اداریہ

عزمِ پاکستان

قوم ہر سال 14 اگست کو یومِ آزادی کا جشن مناتی ہے۔ یہ دن جذبوں اور ولولوں سے عبارت ہے۔ یومِ آزادی برصغیر کے مسلمانوں کی قائدِاعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں کی گئی، اُس جدو جہد کی یاد دلاتا ہے جو انہوںنے مسلمانوں کے لئے الگ اور خود مختارسرزمین کے حصول کے لئے کی۔ مارچ 1940 میں قراردادِ پاکستان منظورہوتی ہے اورصرف سات برس کے قلیل عرصے میں مسلمان پاکستان کی صورت میں ایک الگ اور عظیم مملکت کے حصول میں کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ مسلمانوںنے اس کے حصول کے لئے اَن گنت جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس مملکتِ خداداد کو دشمن کی جارحیت ، اندرونی و بیرونی سازشوں اور ڈیڑھ دہائی قبل دہشت گردی کے جس بڑے عفریت کا سامنا کرنا پڑا اُس میں الحمدﷲ یہ قوم سرخرو رہی ہے اور پاکستان کو عظیم تر بنانے کے لئے کوشاں ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ آپریشن ردالفساد کی صورت میںجاری ہے جس میں قوم اور افواجِ پاکستان کو بے پناہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ یوں ہماری قوم آج بھی اُسی 14 اگست کے جذبے کے تحت اپنے نظریئے اور دھرتی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اس کی حفاظت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔

 

14 اگست2018 کا یومِ آزادی بھی گزشتہ برسوں کی طرح بہت اہم ہے لیکن رواں برس انتخابات کا سال ہونے کی بناء پر اس کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ یہ امراپنی جگہ قابلِ فخر ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے جہاں چند برس قبل تک روزمرہ زندگی بالکل معطل ہو کر رہ گئی تھی وہاں کروڑوں کی تعداد میں پاکستانی عوام نے کئی کئی گھنٹے لائنوں میں لگ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخابات کو ایک پُرامن ماحول مہیا کرنے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے تحت  افواجِ پاکستان کی معاونت کے حصول کے لئے درخواست کی۔ حکومتِ پاکستان کی منظوری کے بعد پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو انتخابات کے دوران ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا جس کی بناء پر عمومی طور پر ملک بھر میں انتخابات انتہائی پُرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔ فوج کی تعیناتی کو پاکستانی عوام نے دل سے قبول کیا جس کی عکاسی انتخابات کے دوران دیکھنے میں آئی۔ لوگ پاک فوج کے جوانوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے، بوڑھی اور ضعیف عورتیں فوجی جوانوں کو شفقت بھرے انداز میںملتی رہیںاور عام لوگ جن میں بچے بھی شامل تھے، اپنی فوج کے جوانوں سے ہاتھ ملاتے رہے ۔جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ قوم کس طرح اپنی قومی فوج کے ساتھ اپنائیت اور باہمی محبت کے جذبے روا رکھتی ہے۔اس سے قوم کا اجتماعی  مزاج سامنے آتا ہے جووہ اپنے ملک اور اپنے اداروں کے حوالے سے رکھتی ہے اور اپنے سبزہلالی پرچم کے ساتھ بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے اس فرمان کی روشنی میں عقیدت رکھتی ہے جس میں انہوںنے کہا تھا ''مجھے یقین ہے کہ جب پاکستان کے دفاع، قومی سلامتی اور حفاظت کے لئے آپ کو بلایا جائے گا توآپ اپنے اسلاف کی روایات کے مطابق شاندار کارناموں کامظاہرہ کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ آپ پاکستان کے ہلالی پرچم کو سربلند رکھیں گے، مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی عظیم قوم کی عزت و وقار کو برقرار رکھیں گے۔''

 

آج الحمدﷲ پاکستانی قوم قیامِ پاکستان ہی کے بھر پور جذبوں کو سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ ہمارا پرچم سر بلند ہو رہا ہے، قوم آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان آگے بڑھ رہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور سلامتی قوم کے اتحاد اور یگانگت میں پوشیدہ ہے۔ ہمارا پاکستان، عالیشان پاکستان۔ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔

یہ تحریر 615مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP