قومی و بین الاقوامی ایشوز

سوشل میڈیا: منفی استعمال کی روک تھام اورقانونی پہلو

 آج کے دورمیں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔سوشل میڈیا ہماری زندگی کالازمی جزو بن گیاہے۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیاکے بغیران کی زندگی ادھوری ہے۔ یہ سوشل میڈیا کاہی کمال ہے کہ ہم لاکھوں میل دور بیٹھے اپنے کسی عزیزیادوست سے باتیں کرتے ہیں،اس کی ویڈیوز اورتصاویردیکھتے ہیں۔ ان پرکمنٹس کرتے ہیں اورآگے دوستوں کوشیئر کردیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کااستعمال ایک ضرورت یاعادت بن چکاہے۔اس ڈیجیٹل انقلاب اورسمارٹ فونز نے پوری دنیا ہماری مٹھی میں سمیٹ دی ہے۔دنیا کے کسی بھی کونے میں پیش آنے والا واقعہ چندسیکنڈوں میں ہمارے موبائل فون کی سکرین پرہوتاہے۔اہم بات یہ بھی ہے کہ ترقی کایہ سفر مسلسل جاری ہے۔اس میں جدت آتی جارہی ہے۔انٹرنیٹ کی شکل بھی بدل رہی ہے،اگلا دور ویب تھری کاہے،جوگیم چینجرثابت ہوگا۔کیاہم اس کامقابلہ کرنے کے لیے تیارہیں؟ ہم جس دور میں داخل ہونے والے ہیں وہ اڑنے والی گاڑیوں کادوربھی ہے۔ وہ دور بھی آنے والاہے کہ کسی دوردراز دیہات میں بیٹھا ہواشخص دنیا کے کسی بھی جدید ترین شاپنگ پلازہ یامارکیٹ میں جاکرشاپنگ کرسکے گا۔چیزوں کواٹھاکران کامعیاربھی چیک کرسکے گا،انھیں محسوس کرسکے گا۔ 



فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت پھیلانے یااس قسم کی کوئی پوسٹ شیئر کرنے پر سات سال قید اور جرمانے کی سزائیں دی جاسکتی ہیں ۔دہشت گردی کے مقصدکے لیے معلومات تیار کرنے، پیسے جمع کرنے، لوگوں کو بھرتی کرنے یا دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے پر سات سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔


   ایک طرف انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا کامثبت استعمال ہے تودوسری طرف اس کامنفی استعمال بھی ہورہاہے۔اس حوالے سے سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ ان پلیٹ فارمز سے  فیک نیوز یاجھوٹی خبریں چلائی جاتی ہیں،لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔خاص کر خواتین کی کردار کشی کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے  فیس بک،ٹوئٹر، یوٹیوب،انسٹاگرام وغیرہ پرصورتحال ایک جیسی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ کے جدیدسافٹ وئیر،چہرے تبدیل کرنے والے سافٹ وئیر،کارٹون بنانے والے سافٹ وئیر غرض سیکڑوں سافٹ وئیر ہیں۔ان میں سے بہت سے فری مل جاتے ہیں۔کوئی بھی انھیں باآسانی ڈاون لوڈ کرکے مثبت یامنفی مقاصدکے لیے استعمال کرسکتاہے۔
    ترقی یافتہ ممالک نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کامنفی استعمال روکنے کے لیے ٹھوس قوانین بنالیے ہیں۔ سائبرعدالتیں قائم کردی گئی ہیں۔ ڈیجیٹل فرانزک لیبارٹریاں کام کررہی ہیں۔ تاہم دیگرترقی پذیرممالک کی طرح ہمارے یہاں بھی صورتحال اطمینان بخش نہیں۔ سائبرکرائم یاسوشل میڈیا پرہونیوالے منفی پروپیگنڈے کوروکنے کے لیے قانون موجود ہے۔اگست 2016 میں اس وقت کی حکومت نے سائبرکرائم بل پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمزایکٹ (Prevention Of Electronic Crimes Act)کی منظوری دی جوپیکا ایکٹ کے نام سے مشہورہوا۔اس بل میں 23 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو کی جاسکتی ہیں۔اگردیکھاجائے تویہ ایک مکمل قانون ہے بظاہراس میں کوئی کمی نظرنہیں آتی۔یہ قانون غیرقانونی طورپرسم خریدنے،موبائل فون کاشناخت نمبرتبدیل کرنے سے لے کر فیس بک،یوٹیوب اورٹوئٹر وغیرہ پرکوئی فیک،فحش تصویراپ لوڈ کرنے یاشیئرکرنے،کسی کوبلیک میل کرنے یاکسی کی ذاتی معلومات دوسروں سے  شیئر کرنے ،اداروں اورریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنے جیسے تمام جرائم کامکمل احاطہ کرتا ہے۔اس قانون میں سزائیں اورجرمانے بھی بتادیے گئے ہیں۔ کسی شخص کے خلاف جھوٹی اور شہرت کو نقصان پہنچانے والی معلومات کا اظہار،کوئی تصویر وغیرہ پوسٹ کرنایادوسروں سے شیئر کرنا اس پرتین سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا یا دونوں ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اس کا اطلاق پیمرا کے تحت لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز پر نہیں ہوگا۔
  قارئین کی دلچسپی کے لیے میں پیکاایکٹ کے اہم نکات بیان کر دیتا ہوں۔ اصل مسئلہ اس پرعمل درآمد کرانے کاہے۔جس پرہم آگے چل کربات کریں گے۔اس قانون کے مطابق کسی بھی معلومات یا اعداد و شمار تک غیر قانونی طریقے سے رسائی حاصل کرنے پر تین ماہ قیدیا پچاس ہزارروپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔کسی بھی ڈیٹا کو جان بوجھ کر یا بغیر اجازت کسی اور کو بھیجنے والے شخص کو چھ ماہ قیدیا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔کسی بھی ڈیٹا سسٹم میں جزوی یا مکمل مداخلت یا اسے نقصان پہنچانے والے شخص کو دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔کسی بھی ڈیٹا کو جان بوجھ کر یا بغیر اجازت نقل کرنے یا آگے بھیجنے والے شخص کو پانچ سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے ۔اس طرح دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور ان سے منسلک افراد کی سرگرمیوں کی تشہیر کے لیے کوئی تصویر، پوسٹ وغیرہ کی نشر و اشاعت پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کیاجا سکتا ہے۔ عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کوبھی سائبر دہشت گردی میں شامل کیاگیاہے۔ فرقہ وارانہ یا نسلی نفرت بڑھانے یا اس کی دھمکی دینا بھی سائبر دہشت گردی ہے،ان تمام جرائم پر 14 برس تک قید اور پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے ۔سوشل میڈیا پرفرقہ وارانہ یا نسلی منافرت پھیلانے یااس قسم کی کوئی پوسٹ شیئر کرنے پر سات سال قید اور جرمانے کی سزائیں دی جاسکتی ہیں ۔دہشت گردی کے مقصدکے لیے معلومات تیار کرنے، پیسے جمع کرنے، لوگوں کو بھرتی کرنے یا دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے پر سات سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ کسی شخص کو دھوکہ دینے،فراڈ کرنے پر دو سال قید یا ایک کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اسی طرح بغیر کسی اختیار کے کسی دوسرے شخص کی شناختی معلومات حاصل کرنے، فروخت کرنے، استعمال کرنے پر تین سال تک قید یا پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔غرض اگران قوانین کاجائزہ لیاجائے توحیرت ہوتی ہے کہ ان قوانین کی موجودگی کے باوجود سوشل میڈیا پرمنفی پروپیگنڈا کیسے اورکیوں کیاجارہاہے؟ ایسالگتاہے کہ پروپیگنڈا کرنیوالوں کی اکثریت کوان قوانین کاعلم ہی نہیں۔جنہوں نے عملدرآمدکراناہے وہ بھی خاموش ہیں۔


سوشل میڈیا کوافراد اورقوموں کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیاجارہاہے۔ برین واشنگ کے ذریعے نوجوانوں کی سوچ ہی بدل دی گئی ہے۔ بہت سے نوجوان سوشل میڈیاکے ذہنی غلام بن چکے ہیں۔سوشل میڈیا انھیں اپنی مرضی کی چیزیں دکھاتاہے۔انٹرنیٹ کی دنیا نے نوجوانوں اورقوموں کی سوچ بدل دی ہے۔اس برین واشنگ یاپروپیگنڈے کامقابلہ کرنے کے لیے بہت سی قوموں  کوففتھ جنریشن وار لڑناپڑرہی ہے۔


  سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پربعض افراد کی جانب سے قومی اداروں عدلیہ اورفوج کوخواہ مخوا سیاست میں ملوث کرنے اوربدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی ڈھٹائی سے جھوٹ بولاجاتاہے کہ خدا کی پناہ۔ صرف بولاہی نہیں جاتابلکہ بڑے اعتماد کے ساتھ اس منفی پروپیگنڈے کوپھیلایابھی جاتاہے۔ عدلیہ اورفوج کی جانب سے متعددبار اس بات کااظہارکیاگیاہے کہ ان اداروں کاسیاست سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت پروپیگنڈا کرنے سے باز نہیں آتے۔ الزام تراشیوں کاسلسلہ مسلسل جاری ہے۔
سائبرجرائم کی روک تھام کے لیے قوانین توہیں لیکن ان پرعمل درآمد کروانے کے لیے موجود اتھارٹی کے پاس وسائل بہت کم ہیں،جس کی وجہ سے شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ سائبرکرائم کاسراغ لگانے کے لیے جدیدڈیجیٹل فرانزک لیب  کاقیام بھی بے حد ضروری ہے۔ ہمارے یہاں نوجوان نادانی میں کوئی بھی جھوٹی پوسٹ بغیرسوچے سمجھے شیئریافارورڈ کردیتے ہیں۔سائبرکرائم کے رولز کے مطابق یہ جرم ہے۔ اب اصل ملزم تک پہنچنے کے لیے آپ کوتفتیش کے پرانے روایتی طریقے اختیارکرنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کواستعمال کرناہوگا۔
   دنیابھرکی طرح پاکستان میں بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنازیادہ وقت سوشل میڈیا پرگزارتی ہے۔ انھیں اس بات کااحساس ہی نہیں کہ ان کا وقت کتناقیمتی ہے۔ نوجوان اپنایہ وقت کوئی ہنر سیکھنے میں بھی گزار سکتے ہیں جو عملی زندگی میں ان کے کام بھی آئے گا۔ان میں سے بہت سے اس غلط فہمی کاشکارہوگئے ہیں کہ اگرانہوں نے فیس بک،ٹوئٹر یا ٹک ٹاک استعمال نہ کیاتو وہ دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔ انھیں اس بات کابالکل ادراک نہیں ہوتاکہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ان سے ان کاقیمتی وقت چھین رہے ہیں۔یہ بھی دیکھاگیاہے کہ بعض والدین اپنی جان چھڑانے یاکہہ لیں بچوں کومصروف رکھنے کے لیے اپناسمارٹ فون ان کے حوالے کر دیتے ہیں،بچوں کی یہ عادت آہستہ آہستہ پختہ ہوتی جاتی ہے۔وہ مختلف گیمز کے عادی ہوجاتے ہیں۔ یہ گیمزایک نشے کی مانند ہیں جنھیں کھیلے بغیر طبیعت بے چین رہتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک بچوں کے حوالے سے بہت محتاط ہیں، والدین کوبھی پابند کیاجاتاہے کہ وہ بچوں پرنظررکھیں۔مغربی ممالک میں انٹرنیٹ کی دنیا میں جونئی نئی ایجادات ہورہی ہیں وہ کالجزاوریونیورسٹیوں کے طلبہ وطابات کی مرہون منت ہیں،لیکن ہمارے یہاں ایسانہیں۔عالمی ایجادات میں ہمارا حصہ صفرہے۔دوسری طرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس لوگوں کوزیادہ سے زیادہ اپنی جانب راغب کرنے کے لیے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہیں۔ ان مختلف ویب سائٹس کے درمیان زبردست مقابلہ ہے۔ مقصد ایک ہی ہے عالمی مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیاجائے اورزیادہ سے زیادہ منافع کمایاجائے۔


سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تفریح اورتربیت کے بجائے پروپیگنڈا ٹولز بنادیاگیاہے ۔یہ معلوم ہی نہیں ہوتاکہ سچ کیاہے؟ اتناجھوٹ بولاجاتاہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ ویڈیو اورتصاویر کو ایڈٹ کرکے دوسروں کی کردار کشی بھی عام سی بات بن چکی ہے۔یہ سب کچھ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ جرم ہے۔


سوشل میڈیا قوانین کے حوالے سے بعض ممالک جیسے چین، روس، ترکی، ایران، سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک میں سخت قوانین نافذ ہیں،کئی ممالک میں مقامی قوانین کی پابندی نہ کرنے پرسماجی رابطوں کی ویب سائٹس کوبند کردیاگیاہے۔چین  نے گوگل پرپابندی لگاکر اپنے سرچ انجن سمیت بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنالیے ہیں،اوروہاں مکمل کنٹرول ہے۔تاہم میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا پرپابندی مسائل کاحل نہیں اورنہ ہی ان سوشل میڈیا پرپابندی عائد کی جانی چاہیے تاہم ایسے قوانین ضرورہونے چاہیے کہ دوسروں کی عزت اورجان محفوظ رہے ۔ 
   بدقسمتی سے ہمارے یہاں سوشل میڈیا کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیاجارہاہے۔ماضی میں فیس بک اورٹوئٹرکے ذریعے فرقہ واریت اوردہشت گردی کوفروغ دیاگیا۔دہشت گرد گروپوں نے اپنے مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کاخوب استعمال کیا۔کالعدم تنظیمیں دہشت گردوں کوہیرو بناکرپیش کرتی تھیں جس سے معاشرے میں دہشت گردی کوفروغ مل رہاتھا اورایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پھیلائی جا رہی تھیں۔عوام کے مطالبے پر حکومت نے اس طرف  توجہ دی اورایسے اکاؤنٹ بلاک کیے گئے جونہ صرف دہشت گردی پھیلارہے تھے بلکہ آن لائن دہشت گردوں کوبھرتی بھی کررہے تھے۔آج سوشل میڈیا پربعض سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے لیے جوزبان استعمال کررہے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تفریح اورتربیت کے بجائے پروپیگنڈا ٹولز بنادیاگیاہے ۔یہ معلوم ہی نہیں ہوتاکہ سچ کیاہے؟ اتناجھوٹ بولاجاتاہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ ویڈیو اورتصاویر کو ایڈٹ کرکے دوسروں کی کردار کشی بھی عام سی بات بن چکی ہے۔یہ سب کچھ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ جرم ہے۔ سوشل میڈیا پرہمیں اپنے خیالات کے اظہارکی آزادی ضرورحاصل ہے لیکن ہماری آزادی وہاں تک ہے جہاں دوسروں کی عزت اورجان ومال محفوظ رہے۔ اگرہمارے کسی فعل یاپوسٹ سے کسی دوسرے کی تذلیل ہوتی ہے یاجان خطرے میں پڑتی ہے تواس کے لیے قوانین موجود ہیں۔ زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین یہ بات نہیں جانتے کہ ان کی آزادی کی حد کہاں تک ہے۔انھیں کیاچیز شیئرکرنی چاہیے اورکیانہیں کرنی چاہیے۔اس کی بنیادی وجہ کوئی آگاہی نہ ہوناہے۔ جب تک معاشرے کے تمام طبقات میں اس حوالے سے شعور پیدا نہیں کیاجائے گا اس منفی پروپیگنڈے کوروکناجوئے شیرلانے کے برابرہے۔ 
    سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان سے اربوں روپے کماکرلے جارہی ہیں اوراس کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا صارفین ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے صارفیں کی تعداد 43.55 ملین،ٹوئٹرصارفین کی تعداد 3.40  ملین،انسٹا گرام صارفین کی تعداد 13.75 ملین اورٹک ٹاک صارفین کی تعداد 18.26 ملین ہے۔اب حکومت کے لیے اپنے محدود وسائل اورجدید ٹیکنالوجی نہ ہونے کے باعث ان تمام صارفین اوردرجنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کوکنٹرول کرنایاان پرنظر رکھنا مشکل ہے۔ جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کامنفی استعمال کیاجارہاہے۔
     سوشل میڈیا کے باعث نہ صرف ہماری پرائیویسی ختم ہوچکی ہے بلکہ یہ پلیٹ فارم ہماری معلومات دوسرے اداروں اورافراد سے شیئربھی کرتے ہیں،اوراس کے عوض پیسے حاصل کرتے ہیں۔دوسری طرف سوشل میڈیا کوافراد اورقوموں کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیاجارہاہے۔ برین واشنگ کے ذریعے نوجوانوں کی سوچ ہی بدل دی گئی ہے۔ بہت سے نوجوان سوشل میڈیاکے ذہنی غلام بن چکے ہیں۔سوشل میڈیا انھیں اپنی مرضی کی چیزیں دکھاتاہے۔انٹرنیٹ کی دنیا نے نوجوانوں اورقوموں کی سوچ بدل دی ہے۔اس برین واشنگ یاپروپیگنڈے کامقابلہ کرنے کے لیے بہت سی قوموں  کوففتھ جنریشن وار لڑناپڑرہی ہے۔ 


افسوسناک بات یہ ہے کہ ان اکاؤنٹس سے فوج کے خلاف بھی جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، ٹوئٹر پرفیک ٹرینڈز بنائے جاتے ہیں۔اس جرم پراب تک کئی منظم گروہ پکڑے جاچکے ہیں۔چند دن پہلے سرگودھامیں ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے گروہ کو گرفتار کیا گیا۔ مرکزی ملزم صداقت حسین نے اعتراف کیا کہ اس نے میجرجنرل ریٹائرڈ اصغر اور میجر جنرل فیصل مشتاق کے نام سے فیک اکاؤنٹس بنائے اوروہ ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں مہم چلاتارہا۔ اس پروپیگنڈا سیل کے مرکزی ہینڈلربیرون ملک سے انھیں ہدایات دیتے رہے۔حد تویہ ہے کہ ان فیک اکاؤنٹس سے بعض سینیئرریٹائرڈ فوجی افسران کی جعلی آواز میں ویڈیو پیغام بھی جاری کردیے گئے۔


  موجودہ حکومت نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال خاص کر غیراخلاقی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کااعلان کیاہے۔ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ نے دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے،غیراخلافی ویڈیوز اورتصاویربنانے اورانھیں اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے ایف آئی اے اورمتعلقہ اداروں کوہدایت کی ہے۔یہ شکایت عام ہے کہ بعض غیرذمہ دار اورجرائم پیشہ افراد مختلف شخصیات، خاص کرخواتین اوربچوں کی تصاویر اورویڈیوز کوایڈٹ کرکے ان کی بدنامی کاسبب بن رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ دوسروں کوبدنام کرنے والوں کواس بات کاذرا بھی احساس نہیں ہوتاکہ اس سے کسی کی زندگی تباہ ہوسکتی ہے۔ 
    سابق حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیکاایکٹ کی دفعہ 20 میں بعض ترامیم کی منظوری دی تھی تاہم صحافتی تنظیموں اورسوشل میڈیا کے لیے کام کرنے والی این جی اوز نے ان ترامیم کی مخالفت کی،جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیرقانونی قراردے دیا۔سوشل میڈیا رولز 2021 کے تحت سوشل میڈیا اداروں کو پاکستان میں جلد از جلد دفاتر قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ انھیں پاکستانی قوانین کے ماتحت لایاجاسکے ۔تاہم ان ترامیم کو ان کمپنیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ پاکستان میں اپنی سروسز بند کردیں گے کیونکہ ان قواعد و ضوابط کے تحت ان کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔یوں یہ حقیقت بھی کھل کرسامنے آگئی کہ کم وسائل کے ساتھ حکومت کے لیے ان سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اورانٹرنیٹ پروائیڈرکی اجارہ داری کامقابلہ کرناکوئی آسان کام نہیں۔ 

سوشل میڈیا پرفیک اکاؤنٹس بنانے کی شکایات مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔ اہم ترین شخصیات،قومی اداروں اورحاضرسروس وریٹائرڈ فوجی افسران کے نام سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بناکرپروپیگنڈا کیاجارہاہے۔ بظاہراس کامقصد اداروں کے خلاف بدگمانی پیدا کرنااورانھیں سیاست میں ملوث کرناہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان اکاؤنٹس سے فوج کے خلاف بھی جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، ٹوئٹر پرفیک ٹرینڈز بنائے جاتے ہیں۔اس جرم پراب تک کئی منظم گروہ پکڑے جاچکے ہیں۔چند دن پہلے سرگودھامیں ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے گروہ کو گرفتار کیا گیا۔ مرکزی ملزم صداقت حسین نے اعتراف کیا کہ اس نے میجرجنرل ریٹائرڈ اصغر اور میجر جنرل فیصل مشتاق کے نام سے فیک اکاؤنٹس بنائے اوروہ ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں مہم چلاتارہا۔ اس پروپیگنڈا سیل کے مرکزی ہینڈلربیرون ملک سے انھیں ہدایات دیتے رہے۔حد تویہ ہے کہ ان فیک اکاؤنٹس سے بعض سینیئرریٹائرڈ فوجی افسران کی جعلی آواز میں ویڈیو پیغام بھی جاری کردیے گئے۔ظاہر ہے عام آدمی ان جعلی آڈیوپیغامات کے پروپیگنڈے کاشکارہوجاتاہے اوران جعلی پیغامات کواصلی سمجھتاہے۔پاکستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں وٹس ایپ گروپس بھی کام کررہے ہیں،ان میںبہت سے  پروپیگنڈا گروپس ہی ہیں،جہاں چوبیس گھنٹے جھوٹی سچی خبریں اورایڈٹ شدہ تصاویرشیئر ہوتی رہتی ہیں۔  
     ان فیک اکاؤنٹس کاایک ہی مقصد ہے کہ ملک میں انتشاراوربے چینی پھیلائی جائے،قوم کوتقسیم کیاجائے اورمحاذ آرائی کی طرف دھکیل دیاجائے۔یہ لوگ دانستہ یانادانستہ طوپرقومی سلامتی سے کھیل رہے ہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آرہاہے کہ بعض سیاسی رہنماء اورگروپس بھی اپنے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے فیک اکاونٹس کاسہارا لیتے ہیں۔ نوجوانوں کومعمولی تنخواہوں پراپنے سوشل میڈیا سیل میں بھرتی کرتے ہیں اوران کی صلاحیتوں کوجھوٹ پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا سیل بنانے کے لیے چونکہ کوئی پابندی نہیں ہے، اس لیے بغیر کسی روک ٹوک کے دھڑا دھڑ سوشل میڈیا سیل بن رہے ہیں۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اہم شخصیات،ریٹائرڈ فوجی افسران کے نام سے  جوجعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے جا رہے ہیں ان کے خاتمے کے لیے مؤثراقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کودرست معلومات مل سکیں اوروہ کسی پروپیگنڈے کاشکار نہ ہوں۔ 
   بنیادی بات یہ ہے کہ کسی بھی فرد یاگروپ کویہ آزادی نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے دوسروں کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کرے،کسی کی کردار کشی کرے،بلیک میلنگ کرے،دھمکیاں دے یاریاست  اوراداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرے۔ اس بات پرپوری قوم متفق ہے۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 413مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP