یوم دفاع

دفاعِ وطن میں غیرمسلموں کا کردار

 6 ستمبر ہماری تاریخ کا وہ دن ہے جب ایک نوزائیدہ مملکت کو اپنی بقا کی خاطر میدان وغا میں جارح دشمن سے پنجہ آزمائی کرنا پڑی۔ دفاعِ وطن کی اس جنگ میں مردو زن ، پیر و جواں اور مسلم و غیر مسلم بلاتخصیص رنگ و نسل اور مذہب ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ یہ جنگ اگرچہ سترہ روز جاری رہی، مگر اس کے اثرات تاقیامت باقی رہیں گے اور جب تک دنیا قائم ہے اس کے اسباق پڑھائے جاتے رہیں گے۔ 
اس جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں نے بھی دادِ شجاعت دیتے ہوئے دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑے اور 1948، 1965، 1971کی جنگوں میں دادِ شجاعت دی۔پاکستانی مسیحی بہادروں کی طویل فہرست ہے جنہوں نے دشمن کے خلاف مختلف محاذوں پر بہادری دکھائی۔ذیل میں چیدہ چیدہ افراد کا تذکرہ ہے جنہوںنے پاکستانی افواج کی ترقی اور دفاعِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا۔
 عیسائی کمیونٹی نے تمام دفاعی افواج میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر فضائیہ میںان کا کردار بہت نمایاں ہے۔ ائیر وائس مارشل بی کے داس جنہیںاعلیٰ عہدوں پر ترقی دی گئی، انہوں نے چین کے ساتھ پہلے ہوائی نقل و حمل کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ 1965 میں اپنے ملک کے دفاع میں ناقابل یقین خدمات اور قربانیوں پر چند بہادر اور دلیر افسران کو ستارہ جرأت اور تمغہ بسالت جیسے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا۔



ایئر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال
ایئر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال نے 1943 میں بطور پائلٹ کمیشن حاصل کیا ۔1947میں تقسیم کے وقت جب انتخاب کا مرحلہ آیا تو انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا۔ انہیں ابتدائی طور پر رسالپور میں تعینات کیا گیا اور انہیں پاکستان کی فضائیہ کی تربیت اور تعمیر میں مدد کرنے کا مشکل کام سونپا گیا۔1965 میں، جب جنگ قریب تھی، وہ پاکستان میں بھاری بمبار طیاروں کی کمی سے آگاہ تھے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے انہوں نے فضائیہ کے C-130 طیاروں کو بھاری بمبار طیاروں میں تبدیل کر دیا، جو 20,000 پائونڈ تک کے بم لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ C-130  طیاروں کے استعمال اور ان کی افادیت کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے 11 ستمبر 1965 کو کٹھوعہ پل پر پہلے بمباری مشن کی کامیابی کے ساتھ قیادت کی۔ اس کامیابی پر اعلیٰ کمان نے اسی طرح کے مزید 13 مشنوں کی اجازت دی۔ ایرک جی ہال کو 1965 کی جنگ میں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔
ونگ کمانڈر مروین لیسلی
 ونگ کمانڈر مروین لیسلی مڈل کوٹ 1965 کی جنگ کے دوران نمبر نو سکواڈرن کی کمان کر رہے تھے اور فرنٹ سے قیادت کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ اپنی اعلیٰ  قیادت اور جارحانہ حکمت عملی کی بدولت انہوںنے بھارتی فضائیہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ انہوںنے اپنے شاہینوں کے حوصلے بلند رکھے اور کسی بھی مرحلے پر دشمن کی عددی برتری کو اپنے مقصد کے آڑے نہ آنے دیا۔  ان کی قیادت اور فرض شناسی کی وجہ سے انہیں 1965 میں ستارہ ٔجرأت سے نوازا گیا۔ 
گروپ کیپٹن سیسل چوہدری
سیسل چوہدری نے 1960 میں گریجویشن کیا۔ وہ مشہور فوٹوگرافر فوسٹین ایلمر چوہدری کے بیٹے تھے، جنہوں نے 1940 کی قرارداد پاکستان کا مشاہدہ کیا اوروہ تحریکِ پاکستان کے ایک سرگرم رکن تھے۔ 1965 میں جب جنگ شروع ہوئی تو سیسل چوہدری معروف سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کے ماتحت فلائٹ کمانڈر (ٹریننگ)کے طور پر کام کر رہے تھے۔وہ لاہور اور سیالکوٹ پر بھارتی زمینی حملے کو روکنے کے لیے متعددامدادی مشنوں کو اڑانے میں مصروف رہے۔ ہلواڑہ کے مشن میں یونس اور رفیقی کے ساتھ وہ بھی شریک تھے۔
 سیسل چوہدری اور اس کے ساتھی، رفیقی اور یونس، ہلواڑہ  مشن کے دوران جب اپنے ہدف کے قریب پہنچے تو انہیں بھارتی فضائیہ کے متعدد ہنٹر طیاروں نے روک لیا۔اسی دوران، رفیقی کی گنیں جام ہوگئیں۔ اس پر رفیقی نے سیسل کو قیادت سونپ دی۔ تینوں نے بہادری سے مقابلہ کیا لیکن افسوس کہ رفیقی اور یونس کے طیارے مشن کے دوران دشمن کا نشانہ بن گئے جبکہ سیسل دشمن کے ایک ہنٹر کوتباہ کرکے بحفاظت واپس آنے میں کامیاب ہو گئے۔ اپنے سرپرست رفیقی اور دوست یونس کے کھونے سے سیسل کوشدید صدمہ تھا اور انہوں نے باقی جنگ جارحانہ انداز اور عزم کے ساتھ لڑی۔ ان کی ہمت، لگن اور پیشہ ورانہ قابلیتکی بدولت سیسل کو ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔
سکواڈرن لیڈر ولیم ڈیسمنڈ ہارنی 
سکواڈرن لیڈر ولیم ڈیسمنڈ ہارنی نے 1957 میں پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔1965 کی جنگ کے دوران انہوںنے بمباری کے14 مشن کیے جن میں آدم پور، ہلواڑہ، جودھ پور، پٹھانکوٹ اور انبالہ سب سے زیادہ خطرناک تھے۔ مشکلات کے خلاف لڑتے ہوئے، وہ ہمیشہ اپنے اہداف تک پہنچے اور اپنے ہدف کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔انتہائی ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرنے پر ڈبلیو ڈی ہارنی کو ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔
سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی
سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی نے B-57 نیویگیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور 1965 میں کئی کامیاب آپریشنل مشن اڑائے۔ 6 دسمبر 1971 کو، سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی کو جام نگر میں بمباری کے مشن کے لیے بطور نیویگیٹر تعینات کیاگیا۔ وہ مشن سے واپس آنے میں ناکام رہے اور انہیں سرکاری طور پر لاپتہ قرار دے دیا گیا۔ ان کی ذاتی مثال اور فرض سے مکمل لگن کے باعث انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔
پی اے ایف کے علاوہ بری فوج اور بحریہ کے بہت سے افسران ہیں جنہوں نے 1965 کی جنگ میں  بہادری کے جوہر دکھائے چھمب سیکٹر میں کرنل ٹریسلر، ظفروال اور شکر گڑھ میں کرنل کے ایم ڈبلیو ہربرٹ، بیدیاں میں کرنل کے ایم رائے، کھیم کرن میں بریگیڈیئر انتھونی لیمب شامل ہیں۔ جنگ میں بہادرانہ کارناموں پر بریگیڈیئر آسٹن کو تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔
 یہ بات دلچسپ ہے کہ 1965 اور1971 کی جنگوں میں پی اے ایف افسران کو دیئے گئے کل70 ستارہ جرأت میں سے سات عیسائی افسران نے حاصل کیے۔بہادری کی یہ روایت آج بھی جاری ہے ۔


 


 

یہ تحریر 77مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP