متفرقات

گلگت چترال روڈ کی تعمیر کی منظوری۔۔۔

گلگت بلتستان کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے گلگت چترال روڈ کی تعمیر کا ٹینڈر ہوگیا اور نجی تعمیراتی کمپنی نے اس منصوبے کا ٹھیکہ حاصل کیاہے وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے گلگت چترال روڈ کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے۔ اس اہم شاہراہ کی تعمیر تین سال میںمکمل ہوگی اور یہ  گلگت بلتستان کو ملک سے ملانے کے لئے دوسری بین الصوبائی شاہراہ ہوگی۔ اس اہم سڑک کی تعمیر پر پچاس ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی۔



 گلگت بلتستان کو ملک سے ملانے کیلئے شاہراہ قراقرم واحد سڑک تھی اب گلگت چترال شاہراہ کی تعمیرمکمل ہونے پر گلگت بلتستان کے عوام کو ملک کے دیگر شہروں تک رسائی کے لئے دو شاہراہیں دستیاب ہوںگی جس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اس شاہراہ کی تعمیر سے فائدہ پہنچے گا۔ گرمی کے موسم میں معمولی بارش کے دوران بھی شاہراہ قراقرم کی بندش سے جہاں سیاحوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تو وہاں پر ان علاقوں کی طرف آنے والے گلگت بلتستان کے عوام کو بھی سفری دشواریوں کا سامنا تھا۔ گلگت چترال روڈ کی تعمیر سے جہاں مسافت کم ہوگی تو وہاں اس روڈ پر لینڈ  سلائیڈنگ کے خدشات بھی بہت ہی کم نظر آئیں گے اور گلگت سے اسلام آباد تک کا سفر بھی آٹھ گھنٹے تک محیط ہوگا۔ اس وقت شاہراہ قراقرم کے راستے گلگت سے اسلام آباد کی مسافت پندرہ گھنٹے ہے۔ اس کے علاوہ تتہ پانی اور کوہستان کے علاقے میں روڈ کی بندش روز کامعمول بن گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ان کی خصوصی دلچسپی کی وجہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پراجیکٹ گلگت چترال روڈ کی منظوری کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اس اہم شاہراہ کی تعمیر پر پچاس ارب کی خطیر رقم خرچ ہوگی اگر شاہراہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس جنت نظیر علاقے کا رخ کریںگے۔ اس سے قبل سیاح گلگت بلتستان کا چکر لگاکر شاہراہ قراقرم کے راستے واپس اسلام آباد چلے جاتے تھے۔ اب گلگت چترال روڈ کی تعمیر کے بعد ایسا نہیں ہوگا۔ زیادہ تر سیاح شاہراہ قراقر م کے راستے گلگت بلتستان پہنچ جائیں گے اس کے بعد گلگت سے غذر اور وہاں سے چترال ہوتے ہوئے دیر کے راستے اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ اس طرح سیاحوں کو کئی علاقے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس وقت بھی کئی سیاح گلگت چترال روڈ زیادہ بہتر نہ  ہونے کے باوجود غذر کے راستے سے ہوتے ہوئے چترال  جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرف سے اتنے اہم منصوبے کی منظوری سے گلگت بلتستان کے عوام بہت زیادہ خوش ہیں۔ دوسری طرف ان علاقوں میں آنے والے سیاحوں نے بھی گلگت چترال روڈ کی منظوری پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس سال بھی لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا کورونا کے باوجود ایس اوپیز پر عمل کرتے ہوئے بڑی تعداد میں سیاح ان علاقوں میں آئے گلگت بلتستان میں شاہراہوں کی تعمیر کے بعد خزاں کے موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے بڑی تعداد میں سیاح ان علاقوں کا رخ کرینگے۔ آج کل گلگت بلتستان میں خزاں کا موسم اپنے جوبن پر ہے اور سیاح بھی بڑی تعداد میں ان علاقوں میں آرہے ہیں اور اس موسم سے خوب لطف اندوز ہورہے ہیں۔ اگر سیاحوں کو ان علاقوں کی طرف راغب کراناہے تو سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے علاوہ سیاحوں کے لئے رہائش کے حوالے سے جو مشکلات ہیں ان کو بھی حل کرناہوگا۔ گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خوبصورت خطہ ہے جہاں کے چاروں موسم سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں یہاں کی جھیلیں جم جاتی ہے جہاں آئس سکیٹنگ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بہار کے موسم میں چیری بلاسم کا کوئی ایونٹ رکھ کرسیاحوں کو ان علاقوں کی طرف راغب کرایا جاسکتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں ٹراؤٹ ڈے منایا جاسکتا ہے ۔چونکہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر کو ٹراؤٹ مچھلی کا مرکز کہا جاتا ہے اور سیاح ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کرکے خوب انجوائے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان علاقوں کی خزاں کے اپنے رنگ ہیں۔ مختلف درختوں کے پتوں کے بدلتے رنگ سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑلیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے تو نہ صرف یہاں کے عوام ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں بلکہ سیاحت کی ترقی سے ہی اچھا خاصا زرمبادلہ کماسکتا ہے۔  ||


مضمون نگار مقامی صحافی  ہیں اور ایک نیوز چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 238مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP