قومی و بین الاقوامی ایشوز

شہادت تیرا عنوان زندگی

کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید کی یاد میں

شہید کی بہن سعدیہ ریاض راجہ کے قلم سے

مقام شہادت کسی انسان کا لکھا نہیں بلکہ یہ وہ رتبہ ہے جو ایک انسان ماں کے بطن میں حکم خداوندی سے پاتا ہے۔ دنیا میں آنے سے پہلے یہ لوگ جنت کے مکین رہ چکے ہوتے ہیں۔ آج دنیا میں آتے ہیں تو یہ عام انسان نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کے محبوب بندے بن جاتے ہیں۔ تبھی تو ان کا جینا اورمرنا عالم انسانیت کے لئے ایک لازوال مثال بن جاتا ہے اوروہ اپنی جرأت و بہادری سے لازوال تاریخ رقم کر جاتے ہیں۔ جس رتبے کے لئے بڑے بڑے عظیم لوگوں نے خواہش کی ہو مگر ملتا اسی کو ہے جس کی تقدیر میں اﷲرب العزت تحریر کر دے۔ میرا شہزادہ بہادر بھائی کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید بھی اﷲ تعالیٰ کے ان خاص بندوں میں شامل ہو کر شہادت کے اعلیٰ منصب پر ہمیشہ کے لئے فائز ہو گیا اور شہادت کا حقیقی اور سب سے بڑا میڈل اپنے سینے پر سجا گیا۔ نجم میرے پیارے بھائی آج آپ سے بچھڑے ہوئے پانچ برس بیت گئے ہیں مگر ہر لمحہ ہر پل آپ ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ شہید کبھی مرتا نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

شہادت تیرا عنوان زندگی اے نجم

شہادت ہی تیرا مقصدِ زندگی اے نجم

نجم ایک باکردار‘ نڈر‘ شجاع و بہادر اور مضبوط قوت ارادی کے مالک انسان تھے۔ جنہوں نے اپنے کرداراور گفتار سے مرد مومن اور مرد مسلمان ہونے کا ثبوت دیا۔ دشمن کے آگے جھکنا نہیں بلکہ دشمن کو جھکانا سیکھا تھا اور اپنے تحریر کردہ شعر کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے لازوال جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا اور شعر کو حقیقت میں بدل ڈالا۔

ہم وہ نہیں مصلحت کے نام پر جبہ و دستار بیچ دیں ہم وہ جنگجو نہیں جو پیٹ کی خاطر دین و تلوار بیچ دیں نجم میرا پیارا بھائی‘ اپنے والدین کا انتہائی فرمانبردار بیٹا جس نے اپنے ماں‘ باپ‘ بھائی‘ بہنوں کا سر فخر سے بلند کر ڈالا۔ ایک لائق‘ قابل‘ ذہین بیٹا جس نے اپنے والدین کے سامنے کبھی اونچے لہجے میں بات تک نہ کی۔ والدین سے عزت و احترام کی بدولت اﷲتعالیٰ نے ان کو تحفہ شہادت عطا فرمایا۔ اور وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے ۔ نجم بہنوں اور بھائیوں سے بے پناہ پیار اور انتہائی عزت و احترام سے پیش آنے والے عظیم بھائی تھے۔ اپنے پیارومحبت اور عزت سے ہر کسی کا دل جیتا۔ میں صدقے اور قربان جاؤں اپنے بہادر بھائی پر کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید ایک نام ہے جرأت و بہادری کا جو کہتے وہ کر دکھاتے تھے۔ دنیا کی کسی چیز کا حِرص نہ تھا۔ نہ مال و دولت اور نہ ہی شہرت کا۔ مگر جسے اﷲ رب العزت دنیا اور آخرت کے بلند رتبوں پر فائز کرنا چاہئے‘ انہیں ان دنیاوی لذتوں سے دور رکھتے ہیں۔ حقیقی اور ابدی عزت و ہی ہے جو اﷲتعالیٰ اپنے بندے کو عطا کریں۔ نجم کے اندر غرور و تکبر نہیں تھا۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات کو غرور اور تکبر پسند نہیں ہے۔ اسی لئے اﷲ تعالیٰ کو نہ جانے میرے بھائی کی کون کون سی ادا پسند آئی جو میرے بھائی کے سر پر شہادت کا تاج سجا ڈالا۔

ہمیشہ دشمن آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شیروں کی طرح بات کی۔ ساری دنیا کو بتا ڈالا کہ پاکستانی فوجی کبھی دشمن سے نہیں ڈرتے۔ چاہے نہتے ہی کیوں نہ ہوں اور دشمن چاہے بھاری اسلحے سے لیس ہی کیوں نہ ہو۔ اپنے زور بازو سے آٹھ طالبان کی نہتے گردنیں توڑ کر دشمن کو بتا دیا کہ آپ ایک بہادر کمانڈو اور محب وطن پاکستانی ہو۔ دشمن کے مکروہ ارادوں کو ملیا میٹ کر ڈالا۔ ہمیں فخر ہے کہ آپ کی بہادری‘ آپ کی دلیری پر آپ کے جذبے پر کہ بہادر ماؤں اور پاکستان کے بیٹے آپ جیسے ہی ہوتے ہیں اور بہنوں کے مان ایسے شیر دلیر ہی ہوتے ہیں۔ مادر وطن سے محبت ہی تھی کہ جس کی خاطر آپ نے اپنی جان نچھاور کی۔ اپنے لہو کا قطرہ قطرہ اپنے وطن کے نام کیا۔ بہادر بیٹے ہی ماں کی آن اور شان ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے میرے بھائی نجم کی جو تین خواہشیں تھی وہ پوری کر ڈالیں۔ فوج میں شمولیت‘ ایس ایس جی کا حصہ بننا اور شہادت کی تمنا۔ یہ خواہشات پاکستان سے بے انتہا محبت کا اظہار تھیں۔ اﷲتعالیٰ پاکستان کو تاقیامت سلامت رکھے۔ میرے شہید بھائی کا وطن جو انہیں اپنی جان سے بھی پیارا تھا۔

سوات میں تعیناتی کے دوران مجھے نجم کی وہ بات اب بھی یاد ہے جب نجم نے شہادت کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں شہید ہو جاؤں گا تو میں نے کہا کہ نجم آپ موت سے نہیں ڈرتے تو میرے شہزادے بھائی نے مسکرا کر کہا کہ ’’میں موت سے نہیں ڈرتا۔‘‘ مجھے اب بھی وہ مسکراتا ہوا چہرہ یاد ہے جس کے چہرے پر موت کا خوف نہیں بلکہ شہادت کی خوشی تھی۔ ہمیں اپنے بھائی پر فخر ہے کہ جس نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور باطل کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ باطل حق کو کبھی مات نہیں دے سکتا۔ اسے ہر حال میں حق کے آگے جھکنا ہی پڑتا ہے۔ نجم نے نہ صرف ہمارا بلکہ ساری قوم کا سر فخر سے بلند کر ڈالا ہے۔ اﷲ رب العزت آپ کی شہادت قبول فرمائے۔ اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

یہ تحریر 152مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP