ہمارے غازی وشہداء

ہمارا ساجد شکور

مئی1980 میں ملٹری کالج جہلم کے شیرشاہ ہاؤس کے کورٹ یارڈ میں آٹھویں جماعت کی نئی انٹری کے کیڈٹس جن کا کالج میں پہلا روز تھا سلیقے سے رکھی گئی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور باری باری ڈائس پرآکر اپنا اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ انہی کیڈٹس میں پشاور سے آنے والا ایک کیڈٹ ساجد شکور بھی تھا۔ اُس نے ڈائس پر آکر اپنا تعارف کرایا اور حسبِ پروگرام ایک گانا

رنگ دِل کی دھڑکن بھی لاتی تو ہوگی

یاد میری اُن کو بھی آتی تو ہوگی

اس انداز سے پیش کیا کہ انٹری کے ہر لڑکے کے ذہن میں وہ دو مصرعے آج بھی اُسی طرح نقش ہیں۔ جس طرح کیڈٹ ساجد شکور نے پشتو انداز والی اُردو میں پیش کئے۔ ساجد شکور ایک مخلص اور ایک انتہائی نفیس شخص کا نام تھا۔ شیرشاہ ہاؤس کی افتخارڈورم میں وہ میراڈورم میٹ تھا۔ اس کا خیال آتے ہی ایک ڈسپلنڈ اورWell mannered کیڈٹ کی تصویر ذہن میں آتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی اُس کا شعار تھا۔ جس تیزی سے وہ ہر کام کرنے کا عادی تھا اُس وقت تو اس امر کا اندازہ نہیں ہوا لیکن اب لگتا ہے جیسے وہ واقعی بہت جلدی میں تھا۔ واش روم سے وضو کر کے تیزی سے کمرے میں داخل ہوتا۔ ساجد شکور اسی پُھرتی سے جائے نماز بچھاتا اورنماز پڑھ کر فوراً اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جاتا۔ پڑھائی واحد کام تھا جس کو وہ بہت مزے اور دل سے کرتا تھا اس معاملے میں اس کو کبھی تیزی میں نہیں دیکھا۔ اکثر ٹائی لگاتے‘ بیلٹ باندھنے اور شرٹ پہنتے ہوئے بھی نصاب کی کوئی نہ کوئی کاپی یا کتاب اس کے سامنے پڑی ہوتی جس پر وہ طائرانہ نظر ڈال رہا ہوتا تھا۔ ساجدشکور بہت صاف ستھری اقدار کا حامل ایسا کیڈٹ تھا جسے انٹری میٹس بھی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ساجد شکور آٹھویں میں پشاور بورڈ سے پوزیشن ہولڈر تھا۔ وہاں سے وہ آٹھویں جماعت میں ملٹری کالج جہلم کے لئے سلیکٹ ہوگیا۔ یہاں بھی وہ ہر امتحان میں فرسٹ ہی آتا۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو بچے پڑھاکو ٹائپ ہوتے ہیں وہ Physically اتنے مضبوط نہیں ہوتے جتنے کھیل کود میں مصروف رہنے والے بچے‘ لیکن ساجد کا معاملہ اور تھا وہ نہ صرف امتحان میں فرسٹ آتا بلکہ 5کلو میٹر پر مشتمل کراس کنٹری دوڑمیں بھی ہمیشہ اول آتا۔ وہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانے کا شوقین تھا لیکن وقت ضائع کرتے ہوئے اُسے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس کی ہینڈرائٹنگ اورڈرائینگ دونوں بہت اچھی تھیں۔ بسا اوقات کیڈٹس ایک دوسرے کو بند کباب یا بند سموسہ اور لسی وغیرہ پلاتے تو کیڈٹ ساجد شکور کہتا یار مجھے ان چیزوں کا شوق نہیں ہے‘ دیگر کیڈٹس Insist کرتے تو ہنستے ہوئے کہتا اچھا اگر تم لوگوں نے میرے پر Investment کرنی ہی ہے تو تم مجھے ان پیسوں کا ’مارکر اور ڈرائینگ شیٹ ‘لے کر گفٹ کردو میں اُس پر اپنا ہاتھ سیدھا کروں گا۔ گویا Fun اور انٹر ٹینمنٹ میں بھی کچھ سیکھنے اور کچھ کرگزرنے کا عمل مدِ نظر رکھتا۔

میٹرک کے بعد ہم لوگوں نے15 جے سی بی کے لئے اپلائی کیا۔ ساجد شکور اُس میں Defer ہوگیا۔ یوں وہ16جے سی بی کے لئے سلیکٹ ہوا اور بعدازاں PMA77 لانگ کورس کے ساتھ اعزازی شمشیر لے کرپاس آؤٹ ہوا۔ جے سی بی کے لئے نہ سلیکٹ ہونے والے کیڈٹس کو مجبوراً ملٹری کالج بھی چھوڑنا پڑا کہ وہاں ایف اے/ایف ایس سی کی جگہ پر جے سی بی کورسز شروع کردئیے گئے تھے یوں مجھ سمیت بعض کیڈٹس کو مجبوراً فرسٹ ایئر میں اپنے اپنے علاقوں کے قریبی کالجوں میں داخلہ لینا پڑا۔ بعد میں ملٹری کالج میں دوبارہ ایف اے/ ایف ایس سی شروع ہوگئی لیکن اس دوران ایک دو انٹریز کو’’ رگڑا‘‘ لگ چکا تھا کہ وہ ایم سی جے سے ایف ایس سی نہیں کرسکے۔ یوں وہ ان کیڈٹس سے کٹ آف ہوگئے جو فوج میں چلے گئے تھے۔ بہر کیف میں ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد 2000ء ؁ میں فیڈرل پبلک سروس کمشن کے ذریعے انٹرسروسز پبلک ریلیشنز میں بطورِ انفارمیشن آفیسر آگیا تو پھر اُن دوستوں کی خیر خبر ملنے لگی جو فوج میں تھے۔ اس وقت کیڈٹ ساجد شکور‘ میجر ساجد شکور تھا اور(بعدمیں بریگیڈیر ساجد شکور) جنرل ہیڈکوارٹرز میں تھا میں نے اُسے فون کیا تو فوراً پہچان گیا اور خوشی سے بولا وہ لمبے والا یوسف ہے نہ تو؟ میں نے کہا نہیں اب چوڑے والا یوسف ہوں۔ میں ملٹری کالج میں تھا تو میٹرک میں میرا قد کلاس کے دیگر لڑکوں سے لمبا تھا اور باسکٹ بال کا کلر ہولڈر بھی تھا۔ گویا دوستوں کے ذہنوں میں وہی پتلا‘ لمبا اور دُبلے والا یوسف ہی تھا۔ اُس کے بعد میجر ساجد شکور سٹاف کورس کرنے کوئٹہ چلا گیا۔ وہاں سے بھی اُس کی کالیں وغیرہ آتی رہتیں۔ وہ سوڈان میں یو این مشن کے لئے روانہ ہواتو بطورِخاص آئی ایس پی آر آیا اور مجھے مل کر گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل ہوگیا اور کھاریاں میں یونٹ کی کمان کی۔ بعد ازاں لاہور میں بطورِ کرنل سٹاف ڈویژن ہیڈ کوارٹرز میں پوسٹ تھا تو اکثر رابطہ کرتا۔ وہ بریگیڈیر بن کر بھی مسلسل رابطے میں رہا بلکہ اس دوران ایک عجیب واقعہ ہوا۔ بریگیڈیرساجد شکور کا ایک یونٹ افسر آئی ایس پی آر میں پوسٹ ہوا تو وہ مجھے ڈھونڈتا ہوا میرے دفتر تک پہنچا اور کہا ’’سر مجھے بریگیڈیر ساجد شکور نے کہاہے کہ یوسف عالمگیرین میرا کلاس فیلو اور دوست ہے اُنہیں جا کر ملنا ہے اور اگر اُنہیں کوئی کام ہو تو آپ نے اُنہیںFacilitate کرنا ہے‘‘ میرے لئے یہ سب حیران کن تھا کہ کسی بھی جگہ پر جہاں کوئی شخص کام کررہا ہوتاہے وہ اپنا مقام خود اپنی محنت اور دلجوئی سے کام کرکے بناتا ہے۔ لیکن ایسے میں دوستوں کی جانب سے اس قسم کےGestures ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔ بریگیڈیر ساجد شکور صحیح معنوں میں ہماری انٹری کا مان تھا۔ وہ پوٹینشل جنرل تھا۔ ان دنوں وہ امریکہ کورس کرنے گیا ہوا تھا۔ وہ بچے بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔ کون جانتا تھا کہ وہ بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہے اور اُس کے بچے اُسے وطن واپس لے کر آئیں گے۔

بریگیڈیر ساجد شکور اپنی روٹین کی اچھی لائف گزار رہا تھا۔ جس دن اس کو ہارٹ اٹیک ہوا اُس دن بھی وہ واک کرنے گیا ہوا تھا کہ ہارٹ اٹیک ہوگیا اور اپنے ملک سے کوسوں دور اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا۔ جہاں اس کے بچے ایک شفیق باپ سے محروم ہوگئے وہاں اُس کے انٹری میٹس اور کورس میٹس ایک مخلص اور دردِ دل رکھنے والے دوست اورکو لیگ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئے۔ ریس کورس میں اُس کے جنازے میں جہاں دیگر دوست احباب تھے وہاں اُس وقت کے انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔ بریگیڈیر ساجد شکور کی تدفین اُن کے آبائی علاقے چارسدہ میں ہوئی۔ کہنے کو وہ اپنے چاہنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئے لیکن اُن کے دلوں سے اس کی یادیں کبھی محو نہیں ہوں گی۔ کہ وہ آج تک اُس کے دوست احباب یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ساجد شکور کے دل کی دھڑکن کبھی یہ رنگ بھی لاسکتی تھی۔ ہمارے ایک اورانٹری میٹ بریگیڈیر محمداحمد علوی نے اپنی فارمیشن میں بریگیڈیر ساجد شکور مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا۔ جس میں لاہور‘ ایبٹ آباد سمیت دیگر شہروں سے انٹری میٹس شریک ہوئے اور اپنی دعاؤں میں ساجد شکورکی بلندی درجات کے لئے دعائیں مانگیں۔ موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو اس کا مزہ چکھنا ہے لیکن اس طرح سے کوئی ہنستا کھیلتا شخص اچانک بچھڑ جائے تو دل گرفتگی اک فطری سا عمل ہے۔ خدا بریگیڈیر ساجد شکور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

ملکِ عدم توں ننگے پنڈے آوندا ایس جہانے

اِک کفن دی خاطر بندہ کِنا پینڈا کردا اے

(انور مسعود)

یہ تحریر 610مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP