شعر و ادب

انسان

قدرت کا عجیب یہ ستم ہے!
انسان کو راز جُو بنایا
بے تاب ہے ذوق آگہی کا
راز اس کی نگاہ سے چھپایا
کھلتا نہیں بھید زندگی کا
حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے؟
ہے گرمِ خرام موجِ دریا
بادل کو ہوا اُڑا رہی ہے
تارے مستِ شرابِ تقدیر
خورشید، وہ عابدِ سحر خیز
مغرب کی پہاڑیوں میں چھپ کر
لذت گیرِ وجود ہر شے
دریا سوئے بحر جادہ پیما
شانوں پہ اٹھائے لارہی ہے
زندانِ فلک میں پا بہ زنجیر
لانے والا پیامِ ''برخیز''
پیتا ہے مئے شفق کا ساغر
سرمستِ مئے نمود ہر شے
کوئی نہیں غمگسارِ انساں!
کیا تلخ ہے روز گارِ انساں!
(علامہ اقبال۔ بانگِ درا)
 

یہ تحریر 248مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP