اداریہ

اصولی مؤقف

 قیامِ پاکستان کے موقع پر انگریز حکومت نے صریحاً بددیانتی کا ارتکاب کرتے ہوئے ضلع گورداسپور کو بھارت میں شامل کرکے خطے میں کشمیر کی صورت  میں ایک مستقل تنازع اور پیچیدہ مسئلے کی داغ بیل ڈال دی۔بھارت کو گورداسپور کا علاقہ مل جانے سے جموں تک زمینی راستہ میسر آگیا جہاں اُس نے سازشوں کا جال بنتے ہوئے اپنی افواج داخل کردیں اور 27 اکتوبر 1947 ء کو اس وقتکی ڈوگرہ حکومت سے الحاق کا ڈھونگ رچاکر کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ ظاہر ہے کشمیری عوام کے لیے یہ فیصلہ قابلِ قبول نہیں تھا۔ حکومتِ پاکستان نے بھی نہ صرف اس پر احتجاج کیا بلکہ کشمیری اور آزاد قبائل کی معاونت کی جنہوں نے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کردیا۔ بگڑتی ہوئی صورت حال کو بھانپتے ہوئے اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم جواہر لال نہرو1948ء  میں خود مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ میں لے کر گئے ،5 جنوری 1949ء  کو اقوامِ متحدہ میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ کشمیر کا مسئلہ استصوابِ رائے سے حل کیا جائے گا اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام خود کریںگے۔ 
پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا لیکن بھارت نہ صرف لیت و لعل سے کام لیتا رہا بلکہ اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کی سازشوں میں بھی مصروف رہا ہے۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370اور35-A کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کو اُن کے حاصل حقوق سے محروم کردیاگیا۔ کشمیریوں پر 1947ء  سے ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں اور آج بھی وہاں جبرو تشدد کا بازار گرم ہے۔ کبھی کشمیریوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعے پرتشدد اموات دی جاتی ہیں تو کبھی نوجوان بچوں کو گھروں سے اٹھا کر اُنہیں ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے۔شومئی قسمت سے جبرو استبداد کا دائرۂ کار اب صرف مقبوضہ کشمیر تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ بھارت کی دیگر ریاستوں تک بڑھا دیاگیا ہے اور تمام اقلیتوں کا ناطقہ بند کیا جارہا ہے۔ ہندو شدت پسند تنظیمیں بی جے پی حکومت کی سرپرستی میں بھارت کی سرزمین سے مسلمانوں کے خاتمے کا کھُلے عام اعلان کرکے مسلمان اقلیت کو ہراساں کرتی ہیں۔
 بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔پاکستان بھی کشمیر پر اپنے مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ پاکستان کی افواج لائن آف کنٹرول سمیت دیگر سرحدوں پر ہمیشہ کی طرح چاق چوبنداور چوکس رہتے ہوئے ملکی دفاع کو یقینی بناتی ہیں۔ 27فروری 2019ء کو بھارت اپنی ایک مہم جوئی کی سزا بھگت چُکا ہے۔ ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے پر نہ صرف دشمن کے جہاز کو مار گرایاگیا بلکہ اس کے پائلٹ کو بھی قیدی بنا لیا گیا، جسے بعد میں رہا کردیاگیا۔ دشمن بخوبی واقف ہے کہ وہ کشمیر کے محاذ پرعملی طور پر کوئی مہم جوئی کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا بھی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو جتنی جلدی ممکن ہو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یقیناً مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل ہی خطے کو کسی بہت بڑی تباہی سے بچا سکتا ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں کو بالعموم اور اقوامِ متحدہ کو بالخصوص پاکستان کے اصولی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اپنا اپناکردار اداکرنا ہوگا تاکہ مظلوم کشمیریوں کی جلد از جلد داد رسی ہو سکے۔ ||



                                
 

یہ تحریر 260مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP