اداریہ

ملکی سالمیت اور باہمی اتحاد - اداریہ

قوموں کی زندگی مسلسل محنت اور جد وجہد سے عبارت ہوا کرتی ہے۔ قوموں کو صدیوں اپنی بقاء کی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ جو قومیں اولوالعزمی کے ساتھ اپنے مقصد اور نظریئے کے ساتھ وابستہ رہیں اور ثابت قدم رہیں کامیابی اُن ہی کے قدم چومتی ہے۔ ہماری قوم دنیا کی اُنہی اقوام میں سے ایک ہے جو پُرعزم رہتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس باوقار قوم نے جس طرح قائداعظم محمدعلی جناح کی بے مثال قیادت میں پاکستان کے وجود کو یقینی بنایا، اُسی تحریک اور مقصد کے پیش نظر، یہ قوم، اب تکمیلِ پاکستان کے لئے کوشاں ہے اور اس کے لئے اسے کٹھن مراحل اور آزمائشوں سے نبرد آزما  ہونا پڑاہے۔ جو قوم جتنی مضبوط ہوتی ہے اُس کو مشکلات بھی اُسی درجے کی درپیش ہوتی ہیں۔جو قوم ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے سرگرم رہے اور اُس کے پائے استقامت میں لغزش  نہ آئے وہ ایک دن ضرور سرخ رُو ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت پر کافی حد تک قابوپالینے کے بعد اب یہ ریاست سیاسی، معاشی اور سماجی میدان کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے پوری طرح تیار اور چوکس ہے۔ قوموں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح قومی سطح پر غلطیوں کی بناء پر مشرقی پاکستان ، مغربی پاکستان سے الگ ہوگیا لیکن قوم نے خود کو سنبھالا اور آج پاکستان ایٹمی قوت کا حامل واحد اسلامی ملک ہے۔

 آج کا پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں اور کامرانیوں کا گراف سب سے اونچا ہے۔ دہشت گردی ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی۔ بچے کھچے دہشت گردوں اور اُن کے پوشیدہ نیٹ ورکس کا آپریشن رد الفساد کے ذریعے سراغ لگاکر ان کا صفایا جاری ہے۔ لہٰذا دن بہ دن بہتری اور کامیابی کے امکانات روشن سے روشن تردکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں قوم کو بہت حوصلے اور تحمل کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ قوم کو آئین کی پاسداری کو یقینی بنانا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز کرنا ہے اور امن قائم کرنے والے اداروں، مقننہ اور عدلیہ سمیت دیگر اداروں پر اعتماد اور اُن کی معاونت کرنی ہے تاکہ ریاست کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ کیونکہ جب تک قوم پورے یقین کے ساتھ اپنے اداروں کی پشت پر نہ کھڑی ہو، ادارے پوری ہمت اور آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکتے اور یہ امر کسی بھی معاشرے کی زبوں حالی کا باعث ہوسکتا ہے۔لہٰذا قوم کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہے وہ اس عظیم مملکت خداداد کی سالمیت  کے لئے تن، من دھن قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔

 بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے15 اپریل 1948کوپشاور میں پاک فوج کی ایک رجمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : ''الفاظ کی اتنی نہیں جتنی قدرو قیمت افعال کی ہوتی ہے، مجھے یقین ہے کہ جب پاکستان کے دفاع اور قوم کی سلامتی اور حفاظت کے لئے آپ کو بُلایا جائے گا تو آپ اپنے اسلاف کی روایات کے مطابق شاندار کارناموں کا مظاہرہ کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ پاکستان کے ہلالی پرچم کو سربلند رکھتے ہوئے اپنی عظیم قوم کی عزت و وقار کو برقرار رکھیں گے۔'' بلاشبہ بانیٔ پاکستان کا یہ پیغام قوم کے ہر فرد کے لئے ایک وژن کی حیثیت رکھتا ہے کہ کس طرح اُنہیں اپنی ذاتی حیثیت اور پھر باہم مل کر وطنِ عزیز کی بقاء کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

یہ تحریر 543مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP