ہمارے غازی وشہداء

ستارے ملک و ملت کے ، سرِ افلاک چمکیں گے

دریائے گیاری،بیلافونڈ گلیشیئر سے نکلتا ہے اور تقریبا 40 کلومیٹرکا سفر طے کر کے دم سم دریا میں شامل ہو جاتا ہے۔ گیاری ویلی جس کی چوڑائی دو کلومیٹر تک ہے، اس دریا کے دونوں اطراف میں واقع ہے۔ اور اس کا دامن بیلافونڈ گلیشیئر سے شروع ہو کر گوما تک پھیلا ہوا ہے۔ علاقے کی بلندی 12000 سے 13500فٹ تک ہے۔ یہاں 700سال پرانی ایک مسجد بھی ہے جو بزرگ صوفی شاہ علی ہمدان سے منسوب ہے۔ یہ وہی عظیم بزرگ شاہ علی ہمدان ہیں جنہیںعلامہ اقبال نے خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے خصوصی طور پر ایک نظم' درحضورِ شاہ ہمدان' کے عنوان سے لکھی۔ اس مقام پر 6 نادرن لائٹ انفنٹری(این ایل آئی)کا بٹالین ہیڈ کوارٹر بنایا گیا تھا۔ جس کے جنوب میں ایک پہاڑ ہے جس پر گلیشیئر ہے اوراُس کے سامنے والی دیوار کو، راک وال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سخت سردی کے موسم میں گلیشیئر سے پھوٹنے والے چشمے اس دیوار پر برف کی صورت میں جم جاتے ہیں تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے دستِ قدرت نے تجریدی آرٹ کا شاہکار راک وال کے کینویس پر تخلیق کر دیا ہو۔ سانحے کے بعد جب صحافیوں نے یہاں کا دورہ کیا تو اسے  'دیوارِ گریہ 'سے تعبیر کر دیا۔ بٹالین ہیڈ کوارٹر ایک پیالے نما جگہ پر واقع تھا جو آگے سفر کرتے ہوئے گلیشیئرکی ذرافے نما گردن میں باہیں ڈالتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں گرمی میں کافی گھاس اگا کرتی ہے اور ایسی جھاڑیاں بھی ہیں جو مقامی لوگوں کے جلانے کے کام آ سکیں۔ ان لوگوں کے جانور یہاں چرا کرتے تھے۔ موسم بہار میں گردونواح کے چاندی جیسے پانی کے بہتے ہوئے جھرنے اور ان کے اطراف میں کِھلے ہوئے مختلف رنگوں کے علاقائی گلاب جنت کا منظر پیش کیا کرتے۔ یہاں ایک بہترین کرکٹ سٹیڈیم بنایا گیا تھا۔ جہاں بیک وقت چار ہیلی کاپٹر لینڈ کر سکتے تھے۔ کچھ لوگ مزاح میں اسے اسلام آباد کے نام سے یاد کیا کرتے۔
گیاری سے نزدیک ترین پوسٹ شمال میں 2 کلو میٹر کے فاصلے پر تھی۔ جبکہ گوما جیسا نہایت اہم بیس 18 کلومیٹر جنوب میں ہے۔خوبصورت وادی گیاری میں بٹالین ہیڈکوارٹر 1987 میں قائم کیا گیا تھا۔ افسروں اور جوانوں کو اونچائی کی اگلی پوسٹوں پر بھیجنے سے پہلے یہاںتیاری کروائی جاتی، تاکہ وہ اپنے آپ کو موسم کے مطابق ڈھال سکیں۔ اِسی طرح جو اوپر سے نیچے آتے، انہیں بھی یہاں ڈی بریف کیا جاتا اس سے پہلے کہ وہ چھٹی یا کسی اور ڈیوٹی پرجائیں۔ یہاں 200افراد کی رہائش موجود تھی۔
6 این ایل آئی، بٹالین ہیڈ کوارٹرکا حصہ تھی جسے (بیلا فونڈ لا) علی برانگس سیکٹر کے دفاع پر معمور کیا گیا تھا۔ اس سے قبل بھی یہی یونٹ 1988-89 کے درمیان یہاں قیام کر چکی تھی۔ اس لحاظ سے یہ 6 این ایل آئی کادوسرا عہد تھا۔ پچھلے عہد میں یہ یونٹ مشہور چُمک آپریشن میں حصہ لے چکی تھی جس میں نوید ٹاپ جو کہ22500 فٹ پر واقع ہے اس کی حفاظت کرتے ہوئے ان کے 3 آفیسر اور4 جوان درجہ شہادت پر فائز ہو چکے تھے۔ 7 اپریل 2012، اِس یونٹ کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے امتحان کا سامنا کرنا پڑا۔ 7-6 اپریل کی درمیانی شب ایک بہت بڑا برفانی تودہ برق رفتاری کے ساتھ، بٹالین ہیڈ کوارٹر پر گرا اور 140 افراد پلک جھپکنے میں لقمۂ اجل بن گئے۔ ان میں تین افسران، 4 لانس نائیک،122 سپاہی اور 11 سویلین تھے۔ آغاز سے ہی 6 اپریل کی رات انتہائی سرد مہری کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ اور جوں جو ں وقت گزر رہا تھا اس کی یخ بستگی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ مطلعء گیاری پر جلوہ افروز ہوچکا تھا اور اس کی سنہری کرنوں میں برف پوش چوٹیاں، حسینانِ سِیم تن کی مانند ، نظارہ کرنے والوں کے جذبات میں ہلچل پیدا کر رہی تھیں۔ رات کے کھانے کے بعد سوائے سنتریوں کے ہر کوئی اپنے کمرے اور بنکر کا رخ کر چکا تھا۔ بٹالین ہیڈ کوارٹر کے صاحبانِ اختیار افسران، اگلی پوسٹوں پر فون کر کے وہاں تعینات لوگوں کی خیریت اور مسائل معلوم کر رہے تھے۔ سیاچن پر سرکاری فرائض انجام دینے والے لوگوں کا یہی معمول ہے۔ کچھ جوان آدھے سے زیادہ اپنے سلیپنگ بیگ میں گھسے ، تاش، لوڈو یا اپنی پسند کی کسی اور کھیل سے دل بہلا رہے تھے اور کچھ خوش گپیوں میں مصروف تھے جبکہ مٹی کے تیل سے روشن چولہے ماحول کو کچھ نہ کچھ حرارت بخشنے کی کوشش میں سرگرم تھے۔ سنتری وقفے وقفے سے سائٹ کا سیکورٹی رائونڈ لگا کر آتے اور اگلا رائونڈ لگانے کے لئے اپنے مخصوص کمرے میں جسم کی گرمی اورتوانائی بحال کرنے میں مصروف ہو جاتے۔ جب جوان کھیلوں سے اکتا گئے تو ایک دوسرے کو آنے والے دنوں میں اپنے اپنے پروگرام سے آگاہ کرنے لگے۔ کسی نے اوپر اگلی پوسٹ پر جانا تھا تو اس کے سینئرز نے اسے اپنے تجربوں سے آگاہ کیا۔جن کی چھٹیاں منظور ہو چکیں تھیں وہ بتا رہے تھے کہ انہوں نے کس کی شادی میں کیسے شریک ہونا ہے۔ کچھ اپنے والدین اور بچوں کی بیماری اور ان کے علاج معالجے پر بات چیت کر رہے تھے اور کچھ تھے جو ملکی صورت حال اور سرحدی سرگرمیوں پر بحث کر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ رات دو بجے تک اکثر نیند میں جاچکے تھے۔ صرف گنتی کے وہ چند لوگ جاگ رہے تھے جن کی نائٹ ڈیوٹی تھی۔اور انہیں اب بھی چند ضروری کام انجام دینے تھے۔ مگر وہ بھی سوچ میں غلطاں تھے کہ آج ماحول میں یہ کیسی پراسراریت نظر آرہی ہے جو سمجھ سے بالا ہے۔ کسی کے ذہن میں یہ شائبہ تک بھی نہ تھا کہ وہ ابھی ہے اوراگلے لمحے نہیں ہو گا۔
لیکن بعد کے حالات و واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ کرنل تنویر الحسن اس وقت بھی بیدار تھے یا نمازِ تہجد کے لئے ابھی ابھی ان کی آنکھ کھلی تھی لہٰذا وہ وضو کے لئے تیاری کرنے لگے رات کے 02:20کا وقت تھا۔ ڈیوٹی نان کمیشنڈ آفیسر، (این سی او)مشتاق حسین بٹ، بیلا فونڈ سیکٹر ہیڈکوارٹر میں بات کر کے کہ کسی مریض کی ای ویکیولشن (Evacuation)، کہ کس طرح  مریض کو بحفاظت اگلی پوسٹ سے سیکٹر ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا جائے ،کے بارے میں منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ اچانک گیاری سیکٹر کی ریڈیو لائنز آف ہو گئیں۔ کیونکہ ایک قیامت خیز برفانی تودہ، برق رفتاری کے ساتھ گیاری سیکٹر کے 140 افراد کو موت کی نیند سلا چکا تھا۔ چشمِ زدن میں اجل نے ایسا وار کیا کہ کسی بھی پوسٹ کی طرف سے برفانی تودہ گرنے کی پیشگی اطلاع تک نہ آسکی۔ نزدیک ترین پوسٹ پر ایک ایسی بلا کی بجلی کی کڑک سنی گئی کہ ڈیوٹی پر کھڑا سنتری بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اور ساتھ ہی ہر طرف سفید برف کے بادلوں نے ہر چیز کو اجلے کفن کی طرح ڈھانپ دیا۔ لہٰذا نزدیکی پوسٹ کے افرد نے سمجھا کہ برفانی تودہ ان پر آ گرا ہے۔ جلد بازی میں وہ جو احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے تھے وہ کیں۔ لیکن کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوا کہ ان کی پوسٹ تو محفوظ رہی مگر قریب ہی کہیں بڑا برفانی تودہ گر چکا ہے۔ اس تمام صورت حال سے آگاہی کے لئے جب انہوں نے گیاری فون کیا تو وہاں سے کسی قسم کا جواب نہیں آیا۔ تمام ریڈیو لائنیں خاموش ہو چکی تھیں۔ پوسٹ کمانڈرمیجر شاہد نے 03:00بجے سیکٹر ہیڈ کوارٹر میں میجر سید غلام عباس جو اس وقت سیکٹر کمانڈر کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے، کو بتایا کہ کوئی بہت بڑا برفانی تودہ ہمارے کہیں قریب ہی گرا ہے اور ہمارا بٹالین ہیڈکوارٹر گیاری سے ہر قسم کا رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ سیکٹر کمانڈر نے میجر شاہد کو حکم دیا کہ فورا ایک پارٹی کو گیاری خبر گیری کے لئے روانہ کر دیا جائے اور وہاں جو بھی صورت حال ہو مجھے اس کی اطلاع دی جائے۔ مگر اس پارٹی کو قدم قدم پر اتنی شدید برف باری کا سامناکرنا پڑا کہ وہ راستہ کھو گئے اور گیاری  پہنچے بغیر اپنی سائٹ پرانتہائی دقت سے واپس پہنچے۔ بعد کے واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہ پارٹی بھی موت کے منہ سے بچ کر واپس پہنچی تھی۔ انہوں نے تمام حالات سے پوسٹ کمانڈر اور سیکٹر کمانڈر کو آگاہ کر دیا۔ اور اب 05:00بج چکے تھے۔
قصہ مختصر آفیسر کمانڈنگ 107فیلڈ رجمنٹ آرٹلری، لیفٹیننٹ کمانڈر شاہد ابڑو اور کمانڈنگ آفیسر 144 میڈیکل بٹالین لیفٹیننٹ کرنل شیخ حسین گوما سے ایمرجنسی پٹرول پارٹی کو لے کر گیاری پہنچے اور وہاں پہنچ کر ہکا بکا رہ گئے کیونکہ بٹالین ہیڈ کوارٹر گیاری نیست و نابود ہوچکا تھا۔ گیاری سے متعلق کوئی علامت تک نظر نہیں آرہی تھی۔ کمانڈر ، فورس کمانڈ نادران ایریاز (ایف سی این اے)میجرجنرل(بعد میں لیفٹیننٹ جنرل) اکرام الحق اس وقت جی ایچ کیو، راولپنڈی آئے ہوئے تھے جہاں انہیں 06:22پر گیاری سانحے کی اطلاع دی گئی اور آپ بذریعہ ہیلی کاپٹر فورا گیاری کے لئے روانہ ہو گئے۔ کرنل بلال اور کرنل ابڑو نے اشک بھری آنکھوں سے آپ کا استقبال کیا۔ حادثے کی اطلاع قرب و جوار میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور سو کے قریب افراد جمع ہو کر اپنے پیاروں کے جسدِ خاکی کو برف کے تودے میں نظروں سے تلاش کر رہے تھے لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ اس وسیع و عریض جگہ پر پھیلے ہوئے برفانی تودے میں انہیں کہاں اور کس طرح تلاش کریں۔ اس موقع پر کمانڈر ایف سی این اے نے لوگوں سے کہا کہ ہم سب لازمی طور پر اپنے عزیزوں کو تلاش کریں گے۔ جس پر سب لوگوں نے مل کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور اپنی مدد آپ کے تحت گینتیوں اور بیلچوں سے کُھدائی شروع کر دی مگر جلد ہی احساس ہو گیا کہ یہ کام انتہائی مشکل ہے۔ برفانی تودہ ایسی طوفانی رفتار سے حملہ آور ہوا کہ اس نے 15000 لیٹر کے فیول ٹینکر اور 200 لیٹر تیل سے بھرے ہوئے بے شمار بیرلز کو مختلف سمت میں راک وال سے 800-500فٹ کی بلندی پر خزاں کے سوکھے پتوں کی طرح پٹخ دیا۔ بٹالین ہیڈ کوارٹر کی ہر شے، 140 افراد کے ساتھ برف کے پہاڑ تلے دفن ہو چکی تھی۔ جس کے اطراف میں 8-5 فٹ جمی ہوئی سفید برف کی چادر، ایک کلو میٹر مربع کے علاقے میں دفن 140 افراد کا کفن محسوس ہور ہی تھی۔ 6 این ایل آئی سیاچن کے دو اہم سیکٹروں کا دفاع کرتی تھی۔ اس بٹالین ہیڈ کوارٹر کی وہی اہمیت تھی جو جسم میں ایک دماغ کی ہوتی ہے۔ اور اب یہ دماغ ایک ناگہانی آفت کی وجہ سے مفلوج ہو چکا تھا۔ سیاچن کی ہر پوسٹ پر یہ خبر پہنچ چکی تھی جہاں ہر شخص اپنے 140 ساتھیوں کے یک لخت شہید ہو جانے کی وجہ سے حیران و پریشان اور حزن و ملال کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔کمانڈر کے سامنے اس وقت دو بڑے چیلنج تھے سب سے بڑا چیلنج 140 افراد کو ملبے تلے سے نکالے جانے کا اور دوسرا اس خراب ترین صورت حال میں اگلی پوسٹوں پر موجود لوگوں کے حوصلوں کو بلند رکھنے کا ، انہیں ذہنی طور پر آمادہ کیا جائے کہ وہ پوسٹوں سے نیچے آئے بغیر ایک غیر معینہ مدت تک دفاعِ وطن کے فریضے کو سر انجام دیتے رہیں۔
خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والے 6 این ایل آئی کے صوبیدار میجر یونس اور رجمنٹل پولیس حوالدار کو قریبی پوسٹ سے فوری طور پر گیاری بلایا گیا اور وہ دونوں واقعی یونٹ کا اثاثہ ثابت ہوئے۔ کیونکہ 140 ساتھیوں کی جدائی کے غم کو دل میں سمیٹے ہوئے ، اعصاب شکن سانحے کے باوجود بھی ان سب افراد کی فہرست مرتب کر لی جو برف کے تودے تلے دفن ہو چکے تھے۔ ان سب لوگوں کے خاندانوں کو آگاہ کیا گیا جو ملک کے طول و عرض پر سکھ چین کی زندگی بسر کر رہے کہ کسی کے باقی بچنے کے امکانات تقریبا ختم ہو چکے ہیں۔ بریگیڈکمانڈر 323،بریگیڈئیر ثاقب محمود ملک (اب میجر جنرل) جو سرکاری طور پر کہیں اور مصروف تھے اب اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے گیاری پہنچ چکے تھے۔ آرمی کے تمام کمانڈر ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے گن گاتے ہیں۔ او ر اِس( گیاری ریکوری) آپریشن میں انہوںنے کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے دن رات کھڑے ہو کر لوگوں کے حوصلے بڑھائے اور اپنی رہنمائی میں تیزی سے کام کروایا۔
فسٹ ڈاگ پلاٹون کے کتوں نے سیاچن میں گزشتہ ریکارڈ کے مطابق کھائیوں میں دبے ہوئے سپاہیوں کی صحیح صحیح رہنمائی کی مگر گیاری میں ان کے ذریعے کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ اگلے ہی روز 8 اپریل 2012 کو چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے، کمانڈر10 کور، لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز خان کے ساتھ گیاری کا دورہ کیا اور خود حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر احکامات جاری کئے کہ ہمیں ہر صورت میں برفانی تودے میں دبے 140 افراد کو نکالنے کے بعد ان کے عزیزو اقرباکے سامنے سُرخرو ہونا ہے، چاہے اس کے لئے پاتال تک کھود کر برف کی چٹانیں ہٹانا پڑیں اور اس ضمن میں جس قسم کی مدد کی ضرورت ہو گی فراہمی جائے گی۔
چاچا عبد الرحمن عرف ابدو جو گوما کے مقامی باشندے تھے۔ عمر 75 سال ہو چکی تھی۔ مختلف مہمات میں پورٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ علاقے کے موسمی مزاج سے اچھی طرح آشنا تھے۔ حکومت نے ان کی خدمات کے صلے میں ستارہ شجاعت سے نوازا تھاا نہوں نے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ اجتماعی سوچ بچار کے بعد دو رائیں سامنے آئیں۔ ایک شفٹ تھیوری تھی جس کے مطابق برفانی طوفان نے تمام انفراسٹکچر جہاں تھا وہاں سے 60-50 میٹر آگے دھکیل دیا ہو گا اور دوسری نو شفٹ تھیوری جس کے مطابق جو چیز جہاں تھی وہیں دفن ہو گئی۔ کمانڈر ایف سی این اے نے کافی سوچ بچار کے بعد نو شفٹ تھیوری پر کام شروع کر دیا۔
کمانڈر ایف ڈبلیو او، میجر جنرل(اب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ) جاوید بخاری، گیاری آکر جائزے کے بعد ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا چکے تھے۔ ملک کے مختلف اداروں نے بھی عملی طور پر اور ماہرانہ مشوروں کی صورت میں معاونت کرنا شروع کر دی۔ مثلا سپارکو نے سیٹلائیٹ تصاویر اور سِٹل فوٹوگرافی کے ذریعے بتایا کہ ملبے تلے کون سی چیز، کتنی گہرائی میں کہاں دفن ہے۔ ہر قدم پر محسوس ہو رہا تھا کہ تمام قوم یک جان ہو کر اس قومی سانحے میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ بحر حال فیصلہ کیا گیا صرف فوجی حضرات اس 'ریکوری آپریشن' میں عملی طور پر حصہ لیں گے۔ تاکہ باقیوں کو کسی مزید ناگہانی حادثے سے بچایا جاسکے۔ 9 اپریل تک جن مقامات کی نشان دہی ہو چکی تھی وہاں ایف ڈبلیو او اور پی ڈبلیو او کی مشینری پہنچنے پر کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا۔ ای ایم ای نے اپنی مہارت کے بل بوتے پر مشینوں کی دیکھ بھال اور مینٹینینس کے لئے ایک ورکشاپ بنالی ۔ 474 انجینئر بٹالین کی لیبر اور ڈرائیوروں نے بھرپور حصہ ڈالا۔ ایس پی ڈی نے اپنی مشینیں بھجوا دیں۔
6 این ایل آئی کا دوبارہ سے گوما میں بٹالین ہیڈ کوارٹر قائم کر دیا گیا جس کی سربراہی کا شرف لیفٹیننٹ کرنل سید عباس شاہ کو حاصل ہوا اور انہوں نے جی ایچ کیو کے ساتھ مربوط رہتے ہوئے 140 شہید ہو جانے والے افراد کی کمی کو پورا کرنا شروع کیا۔ 10 اپریل تک نئے آفیسر کمانگ لیفٹیننٹ کرنل صدیق سائٹ پر تعینات کر دیئے گئے ۔ اب تک لوگ 16-14 گھنٹے گیاری کے یخ بستہ ماحول میں کام کر رہے تھے۔ ان کے لئے گرم گرم چائے، کھانے پینے اور دیگر لوازمات کے ساتھ آرام دہ شیلٹر رہائش کا بندوبست کیا گیا۔ لوگوں کی سہولت کے لئے موبائل ورکشاپ، سگنل ایکسچینج اور طبی امداد کے کمرے بنا دیئے گئے ایک اونچے مقام پر دیدبانی کے لئے اگلو کی صورت میں ایک پوسٹ بنا دی گئی۔ یہ اگلو 'ریکوری آپریشن 'کی منصوبہ بندی کے لئے بڑا عمدہ کردار اداکر رہا تھا۔ ساتھ ہی کام کرنے والوں کے لئے ایک غار میں دکان قائم کر دی گئی جہاں چائے پکوڑے، گرم گر م جلیبیاں اور سموسے فراہم کئے جاتے اور سب لوگ مذاق میں اس دکان کو کرنل شاہد ابڑو کی خدمات اور نام کی مناسبت سے ''ابڑودی ہٹی'' پکار کر اپنا دل خوش کر لیتے اور اس طرح کافی حد تک ان کی تھکن بھی زائل ہو جاتی۔
ذرائع ابلاغ اس قومی سانحے پر دن رات گفتگو کر رہے تھے، قوم کا ہر شخص دعا گو تھا کہ ملبے کے نیچے سے کچھ نہ کچھ لوگ کسی بھی طرح سے زندہ نکال لئے جائیں۔ اس وقت کے صدر آصف زرداری نے خود گیاری کا دورہ کیا تاکہ اپنی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لے سکیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سکردو سے اڑ کرگیاری مقام کا فضائی جائزہ لیا۔ 12 اپریل کو سوئٹزر لینڈ کی 3 رکنی ٹیم نے مختلف آلات سے کچھ معلومات فراہم کیں مگر دبے ہوئے افراد کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔13 اپریل کو جرمنی کی6 رکنی ٹیم اپنے کتوں کے ساتھ پہنچ گئی اور 16 اپریل تک کوئی مثبت نتیجہ دیئے بغیر واپس لوٹ گئی۔ اسی روز 3 افرادپر مشتمل نارویجیئن ٹیم اور 3 دیگر لوگوں پر مشتمل امریکن ٹیم سائٹ پر پہنچی مگر ایک دن قیام کے بعد بغیر کسی مثبت پیش رفت کے واپس چلی گئی۔برطانیہ کے ایک پروفیسر نے گیاری کادورہ کیا اور اپنی ماہرانہ رائے سے نواز کر واپس لوٹ گئے۔ چائنا کی ٹیم نے بھی اپنے ریڈاروں کے ساتھ گیاری کا چکر لگایا مگر کچھ بھی نتیجہ دینے سے قاصر رہے۔ دو ہفتوں میں چھ مختلف ممالک کی ٹیموں نے جو ماہرانہ مشورے دئیے ان کا لُبِ لُباب یہ ہے کہ اگر آرمی اپنے ان 140 افراد کی لاشیں نکالنا چاہتی ہے تو اس میں 20-12 سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ لہٰذا یہاں ان افراد کی ایک یادگار بنا دینی چاہئے۔ لیکن آرمی کا ٹاپ سے لے کر یونٹ تک کے لوگوں کا صرف ایک ہی فیصلہ تھا کہ ہم اپنے 140 شہید ہو جانے والے افراد کو نکال کر دم لیں گے۔
نائن الیون کو تباہ ہونے والے ٹوئن ٹاورز کے ملبے کاوزن 8.1-6.1 ملین ٹن تھا جسے امریکہ جیسی سپر پاور نے اپنے بے پناہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، 8 ماہ 19 دن میں ہٹایا تھا اور اس پر 5 بلین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ وہ پہاڑی علاقہ نہیں تھا جہاں سخت سردی پڑتی ہو اور سال میں 7 ماہ سے زیادہ کام کرنا بھی ممکن نہ ہو۔سب سے صحیح تجزیہ جو وقت نے ثابت کیا وہ نسٹ (NUST) کے لیفٹیننٹ کرنل (اب بریگیڈئیر)قدوس کا تھا ۔ دبا ہوا گلیشیئر 165-125فٹ ہے جس میں سے آخری 80-78 فٹ بہت بڑے بڑے چٹانوں کے ٹکڑے ہیں جن سے برف چپکی ہوئی ہے۔ جس پر بریگیڈئیر ثاقب نے منصوبہ بنا کر کھدائی کے کام کا آغازکر دیا۔ گلیشیئر کا ملبہ 1x1.2 سکیٹر کلو میٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا تھا۔ کھدائی اور دیگر کاموں کے لئے 19 ڈمپر ٹرک، 10 سائزIIڈوزر، 13 ایکسی ویٹر، 4 جیک ہیمر، 7 ،جے سی بی/ ایف ای لوڈر اور 6 ڈرل مشینیں کام پر لگی ہوئی تھیں۔ شہدا ء کی لاشوں تک پہنچنے کے لئے آرمی کے اس اہم ترین' ریکوری' آپریش میں فولاد بنے ہوئے گلیشیئر کے جسم میں 14200سوراخ کئے گئے تاکہ ان میں دھماکہ خیز مواد بھرا جاسکے۔ ان کی اوسطاً گہرائی 10-6فٹ تک ہوئی تھی اور بعض اوقات ایک دن میں 150 سوراخ بھی کرنے پڑے۔ سنگ دل گلیشیئر کوپگھلانے کے لئے 3327 دھماکے کئے گئے جس کے لئے 56 ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔



مسلسل کئی دنوں سے کھدائی اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری تھا۔ 26 مئی شام کے 7 بج چکے تھے۔ روشنی کاانتظام کر لیا گیا تھا تاکہ کام کو ہر صورت میں جاری رکھا جاسکے۔ مشینوں سے کام روک دیا گیا تھا اور اب کدالوں اور ہاتھوں سے احتیاط کے ساتھ آہستہ آہستہ برف کوہٹا کر دیکھا جارہا تھا۔ بریگیڈئیر ثاقب اگلو میں نماز مغرب پڑھ رہے تھے۔ 6 این ایل آئی کے میجر فاروقی کام کی نگرانی، رہنمائی  اور ہر طرح سے امداد فراہم کر رہے تھے کہ اچانک گیاری کی فضا نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے سے گونج اٹھی، میجر فاروقی نے دوڑتے ہوئے اگلو پہنچ کر کرنل ابڑو اور بریگیڈئیر ثاقب کو اطلاع دی کہ ہمیں کسی شہید کاجسمِ مبارک نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔49 روز کے اندر پاک آرمی کے جوانوں نے ایک ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اللہ نے جوانوں کی دعائوں اور محنت کو شرفِ قبولیت بخشا۔ جواب تک 2.65 کیوبک ملین فٹ ملبہ کھود کر اٹھا چکے تھے۔شہید کالاشہ سنتری چیک پوسٹ سے برآمد ہوا تھا جس نے کمانڈر ایف سی این اے کے فیصلے' نو شفٹ تھیوری' کو درست ثابت کر دیا۔ برفانی تودے کا حجم اس قدر زیادہ تھا اور اتنی برق رفتاری سے نازل ہوا کہ اس نے حقیقتاً پلک جھپکتے میں جو چیز یا شخص جہاں پر تھا اسے وہیں لاکھوں ٹن وزن تلے دفن کر دیا۔ یہ سنتری ڈیوٹی پر موجود تھا اور گمانِ غالب یہی تھا کہ یہ سنتری رائونڈ لگانے کے بعد جسم کو گرم اور تازہ دم کرنے کے لئے پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ برفانی تودے کے ملبے تلے اس طرح دب گیا کہ چھت پر لگی ہوئی سی جی آئی شیٹ اس کے جسم سے کسی اژدھے کی طرح لپٹ گئی۔ جسے بڑی احتیاط سے کاٹنے کے بعد جسم سے جدا کیا گیا۔ شہید کے جیب سے اس کاشناختی کارڈ، سرورس کارڈ، ماں کا میڈیکل انٹائیٹلمنٹ (entitlement)کارڈ اور چھٹی کے کاغذات نکلے۔ یعنی صبح ڈیوٹی کے بعد اس نے اپنے گائوں چھٹی پر روانہ ہونا تھا تاکہ ماں کا علاج کروائے۔ اگلے روز وہ روانہ تو ضرور ہوا مگر اپنے ساتھیوں کے کاندھے پر۔ پہلے شہید کو فیلڈ ہسپتال گوما بھیجا گیا جہاں نادرا کے بنائے گئے نظام سے اس کی پہچان سپاہی محمد حسین کے نام سے ہوئی اور یہ سسٹم اس لئے قائم کیا گیا تھا کہ ہر شہید کو اس کی وصیت کے مطابق پینشن وغیرہ کی ادائیگی کی جاسکے۔ شہیدوں کے اجسام تلاش کرنے والے افراد کے ہاتھوں میں سخت سردی کی وجہ سے فراسٹ بائٹ کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں کیونکہ اب یہ لوگ برف اپنے ہاتھوں سے کھرچ کھرچ کر ہٹا رہے تھے تاکہ شہیدوں کے جسم کی بے حرمتی نہ ہو۔ انہیں اپنے آرام اور چین سے کسی طرح کی غرض نہیں تھی ان کا مطمعِ نظر صرف یہ تھا کہ کسی بھی طرح اپنے دبے ہوئے ساتھیوں کے جسم برآمد کر کے ان کے عزیزوں کے حوالے کر دیں۔اگلے روز نئے جذبے اور نئے ولولوں کے ساتھ پھر کام شروع کر دیا گیا۔ پہلی میت شام 3 بجے نظر آئی اور رات 8 بجے تک لوگ 2 شہیدوں کے لاشے نکالنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ جو مکمل طور پر سلیپنگ بیگز میں بند تھے۔ جن کی پہچان سپاہی الیاس علی اور سپاہی راشد حسین کے ناموں سے ہوئی۔ سپاہی راشد حسین کا تعلق گائوں پتن شیر خان، تحصیل پلندری سے تھا ۔اس کی جیب سے اُس کی تنخواہ 19822 روپے اور قومی شناختی کارڈ برآمدہوا جبکہ سپاہی الیاس علی کاتعلق خار کو لحار، تحصیل ڈھگونی ضلع گھانچے سے تھا۔ سپای الیاس کو گیاری میں موجود نہیں ہونا چاہئے تھا یہ کرمانڈنگ پوسٹنگ پر تھا جہاں سے یہ 6اپریل کو چھٹی پر روانہ ہوا مگر لوگ حیران تھے کہ 50 دن گزرنے کے بعد بھی وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں پہنچا۔ بعد کی تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ گیاری اپنے بھائی سے ملنے آیا تھا جو 6 این ایل آئی میں نوکری کر رہا تھا۔ شاید اس کا گیاری والا بھائی اس کے ہاتھ اپنی تنخواہ اپنی فیملی کو بھجوانا چاہتا ہو۔ آرمی یونٹس کے افراد اس قسم کی خدمات بھائی بندی میں ایک دوسرے کے لئے سرانجام دیتے رہتے ہیں لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ اس نے شہادت کے منصبِ اعلیٰ پر فائز ہونا تھا۔ دونوں کی نمازِ جنازہ پہلے گیاری میں اداکی گئی اور پھر ان کے تابوتوں کو ان کے آبائی گائوں کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ کمانڈر ، ایف سی این اے، برگیڈئیر کمانڈر اور آفیسر کمانڈنگ نے سپاہی الیاس علی شہید کی نمازِ جنازہ دوبارہ اس کے گائوں جا کر پڑھی۔ جس میں 6 این ایل آئی کے کافی لوگوں نے شرکت کی۔ جبکہ اس کا بھائی جو 6 این ایل آئی میں تھا اس کی لاش ابھی وہیں گیاری میں دبی ہوئی تھی۔ جب گائوں میں سینیئر آفسران اور یونٹ کے لوگوں نے اس کے باپ سے تعزیت کی تو وہ اُنہیں ایک قبر پر لے جا کر کہنے لگا یہ میرا وہ قابلِ فخر بیٹا ہے جس نے معرکہ کارگل میں شہادت حاصل کی۔ عمر کے لحاظ سے قوم کایہ محسن 55 یا 56 سال کا نظر آتا تھا مگر حقیقتاً عزم و حوصلے کی ایسی چٹان تھا جس نے اپنے 3 بیٹے وطن پر قربان کر دیئے تھے۔ وہ غمگین ضرور تھا مگر اس کے روشن چہرے پر ملال کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے میں عموماً کہا جاتا ہے کہ باپ کے لئے سب سے بھاری وزن اس کے بیٹے کا لاشہ ہوتا ہے۔ لہٰذا کمانڈر نے اس باپ کو فوجی سلام کیا، گلے لگایا اور کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ان تینوں شہیدوں کی ماں سے بھی مل لوں۔ اور اسے اس کے شیروں دلیروں کا پرسہ دے سکوں۔ اسی دوران بچوں کے والدِ گرامی نے ایک 18 یا 19 سال کے جوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا سب سے چھوٹا اور آخری بیٹا ہے براہِ مہربانی اس کو بھی آپ فوری طور پر پاک آرمی میں بھرتی کر لیں۔ کسی میں جرأت ہے کہ ایسی غیرت مند اور شجاع قوم سے ٹکر لینے کی جرأت کر سکے۔ اور ساتھ ہی باپ نے گزارش کی کہ مجھے جلد ازجلد میرے تیسرے بیٹے کالاشہ بھی تلاش کر کے دیا جائے تاکہ اسے بھی بھائی کے پہلو میں دفن کروں۔کمانڈر کے دل میں ایسی ماں سے ملنے کا اشتیاق مزید بڑھا جو تقریبا دو ماہ سے آگاہ ہے کہ اس کے دونوں بیٹے شہید ہو چکے ہیں مگر پھر بھی شوقِ انتظار میں محو ہے کہ کب ان کے لاشے اس کی نظروں کے سامنے آئیں گے اور کب وہ ان کے چہروں کی زیارت کر کے  سر اور پیشانی کا بوسہ دیتے ہوئے کہے کہ' تم نے شہید ہو کر ماں باپ اور پورے خاندان کی عزت میں اضافہ کیا۔' کمانڈر اکرام الحق سوچ رہے تھے کہ میں ایسی بلند مرتبہ ماں کو کن الفاظ میں تعزیت اور خراجِ تحسین پیش کروں کہ مکان میں داخل ہو گئے جہاں ہلکی سی روشنی میں انہیں چار خواتین تعزیتی سیاہ لباس میں ملبوس نظر آئیں۔ جس میں ایک شہید کی ماں تھی اور تین شہیدوں کی بیوائیں۔ کمانڈر نے اشک بھری آنکھوں سے سب کچھ کہہ کر خاموشی سے باری باری ان کے سروں پر ہاتھ رکھا۔ ماں نے مقامی زبان میں کچھ گفتگو شروع کر دی۔ واپسی پر کمانڈر نے الیاس کے چچا سے پوچھا ، شہیدوں کی ماں کیا فر ما رہی تھیں انہوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہی تھیں کہ جو اللہ کی مرضی ہم سب اس پر اضی برضا ہیں۔ یہ سن کر جتنے بھی لوگ وہاں موجود تھے سب کی آنکھیں بھیگ گئیں کہ یہ کیسی ماں ہے جو تین بیٹوں کی قربانی کے بعد بھی اللہ کاشکر ادا کرتی نظر آئی اور کسی قسم کا کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتی۔ پوری قوم ایسے والدین کی ممنونِ احسان ہے اورانہیں سلام پیش کرتی ہے۔
ٹیم نے 26 اگست 2013 تک ، موسم کی خرابی کے باوجود 368 دن، اوسطاً 18-16 گھنٹے روزانہ کام کر کے 3.42 ملین ٹن ملبہ کھودا اور اٹھا کر مختلف مقامات پر ڈمپ کیا۔ جو حجم میں ٹوئن ٹاور سے دوگنا تھا۔ آرمی نے اپنے بجٹ سے صرف 92 کروڑ روپے خرچ کئے اور 133 شہدا ء کے لاشے ان کے عزیزو اقارب تک پہنچا کرسُرخرو ہوئے۔ہر شہید کے خاندان سے اور شہیدوں سے جڑی ایثار و قربانی کی کئی منفرد داستانیں ہیں۔ جو جان فروشانِ ملک و ملت کے دلوں کوہر عہدمیں گرماتی رہیں گی۔

ستارے ملک و ملت کے سَرِ افلاک چمکیں گے
یہ جب بھی یاد آئیں گے دلوں کے باغ مہکیں گے ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
 

یہ تحریر 365مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP