قومی و بین الاقوامی ایشوز

یاسین ملک کی سزا اور بی جے پی کی کشمیر پالیسی

حال ہی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو بھارت کی خصوصی عدالت نے بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کا مجرم قرار دیا۔ ان کو دہشت گردی کی مالی معاونت(Terror Financing) کے الزام میں دو مرتبہ عمر قید کے ساتھ دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔شبیر احمد شاہ سمیت دیگر حریت قیادت پربھی اسی نوعیت کے سیاسی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ مودی کی حکومت میں ان کے ساتھ بھی اس غیر منصفانہ سلوک کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



بھارت کی سخت گیر ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کا سیاسی چہرہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) 2014 سے اقتدار میں ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں نریندر مودی کی زیر قیادت بھارت کی مرکزی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی ہے، اس کی نظیر 75 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ کشمیر کی رواں تحریک آزادی میں شہادتیں، گرفتاریاں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ نئی بات نہیں۔ تاہم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد کشمیریوں کو ظلم و جبر، تشدد، رکاوٹوں اور پابندیوں کے جن نئے سلسلوں سے واسطہ پڑا، وہ انتہائی دردناک بھی ہیں اور جموں و کشمیر کے مستقبل کے لیے تشویش ناک بھی۔ بی جے پی کی حکومت کے دوران 2018میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی  تحلیل کردی گئی۔ 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کردی گئی اور وہاں بہت تیزی کے ساتھ آبادی کا تناسب بگاڑا جا رہا ہے۔ اسی حکومت کے دوران کشمیریوں کی صف اول کی حریت قیادت پابند سلاسل ہوئی۔ بعدازاں بھارت نواز کشمیری قیادت کو بھی 2019 میں نظر بند کردیا گیا۔ اگرچہ بیشتر بھارت نواز رہنمائوں کی نظر بندی ختم کردی گئی ہے، تاہم ان کو سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے آزادانہ ماحول نہ پہلے کبھی دیا گیا اور نہ اب دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حریت قیادت میں سے سید علی گیلانی اور محمد اشرف صحرائی 2021 میں دوران حراست انتقال کرگئے۔ جب کہ شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ اور آسیہ اندرابی سمیت حریت کی مرکزی قیادت دہلی کی تہاڑ جیل میں سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ حال ہی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو بھارت کی خصوصی عدالت نے بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کا مجرم قرار دیا۔ ان کو دہشت گردی کی مالی معاونت(Terror Financing) کے الزام میں دو مرتبہ عمر قید کے ساتھ دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔شبیر احمد شاہ سمیت دیگر حریت قیادت پربھی اسی نوعیت کے سیاسی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ مودی کی حکومت میں ان کے ساتھ بھی اس غیر منصفانہ سلوک کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دراصل بی جے پی کی حکومت کشمیر کی تحریک آزادی کو تشدد، رکاوٹوں، طاقت کا انتہائی استعمال، قید وبند کی صعوبتوں اور پابندیوں کے ذریعے کچلنے پر یقین رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں بی جے پی کی قیادت پاکستان اور اقوام متحدہ سمیت  عالمی برادری کی کسی بھی تشویش کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، آبادی کے تناسب میں بگاڑکے منصوبے، اسمبلی نشستوں کے لیے نئی حلقہ بندیاں، جس میں ہندو اکثریتی اضلاع پر مشتمل جموں کو وادی کے مقابلے میں آبادی کے تناسب کے برخلاف زیادہ نشستیں دی گئیں۔ ان تمام اقدامات کا مقصد کشمیر کے مسلم تشخص کو بگاڑ کر بھارت کے دائمی قبضے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ بی جے پی کا یہ منصوبہ اسرائیل طرز کے منصوبے پر مشتمل ہے، جس طرح فلسطین میں اسرائیل نے طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ظلم و جبر روا رکھا اور آبادی کا تناسب بری طرح متاثر کرکے بتدریج اپنی پوزیشن مستحکم کی، بھارت بھی انہی خطوط پر عمل پیرا ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ نوعیت اختیار کررہا ہے اور خطے میں امن کے بجائے دائمی دشمنی، جنگ اور نفرت کا ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔
بی جے پی کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ستانے لگاہے کہ کشمیر میں حالیہ برسوں انتقامی کارروائیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا اور جس طرح نفرت اور تشدد کی راہ ہموار کی جارہی ہے، اس کا نتیجہ نوے کی دہائی جیسے حالات پیدا کرنے کی صورت میں نکلے گا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں تحریک مزاحمت نے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے جو صورت اختیار کی تھی، موجودہ دور کے حالات اس سے مختلف نہیں۔ ڈاکٹر طاہر امین نے اس وقت کے حالات کا احاطہ کرتے ہوئے اپنی کتاب ''کشمیر میں تحریک مزاحمت'' میں لکھا ہے:
1987 میں کشمیر میں ابھرنے والی بے مثل عوامی تحریک بنیادی طور پر بھارت کی ان سیاسی، معاشی اور ثقافتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو انہوں نے کشمیر میں اپنائیں۔ دھاندلی کے شکار انتخابات کے نتیجہ میں سیاسی عمل سے علیحدگی، کٹھ پتلی حکومتوں کا مسلط کرنا، ناانصافی سے پیدا ہونے والی شدید شکایات اور وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بیروزگاری، جو غیر متوازن معاشی پالیسیوں کا نتیجہ تھی اور سیکولرازم کے دعوئوں سے متضاد، حکومت کے عملی رویے کے نتیجے میں رونما ہونے والی ثقافتی علیحدگی بحران کے اصل اسباب پیدا کرنے میں ممد ثابت ہوئیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت اور بھارت کی مرکزی حکومت شاید ان اسباب کو شعوری یا لا شعوری طور پر ایک مرتبہ پھر تقویت فراہم کر رہی ہے۔ اس وقت بھی یاسین ملک اور نوجوان کشمیریوں نے مسلح مزاحمت کی راہ بھارت کی جانب سے روا رکھے گئے مظالم کے باعث اختیار کی تھی۔ کیا بی جے پی چاہتی ہے کہ یاسین ملک نے 1994 میں مسلح مزاحمت سے دستبرداری کا جو فیصلہ کیا تھا، کشمیری نوجوان ایک مرتبہ پھر اس راہ کو پوری شدت کے ساتھ اپنانے پر مجبور ہوجائیں؟ اگرچہ کشمیر میں مسلح جدوجہد آزادی کا سلسلہ تھما نہیں ہے، لیکن سیاسی جدوجہد آزادی پر یقین رکھنے والے کشمیریوں کی راہ میں جس طرح رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں اور پابندیوں اور تشدد کے نئے سلسلوں کے ذریعے ان کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کا انتہائی بھیانک نتیجہ برآمد ہوگا۔
بدقسمتی سے بی جے پی کی قیادت کشمیر میں امن قائم کرنے کے بجائے ان رویوں کو پروان چڑھانے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جو تشدد اور بدامنی کا باعث بنتے ہیں۔ حال ہی میں''دا کشمیر فائلز'' کے نام سے جو فلم جاری کی گئی، اس میں وادیٔ کشمیر سے1990  کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کو انتہائی جانب داری کے ساتھ پیش کیا گیا اورکشمیری مسلمانوں کی مضحکہ خیز تصویر کشی کی گئی،یہ نہ صرف کشمیریوں کی خواہشات کو ٹھیس پہنچانے کا ذریعہ بنی ہے، بلکہ بھارت کے ہندوئوں بالخصوص کشمیری پنڈتوں کو بھی نفرت اور تشدد پر مائل کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ اس متنازع فلم میں انتہائی مکاری کے ساتھ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد سے صرف نظر کرکے ان کی تحریک کو پنڈتوں کی نسل کشی کے طور پر دکھایا گیاہے۔ سنگاپور نے اس فلم پر یہ کہہ کر پابندی عائد کردی کہ اس فلم میں کشمیر میں جاری تنازع  میں مسلمانوں کی جانب دارانہ اور اشتعال انگیز تصویر کشی کی وجہ سے سنگاپور جیسے کثیرا لثقافتی اور کثیر المذہبی ملک میں رہنے والی مختلف برادریوں میں دشمنی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور مذہبی رواداری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سنگاپور کی حکومت نے بجا طور پر درست نتیجہ اخذ کیا ہے۔ یہی سوچ دنیا کی بڑی جمہوریت بھارت کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارت میں نہ صرف اس نوعیت کی فلمیں بن رہی ہیں، بلکہ سرکاری سطح پر ان کی پذیرائی بھی ہو رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی براہ راست ذمہ داری خود بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ گزشتہ 75 برسوں میں ساری توانائیاں اس  بات پر صرف کی گئیں کہ کسی طرح کشمیر کی تحریک آزادی دم توڑ جائے۔ لیکن تمام تر کوششوں، رکاوٹوں اور سنگین مجرمانہ عزائم کے باجود کشمیر میں نہ صرف آزادی کی تحریک جاری ہے، بلکہ پہلے سے توانا بھی ہے۔ بلاشبہ پون صدی کا عرصہ معمولی نہیں ہوتا، اگر اس قدر طویل عرصے میں ہر طرح کی کوششوں کے باوجود اس تحریک کو کچلا نہ جاسکا، تو آئندہ بھی ظلم وجبر کے سلسلوں سے اس کو دبایا نہ جاسکے گا۔ ان حالات میں بہتر راہ یہی ہے کہ پاکستان و بھارت،جوجنوبی ایشیا کے اس خطے میں ایٹمی طاقت کے حامل ممالک ہیں، کشمیر میں امن کے لیے مخلصانہ کردار ادا کریں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا قابل قبول تصفیہ نہیں ہوجاتا، اس وقت تک پاکستان و بھارت پرامن رہ سکتے ہیں اور نہ ہی اس خطے کا علاقائی امن بہتر ہوسکتا ہے۔
گزشتہ سال 2021 میں اس خطے میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ امریکا بیس سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے فوجی انخلا کرگیا۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، بلکہ اس کے لیے فریقین کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ بالآخر 2020 میں دوحہ میں ایک امن معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں امریکا نے ایک طویل جنگ سے خود کو علیحدہ کرلیا۔ یہی کردار اس وقت کشمیر میں بھی دہرانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں اس مسئلے پر جنگیں بھی لڑی گئیں، مذکرات بھی ہوئے اور معاہدے بھی، لیکن ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ کیونکہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق نہیں دیا گیا، بلکہ  عیارانہ طور پر ان کے اس حق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، یا پھر ان کی آواز کو بندوقوں اور لاٹھیوں سے دبانے کی کوششیں کی گئیں۔ بھارت کی موجودہ حکومت اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرے کہ وہ کشمیر میں ظلم و جبر کا سلسلہ اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات اسی طرز پر جاری رکھنا چاہتی ہے، یا ان گمبھیر حالات میں امن کی راہ اپناکر کشمیر کے مسئلے کو حل کرکے بہتر تعلقات کو ترجیح دیتی ہے۔بلا شبہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ہندوستان پر انگریزوں نے طویل عرصہ حکومت کی، لیکن آج وہ نہیں ہیں۔ اس سے قبل مغل حکمران تھے، آج وہ بھی نہیں ہیں۔اسی طرح آج جو صاحب اختیار ہیں، کل وہ بھی نہیں ہوں گے۔ تاریخ میں صرف ان کا اچھا یا برا حوالہ باقی رہ جائے گا۔ ||


مضمون نگار مصنف، محقق اور صحافی ہیں۔ جامعہ کراچی سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 119مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP