قومی و بین الاقوامی ایشوز

مشرق وسطیٰ ایک نئے بحران کی لپیٹ میں

امریکی صدر ٹرمپ جب سے صدر منتخب ہوئے ہیں، انہوں نے امریکہ کی اُن تمام مہم جُو پالیسیوں پر دھڑلے سے عمل کرنے کے اعلانات کرنا شروع کردئیے ہیں، جن کے سبب دنیا کے مختلف خطوں میں نئی اور خوفناک جنگوں کا آغاز ہوسکتا ہے۔ اُن کے اس مہم جویانہ اعلانات میں سرفہرست یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لئے وہاں امریکی سفارت خانہ کھولنا ہے۔ کئی سالوں سے التوا میں پڑے امریکی پالیسی سازوں کے اس فیصلے کو امریکہ نے 15مئی 2018ء کو عملی جامہ پہنادیا۔ اور یوں امریکہ نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھول کر اس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا ہے جس کے خلاف فلسطین میں مظاہرے پھوٹ پڑے اور فلسطین کے باہر متعدد ممالک میں امریکہ اور اسرائیل کی اس ہٹ دھرمی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

 

اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے 15مئی کا دن اس لئے چنا کہ اس روز کو فلسطینی یومِ نقبہ قرار دیتے ہیں۔ٹھیک ستر سال قبل اسی دن 15مئی 1948کو اسرائیلیوں نے فلسطین پر قبضہ کیا اور اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت اس جارحیت کے سبب سات لاکھ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور یوں فلسطینیوں کی نسل کُشی کی مسلسل پالیسی اپنائی گئی جس کے نتیجے میں مزید فلسطینی دنیا کے مختلف ممالک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ امریکی صدر ٹرمپ جوکہ Evangelical مسیحی ہیں، انہوں نے اس کارروائی کو اپنی ماں کی طرف سے دی گئی بائبل میں لکھے حکم نامے کی تعبیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں Evangelical مسیحیوں کو کبھی مایوس نہیں کروں گا۔ مذہب کے نام پر قائم کی گئی مصنوعی اسرائیلی ریاست Evangelical مسیحیوں کے عقیدے کے عین مطابق ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج سے ٹھیک ستر سال قبل امریکی صدر ٹرومین نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور آج ہم نے یہودیوں کے ہزاروں سال پرانے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس خواب کو تعبیر دے دی۔ اس کے جواب میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے اسرائیل کے اقتدارِاعلیٰ کو منوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کارروائی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں اسرائیل کے طویل منصوبے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مکمل اسرائیلی ریاست کا قیام ترکی کے شہر عرفہ تک سرحدیں پھیلا دینے سے ہوگا۔ اسرائیل کے جھنڈے پر بنی دو لکیریں دراصل ایک مکمل اسرائیلی ریاست کا نشان ہیں۔ یعنی دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک پھیلی زمین پر حقِ ملکیت۔ حیرت انگیز اور منفرد بات یہ ہے کہ اسرائیل نے اپنی ریاست کی حتمی سرحدوں کا کبھی اعلان نہیں کیا۔ اس حوالے سے  یہ دنیا کی واحد ریاست ہے جو اپنے وجود کو وسعت دینے کا خواب رکھتی ہے۔ اسرائیل کے قیام پر امریکی صدر ٹرومین نے کہا تھا کہ ''اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں مغربی تہذیب کا دروازہ ہے۔'' ذرا تضاد دیکھیں کہ ایک ایسی ریاست تشکیل دی گئی جس کے تین ہزار سال پرانے مذہبی دعوے کو دلیل بنا کر پیش کیا گیا۔ اس کے لئے دنیا بھر میں پھیلے یہودیوں کو عقیدے کی بنیاد پر اکٹھا کیا گیا۔ یورپ، روس، لاطینی امریکہ، ایشیا، حتیٰ کہ افریقہ... مختلف زبانیں، رنگ،      تہذیب وتمدن سے تعلق رکھنے والے ایک مذہب (یہودی) کے لوگوں کو، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے پرانے لوگ ہیں، اُن کو زبردستی وہاں آباد کرکے یہ کہا جائے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں مغربی تہذیب کا دروازہ ہیں۔ عجیب تضاد ہے جس کی تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

 

اسرائیل کی کُل آبادی 88لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ ان میں 74فیصد کے قریب یہودی، 18فیصد مسلمان اور 2فیصد مسیحی آباد ہیں۔ اسرائیل نے اپنے قیام سے آج تک اپنے آپ کو دفاعی طو رپر مضبوط کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ ریاست غیرعلانیہ ایٹمی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ لبنان، مصر، اردن، شام، غزہ اور مغربی کنارے سے اس کی زمینی سرحدیں ملتی ہیں۔ عرب دنیا کے اندر موجود عسکری اور عالمی سطح پر یہ مضبوط ترین ریاست درحقیقت خطے کی سب سے غیرمحفوظ ریاست ہے جس کے گرد وسیع عرب قومیں آباد ہیں جو کسی طور بھی اسرائیل کو قبول نہیں کرتیں۔ بے مثال عسکری طاقت رکھنے کے باوجود اس کااحساسِ تحفظ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اسی لئے اسرائیل اپنے اردگرد جنگوں کو تقویت دینے میں کسی نہ کسی شکل میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ لبنان کی خانہ جنگی سے لے کر مصر، شام میں جنگیں اور لبنان پر 2006ء میں یلغار تک۔ اور اسی کے ساتھ ایران عراق جنگ میں سازشی کردار، عراق پر دو امریکی یلغاریں، لیبیا اور شام کی ریاستوں کو ادھیڑ کر رکھ دینے کی سازشوں میں آپ بہرصورت اسرائیل کو موجود پائیں گے۔ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ خطے میں جنگیں برپا کرکے ان خطوں کو کمزور کرنے کا عمل کبھی نہ رکے۔ اردگرد آباد ریاستوں کو اتنا کھوکھلا کردو کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان خطوں پر اسرائیل کو قبضہ کرنے کے مواقع مل جائیں۔ اس سارے خطے میں ایران اور ترکی دو ایسی طاقتور ریاستیں ہیں جو اسرائیل کی اس بالادستی کے لئے چیلنج ہیں۔

 

مگر اہم بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے دہانے پر واقع ہونے کے سبب اسرائیل کے لئے سب سے بڑا خطرہ پاکستان ہے جو باقاعدہ ایٹمی طاقت بھی ہے اور ایٹمی اسلحہ سے دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان ایک غیرعرب ریاست ہونے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کے توازن میں ایک طاقتور ریاست ہے۔ پاکستان کی وار مشینری بھی اسرائیل کے لئے کوئی کم چیلنج نہیں۔ عرب خطوں میں طاقت کے توازن میں پاکستان کا وجود عرب خطوں کی سلامتی کا ایک جواز ہے اور ہم شروع دن سے دیکھتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ     مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں جس طرح کھل کر اسرائیلی جارحیت کو جواب دیتا ہے، اس قدر شاید ہی کوئی عرب ریاست جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ عراق، شام اور لیبیا جیسی طاقتور ریاستوں کے اندرونی تضادات نے کسی حد تک اسرائیل کے لئے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے اندر موجود دہشت گرد گروہ حقیقت میں اسرائیل کے مفادات کا ہراول دستہ ہیں۔ اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شام کے متعدد دہشت گرد گروہوں کے زخمیوں کو اسرائیل کے اندر طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

 

اس سارے تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ کا جارحانہ انداز میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لینا، خطے میں نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون دنیا بھر میں جنگیں برپا کرنا یا علاقائی تنازعات کو جنم دے کر انہیں زندہ رکھنا ہے۔ اس طرح امریکہ دنیا میں اپنے استعماری پنجے گاڑے رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ ایک سوسال سے زائد عرصے میں امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی ہر جنگ میں یا جنگ کے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے۔ 1979ء کے بعد جب سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی اور امریکہ نے سی آئی اے کے پلان کے مطابق دنیا کا بڑا Covert Operation کیا، اس میں امریکہ نے ایک نیا اندازِ مداخلت تشکیل دیا، یعنی پراکسی جنگیں۔ امریکہ نے پچھلی دو دہائیوں میں سابق سوویت یونین ریاستوں، جارجیا، یوکرائن، آرمینیا میں جہاں نام نہاد جمہوری انقلابات کی پشت پناہی کی، وہیں امریکہ نے کاکیشیا کے سابق سوویت خطوں میں اس پراکسی وار کے ہتھکنڈے کو استعمال کیا۔ روس کے سخت گیر اور مقبول صدر پیوٹن نے 2008ء سے ان امریکی ہتھکنڈوں کاسختی سے جواب دیا۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ نے پراکسی جنگ کی حکمت عملی کو بڑی چابک دستی سے استعمال کرکے عراق، شام اور لیبیا کی چولیں ہلا دیں۔ لیکن اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے اور سابق سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سابق سوویت یونین کے بطن سے جنم لینے والی روسی فیڈریشن نے ان خطرات کو بھانپتے ہوئے شام کی جنگ میں دمشق کو عسکری حمایت دے کر امریکی خواہشات وحکمت عملیوں کو چکناچور کردیا۔ روس کی شام میں  طرف داری میں عوامی جمہوریہ چین نے بھی سفارتی سطح پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح شام میں امریکی پراکسی وار کے ہتھکنڈوں کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا جو امریکہ اور اسرائیل کے لئے کوئی چھوٹی شکست نہیں۔

 

چوںکہ روس یہ سمجھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی اور پراکسی وار کا حتمی نشانہ کاکیشیا، وسطی ایشیا اور روس ہے، اس لئے روس خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ کردار کے مقابلے میں ایک طاقتور کردار اور مؤقف اپنائے کھڑا نظر آتا ہے۔ ترکی جوکہ امریکہ کے فوجی اتحاد نیٹو کا دوسرا بڑا اہم رکن ہے، 2016ء کے بعد امریکہ سے زیادہ روس کے قریب ہے اور اسی طرح اسرائیل اور اس کی جارحیت کے خلاف ترکی کا مؤقف سخت اور فوری ہوتا ہے۔ چوں کہ ترک ریاست یہ جانتی ہے کہ خطے میں اسرائیلی جارحیت کا ایک اہم ہدف ترکی بھی ہے۔

 

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور روس ، اپنے اتحادی اسرائیل کے ذریعے اس کے قیام سے آج تک مشرقِ وسطیٰ میں اپنی گرفت کو قائم رکھنا اور مضبوط سے مضبوط تر کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ ، مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد خطوں میں دہشت گردی کو بحیثیت ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے جس میں مذہبی شدت پسندی کے تانے بانے امریکی پالیسی ساز بناتے رہے ہیں۔ اب وہ مذہب یا فرقہ پرستی کے ساتھ ساتھ تنگ نظر قوم پرست تحریکوں کی پشت پناہی کرنے پر تلا نظر آرہا ہے۔ تل ابیب اور دیگر اسرائیلی مقامات پر ان قوم پرست اور علیحدگی پسند تحریکوں کے دفاتر کی موجودگی کے ثبوت اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مذہبی انتہا پسندی و دہشت گردی کے بعد تنگ نظر قوم پرستی کو ہوا دینا ایک خطرناک کھیل ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ اس کے گرد وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے متعدد ممالک کو غیرمستحکم کرنا شامل ہے۔ اسرائیل کا قیام دنیا کی ایک تاریخی ریاست فلسطین کو ختم کرکے کیا گیا، اسرائیلی فوج خطے کی آزادی کی تحریکوں کو کچلنے میں اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ کچھ نادان لوگ اس جارح فوج سے یہ توقعات لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ خطے کی کسی آزادی کی تحریک کی اس لئے مدد کریں کہ وہ خطے میں آزادیوں کی خواہاں ہے۔ ہرگز نہیں۔ اسرائیل اس حوالے سے ترکی میں کُردوں اور بلوچستان اور اب افغانستان وپاکستان کے پشتون علاقوں میں ایسی ہی پالیسیوں کو عمل پذیر کرنے کے لئے سرگرم نظر آرہا ہے۔

 

امریکی صدر ٹرمپ کے اس اعلان اور فیصلے کو عمل پذیر کرنے کے بعد کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے، مشرقِ وسطیٰ میں سیاست تیز اور خطرناک کروٹ لے رہی ہے۔ ایسے میں ممکن ہے کہ اسرائیل کے سرپرست خطے میں نئی علاقائی جنگیں برپا کردیں۔ مگر یہ معاملہ اتنا بھی سادہ اور آسان نہیں، اس لئے کہ امریکہ کا روایتی اتحادی اور نیٹو کا دوسرا اہم رکن ملک ترکی اب امریکی گرفت سے آزاد ہوتا جا رہا ہے۔ روس اور چین مشرقِ وسطیٰ میں سخت مؤقف اختیار کرنے پر کاربند ہیں اور وہ امریکہ اور اسرائیل کی من مانی کے خلاف علاقائی اور عالمی سطح پر سردجنگ کے بعد پہلی بار کھڑے نظر آ رہے ہیں اور اس کے ساتھ پاکستان اور ایران جیسی طاقتور ریاستیں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے ان منصوبوں کے خلاف مکمل طور پر ڈھال کا کردار ادا کررہی ہیں۔ ایران اور پاکستان کا وجود ہی درحقیقت اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کی ان جارحانہ پالیسیوں کے خلاف ایک بڑا توازن ہے۔


مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوںکے    

مصنف ہیں۔[email protected]

یہ تحریر 338مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP