خصوصی ملاقات

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

دہشت گردوں کو نہیں ان کے اندر موجود دہشت گردی کے نظریئے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے

آرمی ایکشن فوری حل تو ہو سکت ہے لیکن یہ لانگ ٹرم سلیوشن نہیں ہے

سوال: سب سے پہلے تو یہ بتایئے کہ آپ نے کس صنف سخن سے ابتدا کی اور یہ سلسلہ کب شروع ہوا؟

جواب: میں سمجھتا ہوں کہ علم و ادب کا ذوق ایک جبلی ذوق ہے۔ اس کے Traces کسی بھی ایسے آدمی میں نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں جس نے آگے چل کر اس فیلڈ میں کچھ کرنا ہو لیکن یہ Tracesاتنے موہوم سے اور منتشر ہوتے ہیں کہ ان سے اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ یہ بچہ آئندہ زندگی میں یہی کام کرے گا۔ جیسے ٹی ایس ایلیٹ کا بہت مشہور جملہ ہے کہ 25سال کی عمر تک تو ہر آدمی شاعر ہوتاہے۔ اسی طرح بچپن میں کوئی چیز طے شدہ نہیں ہوتی۔ مثلاً کہانیوں سے آدمی شروع کرتا ہے‘ پھر افسانوں پر آتا ہے۔ بچوں کے لئے نظمیں لکھتا ہے۔ پھر بڑوں کے لئے بھی لکھنا شروع کر دیتا ہے۔ میرے اندر بھی لکھنے کی ایک تحریک شروع سے تھی۔ اس طرح جو بھی چیز میرے سامنے آئی‘ میں نے اس کو Attemptکرنے کی کوشش کی۔ مثلاً میں نظم بھی لکھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن وہ نظم نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ میں اس وقت تک اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ ان میں مصرعے کہہ سکتا۔ بعض کہانیاں میں گھر سے سنتا تھا اور سکول کی بزم ادب میں سنا کر انعام وصول کر لیا کرتا تھا۔ حالانکہ ان کہانیوں میں میرا اپنا تو کوئی کام نہیں تھا وہ تو سنی ہوئی کہانیاں تھیں۔ اس طرح آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے ابتدا لکھنے سے کی او رہر صنف میں لکھنے کی کوشش کی۔ آٹھویں‘ نویں جماعت تک میں ایک ناول بھی لکھ چکا تھا۔ تاریخی ڈرامہ اور بہت ساری نظمیں بھی لکھ چکا تھا۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ ساری چیزیں ان اصناف کی ابتدائی شکلیں تھیں۔ نویں ‘ دسویں جماعت میں جس وقت پہنچا تو تھوڑا بہت تخلیق کا شعور Develop ہوا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آغاز تو میں نے شاعری سے ہی کیا لیکن اس کے بعد میری زیادہ اصناف نثر کی آئیں۔ ایک مزاحیہ رسالہ ہوتا تھا ’’چاند‘‘۔ اس میں مَیں نے نظمیں اور ڈرامے بھی لکھے۔ پھر یہ رجحان رک گیا اور شاعری کی طرف زیادہ توجہ دی اور 70کی دہائی میں آ کر دوبارہ ڈرامے اور شاعری کے ساتھ چلنے لگا۔ فی الوقت نثر میں میرے تنقیدی کالم‘ ڈرامے اور سفر نامے وغیرہ آ چکے ہیں۔ شاعری میں آزاد نظم میرا خاص Expression ہے۔ غزل بھی لکھی اور شعری تراجم بھی کئے ہیں ۔ آغاز میں تخصیص قائم نہیں کی جا سکتی لیکن آگے چل کر شاعری اور ڈرامہ میں میرے نمایاں کام ہیں۔

سوال: آپ نے اتنے تجربات کئے۔ غزل‘ نظم‘ ڈرامہ‘ کالم لیکن آپ کیا سمجھتے ہیں سب سے فورس فل ذریعہ اظہار کون سا ہے۔

جواب: شہرت تو مجھے زیادہ نثراور ڈرامے سے ملی لیکن میری شاعری کی جو Audienceہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کا کلچرل لیول بہت بلند ہے۔ آپ یوں سمجھ لیجئے کہ اچھی شاعری کو پڑھنے والے جو لوگ ہیں وہ ممکن ہے پاکستان میں ٹوٹل کوئی دو تین لاکھ ہوں اور ڈرامہ ظاہر ہے‘ سات آٹھ کروڑ آدمی دیکھتے ہیں ۔ اب ان دونوں کا فیصلہ آپ تعداد کے اعتبار سے نہیں کر سکتے۔ اس بات کو اسی طرح سے بیان کر سکتا ہوں جیسے مولانا الطاف حسین حالی کا شعر میں اکثر دہراتا ہوں۔ اہل وانی جو ہے لازم سخن آرائی بھی بزم میں اہل نظر بھی ہیں تماشائی بھی تو اہل نظر اور تماشائی دونوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ صرف تماشائیوں کے بہاؤ میں بہہ جانے سے بھی آدمی برباد ہو جاتا ہے اور ان سے Isolate ہو کر صرف چیدہ چیدہ لوگوں کے لئے لکھنے سے بھی مقصد پورا نہیں ہوتا تو ان کے درمیان میں رہنا چاہے وہی میں کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

سوال: آپ کی شاعری کے موضوعات و تجربات دیگر شعراسے ذرا مختلف دکھائی دیتے ہیں کیا یہ شعوری کوشش ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے جو شاعر‘ شاعری پر Believe کرتا ہو‘ اسے سنجیدگی سے لیتا ہو اور اس میں Talentہو‘ وہ دوسروں سے مختلف نظر ضرور آئے گا اور اس کو مختلف نظر آنا بھی چاہئے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک ہی زمانے میں میر تقی میر‘ سودا اور خواجہ میردرد تین بڑے شاعر ہوئے لیکن ان سب کی اپنی اپنی پہچان اور جدت ہے۔ اسی طرح مومن اور ذوق علیحدہ علیحدہ اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ تو ہر جینوئن شاعر یقیناًکہیں فارم میں کہیں موضوع‘ میں کہیں زبان میں‘ کہیں ڈکشن میں یا اپنی Images کی سلیکشن میں ایک ایسی شکل بناتا ہے جو اسے دوسروں سے مختلف اور ممتاز کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی خوش بختی کی بات ہے کہ جس دور میں آپ کام کر رہے ہوں اس دور میں آپ کا کام منفرد حوالے سے پہچانا جا سکے۔ اگر آپ سے کوئی اختلاف کرتا ہے اور وہ اختلاف اس دور کی شاعری یا کام کو آگے کی طرف لے کر جانے والا ہو تو اس پر ڈٹے رہنا چاہئے۔

سوال: ادبی گروہ بندیوں نے ادب کو فائدہ پہنچایا ہے یا نقصان؟ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ احمد ندیم قاسمی اور وزیر آغا کی سربراہی میں دو ادبی گروہ کام کرتے رہے ہیں؟

جواب: اصل میں بات یہ ہے کہ اختلاف ترقی یا ارتقاء کی بنیاد ہے۔ اختلاف رائے تو پوری دنیا میں ہے۔ یہ جو مارکس اور ہیگل کا فلسفہ ہے‘ تھیسنر اور اینٹی تھیسنر کا‘ وہ بھی یہی ہے۔ اختلاف جو ہے وہ اینٹی تھیسز ہے۔ چنانچہ ادبی گروہ ہوں یا نظریات میں جو فرق ہے اگر یہ اصولوں کی بنیاد پر ہو تو یہ بڑا مثبت ہے۔ بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ بڑی بات چھوٹی بات کے تابع ہو جاتی ہے۔ یعنی نظریہ افراد کے تابع ہو جاتا ہے اور یہ ہمارے جیسے معاشرے میں زیادہ ہے۔ جو اچھی روش نہیں ہے کہ آدمی نظریے سے بڑا ہو جائے۔ کیونکہ نظریہ Collective ہوتا ہے اس میں بے شمار لوگوں کی Inputہوتی ہے اور فرد اس Input کا نمائندہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک شاعر جو ہے وہ اپنے زمانے کی اجتماعی سوچ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ چند لوگوں کو چھوڑ کر زیادہ لوگ سوچ کو پیدا کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی رویوں کا اظہار کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس طرح میں یہ عرض کروں گا جو گروہ ہمارے ہاں ہیں وہ آج کے نہیں ہیں بلکہ احمد ندیم قاسمی اور وزیرآغا کے تو گروہ تھے ہی نہیں‘ نجانے کس طرح لوگوں نے اس کو گروہ کا نام دے دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ میر اور سودا کے زمانے سے لے کر اردو شاعری کے تذکروں میں مختلف اختلافات دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے میرانیس اور مرزا دبیر میں‘ اور آخری دنوں میں بے خود دہلوی اور ساحل دہلوی کے مابین اختلافات نے جنم لیا۔ انشا اور مصحفی کے زمانے میں اختلافات نظر آتے ہیں۔ دراصل ہر بڑے شاعر کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں اور وہ Ultimately ایک گروہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ وہ احباب کا گروہ ہوتا ہے۔

سوال: لیکن احباب کا جو گروہ بنتا ہے وہ بجائے اس کے کہ ادب کو پروموٹ کرے‘ اپنے لیڈرز کو پروموٹ کرنے لگتا ہے۔

جواب: جی میں وہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم خیالی کی وجہ سے گروہ بنتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے۔ اس سے ان کی سوچ کا اجتماعی تاثر سامنے آئے گا لیکن اگر وہ سوچ یہ ہو کہ صرف میری سوچ صحیح ہے اور باقی سب لوگوں کی سوچ غلط ہے یہ تاثر ٹھیک نہیں۔ یعنی یہ کہ مخالف جو بھی کہے گا سب سٹینڈرڈ (Sub Standard) ہو گا اور میری ہی یہ بات اعلیٰ ہو گی۔ یہ سوچ اور تعصب‘ ادب اور ادبی فضا دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ ہمارے ہاں ادبی گروہ بندی جو تبدیلی کے لئے ہو‘ اسے سراہنا چاہئے جیسے ترقی پسند ادیبوں نے ایک تحریک چلائی تو وہ اچھی ہے کہ کچھ لوگ ادب برائے ادب اور کچھ ادب برائے زندگی پر یقین رکھتے ہیں ہر کسی کو اپنی بات کہنے کا حق ہونا چاہئے۔ جس طرح میں خود حلقہ احباب ذوق اور ترقی پسند تحریک کا Synthesis ہوں۔ ہمارے ہاں پروگریسو سوچ بھی ہے اور اس کے ساتھ ادب کی نزاکتیں اور اس کی Internal Beauty ہے‘ دونوں پائی جاتی ہیں۔ ہم سے پہلی نسل میں یہ الگ الگ پائی جاتی تھیں یعنی حلقے کے لوگ ایک خاص طرح سے لکھتے تھے اور ترقی پسند تحریک کے لوگ اور انداز سے لکھتے تھے۔ اور دونوں آپس میں ملنے کو تیار نہیں تھے۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ آگے چل کر ملے جس سے ادب کی ایک بہتر اور خوبصورت شکل سامنے آئی۔ لہٰذا یہ جو مسئلہ ہے قاسمی صاحب والا اور وزیرآغا والا‘ میں سمجھتا ہوں کچھ لوگوں کا پیدا کردہ تھا۔ دراصل چند لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر تصادم کی صورت پیدا کر دی اور فنون اور اوراق کے حوالے سے دو گروہ بنانے کی کوشش کی بعض لوگوں نے اپنے مفادات کے لئے خواہ مخواہ ان بزرگوں کو استعمال کیا۔

سوال: پاک ٹی ہاؤس کبھی بہت بڑے بڑے ادیبوں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا۔ آ ج کل صورت حال شائد ذرا مختلف ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: میں سمجھتا ہوں جس طرح وقت کے ساتھ چیزیں بدلتی ہیں اسی طرح ادیبوں کے بیٹھنے کی جگہیں بھی بدلتی رہی ہیں۔ باہر کے ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہاں کبھی عرب ہوٹل اور نگینہ بیکری ہوتی تھی۔ وہ جگہیں بھی تو ختم ہوئیں لیکن پاکستان بننے کے بعد پاک ٹی ہاؤس واقعی ادیبوں کی بیٹھک رہی ہے۔ اس وقت لاہور کی آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی اور ادب ایک Serious Activity تھا۔ لوگوں کے پاس آپشنز بہت کم تھیں۔ ادب کی Priority شوبز کی وجہ سے بھی کم ہوئی ہے۔ سب سے بڑی افسوسناک بات ہے کہ ہماری نسل میں ایک خاص گروہ ایسا آیا ہے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ادب مشہور ہونے کا آسان راستہ ہے۔ بے شمار لوگ جو ادیب نہیں تھے یا درمیانے درجے کے ادیب تھے‘ وہ بھی اس میدان میں آ گئے اور انہوں نے اس کامیابی کو جو دوسرے لوگوں نے 25سے 30سال کے عرصے میں حاصل کی‘ انہوں نے کوشش کی‘ تین ہفتے یا چار ہفتے کا ایک شارٹ کورس کر کے اتنے مشہور ہو جائیں حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ نہ تو کبھی کوئی کتابوں کی تعداد کے اعتبار سے بڑا ادیب یا شاعر بنا ہے نہ اونچا بولنے کی بنیاد پر یا دوسروں کو گالیاں دینے کی بنیاد پر بڑا شاعر بنا ہے۔ یہ ایک عمل ہے جس میں آپ انڈر ٹریننگ رہتے ہیں اور بزرگوں کے ساتھ رہتے ہوئے سیکھتے ہیں پھر جن جن میں جتنا جتنا Talentہوتا ہے وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

سوال: ہمارے ہاں مختلف ادبی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور سب کا یہی خیال ہے کہ صرف وہی ادیب ادب کی خدمت بھرپور انداز سے کر رہے ہیں آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب: اصل میں یہ خدمت والا زمانہ تو نیا نیا پیدا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ادبی تنظیمیں خدمت کے نعرے نہیں لگایا کرتی تھیں بس وہ خدمت کیا کرتی تھیں۔ یہ نعرے لگانے والا طبقہ میڈیا کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جو صرف تصویریں چھپوانے کے چکر میں رہتے ہیں اور پھر یہ جو Mushroom Growth ہوئی ہے ادبی تنظیموں کی‘ اس سے بھی ایک عجیب سا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ جیسے کسی نے کہا تھا کہ دو آدمی مل کر تین تنظیمیں بنا لیتے ہیں۔ پوچھا گیا وہ کیسے تو کہنے گا۔ ایک تنظیم تو یہ دونوں مل کر بناتے ہیں اور ایک ایک ان کی اپنی اپنی ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں بھی تصویریں چھپوانے کے لئے تنظیم کے چار پانچ منتظمین مل کر کام کرتے ہیں۔ پھر کہیں نہ کہیں ان کی لڑائی ہو جاتی ہے اور یوں ہر کوئی اپنی تنظیم بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ اصل میں ادب کی خدمت‘ چند تنظیموں کو چھوڑ کر‘ ان کا مطمع نظر نہیں ہے بلکہ صرف تصویریں چھپوا کر شہرت حاصل کرنا ان کا مقصد ہوتا ہے۔ جو بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ جب سے ادبی صفحوں کی وجہ سے گلیمر آیا ہے تب سے ایسے لوگ سامنے آئے ہیں۔ اب ادب اور کام غائب ہو گیا ہے۔ ادیب کی تصویر شائع ہوتی رہتی ہے۔ چاہے اس نے زندگی میں خط کے علاوہ کوئی چیز لکھی ہو یا نہ لکھی ہو۔ خصوصاً جو لوگ دوسرے ملکوں میں مقیم ہیں اور ادیب نہیں ہیں ان کے بڑے بڑے انٹرویو اور تصاویر ادبی صفحوں میں چھاپی جاتی ہیں۔ یہاں میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو ادیب نہیں ہیں لیکن کسی طرح سے اپنے انٹرویو چھپوا لیتے ہیں۔

سوال: اکیڈمی ادبیات اور رائٹرز گلڈ جیسے ادارے خاص مقاصد کو سامنے رکھ کر بنائے گئے۔ آپ کے خیال میں یہ کس حد تک اپنی نہج پر چلتے دکھائی دیتے ہیں؟

جواب: اصل میں Theoraticallyتو ان کا بڑ اکام ہے۔ عملی طور پر ان مقاصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اکیڈمی ادبیات کا معاملہ میں سمجھتا ہوں‘ رائٹرز گلڈ سے مختلف ہے۔ اکیڈمی ادبیات باقاعدہ حکومتی نظام کے تحت چلا ہے۔ یہاں سیاسی دباؤ اور بلاوجہ حکومتی مداخلتیں ایسے اداروں کو نہیں چلنے دیتیں۔ یہ ادارے اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں‘ ان سے بہت کام لیا جا سکتا ہے۔ اگر ان سے باقاعدہ کام نہیں لیا جاتا تو اداروں کا نہیں سسٹم کا قصور ہے۔

سوال: کیا ہمارے ہاں ایسا ادب فروغ پا رہا ہے جو آج سے پچاس سال بعد بھی اپنی ایک شناخت قائم رکھ سکے گا۔

جواب: میں سمجھتا ہوں موجودہ دور میں بہت اچھی شاعری ہو رہی ہے اور جس طرح پچھلی نسلوں کا عطر ان کی شناخت بنا اسی طرح اس دور کی نمائندہ شاعری ہی مستقبل میں اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے گی۔ اس دور کے تصریحاً شاعری کرنے والے لوگ برقرار نہیں رہیں گے۔

سوال:۔ پڑوسی ملک بھارت میں بھی اردو شاعری ہو رہی ہے۔ اس کا ہمارے ہاں ہونے والی شاعری سے کسی طرح موازنہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب:۔ بھارت میں مسلمان ایک محتاط اندازے کے مطابق 25-26کروڑ ہو گئے ہیں اور پھر سب لوگوں کی زبان تو اردو نہیں ہے۔ آپ پاکستان میں ہی دیکھیں کہ اردو جاننے والے لوگ کتنے ہیں۔ سندھ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا وغیرہ کے دیہاتی علاقوں میں اردو تو بہت کم ہے۔ انڈیا میں اردو کی حالت اس سے بھی بُری ہے۔ ایک تو وہاں سے اردو سکرپٹ ختم ہوتا جا رہا ہے۔یہاں عصمت چغتائی آئی تھیں انہوں نے بتایا کہ ان کی بچیوں نے ان کی کوئی تحریر ہی نہیں پڑھی۔ کیونکہ انہیں اردو پڑھنی ہی نہیں آتی۔ اسی طرح باقی رائٹرز بھی کہتے ہیں۔ وہاں اگر اردو شاعری زندہ ہے تو اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو فلم کی وجہ سے دوسرے شاعروں کی وجہ سے۔ اردو کا شمار دنیا کی ان چند زبانوں میں ہوتا ہے جو زیادہ بولی جاتی ہیں لیکن جہاں تک سکرپٹ کی بات ہے‘ وہ ختم ہو رہا ہے اور زندہ ہمیشہ سکرپٹ رہتا ہے۔ بھارت میں اردو پڑھ کر یا تو آپ کا تب بن سکتے ہیں یا پھر اردو کے لیکچرر بن سکتے ہیں۔

سوال: اس عہد کے چند بڑے نام جو اردو شاعری میں ہوں آپ ان کا حوالہ دینا پسند کریں گے؟

جواب: میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ اگر نام لینے چاہیں تو اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے آپ پبلک ریلیشننگ کر رہے ہیں اگر کم نام ہوں تو ان میں سے کوئی نہ کوئی نام ایسا رہ جاتا ہے جسے اس لسٹ میں شامل ہونا چاہئے تھا۔ میں سمجھتا ہوں ہمارے اردگرد ہونے والی شاعری مجموعی طور پر اچھی ہے۔ اسی طرح نثر میں بھی بہت کام ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں میں سمجھتا ہوں کہ تنقید کے میدانوں میں بہت تھوڑا کام ہوا ہے۔

سوال: آپ اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے ہیں اور آپ کا ایک مضبوط ادبی حوالہ ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس ادارے کی ترقی کے لئے کیسا کام کیا؟

جواب: میری بڑی خوش قسمتی تھی کہ جس ادارے کا سربراہ رہا وہاں اشفاق احمد صاحب جیسے بڑے ادیب 25سال گزار کر گئے تھے انہوں نے اس ادارے کو ایسی نہج اور مقام پر پہنچا دیا تھاکہ ہمیں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے اس کا بہت خوبصورت سسٹم بنا دیا تھا۔ لیکن جب ایک آدمی اتنا لمبا عرصہ کسی ادارے میں رہ کر جائے تو بعد میں چھوٹے موٹے مسائل تو پیدا ہوتے ہی ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ حل ہوتے رہتے ہیں۔ جہاں سے اشفاق صاحب نے چھوڑا تھا ہم اسے اس سے کہیں آگے لے کر گئے۔ ہم نے کتابوں کی فروخت کی مد میں 33سالہ مدت میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

سوال: شدت پسندی نے ہمارے معاشرے پر کیااثرات مرتب کئے ہیں؟

جواب: دنیا کا کوئی مذہب‘ کوئی اخلاق اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مخالف نظریہ رکھنے والے لوگوں کی زندگی ختم کر دیں۔ دوسری طرف Particular Situation (ایک مخصوص صورت حال)ہے جو یورپ پر بھی آئی ہے۔ جون آف آرک کے زمانے میں بھی مذہبی دہشت گردی تھی جس قسم کے حالات کا ہم شکار ہیں‘ فلسطین اور ویت نام بھی شکار رہے ہیں‘ فلسطین تو اب بھی مسلسل جدوجہد سے گزر رہا ہے۔ جہاں تک ہمارے معاشرے کی بات ہے تو شدت پسندی کے پنپنے کی صرف کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ اس کو Broaderطور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ جو افغانستان میں کسی غیر ملکی جارح کے خلاف لڑ رہے ہیں انہیں تو دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وہ لوگ تو فریڈم فائٹر ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔ جہاں تک ہمارے ملک کا معاملہ ہے تو ہمیں بہت سی دہشت گردیوں کا سامنا ہے۔ اب چینی انجینئرز کو مارنا تو سیدھی سیدھی اکنامک دہشت گردی ہے۔ انٹرنیشنل پاورز کے اس خطے میں اپنے مفادات ہیں وہ پاکستان میں تجارت کا فروغ اس طرح سے نہیں چاہتے وہ جانتے ہیں کہ پاکستان سمندر اور خشکی پر موجود کئی ریجنز کو ملاتا ہے اور اگر یہ روٹس قائم ہو گئے تو باقی تجارتی روٹس جو مہنگے ہیں ان پر زد پہنچے گی۔ اب اگر گوادر مکمل طور پر ڈویلپمنٹ ہو جاتا ہے تو دوبئی ویسا دوبئی نہیں رہے گا۔ جیسا اب ہے۔ سو مختلف قوموں کے اپنے اپنے مفادات ہیں جن کا نشانہ پاکستان کو بنایا گیا ہے۔

سوال: دہشت گردی کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہے؟

جواب: دہشت گردی‘ دہشت گردوں کوختم کرنے سے نہیں بلکہ ان کے اندر موجود دہشت گرد نظریئے کو ختم کرنے سے ہو گی۔ انتہاپسندی اور شدت پسندی معاشرے میں بگاڑ کا باعث ہیں اور ایک ضروری بات آرمی ایکشن فوری حل کے طور پر موثر تو ہو سکتا ہے لیکن یہ لانگ ٹرم سلوشن نہیں ہے۔ جب تک اس خطے میں فنانسر موجود رہیں گے دہشت گرد پیدا ہوتے رہیں گے گویا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام پہلوؤں کی اساس کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اب وہ بچہ جس کے سامنے اس کے ماں باپ کسی بر بریت کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ بچہ تو پھر بنا بنایا بم ہوتا ہے۔ اس میں صرف دو تاریں لگانے کی ضرورت رہ جاتی ہے۔

سوال: پاک فوج ہر سال 30اپریل کو یوم شہداء مناتی ہے آپ اس مناسبت سے کچھ کہنا چاہیں گے؟

جواب: قوم و ملک کے لئے جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ ایسے موقعوں پر جہاں شہداء کو خراج تحسین پیش کرنا ہے وہاں اس پر غور و فکر کی بھی ضرورت ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو دین کے نام پر لادینیت پھیلا رہے ہیں۔ ہمارا دین تو وہ ہے جو فصلوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت بھی نہیں دیتا وہ یہ کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ کوئی انسانوں کے گلے کاٹتا پھرے۔ اس منفی سوچ کو جو معاشی اور نظریاتی کمک مل رہی ہے اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔

یہ تحریر 631مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP