تنازعہ کشمیر

برہان وانی کی شہادت

برہان وانی شہید کشمیر کی وادی میں پیداہونے والا کشمیری قوم کا بہادر بیٹا تھا جو کشمیر کی آزادی اور جذبۂ شہادت سے سرشار نوجوان تھا۔ وانی نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا کہ ہندو سامراج  کی طرف سے اپنی قوم پر ظلم کے ٹوٹتے پہاڑ دیکھ کر برداشت نہ کرسکا اور قوم کی حوصلہ افزائی اور مدد کے لیے ہمہ تن کمر بستہ ہوگیا۔



برہان وانی جو ایک عسکریت پسند رہنما اور حزب المجاہدین کے ایک نڈر کمانڈر تھے، کی شہادت کو رواں سال بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرمیں 6 سال گزر چکے ہیں۔ برہان وانی وہ بہادر نوجوان تھے جنہوںنے صرف15 سال کی عمر میں  مقبوضہ وادی میں موجودبھارتی  فوجیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ برہان وانی کا تعلق ایک ایسی عسکریت پسند تنظیم سے تھا جسے بھارتی حکومت نے دہشت گرد گروپ کے طور پر نامزد کیا تھا۔ برہان وانی نے اپنی ذاتی کوششوں سے متعدد سپاہیوں کو اپنی تنظیم میں بھرتی کیا۔
برہان وانی نے اپنے بڑے بھائی خالد وانی کی شہادت کے بعد بھارتی سامراج کے خلاف مزاحمت کی تحریک کو مشکل ترین حالات میں منظم کیا اور یہی وجہ ہے کہ کشمیری نوجوان کے نزدیک برہان وانی ایک حریت پسند ہیرو تھے۔ برہان وانی نے وادیٔ کشمیر کے جنگلوں ، پہاڑوں اور بیابانوں میں مشکل حالات میں رہتے ہوئے بھارتی افواج کو کئی برس تگنی کا ناچ نچوایا۔ انہوںنے سوشل میڈیا کو ایک طاقتور آلے کے طور پر استعمال کیا اور نظریہ ، مذہب اور ظلم و ستم کے گہرے احساس کو کشمیریوں میں بیدار کرتے ہوئے اپنی تحریک کو زوروشور سے آگے بڑھایا۔ برہان وانی نے کئی مرتبہ اپنے اس خیال کی وضاحت بھی کی کہ بھارت کسی  طور پر اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا۔
خالد وانی کے بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد برہان وانی کی بھارت مخالف بیان بازی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، وانی خود بھی ایک مقامی مجاہد تھا اور اس کے پیروکار بھی سب کشمیری مجاہدین ہی ہیں۔ برہان وانی کی تحریک کو روکنے کے لیے بھارت نے ہر طرح کا حربہ اپنایا، ہر طرح کی کوشش کی گئی، یہاں تک کہ حریت پسند رہنما کی کسی بھی قسم کی اطلاع دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیاگیا۔ 
برہان وانی 8 جولائی 2016 کوبھارتی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہوگئے ۔وانی کی شہادت نے پوری وادیٔ کشمیر میں ایک زبردست احتجاج کو جنم  دیا۔ وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کے لیے سرکاری کارروائیوں میں درجنوں افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔اس نوجوان کی شہات نے نوجوان نسل کے اندر حقِ خود ارادیت اور تحریکِ آزادی کی جدوجہدِکو ایک نئی جہت دی اور کشمیری نوجوانوں کے سینے میں شہادت کی نئی اُمنگ اور تڑپ پیدا کردی۔



برہان وانی کی جرأت و بہادری کو کشمیری عوام کبھی فراموش نہیں کریں گے کیونکہ وانی نے نہ صرف بھارتی دہشت اور وحشت کے سامنے آکر ان کو للکارا بلکہ پوری دنیا کے سامنے بھارتی افواج کے جنگی جرائم کو بھی بے نقاب کیا۔ وانی کو کشمیر کی نئی مسلح تحریک کا ''پوسٹر بوائے'' بھی کہاجاتا ہے۔امریکہ میں مقیم معروف کشمیری آرکیٹیکٹ ٹونی اشائی نے وانی کے لیے لکھا ہے کہ 'میں انہیں نہیں جانتا لیکن میںنے سنا ہے کہ سب کشمیری ان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔''
رواں سال اس حریت پسند رہنماکی شہادت کو 6 سال مکمل ہونے پر وانی کا یومِ شہادت بھارت سے آزادی اور حقِ خود ارادیت کے لیے مزاحمت کے عہد کے طور پر منایاجارہا ہے کیونکہ وانی کو بھارتی فوجیوں نے اس لیے شہید کیا تھا کہ وہ اپنی قوم اور  لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے ، لہٰذا کشمیر کی تاریخ میں وانی کو جرأت اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
اسوہ شاہ نے وانی کی نمازِ جنازہ کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ دو لاکھ افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور لاکھوں کشمیریوں نے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی۔ وہ کشمیرکا بیٹا ہے۔ وہ ہمارا ہیروہے۔ وہ ہمارا برہان ہے۔ کشمیرمیں بی جے پی کے ناپاک ارادے ہمیشہ سے سب پر عیاں تھے اور بھارتی پرچم کو مسلم اکثریتی علاقوں میں لہرانے کے ان کے خواب سے بھی سب بخوبی واقف تھے لیکن کشمیری قوم ہمیشہ سے ایک بیدار قوم رہی ہے اور انہیں بھارتیوں کے عزائم کا ہمیشہ سے علم تھا۔ برہان وانی کی شہادت نے کشمیریوں میں اُبلنے والی جدوجہد کی لَو کو اور بھڑکایا اور بھارتیوں کے خواب کو چکنا چور کردیا۔ وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں نے یکجان ہو کر بھارتیوں کے ہر منصوبے کو خاک میں ملایا اور شہید برہان وانی کی تحریک کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے کشمیری آج بھی اُسی جوش و جذبے سے سرشار ہیں اور آزادی سے زندگی گزارنا آج بھی اُن کے اولین مقاصد میں شامل ہے۔ وانی کی شہادت سے کشمیری جدوجہد آزادی میں جو نئی حرارت پیدا ہوئی ہے اس کو کم کرنا بھارتی سامراج کے بس کی بات نہیں ہے۔ ||


 

یہ تحریر 152مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP