قدرتی آفات

سیلاب زدگان کی مدد۔ فوج اور عوام ایک

گزشتہ دنوں میں اپنی فیملی سمیت کراچی سے ملتان تک سفر کررہی تھی، چونکہ ہمارا ہر دو تین ماہ بعد، ملتان،میلسی،میترو، خانپور،وغیرہ چکر لگتا رہتا ہے جس کے باعث سڑکیں،راستے ا یک طرح سے ہمیں حفظ ہوچکے ہیں،کیا ہی خوبصورت مناظر ہوا کرتے تھے۔کاشت کار کاشتکاری میں مگن ہوتے تھے۔خواتین کپاس چن رہی ہوتی تھیں، مویشی اپنی مستی میں ٹہل رہے ہوتے تھے،اور پاس کہیں کسی درخت کی گہری چھاؤں تلے ان کا مالک بیٹھا ان پر گہری نظر رکھے ہوتا تھا۔کہیں چھوٹے معصوم بچے گاڑی کو دیکھتے ہی دوڑے چلے آتے تھے اورہاتھ ہلا ہلا کر خدا حافظ کہہ رہے ہوتے تھے،کس قدر خوبصورت مسکراہٹ اور معصومیت جھلک رہی ہوتی تھی ان ننھے فرشتوں کے چہروں پر۔کہیں کھیتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے مٹی کے گھر ہوتے تھے، کہیں لوگ چارپائی پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہوتے تھے، کہیں خواتین گھاگروں میں ملبوس کلائیوں میں ڈھیر ساری چوڑیاں پہنے، ہاتھوں میں مٹکے پکڑے، باتو ں میں مگن کھیتوں میں ٹہلتی دکھائی دیتی تھیں،ان خوبصورت سادہ لوگوں کو دیکھ کر گاڑی روک کر ان سے خوب باتیں کرنے کو دل چاہتا تھا۔ بے شمار بار اُن سے باتیں کرنے کا اتفاق بھی ہوا۔ کس قدر مہمان نواز ہوتے تھے یہ لوگ۔ میں اکثر بابا سے کہا کرتی تھی ''کچے مکان میں رہنے والے لوگوں کے دل کتنے پکے ہوتے ہیں۔ '' اجنبی ہونے کے باوجود، راہ گیر ہونے کے باوجود جاتے ہوئے میں ڈھیر ساری محبتیں سمیٹ کر جایا کرتی تھی۔کبھی آپ کو ان کے ساتھ بات چیت کرنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ جانتے ہوں گے ان سادہ لوگوں کی زبان پر اکثر ایک ہی جملہ ہوا کرتا تھا ''مہمان تو خدا کی رحمت ہوتے ہیں جی۔'' اس جملے پر عملدرآمد کرتے ہوئے وہ خوب مہمان نوازی کیا کرتے تھے۔اگر آپ کسی چیز سے انکار کردیں، انہیں مہمان نوازی کا موقع نہ دیں اور ایسے ہی جانے لگیں تو پھر یہ آپ سے روٹھ جائیں گے۔
کتنے ہی خوبصورت رنگوں میں ڈھلا ہوتا تھا ہماراپیارا وطن،مگرشاید ان خوبصورت رنگوں کو کسی کی نظر لگ گئی ہے، سیلاب کا پانی ان ہنستے بستے لوگوں کے قہقہے کہیں بہت دور بہا کر لے گیا ہے۔ان کی جمع پونجی سے بنائے گئے مٹی کے چھوٹے گھرڈوب چکے ہیں،سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔سار ی رونقیں ماند پڑچکی ہیں۔فصلیں تباہ ہوچکی ہیں،مویشی بیچارے تو جیسے ختم ہوچکے ہیں، کہیں اکا دکا ہی مویشی نظر آرہے تھے،اس بار کا میرا سفر نہایت ہی تکلیف دہ تھا۔کچھ علاقے تو اس قدر ڈوبے ہوئے تھے جیسے کبھی ان کا کوئی وجود تھا ہی نہیں،کہیں کہیں بے شمارگاڑیاں الٹی پڑیتھیں،کہیں کہیں ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں، بیچارے ٹرک ڈرائیو ر کئی دنوں سے یہاں پھنسے ہوئے تھے۔آپ یقین کریں ان  علاقوں میں لوگ سیلاب کا پانی پینے پر مجبور تھے، ان علاقوں میں اگر کوئی ایک عدد ہوٹل تھا بھی تو وہاں ایک وقت کے کھانے کی قیمتیں اتنی زیادہ ہوتیں کہ آپ کو سن کر زور دار دھچکا لگتا،ایک دال جو اتنی پتلی کہ حلق سے نہ اترے، کی پلیٹ 800 روپے تھی۔مزید قیمتیں بتائیں تو آپ یقیناسر پکڑکربیٹھ جائیں گے۔جہاں لوگوں کے پاس پینے تک کا پانی نہیں وہ اتنی مہنگائی کہاں سے برداشت کریںگے ؟
پاکستان میں فلڈ کی تین بڑی قسمیں دریائی فلڈز،فلیش فلڈز،اور طوفانی بارشیں ہیں، جو اس بار ایک ساتھ ہی وقوع پذیر ہوئیں۔ جس کے باعث انہوں نے جنوبی پنجاب،سندھ کے علاوہ بلوچستان کو بھی شدید متاثر کیا۔
 ایک طرف سیلاب کے باعث بڑھتی تباہ کاریوں کی وجہ سے ا ن حالات پر قابو پانا مشکل ہورہا ہے،لوگ سڑکوں پر آچکے ہیں،تو دوسری طرف مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے،ہر شے کی قیمت کو اس قدر آگ لگی ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر آکر رو رہے ہیں،جن کا ذریعہ معاش کچھ بہتر ہے وہ بھی بڑھتی مہنگائی کے سبب خاصے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔بجلی کے بل سمیت دیگر اخراجات نے عوام کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
ایسے میں کچھ افراد چوری چکاری،لوٹ مار سمیت دیگر کئی جرائم کی جانب راغب ہو جاتے ہیں۔بہت سے سیلاب زدگان نے کراچی سمیت دیگر شہری علاقوں کا رُخ کیاہے۔ جس سے کئی جگہ امنِ عامہ کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں لیکن آفرین ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر، وہ حالات کو بہتر رکھنے میں کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔
  قدرتی آفات ہو ں یا ناگہانی صورتحال، پاک فوج عوام کی خدمت میں ہمیشہ  پیش پیش رہی ہے۔شروع کے دنوں میں جب سیلاب نے پاکستان کے بیشتر علاقوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا تھا تب ہمیشہ کی طرح افواجِ پاکستان نے مشکل کی اس گھڑی میں لوگوں کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا، بے شمار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،کھانے پینے کی اشیاء سمیت طبی امداد فراہم کی گئیں۔فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے، راستے میں سفر کے دوران کئی مقامات پرافواجِ پاکستان کے جوان عوام کی خدمت کرتے دکھائی دیے۔
مشکل وقت میں جس طرح سے افواجِ پاکستان نے بروقت ریلیف آپریشنز کرکے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،ا ن کی یہ کاوشیں قابلِ تعریف ہیں،اگر فوج کی طرف سے بروقت یہ اقدامات نہ ہوتے تو جو نقصان اب ہو ا ہے اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہوجاتا۔
پاکستان کے ان کٹھن حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے افواجِ پاکستان کے افسروں نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کی امدا د کے  لیے عطیہ کردی تھی،اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے پاک فوج عوام کے درد کو ہمیشہ محسوس کرتی ہے۔گزشتہ ماہ ہیلی کاپٹر حادثے میں ہم نے نہایت ہی قابل اور اعلیٰ افسران کو کھویا۔ بے شک شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، مگر اس سانحے سے پوری قوم نہایت ہی افسردہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ ہمارے وطن کے شہداء کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے اہل ِ خانہ کو صبر ِ جمیل عطا فرمائے۔
متاثرین کی امداد کے لیے عوام کا ردِ عمل بھی خاصامتاثرکن دکھائی دے رہا ہے بے شمار طالبعلموں نے بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی امداد کی۔ہر ایک نے حسبِ استطاعت جتنی ہوسکیں متاثرین تک ضروری اشیاء پہنچائیں اور پہنچا رہے ہیں۔ 
پاکستان کو دیگر ممالک سے بھی کافی امداد ملی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات سے اب تک مجموعی طور پر 41پروازیں پاکستان سامان لے کر پہنچیں، جبکہ ترکی سے 13،چین سے 4، ازبکستان سے 1، قطر سے 4، فرانس سے 1، یونیسیف کی3، ترکمانستان کی 1، اردن کی1، عالمی ادارہ خوراک کی3، امریکہ کی 21، برطانیہ کی 1، نیپال کی 1، اومان کی 5 اور سعودی عرب کی 2 پروازیں امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچی ہیں۔
علاوہ ازیں ترکی سے 2 ٹرکوں اور دو ریل گاڑیوں، تاجکستان سے 87 ٹرکوں اور اومان سے ایکبحری جہازکے ذریعے بھی امدادی سامان پاکستان پہنچ چکا ہے۔
بیرونی امداد کے علاوہ ہماری وفاقی،صوبائی حکومتیں اور تینوں مسلح افواج متاثرین کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔ ریلیف آپریشن جاری ہیں۔ خود چیف آف آرمی سٹاف بلوچستان، سندھ سمیت دیگر سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کرچکے ہیں جو اس امر کی علامت ہے کہ ہر مشکل کی گھڑی میں سب ایک ہیں ، منظم ہیں اور ملک کو درپیش کسی بھی چیلنج سے لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ||


[email protected]


 

یہ تحریر 416مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP