ہلال نیوز

گلگت  بلتستان میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیاں 

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح گلگت  بلتستان میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی ۔ علاقے میں سیکڑوں رہائشی مکانا ت ،ہزاروں کنال زمین پر کھڑی فصلوں کو سیلاب بہا لے گیا۔ متعدد سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا اور رابط پل بہہ جانے سے متاثرین کو آمدورفت کے سلسلے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گلگت  بلتستان کا ڈسٹرکٹ غذر  حالیہ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہو ا، سترہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن میں سے چار افراد کی لاشیں تاحال نہیں ملی ہیں۔ غذر کے گائوں بوبر میں طوفانی بارشوں کے ساتھ سیلاب آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے گائوں کو اپنی لپٹ میں لے لیا۔  دوسری جانب غذر کا سب سے بڑے گائوں شیر قلعہ بھی سیلاب سے شدید متاثر ہوا۔ سیلاب زدگان کے لیے پاک فوج نے فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کردیں۔ درکوت کے علاقے میں متاثرین سیلاب کو پاک آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا گیا۔ سیلاب سے تباہ حال ڈسٹرکٹ غذر میں نقصانات کا جائزہ لینے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف غذر تشریف لائے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لیا۔انھوں نے سیلاب میں جاں بحق افراد کے لواحقین لئے دس دس لاکھ روپے اور متاثرین کی آباد کاری کے لئے دس کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ گائوں کی مین شاہراہ کو تعمیر کرنے کی بھی منظوری دے دی، ساتھ یہ بھی کہا کہ اس گاؤں کو ماڈل ویلج بنایا جائے گا اور ایک ماہ بعد دوبارہ اس گائوں کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔ کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل کاشف خلیل نے بھی غذر کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقے اشکومن کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ مستحقین سیلاب تک اشیاء خوردنوش اور ضروری اشیاء کی تقسیم کا عمل انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیا جائے گا اور پاک فوج اپنے عزم اور قوت ارادی کے ساتھ راشن تقسیم کا عمل آخری مستحق کو پہنچانے تک جاری رکھیں گی۔ واضع رہے کہ پاک فوج نے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیوکرنے اور امدادی سامان پہنچانے کے لئے زمینی اور فضائی ریلیف آپریشن شروع کررکھاہے۔ غذر کی تحصیل اشکومن میں پاک فضائیہ اور سپیشل کمیونی کیشن (ایس سی او) نے بھی متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا جبکہ مخیرحضرات نے بھی سیلاب متاثرین کی بڑھ چڑھ کر مدد کی۔ آبادکاری کے لئے پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل ٹیموں نے باقاعدہ طور نقصانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور بہت جلد متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے لئے مکانات کی تعمیر کر سکیں۔


یہ تحریر 157مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP