شعر و ادب

کلامِ اقبال

قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی!
ہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے؟ خدائی!
جو فقر ہوا تلخیٔ دوراں کا گلہ مند
اُس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی!
اِس دَور میں بھی مردِ خدا کو ہے میسّر
جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی!
دَر معرکہ بے سوزِ تو ذوقے نتواں یافت
اے بندئہ مومن تو کجائی؟ تو کجائی؟
خورشید! سرا پردئہ مشرق سے نکل کر
پہنا مرے کہسار کو ملبوسِ حنائی!
(ضربِ کلیم)    
 

یہ تحریر 134مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP