اداریہ

قدرتی آفات، عوام اور افواج

نوعِ انسانی کو ازل سے قدرتی آفات کا سامنا ہے اور انسان ان سے بچائو کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کرتا چلاآرہا ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان کی جغرافیائی اور ماحولیاتی پوزیشن ایسی ہے کہ اسے زلزلوں، سیلاب جیسی قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے۔ اکتوبر 2005کے زلزلے نے دارالحکومت اسلام آباد، شمالی علاقہ جات اور کشمیر سمیت دیگرکئی علاقوں کو شدید متاثر کیا جس سے قوم کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس زلزلے میں جس طرح ہمارے ادارے اور قوم نے متحد ہو کر زلزلہ متاثرین کی مدد اور بحالی کی سرگرمیوں میں حصہ لیا، اُس کی مثال نہیں ملتی۔ ملک بھر سے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے عوام امدادی سامان لے کر پہنچ گئے۔ افواج پاکستان کے جوانوں نے ہمیشہ کی طرح ہراول دستوں کا کام کیااور جہاںجہاں بحالی کی ضرورت تھی، اس کو ذمہ دار انہ طریقے سے نبھایا۔ یہی نہیں بلکہ قومی سطح پر ایک ادارہ ارتھ کوئیک ری کنسٹرکش اینڈ ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی(ایرا) کے نام سے تشکیل دیاگیا جس کی سربراہی حاضر سروس میجر جنرل کے سپرد کی گئی ۔ یوں 'ایرا' کی وساطت سے پاکستان آرمی کی انجینئرزکور اور دیگر فارمیشنز کے آفیسرز اور جوانوں کو زلزلہ زدگان کی مدد اور بحالی پر مامور کردیاگیا۔ 'ایرا' کے تحت ہی بہت سے متاثرین کے لیے شیلٹرز اور مخصوص سٹرکچرز کے گھروں کی تعمیرکی گئی۔ اب اس ادارے کو نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نام سے جانا جاتا ہے اور کسی بھی قسم کی قدرتی آفت کی صورت میں یہ اپنا کردار ادا کرتا ہے، یہ ادارہ ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں خدمات سرانجام دیتا ہے۔
ملک کو جب 2010 کے سیلاب کا سامنا ہوا تو ماضی کی طرح قوم اور افواج اپنے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے جاپہنچے۔حالیہ سیلاب جیسا سیلاب پہلے پاکستان میں نہیں آیا کہ اس نے شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب ، صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کی ایک بڑی آبادی کو متاثر کیا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے دستوں کو فوری طور پر سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی مدد کے لیے پہنچنے کا حکم دیا اور خود بھی بلوچستان ، سندھ، سوات اور دیگر متاثرہ علاقوں کے دورے کیے۔ متاثرہ لوگوں کی دلجوئی کی، میڈیکل کیمپوں کا معائنہ کیا اور بحالی کے کاموں میں مصروف پاک فوج کے آفیسرز اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوںنے کہا کہ ''ہمارے ملک کے لوگوں کی حفاظت اور فلاح سب سے پہلے آتی ہے اور ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک سیلاب سے متاثرہ ہرایک فرد تک نہ صرف پہنچاجائے بلکہ اس کی بحالی نہ ہو جائے۔  پاکستانی عوام ہماری ترجیح ہے اور ہم اس مشکل وقت میں ان کی مددمیں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔'' اسی طرح پاکستان نیوی اور پاکستان فضائیہ کے آفیسرز اور جوان بھی امدادی کارروائیوں میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے سیلاب زدگان کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔
بلاشبہ قومیں باہمی یگانگت اور اخوت کے بل بوتے پر مضبوط اور توانا دکھائی دیتی ہیں۔ حالیہ سیلاب میں بھی جس طرح ملک کے طول و عرض سے لوگ خوراک ،خیمے، دوائیاں اور دیگر ضرورتِ زندگی لے کر پہنچے ہیں وہ قابلِ تعریف ہے۔ حکومت پاکستان کی کاوشوں اور عسکری قیادت کی ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت بیرون ممالک سے بھی سیلاب زدگان کے لیے نیک تمنائیں اور امداد پہنچ رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس خود پاکستان تشریف لائے، سیلاب زدگان سے ملے اور دنیا کو باور کرایا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کو پہنچے کیونکہ یہ سیلاب اس دنیا میں آنے والے کلائیمنٹ چینج یعنی موسمیاتی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں پاکستان کا اتنا حصہ نہیں جتنا اس کو نقصان پہنچا ہے۔یقینا دنیا اپنے تئیں کچھ کردار ادا کرتی ہے لیکن مادرِ وطن میں بسنے والے افراد اور قومی ادارے اس میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم سب کو بطورِ قوم اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہے اور سیلاب کی زد میں آئے ہوئے اپنے ہم وطنوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔ ||
 

یہ تحریر 89مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP