اداریہ

قومی آزادی اور ہماری ذمہ داریاں

وطن کے حصول کے لئے قو میں برسوں جدوجہد کرتی اور چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی ہیں، تب جا کر چمن میں دیدہ وَر پیدا ہو تا ہے۔ برصغیر کے مسلمان قائدِاعظم محمدعلی جناح کی عظیم قیادت میں یکجان و متحد رہتے ہوئے علیحدہ وطن کی قرارداد منظور کئے جانے کے بعد صرف سات برس کی مختصر ترین مدت میں علامہ اقبال کے دیکھے ہوئے اس خواب کو حقیقت میں ڈھالنے میں کامیاب ٹھہرے۔ یوں 14 اگست 1947 کو وطنِ عزیز پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود تھا۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے18 اگست1947 کویومِ عیدکے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''اس میں شک نہیں کہ ہم نے پاکستان حاصل کرلیا ہے لیکن یہ تو محض آغاز ہے۔ اب بڑی ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پرآن پڑی ہیں اور جتنی بڑی ذمہ داریاں ہیں، اتنا ہی جذبہ ہم میں پیدا ہونا چاہئے۔ پاکستان حاصل کرنے کے لئے جو قربانیاں دی گئی ہیں، جو کوششیں کی گئی ہیں۔ پاکستان کی تشکیل و تعمیر کے لئے بھی کم از کم اتنی ہی قربانیوں اور کوششوں کی ضرورت پڑے گی۔ حقیقی معنوں میں ٹھوس کام کا وقت آن پہنچا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ مسلمانوں کی ذہانت اورفطانت اس بارِ عظیم کو آسانی سے برداشت کرلے گی اور اس کے بظاہر پیچیدہ اور دشوار گزار راستے کی تمام مشکلات کو آسانی سے طے کرلے گی۔''
قائداعظم محمدعلی جناح کے اس فرمان سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ بانیٔ پاکستان وطنِ عزیز کے مستقبل کے بارے میں کیا ویژن رکھتے تھے۔ وہ یقینا پاکستان کو اپنے نظریئے کی پاسداری کرتے ہوئے ایک مضبوط و مستحکم اور جدید خطوط پر استوار ایک ترقی یافتہ مملکت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ یقینا پاکستان کو قیام کے فوری بعد مالیاتی بحران، مہاجرین کی آبادکاری ایسے مسائل اور فوج کی کم تعداد جیسی مشکلات کا سامنا تھا لیکن قائدِاعظم نے جس طرح سے شروع کے ایک سال میں،جتنی انہیں مہلت ملی، قوم کے لئے رہنما اصول چھوڑے، اس کوبنیاد بنا کر پاکستان ایک بہترین مملکت کے طور پر دنیا میں اپناایک مقام بنا سکتا ہے۔ قائدِاعظم نے پاکستانی قوم کو ہمیشہ باوقار انداز میں اپنا سفرجاری رکھنے کا درس دیا۔ اکتوبر 1947 میں قوم کے نام اپنے پیغام میں قائداعظم نے فرمایا''ہم جتنی زیادہ تکلیفیں سہنا اور قربانیاں دینا سیکھیں گے، اتنی ہی زیادہ خالص اور مضبوط قوم کی حیثیت سے اُبھریں گے جیسے سونا آگ میں تپ کر کُندن بن جاتا ہے۔''
بلاشبہ وطن کی آزادی کے حصول کے لئے جو قربانیاں دی گئیں اُنہی کا ثمر ہے کہ آج پاکستان ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اورپاکستان کی بہادر افواج 22 کروڑ عوام کے ساتھ مِل کر ہر قیمت پر اپنے دفاع مؤثر بنا رہی ہیں اور وقت آنے پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ آج پاکستان کا نام بین الاقوامی برادری میںعزت و احترام کے ساتھ لیاجاتا ہے۔ اس کے لئے یقینا لوگوں نے قائداعظم کے اصول 'کام، کام اور بس کام' کو اپنے پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا ہے اور آج پاکستان کے لوگوں کا دفاع، ثقافت، تعلیم اور سب سے بڑھ کر ان میں پایا جانے والا آزادی کا احساس انمول ہے ۔اس کے لئے یقینا قوم نے کام کیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا بھی فرمان ہے کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کے لئے اُس نے کوشش کی۔ آج بھی ادارے اور عوام  متحد ہو کر وطنِ عزیز کو عظیم تر بنانے کے لئے کوشاں ہیں اور یقینا یہی ہماری اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے نظریئے ، تشخص اور قومی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے ہرلحظہ ، ہر آن اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔ ان شاء اﷲ مشکلات ایک ایک کرکے ختم ہو جائیں گی اور ہمیں ایک خوشحال اور توانا پاکستان دیکھنے کو ملے گا۔  پاکستان ہمیشہ زندہ باد !!
 

یہ تحریر 349مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP