صحت

فطری غذائیت 

یہ انسان کی فطرت ہے کہ جوں جوں وہ ارتقائی مراحل سے گزرتاہے توں توں وہ ترقی کی طرف گامزن ہوتا ہے ۔بعض اوقات یہ ترقی مثبت اثرات ڈالتی ہے اور بعض مرتبہ منفی۔ بہرحال اس کا رہنا سہنا، اس کا بولنا چالنا، کھانا پینا ہر چیز کا ڈھنگ بدلتا جاتا ہے ۔اگر ہم اس تناظر میں انسانی تاریخ کا جائزہ لیں تو ابتدا میں وہ اپنی غذائی ضروریات کچے پھلوں یاسبزیوں سے پوری کرتا تھا۔آگ کی دریافت کے بعد اس نے انہی چیزوں کو پکا کر کھانا شروع کر دیا۔جانوروں کا گوشت، مختلف النوع سبزیاں ، دالیں اور اناج۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کا انداز خوراک بھی تبدیل ہوتا گیا۔ چاول، روٹی، مختلف طریقوں کے سالن ، چٹنیاں، میٹھی اشیا وغیرہ۔
ہر خطے کے روایتی کھانے ہوتے ہیں جو اس علاقے کی پوری ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔جیسے جیسے کھانوں میں ان کے پکانے اور ان کو محفوظ کرنے کے طریقوں میں ترقی ہوتی گئی ویسے ویسے غذائیت گھٹنے لگی۔
اگر ہم جدید طریقوں کو دیکھیں جو حضرت انسان نے اپنے ترقی کے سفر میں اختیار کئے تو وہ کوئی بہت صحت مندانہ نہیں ہیں۔ پہلے وہ ہر چیز تازہ اور فریش استعمال کرتا تھا ۔سادہ غذا کھاتا تھا۔ قدرت و فطرت سے قریب ترتھا۔ خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے فیض یاب ہوتا تھا۔لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، بہت سی ایجادات کے ساتھ نعمتیں زحمتوں میں بدل گئیں۔ فریج کی ایجاد کے بعد تازہ خوراک کی فراہمی مشکوک ہو گئی۔وہ انسان جو پہلے ہر چیز تازہ اور خالص کھانے کا عادی تھا اب وہ فریزڈ خوراک استعمال کرنے لگا۔اس خوراک نے اس کوکسی حدتک آسودہ تو کردیا لیکن صحت کے تناظر میں یہ غذانقصان دہ ثابت ہوئی۔
وہی شخص جو تازہ پھل، سبزی ، اناج اپنے کھیتوں یا باغات سے توڑ کر استعمال کرتا تھا اب باسی اور کولڈ سٹوریج کی سبزی استعمال کرنے پر مجبور ہو گیا۔صحت مند جانور کا تازہ گوشت کھانے کا عادی تھا اب فروزن گوشت سے متعارف ہوا۔۔۔۔ خالص شہد کی جگہ شیرا ملا پانی اوردیسی  انڈوں کی جگہ فارمی انڈے استعمال کرنے لگا۔ تازہ دودھ کے بجائے ڈبوں کا کیمیکل زدہ دودھ اور سرف ملا دودھ استعمال کرنے پر مجبور ہو گیا۔
رہی سہی کسر ملاوٹ زدہ مصالحوں نے پوری کر دی۔۔کرپشن ، چور بازاری اور بے ایمانی نے نہ صرف انسان کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا بلکہ اس سے اس کی خالص غذا اور غذائیت بھی چھین لی۔
ہر چیز میں ملاوٹ ہرچیز میں کیمیکلز کا استعمال اس کی صحت کو تباہی کی جانب لے گیا۔
آبادی کے بڑھنے سے بھی غذا اور غذائیت متاثر ہوئی کیونکہ خوراک کو بڑھانے کے لئے جب مصنوعی طریقے اختیار کئے گئے تو وہ انسانی صحت کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئے۔  
مصنوعی کھاد، pesticidesاور کیمیکل زدہ ملی خوراک کیسے غذائیت فراہم کر سکتی ہے۔ اس آگ پر مزید تیل، بازاری کھانوں اور زبان کے چٹخاروں نے ڈالا۔ لوگ زبان کے چسکے کے لئے ناقص اور مضر صحت کھانے کھانے کی وجہ سے غذائیت سے بالکل ہی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ معدے کی بیماریاں، جگر کے عارضے،امراض قلب اور ذیابیطس جیسی بیماریوں نے انسان کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔ اب نہ غذا رہی نہ غذائیت اور صحت سے بھی گئے۔
ایک خوش آئند بات سامنے آرہی ہے کہ سائنس کی ترقی سے جو اچھے یا برے اثرات  انسانی صحت اور زندگی پر پڑے۔ اب ان کے سد باب کے لئے  مغربی دنیا واپس اپنے اصل کی طرف آ رہی ہے ۔تازہ پھل، سبزیاں اور اناج اگانے کے organic اور دیسی طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔۔۔فارمنگ اور فارم ہاؤسز کا رواج بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
ایک اور اہم عنصر آج کل کے لوگوں کی تساہل پسندی ہے۔ وہ اپنی سستی یا مصروفیت کے باعث تیار کھانوں ، فروزن کھانوں اور کین فوڈ پہ زیادہ انحصار کر رہے ہیں جو انتہائی مضر صحت ہے۔
میں نے جو بھی تحریر کیا ان میں بہت سے ذاتی، تجربات ہیں، مشاہدات ہیں۔ ہم نے خالص غذا سے ناقص غذا کا سفر کیا ۔۔ لیکن آج کل کی نسل تو غذائیت سے بالکل عاری خوراک پر پل رہی ہے ۔ جوناقص صحت کی دلیل ہے ہم نے اپنے بزرگوں کو بہت صحت مند اور چست ، چاق چوبند دیکھا ۔ اس کی وجہ تھی سادہ خوراک ، تازہ خوراک۔ میں اگر ماضی بعید میں جاؤ ں تو یادنہیں کہ اس وقت ہوٹلنگ یا بہت انواع و اقسام کے کھانے ہوتے ہوں۔ 80 کی دہائی میں یہ چیزیں متعارف ہونے لگیں اور اس کے بعد ہم غذائیت سے ہاتھ دھوتے چلے گئے۔ذائقہ بڑھتا گیا اور غذائیت گھٹتی گئی ۔۔

یہ تحریر 129مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP