جنگ دسمبر 1971

ہنگور ڈے 

پاکستان نیوی پانیوں کی نگہبان ہے اور تاریخ ایسے کارناموں سے بھری پڑی ہے جس میں اس ملک کے جوانوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ مادر وطن کے دفاع کے لئے ہر طرح کی قربانی دے سکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک کارنامے کا تاریخ کے اوراق پلٹنے سے پتہ چلتا ہے جس سے نئی نسل دنگ رہ جاتی ہے کہ ہمارے اسلاف جرأت اور بہادری کی وہ مثال رقم کرگئے ہیں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ 
ہنگور ڈے ہر سال نو دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس سال اس مشن کو پچاس سال ہوجائیں گے۔ اس دن1971  میں بھارت کو پاک بحریہ کی طرف سے شکست فاش دی گئی تھی اور یہ ایک ایسی شکست تھی جوکہ سمندری دفاعی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
9 دسمبر 1971ء کو پاکستانی آبدوز ہنگور نے بھارتی نیوی کے جہاز فریگیٹ ککری کو غرقاب کردیا تھا ۔آبدوزہنگور کے حملے میں بحری جہاز غرقاب ہوا تو اپنے ساتھ بیسیوں سیلرز کو بھی لے ڈوبا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلی بار ہوا کہ ابدوز نے بحری جہاز تباہ کردیا۔ہنگور نے دوسرے حملے میں بھارتی نیوی کے جہاز ککری کو تباہ کیا اورایک اور  بھارتی بحری جہاز کرپان کو مفلوج کردیا۔
 کمانڈر احمد تسنیم اور ان کے عملے نے انتہائی مہارت کے ساتھ حملہ کیا اوربھارتی جہاز ککری سمندر برد ہوگیا۔کمانڈر احمد تسنیم اور ان کے عملے نے 1965 کی جنگ میں بھی بھارتیوں کو پانیوں میں شکست فاش دی تھی۔ وہ ماشااللہ حیات ہیں اور اسلام آباد  میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حوالے سے اُن سے گفتگو ہوئی تو بہت سی حیرت انگیز معلومات حاصل ہوئیں ۔ہنگور نے بھاری جہاز تباہ کیا اور ایک جہاز کو مفلوج کردیا تو بھارتی نیوی چار روز تک ابدوز ہنگور کو تلاش کرتی رہی۔ پانی میں بم برساتی رہی لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ہنگور بحفاظت عملے سمیت کراچی واپس لوٹ ائی۔
1971 میں نیوی کا بیڑہ پاکستان کے پانیوں کی حفاظت کررہا تھا- اس مشن میں آب دوز غازی اور ہنگور پیش پیش تھیں جو زیر آب دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئی تھیں۔ایک ہزار ٹن وزنی آب دوز پی این ایس ہنگور جو فرانسیسی ساخت کی تھی وہ  22نومبر1971 کو کراچی سے بھارت کے سمندر کی طرف روانہ ہوئی۔ اس زمانے میں آبدوز میں وہ سہولیات نہیں ہوتی تھیں جو اب ہیں لیکن کمانڈر تسنیم جو بعد میں وائس ایڈمرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے، وہ اور ان کی ٹیم پوری ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹ گئی۔زیر آب رہنا آسان نہیں اس وقت کی آبدوز میں آلات کو چارج کرنے لئے دو گھنٹے اوپر آنا ہوتا تھا اس کے ساتھ عملے کو بھی تازہ ہوا اورآکسیجن کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہ سب کرنا اور دشمن پر نظر رکھنا آسان نہیں تھا۔ 
وائس ایڈمرل احمد تسنیم (ر)جوکہ اس وقت کمانڈر تھے ان کی سربراہی میِں نومبر آپریشن کا آغاز ہوا۔بھارتی بحریہ کے جہازوں کاسکواڈرن جو تین فریگیٹ پر مشتمل تھا اور اس میں سی کنگ ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے، وہ پاکستانی آبدوزوں کی تلاش پر مامور تھے۔ان بحری جہازوں کے نام ککری، کرپان اور کوٹھار تھے۔ ان کی سربراہی بھارتی نیوی کے رئر ایڈمرل سریندرناتھ کررہے تھے۔یہ نام خنجروں پر رکھے گئے تھے لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی قسمت میں تباہی لکھی ہے۔
کمانڈر احمد تسنیم بے چینی سے اس حکم کا انتظار کررہے تھے کہ کب وہ بھارتی بیڑے کو نشانہ بنائیں گے۔ مضبوط اعصاب اور پختہ ارادوں کے مالک احمد تسنیم گرین سگنل کے منتظر تھے۔ہنگور کے مشن میں کمانڈر احمد تسنیم تھے،پلاٹ افسر فصیح بخاری تھے آپریشن روم افسر لیفٹیننٹ کمانڈر اے یو خان تھے۔ اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے وائس ایڈمرل (ر) احمد تسنیم نے بتایا''جب میں نے فرانس میں ہنگور کی کمان سنبھالی تھی اس وقت سب میرین تنگ و تاریک ہوتی تھیں اکثر سب میرین موسم سرما کو دیکھ کر بنائی گئی تھیں جبکہ بحیرۂ عرب میں سخت گرمی ہوتی تھی۔نہ سب کے لئے بستر ہوتے تھے نہ ہی کھانے کے لئے زیادہ آپشن ہوتے تھے اور نہانے اورورزش کے لئے بھی سہولت نہیں تھی۔یہ بہت صبر طلب جاب تھی۔آبدوز میں بہت گرمی، حبس اور نمی ہوتی تھی۔ ہنگور میں ہم52  لوگ تھے ۔پانی صرف 5منٹ کے لئے صبح شام رات کھلتا تھا تاکہ برش کرلیا جائے۔ہم زیادہ تر چاول یا ہنٹر بیف سینڈوچ سیمی ہاٹ میلز کھاتے تھے۔'' انہوں نے ہنستے ہوئے کہا زیر آب مسلسل چاول کھانے کی وجہ سے اب تو میں چاول بالکل کھانا نہیں پسند کرتا۔
سب میرین والوں کا ٹیسٹ بالکل ائیرفورس پائلٹ کی طرز پر ہوتا ہے۔ سب میرنیز میں کام کرنے والوں کا جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ ہونا بہت ضروری ہے۔ آبدوز میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوتا ایک کو فلو ہوجائے تو سب بیمار ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ آبدوز چلانے والوں کو بہت صبر بھی چاہئے ہوتا ہے۔ کپتان اپنی مرضی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے بتایاکہ مشرقی پاکستان کی طرف غازی اور ہنگور مغربی پاکستان کی طرف تعینات تھی۔ جب مجھے پہلا موقع ملا کہ میں ٹارگٹ لاک کرسکوں تو اجازت نہیں ملی صرف اپنے دفاع کا حکم آیا۔کمانڈر کو بہت صبر و تحمل کے ساتھ چلنا ہوتا ہے اور یہ سب ٹیم ورک سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد9  دسمبر کو ہم نے تین ٹارپیڈو فائر کئے۔ہم نے55  میٹر سے ان کو اٹیک کیا یہ رسکی تھا۔ پہلا ٹارپیڈو کرپان کی طرف فائر گیا جوکہ گہرائی میں زیادہ ہونے کی وجہ سے پھٹ نہیں سکا۔اس کے بعد دوسرا ٹارپیڈو ایک منٹ کے اندر فائر کیا گیاجو سکوارڈرن کمانڈر کے جہاز ککری کی طرف گیااور وہ ان کے  بارود کو لگا اور دو منٹ کے اندر بھارتی بحری جہاز ککری تباہ ہوگیا۔بہت روز دار دھماکہ تھا اور بھارتی فوجیوں کو جان بچانے کا بھی وقت نہیں ملا۔اب کرپان کو ہنگور کی پوزیشن کا اندازہ ہوگیا تھا توتیسرا ٹارپیڈو فوری طورپر اپنے دفاع میں کرپان کو مارا گیا۔ وہ واپس جانے پر مجبور ہوگیا اور اس کو نقصان بھی پہنچا۔وہ کہتے ہیں معرکہ تو ہم جیت گئے لیکن اب بھارت کو ہماری موجودگی کا پتہ تھا اور ہم نے کراچی واپس جانا تھا۔ انہوں نے ہم پر حملے شروع کردیئے ۔ کئی بار بھارت نے ہم پر حملہ کیا تاہم ہم متبادل راستے سے چار دن میں کراچی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ہم نے بھارت کواس کے علاقے میں گھس کر مارا اور اللہ کے حکم سے واپس آنے میں کامیاب ہوگئے۔
اپنے جذبات کے بارے میں انہوں نے کہا جب ہم مشن پر جاتے ہیں تو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہم واپس آئیں گے یا نہیں۔ ایک سیلنگ لسٹ پر سب کے نام لکھے ہوتے ہیں اور کسی حادثے کی صورت میں کس کو اطلاع دی جائے، لکھی ہوتی تھی کیونکہ سب میرین میں موجود افراد کی باڈی نہیں ملتی۔جب ہم مشن سے واپس آئے تو سب نے پرتپاک استقبال کیا ۔میری دوچھوٹی بیٹیوں نے میرے گلے میں ہار ڈالے۔ مجھے بہت مسرت ہوئی۔میڈیا اور اعلیٰ حکام نے ہمیں خوش امدید کہا۔ انہوں نے بتایا اس مشن پر موجود آدھے لوگ اب جہان فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔حال ہی میں ایڈمر ل فصیح بخاری کی وفات نے مجھے بہت رنجیدہ کیا ۔



 وہ کہتے ہیں زیر آب انہوں نے بہت سے مشن کئے اور تین ماہ تک بھی سمندرمیں رہنا پڑا۔ کسی بھی صورتحال میں ہم واپس ساحل پر نہیں آتے تھے۔ مشن مکمل ہونے کے بعد واپسی ہوتی تھی۔ ہماری آبدوز ہنگور کو اس وقت میوزیم میں لگا دیاگیا ہے جس کو دیکھ کر اس مشن میں حصہ لینے والوں کے خاندان خوشی محسوس کریں گے۔ 9دسمبر ہماری دفاعی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ پاک بحریہ ہماری سمندری حدود کی نگہبان ہے۔ 9دسمبر کو پاک بحریہ نے ایک سنہری باب رقم کیا جو دفاعی اور بحری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ہنگور سب میرین نے بہادری اور کارکردگی کی وہ مثال قائم کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادروطن کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں تھا ، ہے اور رہے گا۔ وائس ایڈمرل احمد تسنیم کے اعزاز میں سب میرین ٹریننگ سینٹر کے داخلی دروازے پریادگار قائم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ کراچی میں نیوی میری ٹائم میوزیم میں ہنگور آبدوز نصب ہے جس میں اس مشن کی اور اس کے عملے کی تفصیلات درج ہیں جو نئی نسل کو اس تاریخی دن کی یاد دلاتی رہیں گی۔  اس سال اس مشن کو پچاس سال پورے ہوں گے۔ ہنگور ڈے ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔


مضمون نگار صحافی، کالم نگار اور فوٹوگرافر ہیں۔
Twitter @javerias


 

یہ تحریر 886مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP