اداریہ

کرونا کا مقابلہ مل کر کرنا ہے

وطنِ عزیز پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کو کرونا کی وباء کا چیلنج درپیش ہے۔ کرونا کی وجہ سے سماجی اورمعاشرتی زندگی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والی وباء سے چین نے جس طرح نمٹا وہ دنیا کے لئے ایک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ریاستِ پاکستان نے بھی دیگر ممالک کی طرح فوری حفاظتی اقدامات اٹھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ لاک ڈائون نافذ کردیاگیا اور عوام سے گھروں میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہوئے حفاظتی اقدامات کی پابندی کرنے کو کہاگیا۔ محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کی معاونت سے کرونا کے مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ  کئے گئے۔جن کے ٹیسٹ مثبت آئے ، اُنہیں قرنطینہ میں رکھتے ہوئے علاج شروع کردیاگیا۔ لوگوں کو لاک ڈائون کی پابندی کروانے کے لئے پولیس، افواجِ پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کی مدد حاصل کی گئی تاکہ کرونا وباء ملک میں کم سے کم لوگوں میں پھیلے۔
 حکومت نے کچھ دنوں بعدعوام کے معاشی مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جزوی لاک ڈائون متعارف کروا کر کچھ کٹیگیریز کی دوکانیں کھولنے اور کاروبار کرنے کی اجازت دے دی تاکہ لوگ اپنا ذریعہ معاش چلا سکیں لیکن اُس کے لئے شرائط رکھی گئیں کہ کن اقدامات کو مدِ نظر رکھ کر وہ اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے عوام الناس کو اپنے کاروبار کرنے کا قانونی حق موجود ہے لیکن جب قوم کو کسی وباء  یا مشکل کا سامنا ہو تو ریاستی سطح پر اقدامات اُٹھائے جانے ضروری ہو جاتے ہیں۔اسی طرح مساجد میں نمازوں کی ادائیگی اور رمضان المبارک میںنمازِ تراویح کی اجازت بھی دے دی گئی لیکن اس سے قبل علماء کرام  کے باہمی مشورے سے 20 نکات پر مشتمل ہدایات جاری کی گئیں جن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کا عندیہ دیاگیا۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ افواجِ پاکستان جن کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے لیکن وہ ہر کڑے وقت میں ملک کے اندر بھی جب جب ضرورت پڑی خدمات بجا لانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ بلاشبہ افواج ملکی دفاع کی امین ہیں تو عوام ملک کی اندرونی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے حالیہ کرونا وباء میں ڈاکٹرز مسیحا بن کر ایک ڈھال کی صورت سامنے آئے ہیں بعض ڈاکٹرز مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے خود بھی کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ہماری پولیس اور شہری دفاع سے وابستہ دیگر ادارے اپنے تئیں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے جب معاملہ قومی بقاء اور سلامتی کا ہو، وہاں ادارے اپنی روایتی ذمہ داریوں سے ہٹ کر ہر وہ چیلنج قبول کرتے ہیں جن کے ذریعے قوم کی سلامتی کو یقینی بنایاجاسکتا ہے۔ افواجِ پاکستان کے جوان اور افسر کرونا وباء سے قوم کو بچانے کے لئے ملک کے طول و عرض میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور افواجِ پاکستان کی میڈیکل کور کی ٹیمیں ملک کے ڈاکٹرز کے ہمراہ فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ زندہ قوموں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ جب انہیں کوئی چیلنج درپیش آتا ہے تو وہ یک جان ہو کر اس کے خلاف نبرد آزما ہوتے ہیں اور سرخرو ٹھہرتے ہیں۔
پاکستانی قوم اور ادارے بھی اسی طرح سے لگن اور بہادری کے ساتھ تمام تر ضروری اقدامات پر عمل پیرا ہو تے ہوئے ملک سے کرونا کی وباء کا خاتمہ کرنے میں ضرور کامیاب ٹھہریں گے۔ انشاء اﷲ !

یہ تحریر 529مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP