قومی و بین الاقوامی ایشوز

انتہا پسندی پر مبنی پُرتشدد معاشرہ ------ایک نئے بیانیے کی تشکیلِ نو

پاکستانی معاشرہ انتہا پسندی ، عدم برداشت، غصہ، تعصب اور نفرت کی سیاست سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے ۔کیونکہ سماجی ، اخلاقی اور سیاسی  بیماریوں نے پورے معاشرے کو ایک عفریت کی صورت میں اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس وقت ہمیں ایک ایسے معاشرے کی  تلاش ہے جو مہذہب بھی ہو اور ذمہ دار بھی کیونکہ روزانہ کی بنیادوں پر ہمیں ایسی خبریں یا واقعات دیکھنے یا سننے کو ملتے ہیں جو خطرناک  معاشرے کی نشاندہی کرتے ہیں ۔پرتشدد اور انتہا پسندی پر مبنی واقعات سے ہماری داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر نہ صرف ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ دنیا ہمیں منفی انداز میں اجاگر کرکے تنقیدی سوالات بھی اٹھاتی ہے۔ 
اہل دانش اور رائے عامہ بنانے والوں کی جانب سے ایک فکری مغالطہ یہ پھیلایا جاتا ہے کہ ہمیں انتہا پسندی یا پر تشدد رجحانات کا سامنا نہیں ہے ۔ یہ جو تضادات یا اندھیرے میں رہنے کی ہماری عادت ہے اس نے ہمیں حساس معاملات سے نمٹنے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے اور یہ رویہ ہی ہماری مجموعی ناکامی کا بھی سبب بنتا ہے ۔کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے لئے پہلے اس مسئلے کی حقیقت، اہمیت او رموجودگی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے ۔پاکستان بطور ریاست انتہا پسندی او ردہشت گردی سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے او رانتظامی سطح پر ہم نے بہت سی اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب دہشت گردی کے واقعات میں کمی اور ان کی سرکوبی یا خاتمے کے پہلو بھی نمایاں نظر آتے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ اعتراف بھی بنتا ہے کہ فکری اور علمی سطح پرہمارے سیاسی ، سماجی اوراخلاقی معاملات میں جس انداز سے رواداری ، ہم آہنگی ، برداشت، تحمل، بردباری ، میانہ روی سمیت مکالمہ کا کلچر اور تنازعات سے نمٹنے کی جو صلاحیت پیدا ہونی چاہئے تھی اس کا ایک بڑا فقدان نظر آتا ہے ۔
 لاہور میں وکلاء کی جانب سے ہسپتال پر حملہ ، مریضوں ، نرسوں، ڈاکٹروں، سٹاف پر حملہ و تشدد، عمارت اور مشینری کی توڑ پھوڑا اور دہشت گردی سمیت پرتشدد رجحانات کو دیکھاگیا، وہ سنگین مجرمانہ اور انسانی بدسلوکی کا بدترین مظاہرہ تھا ۔ قانون کے رکھوالوں او رمحافظوں کی جانب سے یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس حد تک پرتشدد بنا ہوا ہے ۔یہ مزاج محض وکلاء تک محدود نہیں بلکہ ڈاکٹروں سمیت تمام شعبہ جات سے جڑے افراد یا تنظیموںکے مجموعی مزاج میں غصہ، نفرت، تعصب، خود بدلہ لینے کی روش اورپرتشدد احتجاج کی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں ، لیکن وکلاء برادری کے بعض وکلاء نے تو کمال کردیا ۔ جنگوں میں بھی مخالفین یا دشمن کے ہسپتالوں، مریضوں، بچوں، بچیوں، عورتوں اور بزرگوں کو معاف کردیاجاتا ہے ، لیکن وکلاء نے جو انداز اختیار کیا وہ ناقابل برداشت تھا ۔ بدقسمتی سے وکلاء تنظیموں کی قیادت نے بھی ان واقعات پر ان پرتشدد وکلاء کے خلاف خود سے کارروائی کرنے کے بجائے ان کا دفاع کرکے مجرمانہ غفلت اور بددیانتی کی ہے ۔
اسی طرح اٹک میں خاتون اسسٹنٹ کمشنر جنت حسین کا واقعہ ہے جہاں اسے اپنی ایک تقریر کے تناظر میں ریاستی اداروں ، نمائندوںاور انتہا پسند نوجوانوں سمیت سب کے سامنے اپنے دین اور عقائد کی وضاحت کرنا پڑی کہ وہ مسلمان ہیں اور ان پر جو الزام لگایا جارہا ہے وہ مکمل طور پر غلط ہے ۔ ان کی ایک تعلیمی ادارے میں کی گئی تقریر کو بنیاد بنا کر ان پر الزام لگایا گیا کہ ان کے مذہبی عقائد غلط ہیں او ریہ ایک مخصوص فرقے کی حمایت کررہی تھیں ۔ یہ الزام چند نوجوانوں کی طرف سے لگایاگیا او راس پڑھی لکھی خاتون کو سب کے سامنے پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہاں ریاست، قانون یا ادارے نہیں بلکہ افراد طے کریں گے کہ کون صحیح مسلمان ہے او رکون غلط مسلمان۔ اسی طرح کے کئی واقعات ہیں جن کو بنیاد بنا کر انفرادی یا جتھہ کی صورت میں سیاسی ، مذہبی اور سماجی طور پر جنونی افراد لوگوں کے سیاسی ، سماجی اور مذہبی نظریات کو چیلنج کرتے ہیں یا ان پر مختلف نوعیت کے الزامات عائد کرکے ثابت کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو ریاست وحکومت سمیت اداروں کے مقابلے میں ہماری سوچ اور فکر کو قبول کرنا ہوگا ۔بدقسمتی سے اٹک کے واقعے میں ہم نے الزام لگانے والوں کی حوصلہ شکنی یا گرفت کرنے کے بجائے اس عورت کو کٹہرے میں کھڑا کرکے  بے بسی یا خوف کا منظر پیدا کیا ہے اور یہ عمل اس طرح کے مزید واقعات کو جنم دینے کا سبب بنتا رہے گا ۔
اس واقعے سے پاکستان کی جو بدنامی اور رسوائی داخلی او رخارجی محاذ پر ہوئی ہے، وہ قابل گرفت ہے ۔ ہم نے اپنے مزاج سے دنیا کی اس فکر کی حمایت کی ہے کہ پاکستان بدستور انتہا پسندی او رپرتشدد رجحانات رکھنے والا ملک ہے ۔ کچھ غلط لوگوںکا رویہ مجموعی طور پر معاشرے کی بری تصویر پیش کرتا ہے۔ اس واقعے پراگران وکلاء سمیت دیگر طبقات میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کچھ کرنے کے بجائے سیاسی سمجھوتہ ، کمزوری یا نرمی اختیار کی جاتی ہے تو یہ عمل اور زیادہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آئے گا ۔ اب وقت ہے کہ ان لوگوں کے خلاف اور ان لوگوں کی حمایت کرنے والوں کی سختی سے سرکوبی کرکے قانون کی حکمرانی اور ریاستی و حکومتی رٹ کو مضبوط بنایا جائے ،وگرنہ دوسری صورت میں اس طرح کے واقعات مستقبل میں بھی دیکھنے کو ملیں گے اور ہم داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر اپنی لاچارگی پیش کرکے خود کو ایک تماشے کے طور پر پیش کریں گے جو معاشرے کی اخلاقی ساکھ کو بھی متاثر کرے گا۔
بدقسمتی سے جو سیاسی ، مذہبی ، سماجی ، اخلاقی اور قانونی کلچر ہماری سیاسی جماعتوں سمیت دیگر طبقات کی قیادتیں پیش کررہی ہیں وہ نہ تو جمہوری معاشرے کی شکل ہوسکتی ہے او ر نہ ہی کوئی اسے مہذہب اور ذمہ دار معاشرہ کہہ سکتا ہے ۔ جب ہماری قیادتیں یا ہمارا تعلیمی نظام عقل و شعور اورذمہ دار شہری بنانے کے بجائے ان میں ایک خاص مقصد کے حصول کے تحت منفی جذبات ، جنون، نفرت، تعصب او رخود سے بدلہ لینے کی آگ پیدا کرے یا اپنے مفاد کے لئے عام لوگوں پرتشدد استعمال کرے تو ہمیں اپنے پورے سماج کے فکری انحطاط کو نئے سرے سے سمجھنا اور ایک متبادل فکر کو تقویت دینی ہوگی ۔ہمارا تعلیمی نظام بچوں او ربچیوں یا نئی نسل میں رواداری او رایک دوسرے کے بارے میں جو عدم برداشت کا رویہ پیدا کررہا ہے وہ معاشرے کے اہل دانش یا معاشرے کی تشکیل نو کرنے والے اداروں کے لئے ایک لمحۂ فکریہ او رتشویش کا پہلو ہے کہ ہمارا سماج کدھر جارہا ہے ۔
ایک فکری مغالطہ یہ تھا کہ انتہا پسندی اور پرتشدد معاملات کا تعلق محض ناخواندہ یا مدارس اورنصاب یا پھر مذہبی کارکنوں سے جڑا ہوتا ہے ۔لیکن اب تو معاشرے کے پڑھے لکھے افراداو رادارے اور ہمارا اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نصاب بھی ایسے ہی مزاج کو پکڑ رہا ہے جو ہمیں مہذب کے بجائے مجرم بنا کر پیش کررہا ہے ۔بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نصاب ،استاد، علمائے کرام ، میڈیا سے جڑے افراد، شاعر، ادیب ، دانشوراو ر لٹریچر سے جڑے دیگر فن کار ایک ایسا قومی بیانیہ بنانے میں ناکامی سے دوچار ہیں جو معاشرے کے مجموعی مزاج میں امن پسندی اور بھائی چارہ سمیت ایک دوسرے کے لئے رنگ، نسل، فرقہ ، مذہب، برادری سے ہٹ کر احترام کا رویہ پیدا کرے ۔یہ جو ایک سوچ، نہ ماننے والوں کی ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں نہ تو انتہا پسندی ہے اور نہ ہی نئی نسل میں شدت پسندی یا تنازعات سے نمٹنے میں کوئی مسائل ہیں، یہ لوگ خود بھی اندھیرے میں رہتے ہیں اور دوسروں کوبھی اندھیرے میں رکھ کر ہمیں ایک متبادل فکر دینے میں رکاوٹ ہیں ۔
بعض واقعات معاشرو ں کو جھنجھوڑنے کا سبب بنتے ہیں او رمسئلے کی شدت کا احساس پیدا کرتے ہیں ۔ جو کچھ وکلاء برادری نے کیا ہے یا اس سے قبل جو پرتشدد واقعات ہوئے ہیں وہ مسئلے کی حساسیّت کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں ۔ اس سے قبل ہم بہت سے سیاسی اور مذہبی معاملات میں جو شدت پسندی او راس کے نتیجے میں سماجی بگاڑ یا پرتشدد واقعات دیکھ چکے ہیں اس پر کوئی غیر معمولی جنگ نہ لڑنا یا ایسی حکمت عملی اختیار نہ کرنا جو مسئلے کے حل میں رکاوٹ بنے ، بڑی ناکامی ہے ۔ نئی نسل کو اس جنگ میں ایک بڑے سفیر کے طور پر شامل کرنا ہوگا ۔تعلیمی نصاب سمیت نظام میں بڑی سرجری کرنی ہوگی اور رائے عامہ بنانے والے اداروں سمیت میڈیا کے محاذ پر ایک نئی سوچ، فکراو رخیال کو تقویت دے کر نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔تعلیمی اداروں کا اصل چیلنج نئے بیانئے کی تشکیل میں ریاستی مدد کرنا ہوتا ہے مگر یہاں تعلیمی ماحول خود انتہا پسندی پر مبنی رجحانات کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔
شدت پسندی مذہبی ہو، لسانی ہو، علاقائی ہو، فرقہ وارانہ ہو یا سیاسی و سماجی نوعیت کی ہو، ہر ایک کی ہر سطح پر بڑی جرأت اور دیدہ دلیری سے نفی کرنا ہوگی ۔ جو لوگ بھی ان منفی سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر اپنی فکر کو آگے بڑھاتے ہیں یا لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، ان کے خلاف ہر سطح پر ہمیں ایک بڑے اتحاد کی ضرورت ہے۔تمام فریقین کو اپنے داخلی محاذ پر ایسے لوگوں کے خلاف خود کارروائی کرنی ہوگی جو ان کی صفوں میں بیٹھ کر ان کی بھی اور ملک کی بھی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ معاشرے کے سنجیدہ اور علمی و فکری افراد کو چاہئے وہ کسی بھی شعبے سے ہوں ان کو اس انتہا پسندی او رپرتشدد رجحانات کے خلاف خاموش رہنے کے بجائے اپنی آواز کو بلند کرکے خیر کی قوتوں کا ساتھ دیںا ور اس بیانیے کی کھل کر مخالفت کریں جو لوگوں میں تنگ نظری پیدا کرتا ہو۔
پاکستان نے انتہا پسندی اور پرتشدد معاشرے سے بچنے کے لئے بیس نکات پرمشتمل نیشنل ایکشن پلان اے پی ایس میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد منظور کیا تھا ۔ یہ ایک قومی دستاویز ہے او را س کے بیس نکات قومی نصاب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان میں نصاب کی تبدیلی ،سوشل میڈیا کا استعمال ، نفرت انگیز اشاعتی مواد، نفرت اورتعصب پر مبنی تقریر یا تحریر، میڈیا ، مدارس کی تشکیل نو، اسلحے کا استعمال ، سیاسی و مذہبی فتوؤ ں سے گریز ،سیاسی ومذہبی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی کا کردار اور فرقہ واریت سے جڑے مسائل شامل ہیں ۔ ان تمام نکات کی مدد سے ایک ایسے سماج کی تشکیل نوہونی چاہئے جو احترام آدمیت کو سمجھے اور معاشرے میں انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی اور امن پسندی کو فروغ دے اور ایک دوسرے کی مختلف سوچ، نظریات عقائد، مذہب اور فکر سے اگر اختلاف بھی کرنا ہے تو اس میں احترام کا جذبہ موجود ہو۔لوگوں پر اپنی سوچ او ر رائے مسلط کرنے کے بجائے مکالمے کا کلچر پیدا کریں ۔ اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم نیشنل ایکشن پلان کو اپنی ترجیحات میں شامل کرکے ایک بڑے ایجنڈے پر کام کریں ۔
ریاست و حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں ان کے دوہرے معیارات او رسمجھوتے پر مبنی سیاست خود قانون شکنی کو فروغ دیتی ہے۔ حکومتی سطح پر تعلیم و تربیت کے معاملات پر جو کمزوریاں دکھائی گئی ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تعلیم میں تربیت کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ حالانکہ اس وقت قوم کو تمام فریقین یا طبقوں میں ایک ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے اور رواداری پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں مد د فراہم کرسکے ۔یہاں لوگوں کو مذہب اور سیاست کی بنیاد پر جھنجھوڑا جاتا ہے اور لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کتنے او رکیسے مسلمان ہو یا تمہارا عقید ہ کیا ہے، اس کو ہر سطح پر روکنا ہوگا ۔ قانون کی حکمرانی کے بجائے فرد یا طاقت ور کی حکمرانی کے نظام کو کمزور کرکے عدل ، انصاف اور سماجی قبولیت پر مبنی معاشرہ بنانا ہے ، یہ یہی ہمارا بہترمستقبل ہوسکتا ہے۔


مضمون نگار پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار او رمصنف کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور کئی اہم ملکی تھنک ٹینکس کے رکن بھی ہیں ۔ جمہوریت ، گورننس، دہشت گردی اور علاقائی تعلقات پر ان کی گہری نظر ہے۔  [email protected] 

یہ تحریر 327مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP