شعر و ادب

ترانہ66ونگ۔ الغیور 

ایف سی کے غیور جواں ہیں ہم
ہم چاق چوبند، ہم زندہ دل
غازیوں کی عظمت کے امیں
ابرِ کرم اپنوں کے لئے
الغیور زندہ باد
شوقِ شہادت میں جیتے ہیں
جو برق بن کر دشمن پر گرے
پرچم کی سربلندی ہم پر فرض
قلات، پشین، بمبور، گواہ ظفر
الغیور زندہ باد 
بلوچستان کے نگہباں ہیں ہم
شاہیں کا نشاں ہیں ہم
شہیدوں کی پہچاں ہیں ہم
دشمن کے لئے طوفاں  ہیں ہم
الغیور زندہ باد
خالد کی تلوار ہیں ہم
ٹیپو کی وہ للکار ہیں ہم
پربتوں میں شیر کی دھاڑ ہیں ہم
جرأت کا شاہکار ہیں ہم
الغیور زندہ باد
                
 

یہ تحریر 83مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP