اداریہ

قدرتی آفات: قومی ردِ عمل و یکجہتی

قومیں جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ اتحاد، یگانگت اور یکجہتی کے اصولوں پر کار بند ہو کر یقینی بناتی ہیں۔ پاکستانی قوم اس حوالے سے دنیا کی ایک شاندار قوم ہے کہ حصولِ پاکستان سے لے کر تکمیلِ پاکستان تک کا سفر جو ابھی جاری ہے، کے لئے تن، من دھن قربان کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہوتی۔ قوم نے1947 میں جس طرح سے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا وہ تاریخ میں سنہری حروف میںلکھاجاتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد خواہ دشمن کی جارحیت ہو یا قدرتی آفات، قوم نے باہم مل کر ہر کٹھن اورپُرخطر صورت حال کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ 2005 کا قیامت خیز زلزلہ ، 2010 کا طوفانی سیلاب اورسب سے بڑھ کر گزشتہ برسوں میں درپیش دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جس طرح قوم نبرد آزما ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔
پاکستانی قوم محدو د معاشی وسائل اور ٹیکنالوجی کے باوجود  وطن کی اجتماعی ترقی اور کامرانی کے لئے جدو جہد میں مگن ہے۔ ایسے میں2020 کے اوائل ہی میں کرونا وائرس جیسی وباء بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ کروناوائرس جس نے اب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ،نے سب سے پہلے برادر ملک چین میں تباہی مچائی۔ چین نے جدید خطوط پر اس قدرتی وباء کا مقابلہ کیا اور ہر وہ طبی اور حفاظتی اقدام اٹھائے جس سے وہ بہت جلد اس وباء پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا۔ وطنِ عزیز پاکستان میں بھی یہ وائرس مختلف ممالک سے واپس آنے والے شہریوں کی وجہ سے پھیل گیا۔ اب ملک بھر کے مختلف شہروں میںلوگ اس کا شکار ہیں۔پاکستانی حکومت اور ادارے اپنی بھرپور استعداد کے مطابق صورت حال سے نمٹ رہے ہیں۔بعض سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کو بندکرکے اور کئی جگہوںپر سٹاف کو انتہائی مختصر کرکے نظام چلایا جارہا ہے تاکہ عوام بڑے پیمانے پر اس قدرتی وباء سے بچ جائے۔ صرف اشیائے خورو نوش کی دکانیںاور میڈیکل سٹور کھلے ہیں اور بین الاضلاعی و بین الصوبائی ٹریفک کو محدود کرنے کے علاوہ دیگر انتظامی اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ اس وائرس کے پھیلائو کو روکا جاسکے۔ لوگوں کو گھروں میں رہنے اور احتیاطی تدابیراختیار کرنے کا کہاگیا ہے۔
پاکستان میں کرونا کے پھیلائو کو روکنے اور اس کے تدارک کے لئے وفاقی ادارے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواجِ پاکستان بھی سول انتظامیہ کی معاونت کے لئے ڈپلائی کی جا چکی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ چیک پوسٹوں کے قیام اور داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان کی میڈیکل کور کی ٹیمیں کرونا سے متاثرہ لوگوں کی نشاندہی اور اُن کے علاج کے لئے کوشاں ہیں۔ پاک فوج کے ایک حاضر سروس جنرل کی سربراہی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) بھی جدید خطوط پر اپناکام جاری رکھے ہوئے ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارتCOVID-19 کے حوالے سے یک نکاتی ایجنڈے پر خصوصی کور کمانڈر کانفرنس بھی ہوئی جس میں فوج نے انتظامی اور طبی امداد کی فراہمی مؤثر بنانے کا اعادہ کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ایک ذمہ دار اور پُرعزم قوم کو کوئی بھی شکست نہیںدے سکتا۔
یوں افواجِ پاکستان ماضی میں آنے والی قدرتی آفات کے دوران جس طرح سے قوم کی حفاظت اور معاونت کے لئے آگے آتی رہی ہیں اُسی طرح وہ اب کرونا سے نمٹنے کے لئے بھی اپنی قوم اور اداروں کے ساتھ کھڑی اور اپنا مؤثرکردار ادا کر رہی ہیں۔ انشاء اﷲ قوم یگانگت اور یکجہتی کے ساتھ ساتھ مؤثر اقدامات کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت جلد اس عفریت سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔
پاکستان ہمیشہ سلامت رہے!

یہ تحریر 392مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP