قومی و بین الاقوامی ایشوز

مذہب اورعدم برداشت کا چیلنج

پاکستان کی نظری شناخت اسلام ہے۔اس کی وجہ تاریخی بھی ہے اور آئینی بھی۔تاریخ یہ ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پرقائم ہوا۔اس کی ایک شرح یہ ہے کہ مسلمان اپنی منفرد تہذیبی شناخت رکھتے ہیں جسے متحدہ ہندوستان میں قائم رکھنا ممکن نہیں تھا۔اس کا ایک حل یہ تجویزکیا گیا کہ مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک ہوجہاں وہ آزادی کے ساتھ، انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس شناخت کا اظہار کر سکیں۔اسی طرح1973ء میں جس عمرانی معاہدے یعنی آئین پر قوم کے منتخب نمائندے متفق ہوئے،اس میں بھی یہ لکھ دیا گیا کہ اسلام ریاست پاکستان کا مذہب ہو گا۔
کیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ریاست نے تعبیرِ دین کی ذمہ داری کسی خاص طبقے یاگروہ کو سونپ دی ہے اور اب یہ اس کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے کہ وہ لوگوں کے دین ایمان کا فیصلہ کرے؟ کیایہ گروہ طے کرے گا کہ لوگوں کو کس فقہ یا مسلک کو اختیار کرنا ہے یاعوام کوان کے سامنے پیش ہو کر اپنے اسلام کو ثابت کرنا ہے؟ نہ صرف یہ کہ ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں بلکہ قائد اعظم نے تو اس سے آگے بڑھ کر اقلیتوں کو بھی یہ باور کرایا کہ ان کی مذہبی آزادی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اوروہ گرجا،مندر یا کسی اور عبادت گاہ جاناچاہیں،  توآزادی کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ قائد اعظم کی نظر میں یہ بات اتنی اہم تھی کہ انہوں نے دستور سازاسمبلی کی پہلی تقریرمیں،قیامِ پاکستان سے تین دن پہلے، 11اگست 1947ء کواس کی وضاحت ضروری سمجھی۔
علامہ اقبال اورقائد اعظم دونوں نے ابتدا ہی سے یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان ایک مثبت تصور ہے،منفی نہیں۔بلکہ یہ ایک منفی رویے کا ردِ عمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرمسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تواس سے کسی دوسرے مذہب کی تحقیر مراد ہے اورنہ اس کی نفی۔اگر کانگرس اپنا دل کھلا کرتی اور مسلم تہذیب کو پنپنے کا موقع دیتی تو شاید پاکستان کا مطالبہ اتنا مقبول نہ ہوتا۔کانگرس کی 1937 ء میں قائم ہونی والی وزارتوں نے جس طرح مسلم شناخت کی نفی کی اور مسلمانوں کوجبر کے ساتھ ایک دوسری تہذیب کا پابند بنانا چاہا،اس سے ایک عام آدمی نے بھی یہ سمجھ لیا کہ اس کے مسئلے کا حل وہی ہے جو علامہ اقبال نے 1930ء میں تجویز کر دیاتھا۔
علامہ اقبال نے اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں بتا دیا تھا کہ مسلمان کسی دوسرے مذہب کے معاملے میں کوئی منفی جذبہ نہیں رکھتے ۔بلکہ اسے ایک ذلیل کام سمجھتے ہیں کہ کسی دوسرے مذہب کے بارے میں برے خیالات رکھے جائیں۔ اسی طرح قائد اعظم بھی کبھی اس کے قائل نہیں رہے کہ پاکستان میں لوگوں کی مذہبی آزادی پر کوئی قدغن لگائی جائے ۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک کے بانی ،مذہب کے معاملے میں،اتنے روادار ہوں،وہاں یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگائی جائے اور کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ لوگوں کے دین دھرم کا فیصلہ کرتا پھرے؟
بدقسمتی سے اس ملک میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جنہیں پاکستان  کے معاملے میں بانیانِ پاکستان کے تصورات کا علم ہے نہ جدید ریاست کے وظائف کا۔انہوں نے پاکستان کو پاپائیت سمجھا ہے جہاں ایک مذہبی گروہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے دین ایمان کا فیصلہ کرے۔وہ اپنے دینی فہم کو معیار بناکر لوگوں کو پرکھتے اور پھر ان سے جواب طلبی کرتے ہیں۔قائد اعظم نے دو ٹوک لفظوں میں بتا دیاتھا کہ پاکستان میںپاپائیت کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ یہ حق کسی گروہ یا طبقے کو حاصل نہیں ہو گا کہ وہ لوگوں کے دین ایمان کا فیصلہ کرے۔
اس رویے نے ملک میں مذہبی جبر اور خوف کو جنم دیا ہے۔گروہوں نے اپنے طور پر لوگوں کے دین ایمان کو پرکھنا شروع کر دیااور یوں خوف کی ایک فضا پیدا کر دی۔ اس کی ایک مثال دسمبر کے وسط میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔اٹک کی خاتون اے سی ،طالب علموں کے ایک گروہ کے سامنے ملزم بن کر بیٹھی ہیں اوروہ ان کو اپنے ایمان کی یقین دہانی کرا رہی ہیں۔
مذہب ہر فرد کا شخصی معاملہ ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس میں مداخلت کرے۔اپنے مذہبی خیالات کے لئے کوئی شہری کسی دوسرے کے سامنے جواب دہ نہیں۔ ریاست کے اسلامی ہونے کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ کوئی فرد یا گروہ بزعمِ خویش مذہب کا ٹھیکہ دار بن جا ئے۔ریاست کے اسلامی ہونے کا مطلب خود آئین نے بتا دیاہے کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہو گی۔رہی ایک فرد کی مذہبی آزادی تو آئین اس کو پورا تحفظ دیتا ہے اور کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے کی اس آزادی کو سلب کرے۔
مسلم معاشرے میں علماء کا احترام پایا جا تا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی تعلیم دیتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ ایک مسلمان کی زندگی کیسے گزاری جا ئے۔یہی کام مسیحی اور ہندو آبادی میں ان کے مذہبی پیشوا کرتے ہیں۔سب مذاہب دوسروں کی مذہبی آزادی کا احترام سکھاتے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں کے اندر مسلکی سطح پر بھی باہمی احترام کی تعلیم دی جا تی ہے۔جب کچھ لوگ ان حدود کا خیال نہیں رکھتے تو پھر مذہب کی سطح پر عدم برداشت کا کلچر پیدا ہو تا ہے اور مذہبی بنیادوں پر فساد پیدا ہوتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے میں جب صورتِ حال بہت خراب ہوئی تو ریاست اور علماء کی سطح پر سوچ بچار کے نتیجے میں 'پیغام ِپاکستان' کے نام پر ایک دستاویز پر اتفاق ہوا۔اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ معاشرے کو طبقات کے پیدا کردہ مذہبی جبر سے آزاد کرایا جائے۔اس دستاویز پر ہر مسلک کے علما نے دستخط کئے اور یوں ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیاجو مذہبی طور پر روادار ہو۔جہاں لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو اور کوئی دوسرے کے کفر اسلام کا فیصلہ نہ کرتا پھرے۔
آج اس عہد کو نبھانے کی ضرورت ہے۔اٹک شہر کا واقعہ بتا رہا ہے کہ ابھی معاشرتی سطح پر برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کام کی اشدضرورت ہے۔نوجوان طالب علموں کی طرف سے اس رویے کا اظہار دراصل توجہ دلارہا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں اصلاح کی شدیدضرورت ہے۔ہم نے نئی نسل کو یہ بتاناہے کہ مذہب کا تعلق ذاتی اصلاح اور تطہیر سے ہے۔یہ دوسروں کے بجائے اپنے ایمان کی حفاظت کا معاملہ ہے۔
قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ خود کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد پہلے اپنے ایمان کی فکر کرے اور پھر ان کی، جن کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے۔یعنی گھر والوں کو دین پر عمل کی تلقین کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی حلقوں میں جو رجحان پروان چڑھا ہے،وہ اپنے ایمان سے زیادہ دوسرے کے ایمان کی پڑتال ہے۔اسی ترتیب کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دوسروں کا محتسب نہیں بنایا۔اگر ہمارے خیال میں کسی کی بات غلط ہے اور ہم اس تک صحیح بات پہنچانا چاہتے ہیں تو دین نے اس کے آداب بھی ہمیں بتائے ہیں۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم نرمی کے ساتھ بات کریں۔اگر کہیں بحث کی ضرورت ہو تو بھی اچھے طریقے سے کلام کریں۔مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں،اس کی خیر خواہی ہو نی چاہئے۔
مذہبی رواداری اور برداشت کا تعلق سماجی رویوں سے ہے۔رویوں کی اصلاح ریاست کا نہیں، سماجی اداروں کا کام ہے۔ان اداروں میں خاندان، مکتب، مسجد ،مندر ، گرجا اورمعبد کے ساتھ میڈیا اور ذرائع ابلاغ شامل ہیں۔ ملک میں عدم براشت کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ سماجی ادارے اس باب میں اپنا کردار ادا کریں۔لازم ہے کہ گھر کی سطح پر برداشت اوردوسروں کے جذبات کا احترام سکھایا جائے۔مکتب اور عبادت گاہ میںاسی کو راسخ کیاجائے۔ذرائع ابلاغ میں اسی کی تلقین ہو۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کویقینی بنائیں کہ سب ادارے اپنی حدود کا خیال رکھیں۔
معاشرے اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ارتقاء کی منازل طے کرتے ہیں۔اگر ہم برداشت اور باہمی ا حترام کی اقدار پر قائم معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں توہر کسی کو اپنی ذمہ داری ادا کر نی ہے۔اگر ہم دینی احساس پیدا کرنا چاہتے ہیں تو یہ اپنے ایمان کی فکر کرنا ہے نہ کہ دوسرے کے ایمان کی ٹوہ میں رہنا۔


 مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ نگار اور
کالم نویس ہیں۔  [email protected]
 

یہ تحریر 173مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP