شعر و ادب

سقوطِ ڈھاکہ

(16دسمبر1971)
ساتھ چھوٹا تھا اِکہتر میں اسی آج کے دن
ملک ٹُوتا تھا اکہتر میں اسی آج کے دن
سانحہ کیا تھا کہ اِک حشر بپا تھا گویا
اِک قیامت تھی، اکہتر میں اسی آج کے دن
کُفر تھا خندہ زناں، رقص کُناں شیطاں تھا
ہم تماشا تھے، اِکہتر میں اسی آج کے دن
ہم ہوں کیوں غَیرسے نالاں کہ بقولِ حافظ
وہ شناسا تھے، اِکہتر میں اسی آج کے دن
کاش ممکن ہو کہ ہو سکتی ہو تاریخ حَذف
ہو بیاں اور ، اکہتر میں اسی آج کے دِن
اب کہاں مشرق و مغرب میں وہ رَبطِ باہم
نہ رہی بات، اکہتر میں اسی آج کے دن
دعوتِ فکر و عمل، ذکرِ سقوطِ ڈھاکہ
ہے پَرے غَرق، اکہتر میں اسی آج کے دن!
(خواجہ) محمداصغر پرے        
 

یہ تحریر 137مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP