ادب و تقافت

تعلیم راستہ ہے، منزل نہیں جبکہ علم منزل ہے

معروف دانشور ، ماہرِ تعلیم اور سکالر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ سے خدیجہ محمود شاہدکی ماہنامہ ہلال کے لیے خصوصی گفتگو 

 برصغیر پاک و ہند کی ایک معروف شخصیت سید احمد مشہدی کے خانوادے کے ایک لائق و فائق فرد قاضی حامد علی کے آنگن میں 20جولائی1943 کو ایک ننھی کلکاری گونجتی ہے۔ اﷲ کی عطا کردہ اس رحمت کا نام عارفہ رکھاجاتا ہے۔جو آج ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔معروف سکالر، ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ ممتاز دانشور اور ماہرتعلیم ہیں۔ گفتگو کریں تو شعور اور علم کے موتی جھڑتے ہیں۔ان کے شاگردوں اور نیاز مندوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے ۔
اُن سے جو گفتگو ہوئی وہ قارئین ہلال کے لیے پیشِ خدمت ہے۔



سوال  :    میڈم آج کی گفتگو افواجِ پاکستان کے مجلے ہلال کے لیے ہے اورآپ  کے والد گرامی بھی تو فوج میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ بہر کیف قارئین  ہلال کو اپنے بچپن کی یادوں کے حوالے سے کچھ بتایئے!
جواب  :    بچپن تو سب کا بچپن ہوتا ہے لیکن یہاں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ جب سے سُدھ بدھ آئی تھی تو پڑھنے کا شوق تھا اور میرے والدین نے اور خاص طور پر میرے والد نے اس کو بہت بڑھاوا دیا۔ وہ کہیں بھی جاتے تھے تو واپسی پر میرے لیے ایک خوبصورت ٹوکری میں کتابیں لاتے تھے اور میرے لیے اس سے بڑی دولت نہ پہلے کبھی تھی نہ آج ہے۔ میں ان کا شکریہ ادا کروں گی اور یہ آپ کو بتائوں گی کہ میں ایک بہت خوش خیال گھرانے میں پیدا ہوئی اور یہ میری خوش نصیبی ہے جہاں نہ کوئی تعصب، نہ کوئی اونچ نیچ ، نہ کوئی فرق اور نہ کوئی امتیاز تھا۔ مجھے یہ سکھایا گیا کہ اچھاانسان بننا ہے۔ اکثر والدین یہ کہتے ہیں کہ اولاد یہ پڑھے ، وہ پڑھے، یہ نہ پڑھے۔ میرے والد کہتے تھے کہ انتخاب تمہارا ہے، جو چاہو پڑھو اور پھر دو باتیں کہا کرتے تھے ایک تو انگریزی میں ہدایت تھی Do your best, Choice is yoursاور یہ کہتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ تم لوگ اچھے انسان بنو۔ اب یہ تو میں دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اچھی انسان بنی یا نہیں لیکن ایسے والدین کی تربیت ملنا بذات خود بہت بڑی سعادت کی بات تھی اور ہے۔ میری اماں بہت پُرلطف خاتون تھیں۔ ادب کا ، شعر کابہت اچھا ذوق رکھتی تھیں۔ خود بھی شعر کہتی تھیں اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب انہوں نے سکول دیکھا ہی نہیں تھاکہ سکول کیسا ہوتا ہے لیکن یاد رکھیے گا کہ تعلیم رسمی ہی نہیں ہوتی بلکہ جو ماحول دیتا ہے اور اس میں جو اہتمام ہوتا ہے وہ کہیں زیادہ اہم ہوتا ہے۔ میری اماں میرے ابا سے کہیں زیادہ خوش مزاج تھیں۔ حس مزاح کمال کی تھی اور ایک ایسی ترکیب تھی ہمارے گھر میں کہ اس میں زیادہ گھبرانا نہیں پڑتا تھا۔ میرے خاندان کی روایت کے مطابق میرے والد کی تعلیم علی گڑھ میں ہوئی۔ سنا ہے کہ بہت اچھا پڑھتے تھے اور ان کا بہت جی چاہتا تھا کہ وہ ہندوستان کے بڑے سے بڑے کالج میں جائیں اور میرے دادا نے خم ٹھوک کے کہہ دیا کہ اگر پڑھنا ہے تو علی گڑھ جائو ورنہ جہاں چاہوپڑھ لو۔ پھر میرے والد علی گڑھ گئے اور جو سب سے خوشگوار یادیں جو ہم تک پہنچیں وہ یہ تھیں کہ جب علی گڑھ والوں نے پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا، میرے والد ان طالب علموں میں شامل تھے جو قائداعظم کی بگھی کوسٹیشن سے یونیورسٹی تک کھینچ کر لے گئے تھے اور انہیں اس بات پر بہت ناز تھا۔ تو اس طرح ان کی تربیت میں بھی ایک خوش خیالی اور طبیعت میں کشادگی تھی۔ میں آج کا ماحول دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ہم اب کیسے ہوگئے ہیں، ہم ہر کسی سے لڑتے ہیں، ہر کسی سے خفا ہوتے ہیں، ہر کسی سے نفرت کرتے ہیں۔


 تعلیم راستہ ہے، منزل نہیں جبکہ علم منزل ہے۔ اس راستے کوجو چیزروشن کرتی ہے، آپ کو ٹھوکر لگنے سے بچا لیتی ہے وہ تربیت ہے۔تربیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جتنا دامن ہے، اُسی میں زندہ رہنا سیکھو۔  زندگی سے محبت کرنے کے لیے بھی تربیت چاہیے  اور تربیت اس چیز کا نام ہے جب آپ اپنے سے اُٹھ کر زندہ رہنا سیکھتے ہیں۔ آج کل معاشرتی زوال کی اصل وجہ یہی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت نہیں رہی۔


        میں نے اپنے بچپن میں یہ لفظ جانے ہی نہیں تھے۔ میرے والد ملٹری کالج جہلم میں پڑھاتے تھے۔ یہ کہلاتاتو جہلم ہے لیکن ہے سرائے عالمگیرمیں اور میں سمجھتی ہوں کہ میرے اندر کی دنیا کو بنانے میں سرائے عالمگیر کا بہت بڑا حصہ ہے۔ سیدھے ہاتھ دریا ، اُلٹی کروٹ پر سرہانے کھیت ،پائنتی پھول ۔ اوپر نیلا کھلا آسمان۔ یہ تھا ہمارا پیارا پاکستان۔ ابھی ہمیں ترقی کا اتنا بھوت نہیں چڑھا تھا۔ رات کو ستاروں کی چھائوں میں سوتے تھے اور بیچ میں آنکھ کھلتی تھی تو بہت مزا آتا تھا۔ آسمان ستاروں سے بھرا نظر آتا تھا۔ 
        ایک طرح سے زندگی میں جو رومانویت ہے، رومانویت اس کو نہیں کہہ رہی ہوں کہ آپ اداس رہیں، گانے گائیں بلکہ زندگی سے جو محبت ہے اس میں اس ماحول کا بہت بڑا حصہ ہے اور سب سے بڑی بات میں اس بات کا حصہ ہے کہ میرے والد نے بہت خاموش طریقے سے یہ سکھایااور میری والدہ نے بھی، جیسے میں آج کہتی ہوں کہ مجھے زندگی سے بھی محبت ہے اور میں اس دنیا سے بھی محبت کرتی ہوں۔ ان دونوں سے بڑی نعمتیں اور کیا ہوںگی؟
         بہت لطف کی زندگی تھی اور ایک اور بات مزے کی تمہیں بتائوں کہ اس وقت کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ آپ لڑکی ہیں یا لڑکا ہیں اور میری عمرکے9سال سے لے کر جب تک 14-15 سال تک میں نے میٹرک کیا، میرے برابر کی لڑکیاں نہیں تھیں، لڑکے تھے۔ میں ان کے ساتھ کھیلتی تھی۔ میں نے کرکٹ کھیلی ہے اور تم کو یقین نہیں آئے گا کہ میں نے کبڈی بھی کھیلی ہے۔ ان کے ساتھ نہر میں غوطہ بھی لگاتی تھی اور وہ مجھے چڑاتے تھے کہ یہ ڈر جائے گی۔ مگر ایسا نہیں ہوتا تھا اور عجیب زمانہ تھا کہ لوگ نہ ڈانٹتے تھے ، نہ سختی برتتے تھے۔ ہم نہر کے پُل پر جا کے کھڑے ہوتے تھے اور ریل نہر یا دریا کے پُل پر سے گزرتی تھی تو وہاں باقاعدہ ایک چوکی تھی جس پر پہرے دار بیٹھتا تھا۔ وہ ریلوے کا آدمی ہوتا تھا وہ ہمیں دیکھ کر کہتا تھا 'آگئے کالج کے بچے ' وہ ہمیں ملٹری کالج جہلم کی وجہ سے کالج کے بچے کہتا تھا۔


 آٹھویں میں تھی تو مجھے David Copperfield دی گئی اور مجھے کہا گیا کہ آج سے یہ تمہارا تکیہ ہے۔ وہ تھی ہی اتنی موٹی تازی کتاب ۔ پھر آٹھویں سے ہی ایک اورعادت ڈالی جو آج تک میرے ساتھ ہے کہ انہوں نے مجھے روسی کہانیوں کے ترجمے انگریزی میں پڑھانے شروع کیے ، ایک طرح سے دنیا کو کہانی کے ذریعے سمجھایا۔ کہانی کی خوبی یہ ہے کہ وہ بڑی نرمی سے ساری باتیں بتا دیتی ہے۔


        اتوار کے دن ہمارا مشغلہ یہ تھا کہ سرہانے بہت کھیت تھے تو ہم کھیت کی طرف نکل جاتے تھے، کیا پیارے لوگ تھے کہ دروازے کھلے رہتے تھے۔ بند نہیںہوتے تھے۔ کہیں بھی دروازے پر دستک دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی پلا دیں ۔ کیا قیامت کی عورتیں تھیں کہ پانی کیا پینا ہے اندر آئو اور روٹی کھائو۔ اور روٹی کے نام پر وہ ہم سب کو پراٹھے کھلاتی تھیں، اچار کے ساتھ پھر رخصت کرتی تھیں۔ ہم پیٹ بھر کرپھر کھیلنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ جہلم کا جو علاقہ ہے وہ بہت اچھا ہے اور ہم وہاں جن نئی جھاڑیوں اور درختوں کو دیکھتے تھے ان کا نام نہیں آتا تھا، اس کے پتے ہمارے ساتھ آتے تھے اور گھر آتے تو پوچھا جاتا تھا یہ کون سے پیڑ ہیں اور پھر باقاعدہ ایک فہرست بنائی جاتی تھی کہ آج ہم نے یہ دیکھا یہ کیا، یہ سیکھا ۔ قدرتی ماحول سے جو ایک لگائو تھا زندگی میں وہ بہت کام آیا ۔ نہر اور دریا کا جو پھیلائو تھا وہ بھی بہت کام آیا۔ اس زندگی میں اور پھر اس کالج میں جو پاک فضا تھی شرارت کرنے کی بے حساب آزادی تھی۔ بدتمیزی کرنے کی کوئی اجازت نہیں تھی۔ میرے والد کہا کرتے تھے شرارت ذہین آدمی کرتا ہے اور بدتمیزی بے وقوف۔
            میں اور میرا ایک بھائی جو مجھ سے تھوڑا چھوٹا تھا۔ ہم دونوں کبھی لڑتے تھے تو ہمارے گھر کا اصول یہ تھا کہ جو شکایت کرنے جائے گا اسی کو سزا ملے گی تو سمجھ لیں کہ ہمیں اول دن سے یہ سکھایاگیا کہ اپنی شکایت ، اپنے مسئلے خود نپٹائو، خود طے کرو اور اس طے کرنے میں ہم نے تکیے بہت پھاڑے ہیں اور اپنی اماں  کا جی بہت جلایا ہے لیکن اتنی سادہ اور اتنی پُر لطف زندگی اب نہیں ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں سے، معمولی چیزوں سے بہلتے تھے۔ اب لوگوں نے وہ سب پیڑ کاٹ دیے جہاں میں نے بے حد رنگ رنگین چڑیاں دیکھی ہیں۔ مجھے اب وہ چڑیاں دیکھنے کو نہیں ملتیں۔ یوں سمجھ لیجیے فطرت بہت پسند تھی اور ہے۔ پڑھنے کا بہت شوق تھا اور دل سے پڑھتی تھی۔
        آٹھویں میں تھی تو مجھے David Copperfield دی گئی اور مجھے کہا گیا کہ آج سے یہ تمہارا تکیہ ہے۔ وہ تھی ہی اتنی موٹی تازی کتاب ۔ پھر آٹھویں سے ہی ایک اورعادت ڈالی جو آج تک میرے ساتھ ہے کہ انہوں نے مجھے روسی کہانیوں کے ترجمے انگریزی میں پڑھانے شروع کیے ، ایک طرح سے دنیا کو کہانی کے ذریعے سمجھایا۔ کہانی کی خوبی یہ ہے کہ وہ بڑی نرمی سے ساری باتیں بتا دیتی ہے۔ میں ایک اور لطف کی بات بتائوں کہ میں بے حد احسان مندی اور بے حد ناز سے یہ کہوں گی کہ میں اپنے گورنمنٹ سکول کی پیداوار ہوں۔ میں جو بھی کچھ ہوں،وہ نقش اول میرے لیے میرے استادوں نے رکھا تھا۔ آج تو گورنمنٹ سکولوںسے لوگ اُردومیڈیم کہہ کر منہ پھیر لیتے ہیں مگر میرا یہ سرکاری سکول کبھی میری زندگی میں آڑے نہیں آیا۔اس نے میری شخصیت بنانے میں بہت مدد کی اور کتنی اچھی تربیت تھی کہ باقاعدہ تقریر کا ماحول دے کر تقریر کروائی جاتی تھی۔ آپ اگر اس سکول کا کیمپس دیکھیں تو بہت سی یونیورسٹیز کا کیمپس اس  جتنا بڑانہیں ہے۔ کھیل کے میدان، بات چیت کا طریقہ اور پھر استاد آپ سے کورس ختم نہیں کرواتے تھے، وہ بات سمجھاتے تھے اور اس وقت کی تعلیم میں بھی ایک بڑا پھیلائو اور بڑا ظرف تھا۔ اب تو کوئی ہندوستان کی قدیم تاریخ پڑھتا ہی نہیں۔ میں نے جب نویں دسویں میں تاریخ پڑھی تو پتہ ہے کہاں سے شروع کیا تھا؟ گپتا سے، ایشوک سے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے آپ سے خائف نہیں تھے۔ خوفزدہ نہیں تھے۔ ہم سمجھتے تھے کہ کسی بھی چیز کے جاننے اور سیکھنے میں کوئی ہرج نہیں اور میرے والد کسی کو نصاب کی کتاب پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے تو مسکرا کر کہتے تھے کوئی ڈھنگ کی کتاب پڑھو۔ یہ نصاب کی کتاب کیا پڑھ رہے ہو۔ اسی موضوع پر کوئی اور اچھی کتاب پڑھو، یہ نصاب کی کتاب خود ہی تمہاری سمجھ میں آجائے گی۔وہ نصابی کتاب تک دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ میں ان کی ایک اور بات کے لیے بھی ممنون ہوں کہ پاکستان کی عورتوں میں، یہ یاد رکھیے گا، میرے ابا نے مجھ سے بھی پہلے عَلمِ بغاوت بلند کیا اور کہنے لگے کہ میری بیٹی ملانیوں سے نہیں پڑھے گی۔ کیا تُک ہے کہ لڑکی کو ایک عام سی تربیت سے پڑھنے والوں کے سپرد کر دیتے ہو اور اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ قرآن کے لحن کا بھی ایک حُسن ہے تو میرے لیے ایک قاری صاحب کا انتظام کیا گیا میں آپ سے 1950 کے زمانے کی بات کررہی ہوں اور 1950-1955میںایسا سوچنابذاتِ خود ایک بغاوت ہے۔
        میرے ابا بے حد خوش مزاج آدمی تھے اور کہانی اس طرح سے سناتے تھے کہ ہم ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے اور پھر یہ کہتے تھے کہ یہ کہانی تم سنائو آگے کا قصہ تم بتائو اور اس وقت ہمارے گھر کا ایک اور بھی دستور تھا کہ شام کے کھانے پر عام طور پر سارا گھر جمع ہوتا تھا اور سب اپنے اپنے دل کی باتیں کرتے تھے۔ چاہے وہ ابا ہیں ، اماں ہیں، ہم بہن بھائی ہیں۔ اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں اس قدر لہک مہک کے اور چمک دمک سے سنائی جاتی تھیں اور آج میری سمجھ میں آتا ہے کہ وہ لوگ اس کو اتنا  دل سے کیوں سنتے تھے تاکہ ان کی سمجھ میں یہ آسکے کہ ہمیں کیااچھا لگ رہا ہے۔ ہمیں کیا بُرا لگ رہا ہے اور ہمیں کہاں تھوڑی تربیت کی ضرورت ہے اور پھر یہ کہ ہم جو کہہ رہے ہیں وہ اس قابل ہے کہ کہا جائے، اس قابل ہے کہ بڑے اس کو سن سکیں ۔ دوسری بات یہ کہ ہم نہ جھجکیں نہ چھپانا سیکھیں۔پرائیویسی کی  اب جو بات عام ہے۔ وہ اس وقت نہیں تھی۔
        اکثر اوقات میرے ابا یہ کہتے کہ یہ کتاب پڑھو، یہ کتاب دیکھو اور اگر اس میں کوئی اچھی بات دیکھو تو مجھے لکھ کر دکھائو۔ بڑی خاموش طرح کی تربیت تھی بہت ہنستے کھیلتے ، کوئی سختی نہیں تھی۔
        بارش ہوتی تو ہم اس طرح نہاتے کہ کیا کہنے۔ اماں کو خیال ہوتا تھا کہ ایک توسارے کپڑے کیچڑ میں اچھل کود کرکے گندے کرلیں گے اور دوسرا یہ کہ ہم بیمار ہو جائیں گے۔ مگر میرے بابا نے کبھی نہیں روکا۔ وہ کہتے تھے یہی دن ہیں کھیل لینے دو۔ ذرا بڑے ہوگئے تو پھر کیسے ناچیں گے بارش میں، زندگی سے محبت اور زندگی کا احترام ، دونوں چیزیں ساتھ سیکھیں اور صرف زندگی کا احترام نہیں، زندہ رہنے والوں کا بھی احترام سیکھا۔ 
        ہم سے کوئی مختلف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غلط ہے۔ وہ اس کا طریقہ ہے۔ اگر وہ ہماری بات کو برداشت کررہا ہے تو ہم اس کی بات کو برداشت کریں۔ میں نے کبھی نہیں جانا کہ ہم میں سے کون کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ ہم سب اکٹھے ہوئے۔ اس لیے میرا بچپن تو سچ میں بہت مزے کا بچپن تھا۔
         یہ بھی ذہن میں رکھ لیں کہ استاد کبھی بھی امیر الا ُمراء نہیں ہوسکتے۔ اس لیے جو بھی اس وقت میسر تھا لطف کا سامان تھا۔ خوشی بہت تھی اور اس خوشی کی بدولت میری سمجھ میں یہ آیا کہ خوشی کا ساز و سامان نہیں ہوتا ۔ خوشی آپ کے اندر ہوتی ہے۔ ڈھونڈ کے لانا ہوتی ہے اور جس قدر اس کو دوسروں میں شریک کرسکیں، کریں۔ یہاں میں یہ بھی اعتراف کرلوں کہ مجھے ریاضیکبھی اچھی نہیں لگیـجیومیٹری کبھی اچھی نہیں لگتی تھی۔ پرچہ دے کے دو رکعت نفل پڑھ کے رو رو کر دعا مانگتی تھی کہ اﷲ میاں پاس کردینا۔
         میرے ابا نے ایک اوردھمکی بھی ہمیں دے رکھی تھی کہ فیل ہو جائو گے تو بس پڑھنا ختم ۔ اس خوف کے مارے پاس ہونا بہت ضروری ہو جاتا تھا۔ اﷲ کا شکر ہے کہ فیل کبھی نہیں ہوئے اچھے نمبر اس میں بھی آئے لیکن جتنا دل میرا تاریخ میں، جغرافیہ میں لگتا تھا اتنا ریاضی میں نہیں لگتا تھا۔ میں اس کا اعتراف کرتی ہوں۔
         اس وقت ایک بہت اچھی بات تھی پنجاب کے سکولوں میں کہ شروع کی کلاسوں میں تھوڑا ساکلام پاک پڑھاتے تھے ترجمے کے ساتھ۔ زور ترجمے پر ہوتا تھا۔ توجہ اس بات پر تھی کہ جو بات کہی جارہی ہو اس عمر میں زندگی سے قریب تر کی بات ہو تاکہ تھوڑا سا حوالہ آپ کو اس سے بھی مل سکے، یوں سمجھیے کہ کھیلتے کودتے، گاتے ، گنگناتے بہت ہی خوبصورت ، بہت اچھی زندگی گزری ۔ مجھے کوئی شکایت ہی نہیں ہے نہ کسی فرد سے، نہ زندگی سے۔
سوال :     آپ کے والد کا تعلق پاک فوج سے بھی تو رہا ہے۔ آپ نے ذکرکیا تھا۔اس بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب :    پاپا بنیادی طور پر شروع زندگی سے فوجی تھے۔ فوج میں تو وہ 1957 میں شامل ہوئے اور اس کی کہانی یہ ہے کہ وہ ملٹری کالج جہلم میں پڑھا رہے تھے اور انگریزی کے زبردست استاد سمجھے جاتے تھے۔ جس کو انہوں نے انگریزی پڑھا دی وہ زندگی بھر غلطی نہیں کرسکتا تھا۔1957 میں ملٹری کالج جہلم کے اساتذہ کے لیے کہا گیا کہ وہ سب اب فوجی ہوں گے۔ یعنی فوج میں شامل ہوں گے تو جو فوجی تھے وہ توڈائریکٹ چلے گئے لیکن میرے والد کی طرح کے لوگوں کو یہ کہا گیا کہ وہ باقاعدہ اس کے لیے درخواست دیں جو ایک سلسلہ ہوتا ہے، ان کا خاص طریقہ کار ہوتا ہے، تو اﷲ کا کرم ہے کہ میرے والد اس طریقہ کار سے گزرے اور کامیاب ہوئے اور پھر پاک فوج کی ایجوکیشن کا حصہ بن گئے۔
سوال :    میم جب والد محترم نے فوج جوائن کی تو پھر کچھ عرصے بعد سازو سامان اٹھا کر ایک نئی منزل کی طرف سفر کرنا پڑتا ہے، وہ تجربہ کیسا رہا؟
جواب :    جب پہلاسازو سامان ہم نے اپنا لپیٹا تو ہم جہلم سے مری پہنچے، اس وقت وہاں آرمی سکول آف ایجوکیشن تھا ، وہاںایک اور دنیا میسر آئی۔ یہ آج کا مری نہیں ہے۔جہاں لوگ صرف تکے ، کڑاہی، کباب کھانے جاتے ہیں۔ اس وقت بازار کا کھاناکھانا بدتہذیبی شمار ہوتا تھا۔ اب وہ مری کی تہذیب میں شامل ہے۔ وہاں کا سبزہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ کس قدر گھنا جنگل تھا مری کا۔ پرانی سڑک پر ہر چیز کے پیڑوں کی خوشبو شروع ہوتی تھی ، ایک مہک تھی ہوامیں۔ ہم وہاں گئے اور بہت مزہ آیااور عارفہ سیدہ کو اور بھی آزادی مل گئی۔ وہ یوں مل گئی کہ مری میں کوئی کالج نہیں تھا۔ہائی سکول تھا اور میںہائی سکول پاس کرکے جہلم سے گئی تھی۔ میرا چھوٹا بھائی اس وقت ملٹری کالج جہلم میں تھا اور وہ میٹرک میں تھا۔ اس لیے اس کو چھ سات مہینوں کے لیے وہاں رہنا پڑا۔ تو میرے اماں ابا نے سوچا کہ ایک وہاں ہے ، دوسری کو ہم ہاسٹل بھیج دیں گے تو مشکل ہو جائے گی۔ شاید میرے والد اس وقت دو بچوں کو گھر سے باہر رکھ کر نہیں پڑھا سکتے تھے۔ وہ مشکل ہوتا ان کے لیے، جو تنخواہیں آج ہیں وہ اس وقت تو خواب میں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ مگراس کا فائدہ کمال کا ہوا اور وہ یہ کہ میں اس بات کی تعریف کرنا چاہتی ہوں کہ فوج میں جو لائبریریز ہیں ان کا جواب نہیں۔ آرمی سکول آف ایجوکیشن کی لائبریری میں گئی ، مجھ پرکوئی قیدنہیں تھی کہ یہ پڑھو گی اور وہ نہیں پڑھو گی ۔ میں نے اس عمر میں منٹو پڑھا۔ مرزا عظیم بیگ چغتائی پڑھا۔ جو نیا لکھنے والا، پرانا لکھنے والا سب چاٹ گئی۔ کہانی اچھی لگتی تھی ، کہانی میرے دل کو آج بھی اچھی لگتی ہے، پڑھنے میں مزہ آتا تھا۔ اس طرح ہم نے کوئی سمجھ لیجیے تقریباً اگلے دسمبر تک اسی موج میلے میں زندگی گزار دی۔ 
        پڑھا بہت، تاریخ بھی پڑھی، مذہب بھی پڑھا اور سیاست بھی پڑھی لیکن سب سے زیادہ ادب پڑھا اور اس میں ترجمے پڑھے وہ میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ امتیاز علی تاج نے ایک کتاب Little  Women کا ترجمہ ''ننھی بیبیاں'' لکھا تھا۔ مجھے آج تک اس کتاب کا نام نہیں بھولتا پھر دسمبر میں مرے چچا میرے والد سے ملنے آئے اور پوچھا کہ یہ کیا کررہی ہے؟ کہیں پڑھ رہی ہے کہ نہیں پڑھتی۔ پاپا نے کہا نہیں پڑھتی، تو انہوں نے پھر پوچھا کہ امتحان دے گی یا نہیں دے گی ایف اے کا؟
        ابا نے کہا سوچا نہیں۔ چچا بولے کیا کرتے ہیں۔ کیوں نہیں سوچا آپ نے؟ ایک اور بات درمیان میں بتا دوں۔ وہاں ہمارے بابا کے ایک بہت پیارے دوست تھے ، معین صاحب، ان کی بیگم نے مجھے فرنچ سکھائی اور اماں نے باقاعدہ فرنچ پڑھنے پر آمادہ کیا مجھے۔آپ کویہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایف اے کا جو امتحان میں نے پرائیویٹ طالب علم کے طور پر دیا اس میں میرا ایک مضمون فرانسیسی بھی شامل تھا۔دوسرا مضمون تاریخ تھا اور تیسرا مضمون اُردو، اس وقت اُردو لازمی نہیں تھی۔ اس لیے لوگ دل سے پڑھتے تھے۔ جو چیز لازمی ہوجاتی ہے اس سے آپ بدک جاتے ہیں، یہ انسانی نفسیات ہے۔ اور انگریزی ویسے ہی پڑھ رکھی تھی تو نہ لفظوں کی کمی تھی نہ لکھنے میں کوئی مشکل تو اس طرح سے میں نے پڑھائی کی۔ سوچیے اس وقت کوئی ٹیوشن بھی نہیں تھی۔ مجھے کسی نے نہیں پڑھایا۔ نہ کوئی ٹیوشن اکیڈمی اور نہ ہی کوئی ٹیوٹر ۔ اشفاق چچا نے مجھے بورڈ کے امتحانوں کا ایک پراسپیکٹس بھیجا کہ کون سا مضمون پڑھنا ہے۔ اسی حساب سے میں نے چن لیا۔ تاریخ چنی، سوکس چنی، انگریزی ادب، اُردو ادب اور فرانسیسی ایف اے میں ایک مضمون تھا۔Religions of the World'   with Special Emphasis on Islam
        بڑا ہی مشکل لگتا تھا لیکن مشکل مجھے گدگداتی ہے ۔ میں گھبراتی نہیں ہوں،  اس لیے پہلی دفعہ میں نے عبدالحق محدث دہلوی کی تفسیر پڑھی۔ بس اس میں گم ہوجاتی تھی اور ابا نے شرط یہ لگائی تھی کہ مشکل لفظ ڈھونڈلو۔ سمجھنے کی خود کوشش کرو۔ پڑھائی کی خاطر نہیں کہہ رہی ہوں لیکن یہ بتائوں گی کہ میں پانچ سال کی تھی جب میں نے پہلی بار کلام پاک قرأت کے ساتھ ختم کیا اور اس کے بعد مجھے ناظرہ پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ترجمے کے ساتھ پڑھنا، سمجھ نہیں آرہا، کوئی بات نہیں مانوس تو ہو ، بات اس کی تھی کہ مانوس ہو جائو کسی چیز سے۔ اسی دوران میرے ابا کا ٹرانسفر لاہور ہوگیا۔ ہم اپریل میں لاہور پہنچتے ہیں ۔ مئی میں امتحان ہوتا ہے۔ دے دیتے ہیں پیپر ، جو ہماری سمجھ میں آتا ہے، پرائیویٹ اُمیدوار کی حیثیت  سے ، باقی اﷲ میاں کرم کرتے ہیں۔ ہم پاس ہو جاتے ہیں اور دوکالجوں میں داخلہ ہو جاتا ہے۔ کینئرڈ کالج اور لاہور کالج دونوں میں۔ میں دونوں جگہ جاتی ہوں۔ کینئرڈ کالج بہت اچھاکالج تھا لیکن مجھے یہ لگا کہ کینئرڈ کالج کے معیارپر زندگی پوری نہیں اُترتی ہے۔ وہاں ایک خاص طبقہ ہے جبکہ لاہور کالج میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔میں نے اپنے ابا سے کہا کہ پاپا میں لاہور  کالج جائوں گی۔ کہنے لگے فیصلہ تمہارا ہے، کینئرڈ کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے وہ مخصوص لگتا ہے میں عام لوگوں میں جانا چاہتی ہوں۔ چلی گئی اور وہاں سے میں نے بی اے آنرزکیا۔  بہت لطف آیا پھر گورنمنٹ کالج میں چلی گئی۔ تعلیم کا یہ Concept ایوب خان صاحب لے کر آئے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ 3 سال کا BA ہوگا۔ کہ جو سادہ بی اے کریں گے وہ MA دو سال میں کریں گے، جوبی اے آنرز کریں گے  وہ ایم اے ایک سال میں کریں گے تو ہم مڈل کلاسیوں کی ذہنی تربیت نے کہا کہ ہم آنر کریں گے تاکہ ایم اے ایک سال میں کرسکیں۔ میری بہت محترم استاد مسز سراج الدین جن کے شوہر پروفیسر سراج الدین گورنمنٹ کالج کے پرنسپل رہے ہیں، وہ مجھ سے تین سال یہی کہتی رہیں''عارفہ سن لے!  اگر تو ایم اے کرے گی تو انگریزی میں کرے گی، نہیں تو نہیں کرے گی۔'' دو سال ہم کچھ نہیں بولے ۔ جب آخری وقت آیا،جب آپ نے فارم بھرنا ہوتا ہے تو میں ان کے پاس گئی اور بہت ڈرتے ڈرتے گئی کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر انگریزی کے سوا کسی اور چیز میں ایم اے کرے گی تو کرنے نہیں دوں گی۔ اس وقت کا استاد یہ بھی کرسکتا تھا آج کا استاد کچھ نہیں کرسکتا۔ ان کے پاس گئی ان سے اجازت لی ۔ وہ کرسی سے اچھل پڑیں۔ ''دماغ خراب ہوگیا ہے ، پاگل ہوگئی ہو۔'' میں نے کہا نہیں بس آئیڈیلزم  کا سوال ہے تھوڑا سا۔ انہوں نے کہانان سینس، واٹ آئیڈیلزم؟  میں نے کہا کہ بس ہے میرا سارا فکری، تہذیبی جو ورثہ  ہے وہ اس زبان اُردو میں ہے اور میں اس کو پڑھنا چاہتی ہوں۔ دوسرا یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں جو کچھ نہیں کرسکتا وہ اُردو، فارسی، اسلامیات اور عربی میں ایم اے کرتا ہے تو میں اس روایت کو اپنے تئیں توڑنا چاہتی ہوں۔بس یہ ایک آئیڈیلزم کا سوال ہے۔ اس وقت میرے سر پر بال بھی بہت تھے،  انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ جا کر لے بی اے آنرز اُردو میں۔ تو اس طرح ہمیں اجازت مل گئی اور ہم نے کرلیا اورہم بہت خوش ہوئے اور آج تک میں اس بات پر نہیں پچھتائی۔ میرا ہی اُردو کا ایم اے تھا  جس نے مجھے امریکہ کے ایک اہم ادارے ایسٹ ویسٹ سینٹر جو کہ امریکہ کی یونیورسٹی آف ہوائی سے متصل ہے، سے 1983 میں Intellectual History  میں پی ایچ ڈی کیا۔
        میں ایک بہت قابل اور ذہین سکالر تھی اور وہاں سے مجھے دو ایوارڈ بھی دیئے گئے۔یہ تھی ساری کہانی جو میں نے آپ کو سنا دی کہ کہاں سے شروع کیا تھا سفر۔ لیکن ہاں یہ بات تو میں بتانا بھول گئی کہ جب تک میں سکول میں پڑھتی تھی تقریر میں حصہ لیتی تھی۔مباحثہ ہوتا تھا اور آپ کو پتہ ہے کہ اس وقت سکول کی بھی یونین ہوتی تھی اور عارفہ سیدہ یعنی میں سکول کی یونین کی صدر تھی۔ (مسکراتے ہوئے) اور پھر لاہور کالج اور گورنمنٹ کالج میں بھی مباحثوں میں حصہ لیتی رہی۔


 میرے نزدیک علم کی کوئی منزل نہیں ہے، اگر علم کی کوئی منزل ہو جائے تو ہم سب رُک جائیں اور منزل پر تو تھکنے والا پہنچتا ہے۔ سفرکرنے والا کبھی نہیں تھکتا  اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب لوگ اُس کو چلتے دیکھتے ہیں تو کارواں خود بخود بنتا چلا جاتاہے۔


        آج جب لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ بہت اچھا بولتی ہیں، دائرہ مکمل ہو جاتا ہے جہاں سے آپ بات شروع کرتی ہیں وہیں لاکر بات ختم ہوتی ہے۔  تو میں پاپا کو بہت محبت سے یاد کرتی ہوں۔ یہ بھی بتا دوں کہ وہ بہت سخت گیر بھی تھے۔ میرا خیال ہے اس وقت کے سارے ماں باپ سخت گیر ہی ہوتے تھے۔ یہ ان کی تربیت کی خاصیت تھی (مسکراتے ہوئے)لیکن اس سختی میں آپ کی بہتری منظور تھی۔ آج کے والدین اپنی اولاد کو اداس دیکھتے ہیں تو ان کا ہاتھ  فوراً اپنی جیب میں جاتا ہے اور بٹوہ نکل آتا ہے۔ میرے ابا کبھی مجھے اس طرح سے دیکھتے کہ میں خاموش ہوں یا اداس ہوں تو بہت لاڈ سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے مجھے اپنے پاس بلاتے ا ور پوچھتے کہ کوئی بات ہے تو مجھے بتائو۔ ہم امی کو نہیں بتائیں گے۔ یہ سب سے بڑا اعتبار تھا تو کبھی بھی مجھے اپنے والد سے کوئی بات کہتے ہوئے خوف نہیں آیا۔ کوئی بات ایسی تھی ہی نہیں میری زندگی میں کہ جو میں چھپائوں اسی لیے آج میں بے حد اطمینان سے کہہ سکتی ہوں کہ 
        ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت
سوال     اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں کچھ بتائیں
جواب    ایک وقت تک ہم دو بہن بھائی تھے پھر بعد میں میرے دوسرے بہن بھائی آئے ۔آپ کو شاید معلوم ہو کہ نہیں میرا پیارا بھائی جاوید حسن علی وہ بچھڑگیا مجھ سے۔2020میں ان کوکووڈ چھین کے لے گیا ۔بہت ذہین آدمی تھا۔ تلوار کی دھار کم تیز ہوگی، جتنا اس کا ذہن تیز تھا۔ چونکہ ہم ایک ہی طرح پلے بڑھے تھے، ایک ہی طرح کی ہماری تربیت تھی۔ اس نے ہمارے ابا کی طرح انگریزی میں ایم اے کیا تھا ۔ میں بغاوت میں اُردو سے محبت کر بیٹھی ہوں۔ وہ سول سروسز میں گئے  جو پہلے CSS کہا جاتا تھا، پھر ڈی ایم جی کہلایا۔پتہ نہیں اب کیا کہلاتا ہے اور آپ کو بتا کے مجھے اچھا لگے گاکہ بے حد پُر لطف انسان تھے  میرے بھائی۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے سفر میں انہوں نے بحیثیت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ گورنمٹ آف پاکستان تک پہنچے اور لوگ یاد کرتے ہیں کہ ویسا  اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ بے حداچھی حِس مزا جی تھی اور ہماری دونوں کی بنتی بھی بہت تھی۔  وہ چلاگیاتو مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی عار نہیں کہ میں بہت اکیلی رہ گئی۔ جس طرح ہم ایک دوسرے کی بات سمجھ لیتے تھے وہی اہم بات ہے۔2020  میں میری جب اس سے آخری ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے بہت ہمت سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ تم بہت بہادر ہو۔ ایسی ہی رہنا۔ ہمارا  عمروں کا  فرق بھی دو سال سے کم تھا۔
        میں اپنے اماں ابا کی دوسری اولاد ہوں لیکن زندہ رہنے والوں میں بڑی میں ہی ہوں۔ مجھ سے پہلے ایک بھائی تھا، اس کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا ۔ میرے تین بھائی اور ہیں۔ ایک بہن ایم بی بی ایس ڈاکٹر عاصمہ ،دوسری بہن عاطفہ رفعتسول سروس میں ہے اور ایک سب سے چھوٹا بھائی سید باسط علی وہ بھی DMG میں تھا، اس نے وہ نوکری چھوڑی اور اب وہ سٹیٹ بینک میں ڈائریکٹر ہے۔
        میرے والد کا نام تھا قاضی حامد علی۔ انہوں نے کبھی اپنے نام کے ساتھ سید نہیں لکھا،  سنا ہے اس پر دادا بھی بہت خفا ہوئے تھے۔ وہ آرمی ایجوکیشن کور میں میجر تھے اوران دنوں کرنل محمدخان جو معروف ادیب ہیں، بھی ایجوکیشن کور میں تھے۔


 یوں تو ہم سب زندہ رہتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے زندہ رہتے ہیں کہ زندگی ان پر ناز کرتی ہے، ان کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ وہ ہم میں نہ بھی رہیں تو بھی ان کی زندگی ہمیں جشن منانے کا موقع دیتی ہے۔ یہ لوگ ایسے کمال کے لوگ ہوتے ہیں کہ چلے بھی جائیں تو آنکھ میں آنسو نہیں آتابلکہ ان کی زندگیوں کو دیکھ کر دل میں ارادے باندھنے کو جی چاہتا ہے، ان کی زندگی حوصلہ بڑھانے کو ہوتی ہے۔


        آرمی ایجو کیشن کورمیں ابا کا ایک کمال ہے کہ جس کی وجہ سے  آرمی نے ہمیشہ ان کو بہت عزت سے یاد کیا کہ جو نان کمیشنڈ آفیسرز کہلاتے ہیں فوج کا ایک بڑا حصہ صوبیدارہیں ، نائب صوبیدار ہیں۔ میرے والد نے ان کے لیے جو تعلیم کا ایک نصاب تیار کیا تھا وہ شاید آج بھی وہی پڑھتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے بہتر نصاب ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ اُن دنوں جب کوئی سپاہی آتا ہے تو وہ بہت پڑھا لکھا نہیں ہوتا لیکن پھر فوج کو دعائیں دیجئے کہ وہ اپنے لوگوں کو خود پڑھاتے ہیں اور میرے والد نے ایک کام تو یہ کیا کہ ان کا نصاب ترتیب دیا اور دوسرا کام یہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر مشورے اورکانفرنسز کروائیں تاکہ پاک فوج صرف ہتھیار اٹھاناہی نہ جانے یہ بھی جانے کہ ہتھیار کیوں اٹھائے جاتے ہیں۔
سوال     جتنی آپ سے گفتگو ہوئی اور اس سے پہلے بھی جب جب آپ سے گفتگو رہی ، میں یہی کہوں گی کہ آئیڈیلزم کا اگر کوئی معیار ہے تو وہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ ہیں۔
جواب:    یہ آپ کی محبت ہے۔ ورنہ میری اماں تو کہتی تھیں کہ جو کچھ کرسکتے ہو وہ اپنا بہترین کرو اور یہ بات میں نے اپنے تجربے سے سیکھی کہ کسی اور سے مقابلہ نہیں ہوتا۔ آپ کا مقابلہ اپنے آپ سے ہوتا ہے کہ آپ خود کو کتنا بہتر کرسکتے ہیں۔ باقی میری زندگی جتنی بھی گزری اور جواماں کے بغیر زیادہ گزر گئی، اس پر نہ کبھی ملال ہوا نہ تاسف۔ اس لیے کہ مجھے یہ یقین دلایاگیا تھا کہ دولت صرف خرید سکتی ہے مالامال نہیں کرسکتی اور علم خریدا نہیں جاسکتا مگر مالا مال کردیتا ہے۔ اس لیے زندگی کے پیچھے کبھی اس طرح دوڑنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ خدا آپ سب کو خوش رکھے۔ اس ملک کے لوگوں نے مجھے اپنی محبت میں اتنا سر چڑھایا ہے بہت اچھی طرح کہ میں اس لاڈ سے بگڑ سکتی تھی میرا خیال ہے بس اماں ابا کی تربیت نے بچا لیا۔


 مطالعے کی اہمیت میرے نزدیک یہ ہے کہ جب بھی وقت میسر ہو تو کتاب پڑھ لی جائے۔ کتاب سے دُوری ہمیں دورِ جدید کے تحفے موبائل فون کی وجہ سے نصیب ہوئی۔ اس کی وجہ سے ہم کتاب کے لَمس ، کاغذ کی خوشبو اور لکھنے کے حُسن سے دُور ہوگئے ہیں۔ ہم نے علم سے جان بوجھ کر خود کو دُور کیا ہے، ہم ہُنر کے پیچھے ہیں۔ ہم علم روز گار کے لیے حاصل کرتے ہیں۔ زندگی کے لیے حاصل نہیں کرتے جبکہ ہمیں زندگی کے لیے علم کی ضرورت ہے۔


        دوچیزوں کی دولت مجھے پروردگار نے دی ہے ۔ ایک تو یہ کہ میں بہت محنت کرسکتی ہوں کیونکہ مجھے کبھی اس کی کمی نہیں لگی اور دوسرا یہ کہ میں بہت خوش ہو سکتی ہوں، بہت معمولی باتوں سے میں بے پناہ خوش ہو جاتی ہوں۔ عارفہ سیدہ نے میرا خیال ہے14,15 برس کی عمر میں خود کو یہ سمجھا لیا تھا کہ جو زندگی خوشی میں گزر سکتی ہے ، اسے شکایات کی تلخی  میں کیوں گزارا جائے۔  اور یہ بھی یقین تھا کہ جس کسی چیز کے لیے  میں نے کچھ نہیں کیا، اس پر میرا کوئی حق نہیں۔ لوگوں کی دعائیں ہیں اور پروردگار کی عنایت، آج بھی یہی ہے کہ بہت مالامال ہوں، آپ جیسے لوگ ہیں جو محبت سے بات کرتے ہیں۔ اپنائیت سے یاد کرتے ہیں اور کیا چاہیے مجھ کو، اس سے بڑی دولت کیا ہوگی۔
سوال :     تعلیم کے ساتھ تربیت کی آپ کی نظر میں کیا حیثیت ہے؟
جواب :     تعلیم راستہ ہے، منزل نہیں جبکہ علم منزل ہے۔ اس راستے کوجو چیزروشن کرتی ہے، آپ کو ٹھوکر لگنے سے بچا لیتی ہے وہ تربیت ہے۔تربیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جتنا دامن ہے، اُسی میں زندہ رہنا سیکھو۔
    زندگی سے محبت کرنے کے لیے بھی تربیت چاہیے  اور تربیت اس چیز کا نام ہے جب آپ اپنے سے اُٹھ کر زندہ رہنا سیکھتے ہیں۔ آج کل معاشرتی زوال کی اصل وجہ یہی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت نہیں رہی۔


یہ بات میں نے اپنے تجربے سے سیکھی کہ کسی اور سے مقابلہ نہیں ہوتا۔ آپ کا مقابلہ اپنے آپ سے ہوتا ہے کہ آپ خود کو کتنا بہتر کرسکتے ہیں۔


سوال :     مطالعہ کی قدرو قیمت پر اپنی رائے کا اظہار کیجیے؟
جواب:    مطالعے کی اہمیت میرے نزدیک یہ ہے کہ جب بھی وقت میسر ہو تو کتاب پڑھ لی جائے۔ کتاب سے دُوری ہمیں دورِ جدید کے تحفے موبائل فون کی وجہ سے نصیب ہوئی۔ اس کی وجہ سے ہم کتاب کے لَمس ، کاغذ کی خوشبو اور لکھنے کے حُسن سے دُور ہوگئے ہیں۔
        ہم نے علم سے جان بوجھ کر خود کو دُور کیا ہے، ہم ہُنر کے پیچھے ہیں۔ ہم علم روز گار کے لیے حاصل کرتے ہیں۔ زندگی کے لیے حاصل نہیں کرتے جبکہ ہمیں زندگی کے لیے علم کی ضرورت ہے۔
سوال:    آپ کے نزدیک عِلم کی منزل کیا  ہے؟
جواب :    میرے نزدیک علم کی کوئی منزل نہیں ہے، اگر علم کی کوئی منزل ہو جائے تو ہم سب رُک جائیں اور منزل پر تو تھکنے والا پہنچتا ہے۔ سفرکرنے والا کبھی نہیں تھکتا  اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب لوگ اُس کو چلتے دیکھتے ہیں تو کارواں خود بخود بنتا چلا جاتاہے۔
سوال :     مکالمہ بازی آج کل کے دور میں کیوں اور کتنی ضروری ہے؟
جواب:     آج کے دور میں مکالمے کی حیثیت ختم ہوتی جارہی ہے کیونکہ کوئی شخص کسی سے بات کرنا نہیں چاہتا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے کے مسائل ہو جائیں تو ہمیں ایک دوسرے کے قریب آکے دوسرے سے بات کرنا ہوگی۔ بات کرنے سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں جس سے رویّے بدلے جاسکیں۔
سوال:    آپ کی رائے میں کامیابی کیا ہے؟
جواب:    میرے مطابق کامیابی یہ ہے کہ اگر آپ خود سے کوئی عہدکریں تو اُسے پورا کریں۔ خود سے کیے گئے عہد سے سرخرو ہونے کا نام ہی کامیابی ہے۔
سوال:    زندگی گزارنے اور زندگی کو سمجھنے میں کیا فرق ہے؟
جواب:    یوں تو ہم سب زندہ رہتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے زندہ رہتے ہیں کہ زندگی ان پر ناز کرتی ہے، ان کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ وہ ہم میں نہ بھی رہیں تو بھی ان کی زندگی ہمیں جشن منانے کا موقع دیتی ہے۔ یہ لوگ ایسے کمال کے لوگ ہوتے ہیں کہ چلے بھی جائیں تو آنکھ میں آنسو نہیں آتابلکہ ان کی زندگیوں کو دیکھ کر دل میں ارادے باندھنے کو جی چاہتا ہے، ان کی زندگی حوصلہ بڑھانے کو ہوتی ہے۔
سوال:     اپنی پاک فوج کے لیے کیا پیغام دیںگی؟
جواب:    پیغام کیا دینا ہے؟ میرے لیے میری پاک فوج معزز ہے۔ اس لیے معزز ہے جب ہم سوتے ہیں تو وہ ہماری حفاظت کے لیے جاگتے ہیں۔
    میم سلامت رہیں۔ اﷲپاک آپ کا ادبی سایہ ہمیشہ ہم پر سلامت رکھے۔ یہ کہتے ہوئے میں نے ان سے اجازت چاہی۔


 خدیجہ محمود شاہد میڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 188مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP