آمد مصطفی

سیرت النبی ۖ

سیرت کا لغوی مفہوم
اردو اور فارسی زبان میں سیرت، عربی سیرة کا  ہم معنی لفظ ہے۔ عربی زبان کے جس مادے اور فعل سے بنا ہے اس کے لفظی معنی ہیں چلنا پھرنا، راستہ لینا، رویہ یا طریقہ اختیار کرنا، روانہ ہونا، عمل پیرا ہونا وغیرہ۔ اس طرح سیرت کے معنی حالت، رویہ، طریقہ، چال، کردار، خصلت اور عادت کے ہیں۔



اب آتے ہیں سیرت النبی ۖ کی اصطلاحی تعریف کی طرف ،لفظ سیرت اب بطور اصطلاح صرف آنحضرت ۖکی مبارک زندگی کے جملہ حالات کے بیان کے لیے مستعمل ہے جبکہ کسی اور منتخب شخصیت کے حالات کے لیے لفظ سیرت کا استعمال قریباً متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر مطالعہ سیرت یا کتب سیرت جیسے الفاظ کے ساتھ رسول، نبی، پیغمبر یا مصطفی کے الفاط نہ بھی استعمال کیے جائیں تو ہر قاری سمجھ جاتا ہے کہ اس سے مراد آنحضرت ۖ کی سیرت ہی ہے۔
حب رسول اللہ ۖ:
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
 اس میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
''رسول کائنات،فخر موجودات،کامل اسوہ ہر گوشہ تابناک ہر پہلو روشن سیرت النبی ۖ کی جامعیت و اکملیت، ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
دنیائے انسانیت کی کسی بھی عظیم المرتبت ہستی کے حالات زندگی، معمولات زندگی، اندازواطوار،مزاج ورجحان،حرکات و سکنات،نشست وبرخاست حتیٰ کہ عادات و خیالات اتنے کامل و مدلّل نہیں مل سکتے،جس طرح کہ ایک ایک جزو سیرت کا تحریری شکل میں دنیا کے سامنے آج ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی موجود ہے۔ یہاں تک کہ آپ ۖ سے متعلق افراد اور اشیاء کی تفاصیل بھی سند کے ساتھ سیرت و تاریخ میں ہر خاص و عام کو مل جاتی ہیں۔ الغرض سیرت آپۖکا ''عکس جمیل'' ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حمیدہ:
 آپۖ اخلاق کی ایسی بلندیوں پر فائز تھے کہ قرآن مجید نے خودآپ ۖکے اخلاق حسنہ کی گواہی دی۔ 
بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔(القلم)
اور حضور نبی اکرم ۖ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل قرار دیتے ہوئے فرمایا:
''میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ شریفانہ اخلاق کی تکمیل کروں۔''
المؤطا کتاب حسن الخلق، ص: 756
اور جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضورۖ کے اخلاق کی بابت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:
''آپۖ نے فرمایا آپ کا اخلاق قرآن کریم ہے۔''
اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ۖ کے اخلاق کا آئینہ قرآن کریم ہے اس میں بہت سے راز مضمر ہیں۔ لہٰذا انہوں نے یہ فرمایا کہ آپۖ کے اخلاق قرآن کا آئینہ ہیں یہ ان کے وسعت علم اور ادب کا ثبوت ہے۔
غصہ کو دبانا اور ضبط کرنا بڑی اعلیٰ صفت ہے جو برسوں کی ریاضت کے بعد کسی کو حاصل ہوتی ہے، اس کے فضائل بیان کردینا تو آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا بڑا مشکل ہے؛ لیکن آپۖکے اندر یہ اعلیٰ صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، اگر سیرت کا مطالعہ غور سے کیا جائے تواس کی قدم قدم پرمثالیں ملیں گی۔ آپۖکی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب مکہ سے ہجرت کرکے (اونٹ پر سوار ہوکر) مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہورہی تھیں، تو راستہ میں ہبار بن اسود نامی ایک شخص نے انہیں اتنی تیزی سے نیزہ مارا کہ وہ اونٹ سے گرپڑیں اور حمل ساقط ہوگیا، اس صدمہ سے تاب نہ لاسکیں اور اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ رسول اکرم ۖ کو جب اس حادثہ کی خبر ہوئی تو آپۖ بہت غضب ناک ہوئے اور آپ کو اس بات سے بہت صدمہ ہوا، جب بھی اس حادثہ کی یاد تازہ ہوجاتی تو آب دیدہ ہوجاتے؛ لیکن جب ہبار بن اسود اسلام لے آئے اور معافی کی درخواست کی، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کردیا۔
 نبی کریم ۖ نے اپنے اخلاق حسنہ کی دولت سے تڑپتی انسانیت کی غم خواری کی، اپنے ازلی وابدی دشمنوں کو پتھر کے جواب میںگلدستہ پیش کیا، نفرت کے اندھیروں میں الفت و محبت کی شمع روشن کی، آپس کی تفرقہ بازی اور دائمی بغض و عداوت کی بیخ کنی کرکے بھائی چارے اور الفت ومحبت کے چشمے بہائے۔ یہی نہیں بلکہ ذرا دو قدم آگے بڑھ کر فتح مکہ کی تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھیے کہ آپۖ  مکہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوتے ہیں، صحابہ کرام کی دس ہزار جمعیت آپ کے ساتھ ہے، صحابہ اعلان کرتے ہیں 
 آج بدلے کا دن ہے، 
آج جوش انتقام کو سرد کرنے کا دن ہے،
 آج شمشیروسناں کا دن ہے، 
آج گزشتہ مظالم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا دن ہے، 
آج ہم اپنے دشمنوں کے گوشت کا قیمہ بنائیں گے، 
آج ہم ان کی کھوپڑیوں کو اپنی تلواروں پر اچھالیں گے،
 آج ہم شعلہ جوالہ بن کر خرمن کفار کو جلاکر بھسم کردیں گے 
اور گزشتہ مظالم کی بھڑکتی چنگاری کو ان کے لہو سے بجھائیں گے۔
لیکن قربان جائیے پیارے نبی کریمۖ کے سب کو معاف فرمادیا۔
 طبرانی ،حاکم ،ابن حبان اور بیہقی  اور دوسرے قابل اعتبار محدثین نے ایک یہودی عالم کی زبانی روایت کی ہے جس کا نام زیدبن سعنہ تھا  وہ کہتا تھا ،کہ میں نے اگلی کتابوں میں رسول آخر الزماںۖ کی تعریف دیکھی تھی اور وہ سب اوصاف آنحضرت ۖ میں پائے جاتے تھے، مگر دو وصفوں کا حال مجھے معلوم نہ تھا: ایک یہ کہ غصے پر حلم غالب ہو اور دوسرا یہ کہ سخت بات سننے سے غصہ نہ آئے، بلکہ نرمی اور زیادہ ہو، سو میں چاہتا تھا کہ ان دونوں باتوں کو کسی طرح سے آزماؤں۔ مدت تک اس کے انتظار میں رہا، اتفاق سے ایک مرتبہ آنحضرت ۖ نے مجھ سے کھجور بطورقرض خریدیں اور اس کے ادا کرنے کی ایک مدت مقرر کی، میں اس مدت سے دو تین دن پہلے آپ کے پاس گیا اوراپنی رقم کا تقاضا شروع کیا، پھر دیکھا میں نے کہ آپ سن کے چپ ہو رہے اور یہ بھی نہیں کہتے ہیں کہ ابھی تمہارا وعدہ نہیں ہوا، تم تقاضا کیوں کرتے ہو؟ پھر میں نے سخت تقاضا کیا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے بہت سے اصحاب رضی اللہ عنہ غصہ میں آئے اور کوئی سخت بات مجھ سے کہیں، لیکن آپ کو ہر گز غصہ نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے یہ بھی کہا کہ تمہارے خاندان میں اسی طرح قرض ادا کرتے ہیں؟ حیلہ حوالہ کیا کرتے ہیں؟
کسی قرض خواہ نے تم سے اپنا قرض آسانی سے نہیں وصول کیا ہوگا۔ اس بات کے سننے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور میں اُٹھ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ شریف اور چادر مبارک ہاتھ سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچنے لگا اور غصے کی آنکھوں سے میں نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا : ابھی اٹھو اور میرا قرض ادا کرو۔ آنحضرت ۖ اُٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بے قرار ہو کے تلوار لے کر میرے سر پر آپہنچے اور کہنے لگے کہ: اے دشمن خدا کے! تو باز نہیں آتا ہے، ابھی تیرا سر اڑا دیتا ہوں۔ رسول اکرم ۖنے مسکراکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ: مجھ کو تم سے یہ توقع نہ تھی، تم کو چاہیے تھا کہ مجھ کو سمجھاتے کہ اس کا قرض اچھی طرح آسانی سے ادا کیجیے اور اس کو سمجھاتے کہ نرمی سے تقاضا کرو، سو اس کے خلاف یہ کیا بات ہے جو تم کہتے ہو؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت شرمندہ ہوئے اور عرض کی کہ: یارسول اللہ! اس سے زیادہ مجھ میں صبر نہیں ہے، اگر آپ فرمائیں تو میں اس کا قرض ادا کردوں؟ آپۖ نے فرمایا : 
جاؤ اس کا جتنا قرض ہے وہ دو اور بیس صاع اس سے اور زیادہ اس کو دو، تاکہ تمہاری اس بدسلوکی اور سخت گوئی کا عوض ہو جائے، وہ شخص کہتا ہے کہ میں اس بات کے سنتے ہی ایمان لایا اور آپ ۖ کی پیغمبری کا قائل ہوا۔
        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ   ۖکی پیدائش :
اس پوری کائنات کی رونق اور سجاوٹ آپ ۖ کے طفیل ہی ہے۔ آپ ۖ کی سیرت،اخلاق اور سوانح عمری اللہ تبارک و تعالی نے بہت ہی عجیب طریقے سے عطا کی۔مکہ معظمہ چونکہ ''وسط البلاد'' ہے، اسی لیے مکہ مکرمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مولدکی جگہ بنایا گیا۔آپ ۖ حضرت ابراہیم السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق و شام کے رہنے والے تھے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت پہلے سے یہ انتظام عجیب فرمایا کہ بحکم ربی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ علیہاالسلام اور ننھے اسماعیل علیہ السلام سمیت مکہ کی لق و دق وادی میں پہنچے۔ اور پھرجب حضرت ابراہیم ، حضرت ہاجرہ و اسماعیل علیہم السلام کو چھوڑ کر جانے لگے تو ہاجرہ کے اصرار پر بتایا کہ یہی' امر ربی' ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ اماں ہاجرہ یہ سن کر فرمانے لگیں' حسبنا اللہ'
پس اللہ پاک نے اس 'حسبنا اللہ' کی لاج رکھ کر ایسا انتظام فرمایا کہ ''آپ ۖ کی پیدائش کے لیے پوری نسل کو یہاں آباد فرما دیا،آب زمزم جاری کرکے ماں بیٹے کو زندگی کا عندیہ دیا،''مسکن'' کا قافلہ جو کہ ایک خانہ بدوش قبیلہ تھا اس نے آسمان پر پرندوں کو دیکھا تو اس لق و دق صحرا میں پانی کا ذخیرہ دیکھ کر پڑاؤ ڈال دیا اور یہیں آبسا،اسی قبیلے میں اسماعیل علیہ السلام کی شادی ہوئی اور نسل چلی آپۖ اسی نسل کی اولاد میں ہوئے۔''
عجیب و غریب خصوصیات اور انتظامات کے ساتھ رب جلیل نے آقا نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا کہ عقل دنگ اور حیران رہ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک؛
نبی کریم ۖکو اللہ تعالیٰ نے ایساجمال عطا فرمایا تھاجس میں کائنات کا کوئی فرد آپۖ کا شریک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام جب آپۖ کا سراپا بیان کرتے ہیںتو ایک ایک عضو مبارک کی تعریف کرتے ہیں کہ بال مبارک ہلکا سا گھنگھریالا پن لیے ہوئے اوربے مثال تھے۔دندان مبارک آبدار موتیوں کی مانند تھے۔سفیدملیح چہرے کے ساتھ چمکدار دانت یوں لگتے جیسے یاقوت کے صندوق میں در نایاب ہوں۔آنکھیں بڑی، سیاہ اور سرمگیں تھیں۔جن میں سرخ ڈورے تیرتے دکھائی دیتے۔ بصارت اس قدر طاقتور کہ آنحضرتۖ اوج ثریا پر ستاروں کے جھرمٹ میں گیارہ ستاروں کو صاف اور واضح دیکھ لیتے۔
پیشانی مبارک کشادہ تھی۔سر مبارک بڑا تھا۔ ناک لمبی اور خمیدہ تھی۔ سینہ اور پیٹ برابر تھے۔سینہ مبارک کے اوپر والے حصے اور کندھوں پر چند بالوں کے سوا بدن مبارک پر بال نہیں تھے۔پاؤں مبارک کے تلوے اتنے بھرپور اور ہموار تھے کہ زمین پر پاؤں کے نشانات میں یکسانیت ہوتی تھی۔ جسم مبارک کا بالائی حصہ لمبا تھا۔جب محفل میں تشریف فرما ہوتے تو سب سے نمایاں نظر آتے۔
حسین و جمیل تھے۔
 حضرت ام مَعبد نے نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں رسول اللہۖ کا حلیہ بیان کیا ہے۔جس کا ترجمہ صفی الرحمٰن مبارک پوری کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:
''چمکتا رنگ،تابناک چہرہ،خوبصورت ساخت،نہ توندلے پن کا عیب نہ گنجے پن کی خامی۔جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر،سرمگیں آنکھیں،لمبی پلکیں، بھاری آواز،لمبی گردن،سفید و سیاہ آنکھیں،باریک اور باہم ملے ہوئے اَبرو، چمکدار کالے بال۔ خاموش ہوں تو باوقار، گفتگو کریں تو پرکشش۔ دور سے دیکھنے میں سب سے تابناک و پُرجمال، قریب سے سب سے زیادہ خوبصورت اور شیریں۔گفتگو میں چاشنی،بات واضح اور دو ٹوک،نہ مختصر نہ فضول،انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہوں۔درمیانہ قد، نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے،نہ لمبا کہ ناگوار لگے،دو شاخوں کے درمیان ایسی شاخ کی طرح ہیں جو سب سے زیادہ تازہ و خوش منظر ہے۔رفقاء آپ کے اردگرد حلقہ بنائے ہوئے،کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں،کوئی حکم دیں تو لپک کے بجا لاتے ہیں، مطاع و مکرم،نہ ترش رو نہ لغو گو۔''
اسی طرح ایک تابعی محدث رحمة اللہ علیہ آپۖکے اخلاق حمیدہ کا ذکر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''رحمةللعلمین آپ کا جبہ، خلق عظیم آپ کا تاج، صداقت و امانت آپ کے لباس کا تانا بانا ہے، خوش خلقی کا رنگ آپ کی فطرت حسنہ میں جلوہ گر ہے، حق کا نورانی حلقہ آپ کے سینہء مبارک کے گرد جگمگ کرتا ہے، اللہ کانور آپ کے قلب صادق میں جمال آرا ہے، معرفت کا سرور آپکی کالی سرخ ڈوروں والی آنکھوں سے مترشح ہے، آپ مجسم حق ہیں، مجسم نور ہیں، زندہ قرآن ہیں، پیکر عفو،مظہر رحمت ہیں، سینہ بے کینہ ہیں، غم انسانیت اور فکر امت میں گھلنے والے ہیں۔ ''غرض آپ کی صفات عالیہ بے شمار اور قلم مجبور وعاجز ہے کہ اس اعلیٰ، اجمل، افضل،اکمل، ارفع،انور، ابہا، اعلم،احسب اور انسب کی مدح سرائی کر سکے۔''
رسول کریم ۖ کے وسیلہ سے ہی انسانیت کو دنیا کے ساتھ ساتھ حیات و کائنات کی وسعتوں کا شعور ملا۔ آپ ۖکے طفیل ہی نسل انسانی کو عالمگیر مساوات کا پیغام ملا،آپۖ نے حضرت انسان کی زندگی کا نصب العین متعین کیا کہ نسل انسانی کی وحدت اس کی فلاح و خیر ہی اصل مقصد حیات ہے۔ اسی سلسلے میں حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ ۖ نے کبھی بھی اپنے ذاتی معاملے اور مال ودولت کے سلسلے میں کسی سے بدلہ نہ لیا، مگر اس شخص سے جس نے خدا کے حلال کردہ چیز کو حرام قرار دیا تو اس سے ضرور (بدلہ)انتقام لیتے''
مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت؛
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے سیرت نبویۖ کا مطالعہ از حد ضروری ہے تاکہ آنحضرتۖ کے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ آپۖ کی پسند و ناپسند کا علم بھی ہو سکے۔
اطاعت محمدۖ ہی دراصل اطاعت الٰہی کا دوسرا نام ہے۔حب رسول ۖ ہی حب الٰہی کا ذریعہ ہے، اور یہی اللہ کی بندگی اور عبودیت کی بنیاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیائے فانی میں ظہور سے پہلے دنیا پر دو سپر پاور قیصرو کسری کا طوطی بولتا تھا، مگر مکہ و مدینہ کے اوپر کسی کی اجارہ داری نہ تھی کیونکہ یہ تو'' حبیب ذوالجلال'' کے شہر تھے. سردار تو کئی تھے لیکن کسی ایک کی حکومت نہ تھی،کیونکہ یہاں ایک ایسے کی حکومت آنے والی تھی جس سے قیصر بھی ختم ہونا تھااور کسریٰ کا تخت بھی الٹنا تھا۔ تواللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسے اعزازات والا نبی مرسل، شہہ دوعالم ۖ ہمیں عطا کیا،جس کا اخلاق و کردار معاشرت و تجارت،رہن سہن، عفوودرگزر،طور واطوار، گفت و شنید کی کوئی مثال ہی نہیں اور ہمیں اس پیارے حبیب ۖ کے امتی ہونے کا شرف ملا۔ اب اس کرم و فضل کا حق تو یہ ہے کہ ہم آپۖ کی ایک ایک سنت کو دل وجان سے اپنائیں، اپنی زندگی کو سنتوں کے سانچے میں ڈھال کر رب کریم اور محبوبۖکی خوشنودی کو حاصل کریں۔نبی سے رشتے کو مرتے دم تک استوار رکھیں،کیونکہ اسی رشتے کی بنیاد پر آخرت میں ان کی شفاعت کا حقدار بننا ہے۔ ||


مضمون نگار متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں اور صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 293مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP