شعر و ادب

کلامِ اقبال

کلامِ اقبال
تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سحرِ قدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیم!
عقل عیّار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ مُلّا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم!
عیشِ منزل ہے غریبانِ محبت پہ حرام
سب مسافر ہیں بظاہر، نظر آتے ہیں مقیم!
ہے گراں سیر غمِ راحلہ و زاد سے تُو
کوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانندِ نسیم!
مردِ درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ!
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصابِ زر و سیم!
(بالِ جبریل)


عالمِ نو

زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیرِ تقدیر
خواب میں دیکھتا ہے عالمِ نو کی تصویر!
اور جب بانگِ اذاں کرتی ہے بیدار اسے
کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر!
بدن اس تازہ جہاں کا ہے اسی کی کفِ خاک
روح اس تازہ جہاں کی ہے اسی کی تکبیر!
(ضربِ کلیم)
 

یہ تحریر 161مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP