشیاء استعمال ہوجاتی ہیں اور مزید کام کی نہیں رہتیں تو وہ بھی ضائع ہو کر دوبارہ ماحول میں بطور کچرا واپس چلی جاتی ہیں لیکن اس بار ان کی شکل وہ پہلے والی نہیں ہوتی۔آج کے دور میں یہی ایک بڑا چیلنج ہے کہ ان کو اسی شکل میں واپس لایا جائے جس میں وہ اول بارتھیں یا پھر ضائع ہی نہ ہونے دیا جائے اور پھر سے کارآمد بنا دیا جائے۔اس تصور کو ری سائیکل(Recycling) کرنا کہتے ہیں۔
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور تیزی سے تباہ ہوتے ہوئے ماحول کو بچانے کے لئے کچرا کم کرنے کے نت نئے تصورات پیدا ہورہے ہیں۔انہی میں سے ایک جدید تصور زیرو ویسٹ مینجمنٹ (Zero Waste Managment)ہے یعنی کچرا یا فضلہ بالکل نہ پیدا کیا جائے۔اس خیال کو مختلف ذرائع سے مختلف انداز میں بیان کیا گیا مگر یہاں ہم امریکہ کے ادارہ ماحولیات (United States Enviromental Protection Agency) U.S. EPAکی بیان کردہ تعریف بتا رہے ہیں۔ 
زیرو ویسٹ مینجمنٹ کی تعریف 
"تمام وسائل کا تحفظ بذریعہ ذمہ دارانہ پیداوار، کھپت، دوبارہ استعمال اور مصنوعات اور پیکجنگ اور مواد کی بحالی۔یہ سب بغیر جلائے اور پانی یا ہوا میں فضلہ کے اخراج کے اور انسانی صحت یا ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر کیاجائے"۔اگر ہمیں اپنے ماحول اور قدرتی وسائل کو تباہ ہونے سے بچانا ہے تو  اس مختصر مگر انتہائی جامع تعریف کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ آئیے اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔
اس تعریف کی رو سے گویا تمام صنعتوں میں پیداواری عمل کو زیادہ سے زیادہ ماحول دوست اور ہر طرح کے فضلے سے پاک ہونا چاہیے۔اسی طرح جو وسائل کی کھپت اور ان کا  استعمال ہے وہ بھی ماحول دوست اور مستقبل کے لحاظ سے پائیدار ترقی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔یہ تصور اشیاء کے ایک بار استعمال کر کے پھینکنے کے بجائے، بار بار استعمال پر بھی زور دیتا ہے اس طرح کچرا کم سے کم ہوگا۔ایک اور اہم بات  اس حوالے سے یہ ہے کہ صنعتی پیداوار کے دوران ضائع ہونے والے مادہ یا پیکنگ مٹیریل کو بچا کر زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانا بھی اسی تصور کا حصہ ہے۔اس پورے عمل میں نہ تو کوئی فضائی، آبی، یا زمینی آلودگی ہونی چاہیے نہ ہی کسی کا نقصان ہمارے قدرتی وسائل کو پہنچنا چاہیے۔
زیرو ویسٹ مینجمنٹ گو کہ ایک جدید اصطلاح ضرور ہے مگر اس کی کے پیچھے تصور بالکل قدرتی نظام جیسا ہے۔گزشتہ تین صدیوں میں جب انسانی ترقی تیزی سے ہوئی  اور ماحولیاتی مسائل جیسے آلودگی، جنگلات اور حیاتیاتی نظام (Ecosystems)  کی تباہی کاعمل تیز ہوتا گیا تو اس وقت ماحولیات کی فکر پیدا ہوئی۔چناچہ آلودگی روکنے کے لئے اول طریقہ کار جو شروع ہوا اس کا آج کی زبان میں Passive Approach کہا جاتا ہے یعنی آلودگی کے درجے کو گھٹانے کے لئے آلودہ مادے کو ملاوٹ کے ذریعے اس کی کثافت کم کر کے ماحول میں چھوڑا جائے۔لہٰذا دھویں کو ہوا میں ملا کر پھر فضا میں چھوڑا جانے لگا۔اسی طرح کارخانوں کے زہریلے پانی کو صاف پانی میں ملا کر اس کی نقصاندہ شرح کو کم کر کے پھر قدرتی پانیوں مثلاً دریا یا سمندر میں چھوڑا جانے لگا۔اس طریق پر ماحول کا نقصان تو بظاہر کم ہونے لگا مگر دراصل بعض زہریلے مادے جیسا کہ کیمکل اور دھاتیں وغیرہ قدرتی وسائل کو تباہ کرنے لگیں۔پھر ماہرین نے Active Approach کا نظریہ پیش کیا جس کے مطابق آلودگی کو اس کے اخراج کی جگہ (Control at Source) پر ہی روک دیا گیا، کا نظریہ بہت مقبول ہوا اور دنیا بھر میں آلودگی کو قابو کرنے والے آلات اور treatment plants  لگنے لگے تاکہ فیکٹریوں کا فاضل پانی اور دھواں وغیرہ اپنی اخراج کی جگہ  پرہی روک دیا جائے اور ماحول کی حفاظت کی جا سکے لیکن ماہرین کو جلد ہی اس بات کا احساس ہو گیا کہ یہ طریقہ بھی ماحول کی حفاظت کرنے میں دراصل ناکام ہوگیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طریقہ پر محض آلودگی کی ایک شکل کو دوسری میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر فضائی آلودگی روکنے کے لئے دھویں اور زہریلی گیسوں کو پانی میں یا کسی اور آمیزے میں جذب کر کے اس پانی کو ماحول میں چھوڑ دیا جاتا ہے، یا پھر فاضل پانی (Waste Water) سے نقصان دہ مادہ کو الگ کر کے ٹھوس فضلہ (Solid Waste) کی شکل میں بنا دیا جاتا ہے اور زمیں میںڈال دیا جاتا ہے۔مزید براں یہ کہ بہت سے کارخانے محض دکھاوے کے رسمی آلات لگا کر قانونی ضروریات پوری کرتے ہیں اور روزانہ ان کو استعمال نہیں کرتے۔ لہٰذا ماحول کو حقیقی معنوں میں محفوظ بنانے میں یہ نظریہ بھی ناکام ہوگیا۔
ماحول کو حقیقی معنوں میں محفوظ اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لئے Proactive Approach کے نظریہ کو اختیار کرنا اب نا گزیر ہوگیا ہے ۔ زیرو ویسٹ کا تصور بھی اسی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔اس کے مطابق آلودگی کو پیدا ہی نہ ہونے دیا جائے تو پھر اس کے لئے مہنگے آلات اور آلودگی کی روک تھام کے لئے اخراجات کو یا تو بالکل بچایا جاسکتا ہے یا پھر کم کیا جا سکتا ہے۔اب وہ کون سے اصول ہیں جن کی مدد سے اس نظریے پر کاربند ہوا جا سکتا ہے اور درحقیقت زیرو ویسٹ کی ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہ نظریہ تیزی سے ماحولیاتی حلقوں میں، think tanks میں اور پالیسی ساز اداروں میں مقبول ہورہا ہے اور اسی کو مستقبل کے تمام ماحولیاتی مسائل کا حل اور پائیدار ترقی کا راستہ سمجھا جارہا ہے۔اور تیزی سے consumer goods انڈسٹری کو اس کا پابند کیا جارہا ہے جس سے عام گھریلو صارفین بھی اس کے دائرے میں آرہے اور وہ اپنی گھریلو اشیاء کی خریداری کے وقت اور اپنا طرز زندگی  وضع کرتے وقت اس تصور کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ 
زیرو ویسٹ کے اصول اور ان پر عمل
سب سے پہلا اصول جو زیرو ویسٹ کو حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے وہ یہ کہ آلودگی روکنے کے لئے مصنوعات کے نقصان دہ مادہ کو بے ضرر مادہ سے تبدیل کیا جائے۔گویا اس کی ایک آسان سی مثال پلاسٹک بیگ کو کپڑے کے تھیلے سے بدلنا ہے۔اگر تمام لوگ اس بات کو سمجھ جائیں تو ہم روزانہ پیدا ہونے والے ہزاروں ٹن کچرا بچا سکتے ہیں۔یہی اصول دیگر اشیاء ضروریات میں بھی کاربند ہوتا ہے جس میں Disposable اشیاء مثال کے طور پر تھرموپول (Polystyrene) کے کپ، پلیٹیں وغیرہ اور اس جیسی دیگر اشیاء کو دوسرے مادہ سے بدلا جا سکتا ہے۔اگر صرف کراچی شہر کی مثال لیں تو یہاں روزانہ پندرہ ہزار ٹن سے زیادہ کچرا پیدا ہوتا ہے جبکہ لاہور میں سات ہزار ٹن ہوتا ہے۔بڑے شہروں میں کوڑے کا نصف حصہ پلاسٹک اور تھرموپول جیسے ماحول دشمن اور زہریلے مادہ پر مشتمل ہے۔اس طرح اگر ہم کچرے کا نصف حصہ کم کر دیں تو اس کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات بھی آسان ہو جائیںگے اور اخراجات بھی کم ہوںگے۔
دوسرا اہم اصول ہے ٹیکنالوجی کی تبدیلی۔گویا اگر ہم خام مال سے مصنوعات بنانے کے عمل کی ٹیکنالوجی بہتر کردیں تو دوران پیداوار فضلہ بھی کم پیدا ہوگا اور خام مال کی بچت بھی ہوگی۔ اس طرح مالی فائدہ بھی ہے اور ماحول کی بھی حفاظت ہے۔گویا کارخانوں کے مالکان کے لئے یہ ایک دلچسپی کی بات ہے۔
اسی طرح ایک اصول Reuse کا بھی ہے یعنی کہ خصوصاً وہ جو گھریلو استعمال کی عام مصنوعات ہیں ان کو یک بارکی استعمال والے ڈسپوزیبل اشیاء پر بار بار استعمال والی اشیاء کو ترجیح دی جائے۔اس کی مثال آج کل کے پلاسٹک کپ، پلاسٹک بوتلیں اور تھرموپول کے برتن وغیرہ ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ان کا استعمال بڑھا ہے۔آج کل ہمارے ہاں دوکانوں پر کھانے پینے کی اشیاء اب زیادہ تر ایسے ہی برتنوں میں بیچی جا رہی ہیں۔اسی طرح پہلے لوگ جیب میں رومال رکھا کرتے تھے جو روزانہ دھل کر پھر استعمال ہوجایا کرتا تھا لیکن اب اس کی جگہ ٹشو پیپر نے لے لی ہے جو کہ ایک بار ہی استعمال ہوکر ضائع ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ ٹشو پیپر لکڑی سے بنتا ہے، لہٰذا جتنا ٹشو پیپر استعمال ہوگا اتنا ہی لکڑی اور جنگلات کا زیاں ہو گا۔چنانچہ زیرو ویسٹ کے لئے بہت ضروری یہ ہے کہ وہ اشیاء استعمال کی جائیں جو بار بار قابلِ استعمال ہوں۔
 ایک اور اصول اس سلسلے میں Recycle کا ہے۔گویا جو بھی کچرا پیدا ہو اس کو نئی اشیاء بنانے کے لئے دوبارہ خام مال کے طور پر استعمال کر لیا جائے۔یہ عمل دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی خاصا مقبول ہے۔لہٰذا آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ غریب بچے کندھے پر بورا لٹکائے کچرے سے پلاسٹک کی بوتلیں، گتا، شیشہ اور لوہا جمع کرتے ہیں۔ان اشیاء کو وہ کارخانوں میں بیچ دیتے ہیں اور ان سے نیا مال بن جاتا ہے۔دنیا بھر میں اس پر بہت کام ہو رہا ہے۔
زیرو ویسٹ  مینجمنٹ پر عمل کیسے کیا جائے 
زیرو ویسٹ مینجمنٹ اب کوئی خیالی یا محض ایک کتابی تصور نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ تیزی سے مقبول ہوتا ایک رجحان ہے جو نہ صرف بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی پالیسی کا حصہ بننے جارہا ہے بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانے کہ لئے تیزی سے بین الاقوامی میعاروں (International Standards)پر بھی کام ہو رہا ہے۔اس میں بہت سے ایسے طریقہ کار وضع کیے جارہے ہیں جو مختلف صنعتوں کے لئے مخصوص ہیں۔مثال کے طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے پیداوار کے خاص معیار مقرر کئے گئے ہیں۔اسی طرح توانائی کے شعبے کے اپنے معیارات ہیں وغیرہ وغیرہ۔مزید براں یہ کہ ان صنعتی شعبوں کو نہ صرف مختلف ممالک کے قوانین کے ذریعے پابند کیا گیا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں خصوصاً ترقیاتی فنڈ دینے والے ادارے جیسے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور دیگر اداروں نے ہر صنعت کے لئے اپنے معیارات مقرر کر دیئے ہیں۔اس طرح ایسے تمام نئے منصوبوں پر ان کا اطلاق لازمی ہوگیا ہے جو ان اداروں سے قرض یا فنڈ حاصل کر رہے ہیںبلکہ جتنے بھی ادارے ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ان کی اولین شرط ماحولیاتی تحفظ اور آلودگی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول اور خصوصاً جنگلی حیات کا تحفظ ہوتی ہے۔ 
 قومی سطح پر پالیسی کی ضرورت 
زیرو ویسٹ ایک ایسا سنگ میل ہے جس کو فوراً حاصل نہیں کیا جاسکتا۔تاہم دنیا بھر میں مختلف ممالک چاہے وہ ترقی پذیر ہوں یا ترقی یافتہ ممالک ہوں، وہ فیکٹریوں سے لے کر عام عوام کے لئے نہ صرف رہنما اصول بنا رہے ہیں بلکہ ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں جن سے ماحول کا تحفظ حاصل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ایسے قوانین ہیں جن سے روزانہ استعمال کی چیزیں ہوں یا صنعتوں میں استعمال کا خام مال ،دونوں ہی شعبوں کو ان پالیسیوں اور قوانین کا تابع کیا جا رہا ہے۔مثال کے طور پر امریکہ کی کئی ریاستوں میں تھرموپول کے برتنوں میں کھانا فروخت کرنے پر پابندی لگ چکی ہے۔اسی طرح یورپ کے بیشتر ممالک پلاسٹک کے شاپنگ بیگ پر ٹیکس لگا چکے ہیں اور ان کو مہنگا کر دیا گیا ہے تاکہ لوگ ان کا استعمال کم سے کم کریں۔لوگوں کو بھی ترغیب دی جاتی ہے کہ استعمال کی اشیاء خریدتے وقت زیرو ویسٹ کے اصولوں کو یاد رکھیں اور اس کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھیں۔
ہمارے ملک پاکستان میں بھی حالیہ دنوں میں پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تھی مگر  فی الوقت اس پر عمل نہیں کیاجاسکالیکن اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت ماضی کی تمام حکومتوں کے مقابلے میں ماحولیات کہ حوالے سے زیادہ سنجیدہ ہے اور بڑے شہروں میں اب پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی ہے۔پانچ جون کو منائے جانے والے ماحولیات کے عالمی دن کی پاکستان کو میزبانی حاصل ہونا اور اس شعبے میں بہترین کار کردگی اس بات کا ثبوت ہے۔لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اپنی پالیسیوں میں ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لئے قوانین بنائیں۔اس سلسلے میں ماہرین کی رائے لی جائے اور ایسی تمام اشیاء پر خصوصاً  تعیشات پر ٹیکس لگایا جاسکتا ہے جن کی پیداوار کے دوران یا استعمال کے بعد وہ آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔ کارخانوں اور صنعتوں کوProactive Approach اور زیرو ویسٹ کے اصولوںپر  پابند کیا جائے اور مختلف شعبوں میں حکومت اپنے Performance Standards  بنائے جن کی مدد سے ہم اپنے ماحول کی حفاظت کر سکیںاور آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر پاکستان چھوڑ کر جائیں۔ ||


مضمون نگار ایک معروف یونیورسٹی میں اینوائر مینٹل سائنسز  کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ماحولیات سے متعلق موضوعا پر لکھتے ہیں
۔ [email protected]

یہ تحریر 160مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP