اداریہ

سالِ نواُمیدِنو

قوموں کی زندگی میں ہر لمحہ اور ہر دن ایک نئی اُمید لے کر طلوع ہوتاہے اور زندہ قومیں اپنے ماضی اور حال کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سفر جاری رکھتی ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کے اب تک کا سفر بھی اتارچڑھاؤ اور چیلنجز سے عبارت ہے، لیکن اس کے باوجود قوم کے پاؤں نہیں لڑکھڑائے بلکہ یہ قوم ثابت قدمی سے ہر قسم کی جارحیت اور مشکلات کے سامنے ڈٹ کر کھڑی دکھائی دی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ آج کا پاکستان ایٹمی قوت کا حامل پاکستان ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کی افواج پیشہ ورانہ اعتبار سے بہترین افواج ہیں۔ اس کی عوام اپنی دھرتی سے پیار کرنے والی عوام ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی بدولت پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرخرو رہا ہے۔ اس کے نتائج یوں سامنے آ رہے ہیں کہ جون 2014میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے اب تک پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات ،جو اس آپریشن سے قبل تواتر سے ہو رہے تھے، نہایت کم ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی کے جتنے واقعات 2014 میں ہوئے، اتنے 2015 میں نہیں ہوئے۔ 16دسمبر 2014 میں انسانیت کے دشمنوں نے اے پی ایس کے جن معصوم بچوں پر حملہ کر کے ہماری آئندہ نسلوں کو تعلیم اور شعور سے روکنے کی کوشش کی، وہ بچے 16دسمبر 2015 کو اسی طرح سے اپنی درس گاہ میں علم کی شمع بن کر روشنی پھیلاتے دکھائی دیئے۔ ان بچوں کا عزم جواں ہے، قوم کے ولولے تازہ ہیں اور پوری قوم ایک اُمید نو اور ان دعاؤں کے ساتھ 2016میں داخل ہوئی ہے کہ رواں سال بھی یہ قوم کسی شدت اور سفاکیت کو اپنا راستہ نہیں بنانے دے گی۔


قوم جس طرح سے یکجان ہو کر دہشت گردی کے عفریت سمیت دیگر چیلنجز کے سامنے ڈٹ گئی ہے وہ بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دے رہی ہے کہ وطنِ عزیز پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی ’اندرونی یا بیرونی‘ سازشیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ آج افواج پاکستان دہشت گردوں اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے درپے ہیں۔ جو شدت پسند وزیرستان اور دیگر ایجنسیوں میں جبر کا راج قائم کرنے کے خواہاں تھے، اُن کو وہاں سے نکال باہر کیا گیا ہے اورمذکورہ علاقوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ عارضی طور پر بے گھر ہونے والوں کی اپنے اپنے گھروں کو واپسی شروع ہو چکی ہے، جو یقیناًایک خوش آئند امر ہے۔


ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اب ہماری قومی ترجیح معیشت، تعلیم، صحت اور مساوات کے نظام کی بہتری ہونی چاہئے تاکہ ملک و قوم کا ہر ہر شخص ایک مفید اور باشعور شہری بن کر اُبھرے اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل ہو سکے اور پوری قوم رواداری اور مفاہمت کے ساتھ سفر جاری رکھتے ہوئے اس ملک کی فضاؤں کو خوشبوؤں اور محبتوں سے ہمکنار کر کے دنیا کو بتا دے کہ ہم زندہ قوم ہیں‘ پائندہ قوم ہیں اور وطن کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والی قوم ہیں۔ بلاشبہ کسی بھی قوم کے عزم اور اس میں پائی جانے والی اُمید ہی اسے دیگر اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم اور اس کی افواج نے اپنی کارکردگی کے ذریعے دنیا کو باور کرایا ہے کہ پاکستان ایک ایسی مضبوط اور خودمختار ریاست ہے جو اپنی سالمیت اور تشخص کو یقینی بنانے کے لئے ہر لحظہ اور ہرآن تیارومستعد ہے۔

یہ تحریر 431مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP