قومی و بین الاقوامی ایشوز

قیامِ امن میں پاک فوج کا کردار

دریائے آموکے اس پا ر 15فروری1989کو کر نل جنرل لورس گورومووکی قیادت میں جب شکست خوردہ روسی فوج کا آخری دستہ افغانستان سے رخصت ہورہا تھاتو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ یہ رخصتی دراصل ایک نئی جنگ کی نوید ہے جو آئندہ کئی د ہا ئیوں تک زخم خوردہ افغانستان اور خطے کے دوسرے ممالک کواپنی لپیٹ میں لئے رکھے گی۔ دو د ہا ئیوں پر محیط رہنے وا لی اس جنگ کے بعد ایک پائیدار امن  اور سکون کی توقع تھی لیکن صورتحال اس کے برعکس ثابت ہوئی ۔ مجاہدین کے مختلف گروپس نے اپنی اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کے لئے ہتھیار اٹھالئے ۔ بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک اپنے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اس پر تیل ڈال کر اس آگ کو مزید بھڑکاتے رہے۔ بھارت سوویت یونین کے اس حملے سے بڑی امیدیں لگا کر پاکستان کی شکست وریخت کو دیکھ رہا تھا ۔ لیکن سوویت یونین کی تاریخی شکست اور وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کی آزادی نے اس کی امیدوں پر پانی ڈال کراور ابھرنے والے مضبوط مسلم ممالک نے اس کے نیندیں اڑادیں چنانچہ اس نے سازشوں کا ایک نیا جال پھیلایا۔ دوسری طرف مجاہدین کی اب نئی نسل تیار ہو چکی تھی جواب مجاہدین سے زیادہ طاقت اور وسائل کے حصول کے لئے متحارب گروپوں کی شکل اختیار کر چکے تھے جس کا مطمع نظر قطعاً اسلامی آئیڈیالوجی نہ تھا۔ دوسری جانب بین الاقوامی قو توں اور بھارت سمیت خطے میں تسلط اور برتری کے خواہشمنددیگر ممالک نے بھی سازشوں کا بازار گرم رکھا۔
بہرطور 9/11کا واقعہ تا ریخ کا وہ موڑ ثابت ہوا جونہ صرف طالبا ن حکومت کے خاتمے کا باعث بنا بلکہ خطے میں افغانستان اور پاکستان میں کشت وخون کے اس باب کا آغاز ہوا جو اب تیسری دہائی میں داخل ہو چکا ہے۔افغانستان کے بعد پاکستان وہ واحد ملک تھا جو اس جنگ کا عملی طور پر حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی معاشی اور معاشرتی کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے متاثر ہوا۔
 نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو امریکہ 26ممالک کی افواجNATO کے ساتھ  افغانستان پر حملہ آور ہو کر طالبان حکومت ختم کر چکا تھا تمام طالبان اور القاعدہ قیادت تتر بتر ہوچکی تھی۔طالبان جنگجوں کی ایک بڑی تعدادماری جاچکی تھی اور بچی کھچی پہاڑوں میں روپوش تھی۔اس وقت پا کستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا تھا۔ چنانچہ ضرورت تھی کہ شعلوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر زخم خوردہ پاکستان کوبچا یا جاسکے۔ دشمن ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لئے یہ ایک سنہرا موقع تھا، پیسے کی چمک بھی دکھا ئی اور اسلام کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے سادہ لوح قبائلی مسلمانوں کے کئی گروہوں کو افواج پاکستان کے سا منے لا کھڑا کیا گیا ۔ ان کو وسائل کی فراہمی بلکہ ہر طرح کی سہولت دی ۔افغانستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے ڈیورینڈ لائن کا کبھی بھی دفاع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی  کیونکہ دونوں اطراف کی پشتون آبادی رشتہ داریوں میں بندھی تھی اور ایک کثیر تعداد سے افغان آبادی پاکستان میں بغیر پاسپورٹ اور ویزے کاروباری سلسلے میں آتی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان 30 لاکھ افغان مہاجرین کو سنبھالے ہوئے تھا جو کہ دنیامیں کسی بھی ملک میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 2000سے 2017 تک تقریباً دو دہائیوں پر محیط ایک عجیب دور تھا جس میں دوست اور دشمن کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ تحریک طالبان کے ہیڈ کوارٹر قبائلی علاقوں میں تھے جبکہ ان کے سہولت کار پاکستان کے طول و عرض میں چھپے ہوئے تھے جن کے مذموم مقاصد فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروںپرحملوں کے ساتھ ساتھ صرف دہشت گردی تھی چنانچہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں کو بلاتفریق نشانہ بنایاگیا۔ مساجد، چرچ، مندر، مزار، ہسپتال اور درسگاہیں ان کے نشانے پر تھیں۔ معصوم انسانوں کو جاسوسی اور بغاوت کا الزام لگا کر سر بازار ذبح کیا گیا۔ چوکوں میں لاشیں لٹکا دی گئی۔ ان حالات میں افواج پاکستان کے پاس ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا چنانچہ 2002 میں آپریشن المیزان شروع کیا گیا جس کا مقصد جنوبی وزیرستان میں دہشت گرد وں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی بیخ کنی کرنا تھا۔ وہاں کی مقامی آبادی بھی ان دہشت گردوں کے ظلم وستم سے عاجز تھی جو اسلام کا نام لے کر بے گناہوں کے گلے کاٹ رہے تھے چنانچہ مقامی لوگوںنے بڑھ چڑھ کر افواج پاکستان کی مدد کی۔بعد کے سالوں میں آپریشن شیردل، آپریشن راہ حق، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات بھی شروع کئے گئے۔ ان تمام آپریشن کا ٹارگٹ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردوں کے حوصلے بہت بلند تھے۔ زن ، زر کی چمک سے ان کے پاس مدرسوں کے سادہ لوح طلباء تھے جن کو جنت کی راہ دکھا کر فوج، پولیس، اور ہر طرح کی سول آبادی کو نشانہ بنانے کی تربیت دی جاتی تھی لیکن افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت پر دشمن بھی انگشت بدنداں رہ گیا کیونکہ ایک طرف نیٹو اور ISAF کے بینر تلے40 ممالک کی فوج تھی جو ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے لیس تھیں مگر طالبان کے سامنے بے بس تھیں جبکہ ادھر اکیلے پاکستان اپنے زورِ بازو اور اللہ کی نصرت سے گوریلا وار کے ماہر اور سخت جان دہشت گردوں کی کمر توڑ رہا تھا۔ کامیابیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا، ایک ایک قلعہ اور کمین گاہ فتخ ہوتی رہی، دشمن پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کی ان کامیابیوں پر تلملار ہا تھا۔ یہ کامیابیاں جھولی میں نہیں آگریں۔ خون کا نذرانہ دینے والے تمام شہداء کے نام اگر لکھے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے۔ ان شہداء میں افواج پاکستان کے سینیئر سے جونیئر رینک تک کے آفیسرز اور جوان شامل ہیں۔  دُشمن کا ہتھیار خود کُش حملے اور بارودی سُرنگوں کا استعمال تھا  جس کے نتیجے میں شُہداء کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد اپنے اعضاء سے محروم ہو کر غازی ہونے والوں کی بھی تھی لیکن افواجِ پاکستان کے سپوتوں کا حوصلہ اور عزم متزلزل نہ ہوا اور وہ اپنے عظیم مقاصد کی کامیابی کے لئے مسلسل آگے بڑھتے رہے۔اور آخر کار جنوبی وزیرستان اِن درندوں کے چنُگل سے آزاد کرا کے پُر امن بنا دیا گیا۔ سوات کی خوبصورت وادی مالا کنڈ ڈویژن میں واقع ہے یہاں کے لوگ پشتون،خوشحال اور پُرامن ہیں چُنانچہ بھارت اور اُس کے معاونین نے اِس پُر امن وادی کو نشانہ بنانے کا سوچ لیا۔ مقامی آبادی کو اِسلام کے نام پر گمراہ کیا گیا لیکن مقامی آبادی کو بھی ادراک ہو گیا کہ تحریک نفاذ شریعت محمدیۖ کے نام پر اِن کو بیوقوف بنایا گیا ہے اور دہشتگردوں کا مطمع نظر صِرف پُر تشدد کارروائیاں، طاقت کا حصول اور وسائل پر قبضہ ہے۔ لیکن افواجِ پاکستان نے آپریشن راہ حق اور راہ راست کے ذریعے آہستہ آہستہ صفایاشروع کر دیا۔ 2007سے 2009تک  خون ریز جھڑپوں میں افوا ج ِپاکستان کے سپوتوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور سول اداروں کے ہزاروں ملازمین نے اپنی جانیں قربان کیں جن میں صحافی حضرات بھی پیش پیش تھے علاقے کو مکمل طور پر صاف کرنے کے لئے فوج نے  بہترین حکمتِ عملی اختیار کی جو شاید ہی دنیا میں کہیں بھی اپلائی کی گئی ہو۔ گنجان آباد علاقے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں تھیں جس کی وجہ سے وہاں آپریشن کرنا فوج کے لئے انتہائی دُشوار تھا چنانچہ کمال مہارت سے 3ملین کی آبادی کے لئے نیا شہر بسا کر مینگورہ اور دوسرے علاقوں کے لوگوں کو وہاں منتقل کیا گیا۔
  آبادی کی اس نقل مکانی سے مقامی لوگوں کو دشواری اور تنگی تو محسوس ہوئی، مگر ملک بھر سے مخیر حضرات نے اپنے بے گھر ہونے والے بھائیوں کے لئے دل اور وسائل کے دروازے کھول دئیے۔ چنانچہ چند ماہ میں ہی ایک بھرپور آپریشن سے تمام دہشت گردوں کو مار دیا گیا۔ جنہوں نے ہتھیار پھینک دئیے ان کو ری ہیبلیٹیشن سینٹرز میں شفٹ کر دیا گیا تاکہ ان کو دوبارہ معاشرے کا صحت مند اور کارآمدفرد بنایا جا سکے۔ بہت سے دہشت گرد بھاگ کر سرحد کے اُس پار افغانستان چلے گئے جہاں ان کے آقاؤں نے اُن کو دوبارہ کسی مشن میں استعمال کرنا تھا۔
سوات اور جنوبی وزیرستان میں امن کی بحالی کے بعد اب شمالی وزیرستان میں آپریشن کی ضرورت تھی۔ ان علاقوں سے بھاگ کر دہشتگردوں کی ایک بہت بڑی تعداد شمالی وزیرستان میں پناہ گزین تھی۔ ملک بھر کے تمام آپریشن اور کارروائیاں یہیں سے کنٹرول ہو رہی تھیں۔ چنانچہ دہشت گردوں کے اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے ضربِ عضب کا آغاز کر دیا گیا۔ راقم اس آپریشن میں بطور آئی ایس پی آر آفیسر بنفسِ نفیس شریک رہا۔ سوات کے تجربے کے بعد دہشت گردوں نے یہاں مقابلہ کرنے کے بجائے راہِ فرار اختیار کی اور اپنے ٹھکانے جو اسلحہ و بارود اور بارودی سرنگوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تھے، چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ میران شاہ جو کہ شمالی وزیرستان کا ہیڈ کواٹر ہے، سے15 جون 2014 کو  ضربِ عضب آپریشن کا آغاز ہوا۔ سوات آپریشن والی اسٹریٹجی اپنی بھرپور کامیابی کے باعث یہاں بھی دہرائی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقامی لوگوں کے لئے بنوں کے گرد و نواح میں خیموں کا ایک وسیع شہر آباد کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس آپریشن میں فوج کے ساتھ تعاون کیا اور اس تعاون کی بدولت میران شاہ، دتہ خیل اور میر علی کے علاقے مکمل طور پر کلئیر کرا لئے گئے۔
بعدازاں فروری 2017 میں آپریشن رد الفساد شروع کیاگیا جس کے تحت ملک کے طول و عرض میں جہاں کہیں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار موجود تھے اُن کی نشاندھی کرکے اُنہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا گیا۔
 کامیابیوں کا یہ سفر قربانیوں کے بغیر نا ممکن تھا۔ اگر دیکھا جائے تو تمام آپریشن کے دوران فوج کے 8 ہزار کے قریب جوانوں اور ہر رینک کے افسروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ پولیس اور سول اداروں کے لوگوں اور عامآبادی کی شہادتوں کی تعداد60 ہزار کے قریب ہے۔ 
الحمد للہ اُس وقت ان تمام علاقوں کے انچ انچ پر امن اور حکومت کی رٹ بحال کر دی گئی ہے۔ البتہ دہشت گردوں کی چھوٹی موٹی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ اس کے علاوہ افواجِ پاکستان نے امن کی بحالی کے بعد خوشحالی اور ترقی کے مرحلے کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 254مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP