متفرقات

اجنبی قابض

پی ایچ ڈی کی ڈگری ہاتھ میں آنے سے پہلے میں خوشی کی کسی اور ہی دنیا میں تھا۔ ہوائوں میں اڑنا تو ایک محاورہ ہے مگر حقیقتاً میں جانے کس دنیا کی سیر کر رہا تھا۔ میں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا ، جو میں نے چاہا تھا وہ پا لیا تھا۔ منزل متعین نہیں تھی مگر راستے خوشگوار تھے، اور ابھی میں راستوں کی خوشگواریت کو محسوس کررہا تھا ، مگر ڈگری ہاتھ میں آنے کے بعد کے جذبات پہلے والے جذبات اور احساسات سے یکسر مختلف اور الٹ تھے، خوشی اور غمی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ کبھی بھی چیزیں مترادف نہیں ہو تیں، ہمیشہ متضاد ہوتی ہیں، قدرت کا نظام بھی تضادات کے تحت چل رہا ہے۔ نر اور مادہ۔ اسی طرح خوشی غمی بھی ساتھ نہ ہو تو کسی بھی ایک جذبے کا پتہ نہیں چلتا، خوشی غم کے بغیر اور غم خوشی کے بغیر نا مکمل ہے۔ ان کا ادراک تبھی ہوتا ہے جب کسی ایک سے واسطہ پڑے۔ خیر ڈگری ہاتھ آنے کے بعد میرے جذبات افسردگی کا شکار ہو گئے کہ ڈگری تو لے لی اور آخری ڈگری، اس کے بعد کوئی بڑی ڈگری نہیں، تو اب کیا کروں گا ۔۔۔۔۔؟
 سوال در سوال کا سلسلہ شروع ہو گیا، وہ سوال، جن کا جواب نہیں پتہ تھا، پہلے تو ڈگری حاصل کرنا ایک پہاڑ سر کرنا لگتا تھا مگر اب چند لمحوں میں یہ پہاڑ میرے سر پر تھا اور میں اس کے بوجھ کے نیچے دبتا چلا جا رہا تھا۔
 پتہ نہیں چند لمحوں میں میرے ساتھ کیا سے کیا ہو گیا تھا؟ میں بوجھل قدموں کے ساتھ واپس گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ مجھ سے پوری تقریب بھی اٹینڈ نہیں ہو سکی، گھر پہنچتے ہی سب گھر والے میر ی طرف لپکے، خوشی سب کے چہروں سے جھلک رہی تھی ۔ سب میری ڈگری دیکھنے لگے، میرے کزنز مجھ سے ٹریٹ مانگنے لگے۔ میری ماں مجھ پر صدقے واری ہو رہی تھیں کہ میرے بیٹے نے خاندان میں سب سے بڑی ڈگری لی ہے،اور اب اس کے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگے گا اور وہ مجھے ڈاکٹر آیان بلائیں گی اور اتراتی پھریں گی کہ اس کے بیٹے نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ہے۔ 
میں نے آج سے پہلے مستقبل کی کبھی پلاننگ نہیں کی تھی کہ ڈگری کے بعد کیا کرنا ہے، میرا تمام فوکس ڈگری لینے پر ہی تھا اور یہ سب کچھ شاید جانے انجانے میں بچپن سے ہی میرے ذہن میں ڈال دیا گیا تھا اور اسی بات کو لے کر میں آج کامیاب تھا۔ کافی دیر میں خوش ہونے کی اداکاری کرتا رہا پھر نڈھال سا ہو کر لیٹ گیا، پتہ نہیں کب آنکھ لگی کب اٹھا کچھ پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اپنی اپنی ڈگریوں کے بوجھ اُٹھائے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ وہ ٹولیوں کی شکل میں تھے، کچھ خوش کچھ پریشان حال چلے جا رہے تھے، بہت دور ایک بہت بڑے ہال میں ایک سمینار منعقد ہو رہا تھا۔ وہ ہال اپنے بڑے بڑے سیمینا رز منعقد کرانے میں مشہور تھا۔ وہا ں ملک بھر کے پڑھے لکھے لوگ جمع ہوا کرتے تھے۔ بڑے سیمنارزاور کانفرنسز وہاں منعقد ہو چکی تھیں، اور آج بھی ملک بھر کے پی ایچ ڈیز کو بلایا گیا تھا۔ تمام اسکالرزنے وہاں جمع ہونا تھا، اپنے اپنے مقالے ، مضامین، پیپرز پڑھنے تھے،میں نے بھی اپنا مقالہ پڑھنا تھا۔کچھ ڈر بھی تھا کہ کسی جگہ سرقہ کا پتہ نہ چل جائے،کیوں کہ مقالے کے تیاری میں ا نٹرنیٹ سے بھی مدد لینی پڑی تھی،خیر دل کوتسلی دی کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا،دل میں سوچا کہ ڈگری لینا کوئی آ سان کام تو نہیں ہے اور اب یہ ایک موقع مل رہا تھا اپنی بات کو دوسروں تک پہچانے کا جس کے لئے یہ سیمینار ایک بہترین پلیٹ فارم تھا۔
 خدا خدا کر کے تمام لوگ ہال تک پہنچے اور اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے، ہال بہترین دماغوں سے بھرا ہوا تھا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں پکڑے تما م لوگ اپنے آپ پر اکڑرہے تھے کہ انہوں نے جیسے کوئی معرکہ سر کیا ہے۔،سٹیج پر مقررین اپنا اپنا لیکچر دینے لگے۔ 
ہال میں ہر شعبہِ زندگی کے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد اور پہلا سمینار تھا جو تمام بڑی بڑی ڈگریوں والوں کو اپنی بات کہنے کا موقع مہیا کرنے والا تھا۔ اس لیے لوگ پرجوش تھے کہ انہیں بولنے کا موقع ملنے والا ہے۔ 
مختلف اجلاس چلتے رہے، لنچ کا وقت آگیا، ہر بندہ اپنی نشست سے اٹھا اور پیٹ پوجا کے لئے چل دیا، بہت لمبی چوڑی راہداری میں کھانے کی میزیں لگائی گئی تھیں اور انواع وا قسام کے کھانے پڑے تھے، مختلف قسم کے سلاد، باربی کیو اور کئی طرح کی ڈشز: چائنیز، اٹالین، فرنچ اور میٹھا بھی اعلیٰ تھا۔ تمام لوگ کیونکہ دور سے چل کر آئے ہوئے تھے لہٰذا کھانے کو دیکھ کر بھوک بڑھ گئی تھی،بس پھر تو سب کھانے پرایسے ٹوٹے کہ خدا کی پناہ ، کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا تو کسی کی پلیٹ سے باہر بھی گر رہا تھا، آپا دھاپی پڑی تھی کہ واللہ ایک غدر تھا۔ 
 کوئی گھنٹہ بھر یہی سلسلہ جاری رہا، آخر کار دوبارہ اعلان ہوا کہ اپنی اپنی نشستوں پر آجائیں، اب میری باری آگئی، میرا مقالہ' فنی تعلیم عصرِحاضرکی ضرورت'  پر تھا۔میں نے مقالے میں اس بات پر زور دیا تھا کہ اس وقت دنیا کامقابلہ کرنے کے لیے فنی تعلیم کس قدر ضروری ہے،بجائے کہ ہم دوسرے ممالک سے لوگ بلوائیں ہم اپنے نوجوانوں کو ہی یہ تعلیم دیں،اس طرح بیروزگاری کا بھی خاتمہ ہو گااور ملکی ترقی بھی ہو گی۔۔۔میرے مقالے کو بہت پسند کیا گیا۔۔
 تما م اسکالرز کو بولنے کا موقع ملنا تھا اس لیے کئی دن یہ سمینار چلتا رہا۔ لوگ دوسروں کو سنتے کم اور اپنی بات کرنے کا موقع ڈھونڈتے ،ذہنی طور پر سب فعال تھے، بڑے بڑے شاندار مقالے پڑھے گئے، داد بھی بہت سے لوگوں نے دی کہ کیا اسکالر ہیں۔ ٹی وی پر بھی یہ سب براہ ِ راست چل رہا تھا۔
 لوگوں کا ایک طرح سے یہ پسندیدہ شو بن گیا تھا۔ پذیرائی ہی پذیرائی تھی کہ اس ملک میں بہت با کمال پڑھے لکھے لوگ ہیں، کیا اندازِ بیان ہے، کیا خیالات ہیں ان ذہین لوگوں کے۔ 
آخر کار سیمنار کا آخری دن آن پہنچا، تمام اجلاس اختتام پذیر ہوئے، جس کے بعد ووٹ آف تھینکس کیا گیا، لوگوں نے ایک دوسرے سے نمبرز تبدیل کیے اور ہال سے باہر نکلنا شروع ہوئے۔ جیسے جیسے لوگ اپنے اپنے راستوںاور منزلوں کی طرف گامزن ہوئے انہیں اجنبی اجنبی چہرے نظر آنے لگے۔ یہ چہرے ان کے ملک کے لوگوں کے تو نہیں تھے پھریہ کون لوگ تھے؟؟؟؟
 ہر گلی، ہر نکڑ پر،کو ئی پہاڑوں پرکوئی نہ کوئی اجنبی موجود تھا۔
 کوئی کشتیوں پر، کوئی میدانوں میں،کوئی کھیتوں میں، کوئی سمندر کی سطح پر تیرتے بحری جہازوں پر، تو کوئی کانوں میں، ہر جگہ کوئی نہ کوئی اجنبی چہرہ موجود تھا۔ 
ٰیہ کون لوگ تھے جو اِن کے ملک کے اندر آگئے تھے اوراِنہیں پتہ ہی نہیں چلا،وہ جہاں جہاں سے گزر رہے تھے، حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ۔کیونکہ سیمینار میں پورے ملک سے لوگ آئے ہوئے تھے اس لئے ہر بندہ اپنے اپنے علاقے میں پہنچ کر ان اجنبیوں کو دیکھ کہ حیران تھا۔اتنی بڑی غیر لوگوں کی تعداد ملک میں کب داخل ہوئی پتہ ہی نہیں چلا۔
 یہ اجنبی لوگ محنت ومشقت کر رہے تھے، وہ سب دھوپ ، گرمی اور بھوک سے لاتعلق مختلف شکلوں کے، مگر ایک ہی طرح کا لباس پہنے کاموں میں جتے ہوئے تھے۔ ہر اجنبی اپنے فن میں ماہر لگتا تھا، ایسے لگتا تھا کہ تمام اجنبی لوگ بہترین فنی تعلیم حاصل کر کے آ ئے ہو ئے ہیں ۔
سیمینار کے شرکاء ایک دوسرے کو فون کر کے بتا رہے تھے اوران لوگوں کی تصاویر کا تبادلہ بھی کر رہے تھے ۔ میرا تعلق کیوں کہ بارڈر کے قریبی علاقے سے تھا وہاں میں نے فوجیوں کو ہمیشہ کی طرح چاق چوبند اپنی ڈیوٹی کرتے دیکھا ۔مجھے باقی شر کاء کے پیغامات بھی مل رہے تھے کہ ان کے علاقوں میں کو ئی اور لوگ آ گئے ہیں جو مسلسل کام کر رہے ہیں ۔تو کیا میرا خدشہ ٹھیک تھا کہ بارڈر محفوظ تھے مگر ؟؟؟؟؟؟؟
 ملک کے تمام وسائل جن پر محققین کی تحقیق تھی اور بہترین مقالے اور مضمون لکھے ہوئے تھے اور ان وسائل پر اجنبیوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ||
 

یہ تحریر 401مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP