اداریہ

قومی یکجہتی ملکی سالمیت کی ضامن

کسی بھی ملک کی سالمیت اور بقاء اس کی قومی یکجہتی اور ہم آہنگی سے مشر وط ہوتی ہے۔ قوم جتنی باشعور اور پُرعزم ہو گی ملک اتنا ہی مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔وطنِ عزیز پاکستان کو اپنے قیام کے اوائل ہی سے مختلف سازشوں کا سامنا رہا ہے۔و ہ جو پاکستان کے قیام کے خلاف تھے اور وہ جو بوجوہ ان کے ساتھ تھے، ان میں سے بعض وقت کے ساتھ بھی تبدیل نہ ہو سکے۔ نتیجتاً آج بھی پاکستان کے وجود اور سالمیت کو کسی نہ کسی انداز میں گزند پہنچانے کے قبیح عزائم رکھتے ہیں لیکن ہماری قوم کو الحمدﷲ اس حد تک آگہی ضرور رہی ہے کہ کِس طرح دشمن ہماری قوم میں پھوٹ ڈال کر سرزمین پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں۔ اس میں خطے کے وہ ممالک ہمیشہ پیش پیش رہے جو پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح ماضی میں ہمارے دشمن پاکستان کے بعض اندرونی ناراض عناصر کو استعمال کر کے اور اپنے ہاں مہمان ٹھہرا کر اُن کے ذریعے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے مذموم عزائم رکھتے چلے آئے ہیں اسی طرح زمانہ حال میں بھی (بالخصوص جب سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا ہے) پاکستان میں فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور سیاسی انتشار کو فروغ دینے سے متعلق معاملات کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب ہوتی ہوئی قوم آپس کے جھگڑوں میں اُلجھ کر رہ جائے اور شدت پسندی سے چھٹکارے اور معاشی و سیاسی اعتبار سے ایک مضبوط ریاست بننے کا خواب اس کے لئے ایک خواب ہی رہے۔

حال ہی میں جس انداز سے مسائل کے حل کو بنیاد بنا کر ملک دشمن نعروں اور رویے کا مظاہرہ کیا گیا۔ وہ یقینا مسائل کے حل سے زیادہ گھمبیر معاملہ نظر آتا ہے۔ جس طرح اشتعال انگیزی پیدا کر کے اور عصبیت کو استعمال کر کے ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی کہ پاکستان کے عوام اب نہ صرف اپنی سرزمین اور نظریے سے متعلق پہلے سے بھی زیادہ حساس ہیں بلکہ وہ شعور کی اس منزل پر ہیں جہاں وہ اس امر کا ادراک رکھتے ہیں کہ کس طرح مختلف ''سلوگنز'' کا سہارا لے کر پاکستان کو واپس انتشار کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ یقینا پاکستان میں بسنے والے شہری اپنی سرزمین کے خلاف کسی بھی سازشی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ہر لحظہ تیار ہیں۔ اگر یہ قوم گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا ایک قومی بیانیہ اور نظریہ رکھتے ہوئے کامیاب ہو سکتی ہے تو یہ قوم اسی طرح کے بہت سے مسائل کے حل کے لئے کوشاں بھی ہے اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ہمیں صرف اپنے اداروں پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دہشت گردی جیسے دشمن کے خلاف جنگ کافی حد تک جیت چکے ہیں تو جنگ سے پیدا شدہ مسائل پر بھی جلد ہی قابو پا لیں گے۔ مسائل کا ہونا بجا، شکوہ شکایت بھی سر آنکھوں پر، مگر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف مہم یقینا تکلیف دہ ہے۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 24اکتوبر 1947ء کو اپنے ایک خطاب میں کہا تھا: ''ہم جتنی زیادہ تکلیفیں سہنا اور قربانیاں دینا سیکھیں گے اتنی ہی زیادہ پاکیزہ، خالص اور مضبوط قوم کی حیثیت سے ابھریں گے۔ جیسے سونا آگ میں تپ کر کندن بن جاتا ہے۔''  سو یہ راستے میں بچھے کانٹے، مشکلات اور مسائل منزل نہیں ہیں کہ ہم ان میں ہی اُلجھ کر رہ جائیں۔ ہمیں اپنے شاندار مستقبل پر یقین رکھنا ہو گا، مِل کر جدوجہد کرنا ہو گی کہ اس سرزمین کو اب نعروں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔

آج الحمدﷲ پاکستانی قوم ایک مضبوط اور طاقت ور قوم کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ منزل بہت قریب ہے۔ اس لئے سازشیں کرنے والے بھی مختلف چہروں اور حُلیوں کے ساتھ ہماری صفوں میں دراڑیں پیدا کر کے قوم کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بطور قوم مسائل پر نہ صرف نظر رکھنا ہے، انہیں حل کرنا ہے، بلکہ دشمن کی چالوں سے باخبر بھی رہنا ہے اور اُن کا مؤثر جواب بھی دینا ہے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اس کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی ہم سب ہی کا فرض ہے۔

آیئے! اپنے اپنے حصے کا کردار دلجمعی سے ادا کرتے رہیں۔ ایک خوبصورت، توانا اور روشن مستقبل ہم سب کا مقدر ہے۔ ان شاء اﷲ!!!

یہ تحریر 1773مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP