ہلال نیوز

زلزلے سے متاثرہ ضلع ہرنائی بلوچستان کے  علاقوں میں ریسکیو آپریشن اور امدادی کارروائیاں

فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) نے صوبے میں امن و امان کے قیام اور سرحدوں کی نگرانی کے علاوہ تعلیم کے فروغ، صحت کے شعبے میں سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کا اجراء، قومی اثاثوں کا تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ دنوں 5.9 شدت کے زلزلے نے ہرنائی اور اس کے مضافات میں تباہی و بربادی مچائی۔ PDMA بلوچستان کے مطابق زلزے سے 24 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے جن میں 42 فیصد بچے شامل تھے۔ زلزلے کی وجہ سے تقریباً 4121 گھر اور 23 گائوں ملیامیٹ ہوگئے۔ فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بروقت ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔



انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) نے فورسز کی امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے فوری دورے کئے۔ امدادی کارروائیوں کے دوران فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے 6000 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی اور 43 شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد آرمی ہیوی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ شفٹ کیا۔
 اسی طرح متاثرہ افراد کی خوراک کی کمی اور دیگر ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں 5093 سپیشل راشن پیکٹ، 10615 خیمے، 1064 گیس سلنڈر، 250 ابتدائی علاج کی کٹس اور 63819 سپیشل امدادی پیکجزتقسیم کئے گئے۔ اگرچہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی کمی، موبائل فون سروس کی عدم دستیابی اور بلند و بالا پہاڑی سلسلے کی وجہ سے ریسکیو اور بحالی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی تھیں لیکن ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے جوانوںکے بلند عزم اور حوصلوں نے زلزلے سے متاثرہ ہر فرد کی بخوبی اور احسن طریقے سے داد رسی کی۔ واضح رہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مشرق میں واقع ڈسٹرکٹ ہرنائی کوئلے کے ذخائر سے مالامال ہے۔ فی الوقت فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کوئلہ مائینز پروجیکٹ اور کان کنوں کو سکیورٹی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے شروع کردہ احساس پروگرام کے تحت متاثرہ افراد کی رجسٹریشن بھی بخوبی سرانجام دے رہی ہے۔
 

یہ تحریر 336مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP